پاکستان اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کا رُکن منتخب

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پیر کے روز 47 رکنی ہیومن رائٹس کونسل کے 15 نئے ارکان کا انتخاب کیا ہے۔ ان نئے منتخب ہونے والے ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔ یہ انتخاب خفیہ ووٹنگ کے ذریعے کیا گیا۔ ہیومن رائٹس کونسل اقوام متحدہ کے نظام میں ایک ایسا اعلیٰ ترین بین الحکومتی ادارہ ہے، جو دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ اور اس کے فروغ سے متعلق معاملات کو دیکھتا ہے۔ جنیوا میں قائم ہیومن رائٹس کونسل کے لیے جن نئے رکن ممالک کا انتخاب ہوا ہے ان میں پاکستان کے علاوہ افغانستان، انگولا، آسٹریلیا، چلی، عوامی جمہوریہ کانگو، میکسیکو، نیپال، نائجیریا، پیرو، قطر، سینیگال، سلوواکیہ، اسپین اور یوکرائن شامل ہیں۔ نئے رکن بننے والے یہ ممالک تین برس کے لیے انسانی حقوق کی اس کونسل کے رُکن ہوں گے اور اس مدت کا آغاز یکم جنوری 2018ء سے ہو گا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اس پیشرفت کو پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں لودھی کا کہنا تھا، ’’یہ کامیابی دراصل پاکستان کے انسانی حقوق کو فروغ دینے اور ان کے تحفظ کے حوالے سے ریکارڈ کی توثیق ہے۔‘‘ ملیحہ لودھی نے نہ صرف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ارکان کے دو تہائی ووٹ حاصل کرنے پر اقوام متحدہ میں پاکستانی ٹیم کی کوششوں کو سراہا بلکہ عالمی برادری کی طرف سے غیر معمولی تعاون پر اس کا شکریہ بھی ادا کیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف سے ہیومن رائٹس کونسل کا قیام 2006ء میں لایا گیا تھا۔ اس 47 رکنی کونسل کی ذمہ داریوں میں دنیا بھر میں انسانی حقوق کا تحفظ اور ان کو فروغ دینے کے علاوہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنا اور ان کے بارے میں تجاویز تیار کرنا بھی ہے۔ اس کونسل کی میٹنگز جنیوا میں قائم یو این آفس میں ہوتی ہیں۔

Advertisements

اپنے پاکستانی پاسپورٹ کی آن لائن تجدید کیسے کروائیں

ویسے تو پاسپورٹ بنوانے کے لیے اکثر لمبی قطاروں میں گھنٹوں کی زحمت اٹھانا پڑتی ہے مگر زائد المعیاد ہونے پر بھی یہی مشقت دوبارہ کرنا پڑتی ہے۔
مگر اچھی خبر یہ ہے کہ اب آپ یہ کام گھر بیٹھے بھی کر سکتے ہیں۔ جی ہاں وزارت داخلہ کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے ایک نیا ای سروسز پورٹل متعارف کرایا ہے جس سے گھر بیٹھے میشن ریڈ ایبل پاسپورٹ کی تجدید یا ری نیو کرایا جا سکتا ہے۔ تاہم شرط یہ ہے کہ پاسپورٹ کو زائد المعیاد ہوئے سات ماہ سے کم کا عرصہ گزرا ہو یا سات ماہ کے اندر معیاد ختم ہونے والی ہو۔
اس سروس کے لیے ویب سائٹ کا لنک یہ ہے۔

https://onlinemrp.dgip.gov.pk

پاسپورٹ ری نیو کرنے کے لیے کیا کچھ چاہئے؟
معاون دستاویزات (کمپیوٹرائز شناختی کارڈ کی کاپی، پرانے پاسپورٹ کی کاپی پہلے دو صفحات، نابالغوں کے لیے تصدیقی فارم، این او سی، اگر سرکاری ملازم ہوں)۔
اس کی مزید تفصیلات آپ اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں۔
پانچ ایم بی تک کی تصویر۔
فنگر پرنٹ فارم۔
کریڈٹ/ ڈیبٹ کارڈ آن لائن ادائیگی کے لیے، ری نیو پاسپورٹس کے لیے فیس یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

