فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں کے ایک حالیہ بیان کے جواب میں ترک صدر طیب اردوان نے انہیں ’’مردہ دماغ‘‘ قرار دے دیا ہے۔ قبل ازیں فرانسیسی صدر میخواں نے ایک انٹرویو میں شام کے حوالے سے ترکی پر تنقید کرتے ہوئے اس کی حکمتِ عملی کو ’’احمقانہ‘‘ کہا تھا جبکہ نیٹو کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ شمالی اوقیانوس کے ممالک کی یہ تنظیم مر رہی ہے اور اس کے رکن ممالک میں باہمی تعاون کا شدید فقدان ہے۔ اس کے برعکس، میخواں کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک کو ایک نئے اور بہتر فوجی اتحاد کی ضرورت ہے۔
گزشتہ روز اس بیان کا جواب دیتے ہوئے ترک صدر طیب اردوان نے کہا کہ نیٹو کے بارے میں میخواں کا بیان ان کی سطحی اور بیمار سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ ’’فرانسیسی صدر کو چاہیے کہ وہ پہلے اپنا معائنہ کرائیں کہ کہیں وہ خود ہی ’مردہ دماغ‘ تو نہیں،‘‘ اردوان نے سخت الفاظ میں میخواں پر تنقید کرتے ہوئے کہا۔ طیب اردوان کے اس بیان پر فرانس نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے فرانسیسی صدر کی ’’توہین‘‘ قرار دیا ہے۔ پیرس میں تعینات ترک سفارت کار کو فرانسیسی وزارتِ خارجہ میں طلب کر کے احتجاجی مراسلہ دیا گیا جس میں واضح کیا گیا تھا کہ جو کچھ بھی صدر میخواں نے کہا، وہ ایک بیان اور سرکاری مؤقف تھا جبکہ اردوان نے اس کا جواب توہین آمیز الفاظ سے دیا ہے جو انتہائی نامناسب ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق چین کے سنکیانگ صوبے میں تقریباً 10 لاکھ اویغور مسلمان اور دیگر نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والوں کو جیلوں میں قید کر کے رکھا ہوا ہے۔ بین الاقوامی کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کی جانب سے شائع کی گئی لیکڈ دستاویزات میں ان جیلوں کو چلانے کا طریقہ کار واضح کیا ہوا ہے جس میں جیلوں کی موجودگی خفیہ رکھنا، قیدیوں کے نظریات زبردستی تبدیل کرنا اور قیدیوں کو فرار ہونے سے روکنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ قیدیوں کو کن حالات میں رشتے داروں سے ملنے اور واش روم جانے کی اجازت ہونی چاہیے، بھی لیک ہونے والی دستاویزات میں واضح کیا ہوا ہے۔
دستاویزات میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ کس طرح سے سنکیانگ کے باسیوں کی بھاری نجی معلومات کے ڈیٹا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پولیس شہریوں کو حراست میں لیتی ہے۔ آئی سی آئی جے کے مطابق لندن میں موجود چینی سفارتخانے نے لیک ہونے والی دستاویزات کو من گھڑت اور جعلی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔ دستاویزات ایسے موقع پر سامنے آئی ہیں جب چین کو صوبہ سنکیانگ میں انسانی حقوق کی پامالی کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تیس سے زائد ممالک نے چین پر ’جبر کی خوفناک مہم‘ چلانے کا الزام لگایا ہے۔
جبکہ چین نے اویغور اور دیگر مسلمانوں کے ساتھ بد سلوکی کو ہمیشہ مسترد کیا ہے اور مؤقف اپنایا ہے کہ چین ان مراکز میں ’اسلامی انتہا پسندی‘ اور ’علیحدگی پسندی‘ سے نمٹنے کے لیے رضاکارانہ تعلیم و تربیت دے رہا ہے۔ دستاویزات میں مذہبی اقلیتوں کو قید کرنے کی مدت کم سے کم ’ایک سال‘ بتائی گئی ہے، لیکن چند کیسز میں قید کا دورانیہ ایک سال سے کم بھی رہا ہے۔ آئی سی آئی جے کے مطابق دستاویزات میں غیر ملکی شہیریت رکھنے والے اویغور کو حراست میں لینے، اور بیرون ممالک میں رہنے والے سنکیانگ کے اویغور کا پتہ لگانے کی تفصیلی ہدایات شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ کو ملک بدر کر کہ چین واپس بھی بھیجا گیا ہے۔