آن لائن اپلیکشن
اگر تو آپ آن لائن اپلائی کے لیے تیار ہیں تو سب سے پہلے گیٹ اسٹارٹڈ پر کلک کریں اور اپنا اکاﺅنٹ رجسٹر کریں، پاکستان میں مقیم افراد کو ایس ایم ایس اور ای میل کے ذریعے رجسٹریشن کوڈ بھیج دیا جائے گا، جبکہ بیرون ملک مقیم افراد کو مطلوبہ کوڈ ای میل کے ذریعے ارسال کیا جائے گا۔
ری نیو پاسپورٹ کے لیے اپلیکشن میں مطلوبہ معلومات فراہم کریں۔
پاسپورٹ ڈیلیوری کے لیے اپنا پتا درج کریں۔
کریڈٹ/ ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے فیس کی ادائیگی کریں۔
مطلوبہ ذاتی معلومات درج کریں۔
موجودہ اور مستقل پتے کا اندراج۔
تصویر اپ لوڈ کریں۔
مطلوبہ دستاویزات اپ لوڈ کریں۔
فارم ڈاﺅن لوڈ کرکے چار فنگر پرنٹس کی فراہمی۔

اسکینر کو 600 ڈی پی آئی پر سیٹ کریں، پھر فارم اسکین کر کے اپ لوڈ کریں۔
اپنی درج کردہ معلومات کو دیکھیں، حلف نامے پر سائن کریں اور درخواست جمع کرا دیں۔ وزارت کی ویب سائٹ کے مطابق اس پورے طریقہ کار میں آپ کے 16.5 منٹ لگیں گے جو کہ کسی پاسپورٹ آفس میں اس کام کے لیے نکالے جانے والے کئی گھنٹوں سے نمایاں طور پر کم ہیں۔

مکلی کا عالمی ورثہ تجاوزات اور قبضے کے نرغے میں

سرخ اینٹوں اور کاشی گری کے فن سے تعمیر ‘مرزا باقی بیگ ازبک’ کے یادگار کی مرمت جاری ہے، اس یادگار کی دیواروں اور مقبرے کے گنبد میں دراڑیں پڑ گئی تھیں۔ مرزا باقی بیگ کا تعلق ترخائن شاہی خاندان سے تھا۔ اس خاندان نے سولھویں صدی میں سندھ پر حکومت کی۔ باقی بیگ کی یادگار مکلی کے قبرستان میں واقع ہے۔ یہ دنیا کا وسیع ترین قبرستان ہے یونیسکو نے 1981 میں عالمی ورثہ قرار دیا تھا۔ جہاں چودھویں صدی عیسوی سے لیکر سترھویں صدی کے حکمران خاندانوں اور جنگجوؤں کی قبریں موجود ہیں جن کو بارشوں، ہوا کے دباؤ، سورج کی تپش اور نگرانی کے فقدان نے ان آثاروں کو زبوں حال کر دیا ہے۔

بالاخر اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو نے اس ورثے کو عالمی ورثے سے خارج کرنے کی دھمکی دے دی، جس کے بعد حکومت سندھ نے اس طرف توجہ دی اور یونیسکو بہتری کی یقین دہانی کرائی۔ مکلی قبرستان کے کیوریٹر سرفراز جتوئی کا کہنا ہے کہ چالیس سے پچاس ایسے یادگاریں ہیں جنہیں ہنگامی بنیادوں پر مستحکم کیا گیا ہے ان میں سے کچھ پتھر اور کچھ اینٹوں سے بنی ہوئی تھیں، ان پر پودے نکل آئے تھے جن کی جڑیں اندر جا رہی تھیں اور نتیجے میں دراڑیں پڑ گئیں اور جب بھی بارش ہوتی تھی تو پانی بنیادوں میں چلا جاتا تھا۔ اب چونے اور بجری کے پلستر سے ان دراڑوں کو بند کر دیا گیا ہے۔

یہاں سماں، ارغون، ترخان اور مغل ادوار کے شاہی خاندانوں کے 80 سے زائد یادگار موجود ہیں جو پتھر، اینٹوں یا دونوں کی مدد سے بنائے گئے ہیں ان پر فارسی، سندھی اور عربی زبان تحریر ہے۔ اس میں سے مقامی سندھی حکمران جام نظام الدین اور عیسیٰ بیگ ترخائن دوئم کے یادگار نمایاں ہیں۔ نامور آرکیا لوجسٹ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کہتے ہیں سماں مقامی حکمران تھے اور رن آف کچھ میں ان کے کزن حکمران تھے۔ سماں فن تعمیر میں اس کی جھلک نظر آتی ہے جس میں زیادہ اثر پتھر کے فن کا ہے۔ ارغون اور ترخائن وسطی ایشیا سے آئے تھے انہوں نے اینٹ اور کاشی گری کا استعمال کیا۔ چونکہ مغل خود بھی وسطی ایشیا سے آئے تھے اور انڈیا میں انہیں سو سال ہو چکے تھے تو اس امتزاج نے ایک نئے طرح کے فن تعمیر کو جنم دیا۔

ٹھٹہ سندھ کا خوشحال خطہ سمجھا جاتا تھا جہاں کیٹی بندر، شاہ بندر نام سے بندرگاہیں اور کئی درسگاہیں موجود تھیں۔ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کہتے ہیں کہ اس علاقے کا بحیرہ ہند کے ذریعے پوری دنیا سے رابطہ تھا۔ بارہویں ، تیرہویں اور چودہویں صدی میں یہاں تجارت نے فروغ پایا اور دنیا بھر سے لوگ اکھٹے ہو رہے تھے اسی دوران آرٹ اور کرافٹ نے اپنا عروج حاصل کیا۔ مکلی کا قبرستان قومی شاہراہ کی دونوں اطرف میں پھیلا ہوا تھا لیکن اس کے نصف حصے پر قبضہ ہو چکا ہے، جس کی نشاندھی یونیسکو کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔
نامور آرکیالوجسٹ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کہتے ہیں کہ مکلی کا پورا قبرستان اور اس سے ملحقہ جو تہذیبی عناصر اور اسٹریکچر ہیں، جیسے کلان کوٹ، قبرستان کا دوسرا حصہ جو جنوب میں ایک ہزار ایکڑ رقبے پر محیط ہے اور ٹھٹہ شہر یہ سب عالمی ورثے پر مشتمل ہے لیکن جو سڑک کے شمال میں 912 ایکڑ قبرستان ہے ہم سمجھتے ہیں کہ بس یہ ہی ہماری ہریٹیج سائیٹ ہے۔

مکلی قبرستان کے کیویٹر سرفراز جتوئی کا کہنا ہے کہ مغربی طرف زیادہ قبضے اور تجاوزات ہیں۔ سروے میں ایسے پونے تین سو گھروں اور دو سو کے قریب دکانوں کی نشاندھی ہوئی ہے، انہیں متبادل جگہ فراہم کرنے کے لیے بائی پاس مکلی پر 15 ایکڑ زمین مختص کر دی گئی ہے، کچھ عرصے میں انہیں بیدخل کر دیا جائے گا۔ یونیسکو نے غیر قانونی تجاوزات کے علاوہ افرادی قوت کی قلت، موسمی اسٹیشن کی عدم دستیابی، صفائی ستھرائی، تاریخی حوالے کے نوٹس بورڈز کے فقدان اور لوگوں کی بے تحاشہ آمدرفت کی بھی نشاندھی کی تھی۔