صدر ایردوآن نے ترک عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی مالیاتی بچت امریکی ڈالر اور دیگر بیرونی کرنسیوں کے بجائے ٹرکش لیرا میں کریں۔ انہوں نے کہا، ’’ڈالر اور دیگر کرنسیوں کو چھوڑ دیجیے۔‘‘ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے انقرہ میں ملکی پارلیمان میں ہونے والے اپنی جماعت اے کے پی کے پارلیمانی ارکان کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”ترکی کے تمام شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنے نجی مالیاتی وسائل کو زرمبادلہ میں رکھنے کے بجائے ملکی کرنسی میں تبدیل کرا لیں۔‘‘ صدر ایردوآن کے بقول ترک عوام کو ایسا قومی یکجہتی اور حب الوطنی کے اجتماعی اظہار کے لیے بھی کرنا چاہیے تاکہ ان کے اپنے ملک کی کرنسی مزید مضبوط ہو۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا، ”میں ترک قوم سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ امریکی ڈالر اور دیگر غیر ملکی کرنسیوں کو چھوڑ دیں۔ ہم سب کو واپس اپنے ملک کی کرنسی کی طرف لوٹنا چاہیے، ٹرکش لیرا کی طرف۔‘‘ اپنے خطاب میں صدر ایردوآن نے یہ بھی کہا کہ ترک معیشت کے مسائل کا شکار ہونے سے متعلق دعوے جھوٹ پر مبنی ہیں، ٹرکش لیرا میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو اب کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ ہمیں اس شعبے میں بھی قومی وحدت اور حب الوطنی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔‘‘ ماہرین اقتصادیات کے مطابق ترک معیشت گزشتہ برس کے اختتام پر کساد بازاری کا شکار ہو گئی تھی لیکن پھر سال رواں کی پہلی سہ ماہی میں وہ اس کساد بازاری سے نکل بھی آئی تھی۔ صدر ایردوآن نے حکمران جماعت کے پارلیمانی ارکان سے اپنے خطاب میں کہا، ”ترک معیشت میں بحالی کا عمل بہت تیز رفتاری سے جاری ہے اور میں غیر ملکی سرمایہ کار اداروں اور شخصیات کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آئیں اور ترکی میں سرمایہ کاری کریں۔
روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث میانمار فوج کے افسران اور اہلکاروں کیخلاف تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کورٹ مارشل کا آغاز ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق میانمار حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی، اور قتل عام میں ملوث فوجی افسران اور اہلکاروں کیخلاف کورٹ مارشل کا آغاز کر دیا ہے، ان اہلکاروں کیخلاف تحقیقات پہلے ہی مکمل اور جرم ثابت ہو چکا ہے
ان افسران اور اہلکاروں پر الزام تھا کہ 2017 میں ایک گاؤں گو ڈا پائین میں فوجی آپریشن کے دوران ریجمنٹ کے افسران اور اہلکاروں نے روہنگیا مسلمان نوجوانوں کو قتل اور خواتین کے ساتھ زیادتی کی تھی جب کہ کئی گھروں کو نذر آتش کر دیا تھا۔ اقوام متحدہ نے اس عمل کو نسل کشی قرار دیا تھا۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے بھی میانمار فوج کو روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث قرار دیا تھا جس کے بعد حکومت نے متعدد جرنیلوں اور اہلکاروں کو سزائیں بھی دی تھیں تاہم ان افسران اور اہلکاروں کو رہا کر دینے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