مکلی قبرستان کے کیویٹر سرفراز جتوئی کا کہنا ہے کہ قبرستان میں موسمی اسٹیشن قائم کیا گیا ہے تاکہ بارشوں، سورج کی تپش اور ہوا کے دباؤ کو مانیٹر کیا جا سکے، اس کے علاوہ آس پاس سے ملبہ ہٹا دیا گیا ہے اور کوڑے دان لگائے جا رہے ہیں، تاہم لوگوں کی آمدرفت ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ یہاں 10 سے زائد مزارات ہیں جن پر میلے بھی لگتے ہیں پہلے لوگوں بسوں اور بڑی گاڑیوں میں اندر جاتے تھے اس کی روک تھام کی گئی ہے۔

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مکلی ٹھٹہ

امریکی وزیر دفاع کی جنگی حکمت عملی اور تاریخ فہمی ؟

اصل موضوع سے قبل ایک اچھی اور مثبت خبر کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی ’’ہیومن رائٹس کونسل‘‘ کی ایشیائی نشست کا انتخاب جیت لیا ہے۔ عالمی ’’ہیومن رائٹس کمیشن‘کو 2006 میں ختم کر کے اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لئے اعلیٰ ترین ادارہ کے طور پر یہ کونسل قائم کی جس کے 47 منتخب رکن ممالک میں سے 13 ایشیائی 13 یورپی اور 13 افریقی ممالک اور 8 لاطینی امریکہ کے ممالک پر تین سالہ مدت کے لئے منتخب ہوتے ہیں۔ بھارت، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور قطر اپنی تین سالہ میعاد پوری ہونے پر کونسل کی چار نشستیں 31 دسمبر 2017 کو خالی کریں گے۔ لہٰذا نیپال، افغانستان، پاکستان، ملائشیا مالدیپ نئے امیدوار اور قطر اپنی دوسری تین سالہ میعاد کے لئے امیدوار تھا کہ مالدیب دستبردار ہو گیا اور چار نشستوں کے لئے پانچ امیدوار میدان میں رہ گئے پاکستان 151 ووٹ حاصل کر کے یکم جنوری 2018 سے تین سال کے لئے نیپال، افغانستان اور قطر کے ساتھ اس ہیومن رائٹس کونسل پر اپنی نشست سنبھالے گا۔ اس کامیابی پر ہماری سفیر ملیحہ لودھی مبارکباد کی مستحق ہیں۔

وزیرخارجہ خواجہ آصف کے دورۂ واشنگٹن اور ایک انٹر ایجنسی نمائندوں پر مشتمل اہم امریکی نمائندوں پر مشتمل وفد کے دورہ پاکستان کے بعد اب امریکی وزیرخارجہ ٹلرسن کی اسلام آباد آمد کا انتظار ہے لیکن اس دوران امریکی ڈرونز کے تازہ حملے کے ذریعے پاکستان کوجو پیغام دیا گیا وہ کوئی مثبت پیغام نہیں ہے بلکہ میری رائے میں یہ ’’گاجر‘‘ اور ’’ڈنڈا‘‘ کی امریکی پالیسی کا بھی حصہ یوں نہیں کہ ماضی میں ملا منصور کی ڈرونز حملے میں ہلاکت بھی امریکی پالیسی کے مذکورہ اصول کے تحت نہ تو سزا کا ڈنڈا تھی اور نہ ہی انعام میں گاجر تھی بلکہ طالبان کو مذاکرات کے لئے طالبان کو آمادہ کرنے کی پاکستانی کوششوں کو سبوتاژ کرنا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن کی آمد سے قبل تازہ ڈرون حملہ ایک طرف تو امیر کینیڈین فیملی کی بازیابی میں پاکستانی رول کے مثبت امیج کو ختم کر کے بہتر ماحول میں کسی ڈائیلاگ کی بجائے ٹلرسن کی آمد پر کشیدگی کا ماحول پیدا کرنا اور صدر ٹرمپ کے اگست والے اعلان اور جنوبی ایشیا اسٹرٹیجی پر اصرار قائم رکھنے کا اشارہ ہے۔ گو کہ ابھی واضح نہیں کہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس پاکستان کا دورہ کب کریں گے؟ تاہم امکان موجود ہے۔ بعض حلقوں کا 16 اکتوبر کو ہونے والے پاک افغان سرحد کے قریب ڈرون حملے کے بارے میں ایک منفرد خیال یہ ہے کہ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ ڈپلومیسی اور ڈائیلاگ کے ذریعے طالبان اور افغان مسائل کے حل کی بات اور کوشش کا حامی ہے جبکہ صدر ٹرمپ کے جرنیل مشیروں کی ٹیم ایک بار پھر منظم ہو کر پنٹاگون کی برتری قائم رکھنے اور فوجی انداز میں کامیابی کا حصول چاہتی ہے۔ تاہم اس معاملے کو واشنگٹن کی بجائے پاک افغان سرحدوں پر ڈرونز کے استعمال سے طے کرنے کا مطلب و مقصد سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہی تاریخوں میں مسقط اومان میں طالبان سے مذاکرات کی جو خبریں چل رہی تھیں اس کا تناظر بھی اب واضح ہے۔

یوں بھی وزیر خارجہ ٹلرسن کے ایک روزہ دورہ پاکستان اور پھر افغانستان سے کسی ڈرامائی تبدیلی کی توقع نہیں ہے۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی کی پریس کانفرنس اور افغانستان میں نئی امریکی تیاریوں کی مخالفت اور افغان حکومت اور قائدین کے بیانات انتہائی قابل تعریف ہیں۔ پاک افغان مسائل کو آپس میں مل کر مقامی حل تلاش کرنے کی اپروچ بھی قابل تحسین ہے لیکن کافی تاخیر سے یہ خیال آیا ہے۔ مسئلے کے عالمی فریق اپنی حکمت عملی اور اس کے مطابق نفع و نقصان کے اندازے لگا کر اپنی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں دوسروں کو ڈائیلاگ اور روز مرہ کے حالات کے الجھائو میں مصروف رکھ کر اپنے مقاصد کی تیاری مکمل کرنا ذہین اقوام کا شیوہ رہا ہے لیکن ہم نے تاریخ کو ماضی کے اوراق سمجھ کر ان سے مستقبل کے لئے کچھ سیکھنے کی عادت کو بالکل ترک کر رکھا ہے۔

جبکہ اکیسویں صدی میں ’’امریکہ فرسٹ‘‘ کے نعرے پر یقین رکھ کر دنیا میں امریکی برتری قائم کرنے والے افراد اس مقصد کے لئے تاریخ سے سبق کیسے حاصل کرتے ہیں ۔اس کی ایک مثال موجودہ امریکی وزیر دفاع جنرل (ر) جیمز میٹس کی ہے جو نہ صرف افغانسان کی جنگ کا تجربہ رکھتے ہیں بلکہ خلیج کی جنگ، جنوبی ایشیا، سینٹرل ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے عراق اور دیگر جنگی اور دفاعی محاذوں پر کمانڈ اور فیصلوں کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں 44 سال فوجی ملازمت کے دوران ری پبلیکن صدر جارج بش اور ڈیموکریٹ صدر اوباما کے تحت کام کر چکے ہیں۔ اعلیٰ فوجی حلقوں میں ’’انٹلکچول ‘‘ یعنی دانشور ملٹری آفیسر اور عام فوجیوں میں “CHOAS”اور “MAD DO4” کے ناموں کے علاوہ (WARRIOR MONK) یعنی جنگجو پروہت، کے القابات سے مشہور رہے ہیں۔ جنرل میٹس کی والدہ امریکی فوج کے شعبے انٹلی جنس اور والد امریکی ایٹم بم کے لئے ایٹمی مواد تیار کرنے والے پلانٹ میں ملازم تھے۔

تاریخی امریکی ’’مین ہیٹن‘‘ پروجیکٹ کا اہم حصہ تھے۔ ان کے گھر میں ٹی وی نہیں تھا مگر کتابوں کا ہجوم تھا اس ماحول میں پلنے والے جیمز میٹس نے بطور میرین کرنل پرویز مشرف کے دور میں ان کی خفیہ اجازت کے ساتھ پاکستان کے راستے خفیہ طور پر اپنی بریگیڈ کے ساتھ داخل ہو کر جنوبی افغانستان میں داخل ہوئے اور امریکی ٹاسک فورس 58 کے ذریعے خفیہ آپریشن بھی کیا جس کی تفصیل پرویزمشرف ہی بتا سکتے ہیں اور وہ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے گیارہویں سربراہ بھی رہے ہیں اور ریٹائر ہو کر اب امریکی وزیر دفاع کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔ ہمارے سیاست داں یا فوجی حکمراں اتنا تجربہ اور عہدے حاصل ہونے کے بعد خود کو ہی اتھارٹی سمجھ کر کتاب یا تاریخ سے کوئی سبق سیکھنے کی بجائے خود کو مینارہ نور قرار دے بیٹھتے ہیں.

لیکن جنرل جیمز میٹس شمالی کوریا کے موجودہ بحران کا حل تلاش کرنے کے لئے 54 سال قبل شائع ہونے والی ایک کتاب نہ صرف خود پڑھ رے ہیں بلکہ وہ اپنے فوجی افسروں اور لیکچر سننے والوں کو بھی یہ کتاب پڑھنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ اس کتاب کے مصنف ٹی آر فاحر باخ ہیں جو 88 سال کی عمر میں کئی سال قبل فوت ہو چکے۔ کتاب کا عنوان ’’کلاسیکل کورین وار‘‘ ہے اور عنوان (THIS KIND OF WAR) ہے۔ اس کتاب میں کورین جنگ میں امریکی حکمت عملی کی غلطیاں، دشمن کی اسٹرٹیجی اور زمینی حقائق کا تجزیہ شامل ہے۔ کیا خوب ہے کہ امریکی جنرل اپنے کسی جنگی کیئریر، تجربہ اور وزیردفاع کے عہدے کا تکبر کئے بغیر شمالی کوریا کے موجودہ چیلنج کا سامنا کرنے کے لئے 54 سال قبل شائع ہونے والی کتاب کا مطالعہ کرتا ہے اور اعلانیہ اس کتاب سے سیکھنے کا اعتراف بھی کرتا ہے۔

کتاب کے مصنف جو کہ کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے ان کی تحریر و تجزیہ کو جنرل میٹس خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ ہمارے ہاں تو محض کمانڈو ہونے کے تجربے کو ایک حکمراں نے دنیا کے سامنے بڑے تکبر سے پیش کرنے کی روایت قائم کی۔ یہی امریکی وزیر دفاع جنرل میٹس افغانستان میں امریکی ناکامی کو امریکی فوجی کامیابی میں تبدیل کرنے کی پلاننگ میں مصروف ہیں۔ کیا ہم نے تاریخ کے اتار چڑھائو سے کوئی سبق سیکھا ہے؟ اقتدار حاصل کرنے ، حکومت بنانے اور گرانے کے جنون میں نہ تو گرد و پیش حالات پر نظر ڈالی نہ ہی تاریخ سے کوئی سبق سیکھا ۔ 1971 میں پاکستان میں سے بنگلہ دیش نے جنم لیا۔ تاریخی شکست ہمارا مقدر بنی، تاریخی، سیاسی شخصیات کی سیاسی لڑائیاں ہوئیں لیکن ہم نے نہ تو پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت محسوس کی اور نہ ہی تاریخ سے کچھ سیکھا۔

ہمارے حکمرانوں نے نہ تو پہلی افغان جنگ کی غلطیوں کا مطالعہ کیا اور نہ ہی دوسری افغان جنگ میں شریک ہونے سے پہلے ماضی پر نظر ڈالی۔ امریکی وزیر دفاع جنرل میٹس سائبر اور ڈرونز کے دور میں فوجی بوٹوں کی کسی سرزمین پر موجودگی کو جنگ کی بنیادی نیچر قرار دیتا ہے ہم اپنے ہی ملک کی حفاظت اور سلامتی کے لئے قدم ملا کر متحدہ ہو کر کھڑا ہونا بھی غیر ضروری سمجھتے ہیں 70 سالہ پاکستان کی سلامتی اور مفاد کے لئے 67 امریکی جنرل کی طرح تاریخ کی غلطیوں سے سیکھنے اور سمجھنے کی عادت ڈالنے ہی میں بھلا ہے۔

عظیم ایم میاں

بلوچستان : باون فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور

بلوچستان میں 52 فیصد سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے لیکن بدقسمتی سے صوبائی حکومت کے پاس اس کے حل کے لیے کوئی جامع منصوبہ نہیں ہے۔ غربت کے حوالے سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق ملک میں فاٹا کے بعد سب سے زیادہ غربت بلوچستان میں ہے جہاں 52 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ کئی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں مگر صوبے میں غربت کی شرح کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی چلی گئی۔

ستر سال سے کسی نے بھی غربت کے خاتمے اور غربت مٹانے کیلئے اقدامات نہیں کئے ۔ بلوچستان میں غربت کی سب سے بڑی وجہ بے روزگاری اور تعلیم کی کمی ہے، سرکاری ونجی ملازمتیں نہ ہونے کی وجہ سے بے روزگار نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ حکومت کے پاس غربت کے خاتمے کے لیے دلاسوں کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں غربت زیادہ ہوتی ہے وہاں جرائم جنم لیتے ہیں ، صوبے کو بےامنی اور جرائم کی دلدل سے نکالنے کا واحد حل غربت کا خاتمہ ہے ۔

کیا تاج محل غداروں نے تعمیر کیا ؟

محبت کی نشانی اور عالمی شہرت یافتہ سیاحتی مقام تاج محل کو ایک سیاسی تنازعے میں گھسیٹ لیا گیا ہے۔ پہلے اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ تاج محل بھارتی تہذیب و ثقافت کی عکاسی نہیں کرتا۔ پھر ریاستی حکومت نے اسے اپنے سیاحتی کتابچے سے خارج کر دیا اور اب اتر پردیش سے بی جے پی کے متنازعہ رکن اسمبلی نے کہا کہ ”تاج محل کی تعمیر غداروں نے کی تھی اور وہ بھارتی ثقافت پر ایک بدنما داغ ہے“۔ انھوں نے میرٹھ میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”سیاحتی کتابچے کے تاریخی مقامات کی فہرست سے تاج محل کو خارج کرنے پر بہت سے لوگوں کو حیرت ہے۔ وہ کس تاریخ کی بات کر رہے ہیں۔ تاج محل کی تعمیر کرنے والے شخص نے اپنے باپ کو جیل میں ڈالا تھا۔ وہ ہندووں کا قتل عام کرنا چاہتا تھا۔ اگر یہ تاریخ ہے تو افسوسناک ہے اور ہم اسے تبدیل کر دیں گے“۔

سنگیت سوم کے بیان پر شدید رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حزب اختلاف کی جانب سے سوم کے بیان پر سخت اعتراض کیا جا رہا ہے۔ بھارت کے زیر انتطام کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبد اللہ نے ٹویٹر پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اب پندرہ اگست کو لال قلعہ سے کوئی تقریر نہیں ہو گی۔ اب وزیر اعظم نہرو اسٹیڈیم سے تقریر کریں گے۔ مجلس اتحاد المسلمین کے حیدرآباد سے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے سوال کیا کہ کیا وزیر اعظم نریندر مودی اب غداروں کی تعمیر کردہ تاریخی عمارت سے ترنگا نہیں لہرائیں گے۔ دہلی کا حیدرآباد ہاوس بھی غداروں کا تعمیر کردہ ہے کیا وزیر اعظم اب وہاں غیر ملکی شخصیات کا استقبال نہیں کریں گے۔

انھوں نے سوم کو چیلنج کیا کہ وہ یونسکو سے کہیں کہ وہ تاج محل کو اپنے عالمی ورثے کی فہرست سے خارج کر دے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لوگوں کے بیانات کی جھڑی لگ گئی ہے۔ دس ہزار سے زائد افراد نے اپنا رد عمل ظاہر کیا اور بیشتر نے مذکورہ بیان کی مذمت کی اور اسے نفرت انگیز قرار دیا۔ متعدد فلمی شخصیات نے بھی بیان کی مذمت کی۔ ٹویٹر پر ہیش ٹیگ تاج محل تاج محل سب سے زیادہ ٹرینڈ کرتا رہا۔ ​تاہم بی جے پی کے بعض لیڈروں نے بیان کی حمایت بھی کی.

سہیل انجم

بشکریہ وائس آف امریکہ

پاکستان میں بڑھتی گرمی، مستقبل میں درجہ حرارت کہاں پہنچے گا ؟

رواں برس جنوبی ایشیائی ملکوں میں شدید گرمی نے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا۔ اس مناسبت سے ماحولیاتی سائنسدان پہلے ہی اس خطے کے ممالک کو بڑھتی گرمی کے حوالے سے متنبہ کر چکے ہیں۔ ماحول پر نگاہ رکھنے والے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ جس طرح زمین کا ماحول بتدریج گرم ہو رہا ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سن 2100 میں جنوبی ایشیائی ملکوں کے بعض حصے انسانی آبادیوں سے محروم ہو جائیں گے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی صحرائی پٹی کے ایک کونے پر آباد شہر سبّی کو ایسے ہی حالات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ پاکستانی صوبے بلوچستان کے اس شہر سبی میں رواں برس درجہٴ حرارت باون ڈگری سیلسیئس سے تجاوز کر گیا ہے اور سائنس دانوں کا کہنا درست دکھائی دیتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں انسانوں سے آباد کئی علاقے ویران ہو جائیں گے۔

سبّی کے علاقے میں بجلی کی عدم موجودگی میں ڈونکی فین دن بھر اور ساری رات انسانوں کو راحت پہنچانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ماحولیاتی ریسرچرز کی جانب سے یہ انتباہ سائنسی معلومات کے جریدے ’سائنس ایڈوانسز‘ میں شائع ہوا ہے۔ محققین کے مطابق جنوبی ایشیا کے وہ علاقے جہاں، آج کل سخت گرمی کے دوران شدید حبس کی کیفیت میں بھی عام لوگ سایہ دار جگہ اور مناسب حفاظتی انتظامات کے ساتھ گزر بسر کر سکتے ہیں، اُس وقت یہ ممکن نہیں ہو گا جب درجہٴ حرارت میں پانچ یا چھ درجے کا اضافہ ہو جائے گا پھر انسانوں کو سائے میں بھی جینا مشکل ہو جائے گا۔

ریسرچرز کا کہنا ہے کہ تقریباً پچاس ساٹھ برس بعد جنوبی ایشیائی خطے کی تیس فیصد آبادی کھولتے پانی جتنے درجہٴ حرارت کا سامنا کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ برصغیر پاک و ہند کے گنجان آباد دیہات سب سے زیادہ متاثر ہوں گے کیونکہ اتنے شدید گرم موسم میں زندگی کا بچنا محال ہو جائے گا۔ محققین کا کہنا ہے کہ ہولناک گرم لُو اگلی دو تین دہائیوں میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش میں چلنا شروع ہو جائے گی اور اناج کے لیے زرخیز دریائے گنگا کا میدانی علاقہ بھی شدید متاثر ہو سکتا ہے۔