کامیابی کے سنہری اصول

کامیابی کا حصول اور زندگی کی خوشیاں حاصل کرنا ہر انسان کی خواہش اور حق ہے، لیکن اِس پُرعزم سفر کیلئے مرحلہ وار کوششوں کا ایک سلسلہ ہے جسے طے کر کے ہی انسان کامیابی کی سند پاتا ہے، ایسے ہی چند بنیادی اصول اور نکات درج میں تحریر کئے جارہے ہیں جو مایوس اور دل برداشتہ انسانوں کیلئے تبدیلی کی بنیاد ثابت ہو سکتے ہیں۔

کامیابی نام ہے خوشی کا
خوش رہنا اور مسکرانا سیکھیے اور شکایات کرنا چھوڑ دیں۔ سوچیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں اور جو آپ سے پیار کرتے ہیں، وہ کیا چاہتے ہیں؟ اچھی طرح سوچیں اور فیصلہ کریں اور پھر محنت شروع کیجئے۔ کوئی کچھ بھی کہے، کچھ بھی سوچے، حالات کیسے ہی ہوں، محنت کرتے رہیں۔ وقت خود آپ کو کامیاب ثابت کر دے گا۔

سکون، آسودگی اور خوشی
کچھ لوگ پیسے کے حصول کو کامیابی سمجھتے ہیں تو کچھ روحانی معاملات کو، حالانکہ کامیابی اِن دونوں کے میزان کا نام ہے۔ اِس اہم نکتے کو سمجھیے۔

کامیابی کا راز، آپ کا اپنا رویہ
یاد رکھیے، کوئی شخص اُس وقت تک ظاہری کامیابی حاصل نہیں کرسکتا، جب تک وہ ذہنی کامیابی حاصل نہیں کر لیتا۔ کامیاب ہونے کا یقین کامیابی کی جانب پہلا اور لازمی قدم ہے۔ آپ کا رویہ آپ کا راہنما ہے۔

سیکھنا، سمجھنا، لکھنا، علم کی بنیاد ہے
رویے کے بعد علم کامیابی کی کنجی ہے۔ کسی بھی کام پر دسترس اُسی وقت حاصل کی جا سکتی ہے، جب اُس کے بارے میں مکمل علم ہو۔ علم کا حصول ممکن ہے سیکھنے سے۔ کسی دوسرے کے تجربے سے فائدہ اُٹھانا اور اُسے سننا بھی ایک طرح سے سیکھنا ہے۔ لکھنے یا بیان کرنے سے علم مزید پختہ ہو جاتا ہے۔

رحمت، محنت، کامیابی
یقیناً اکثر حالات موافق نہیں ہوتے، نتائج اُمیدوں کے خلاف نکلتے ہیں مگر یہی صبر، برداشت اور مستقل مزاجی کی منزل ہے۔ محنت اِس منزل پر رکتی نہیں آگے بڑھتی ہے اور جو بڑھ گیا، وہ کامیاب ہوا۔

ناکامیاں، کامیابی کا زینہ ہیں
اکثر افراد ناکامیوں سے ڈر جاتے ہیں، پیچھے ہٹ جاتے ہیں یا راستہ بدل لیتے ہیں۔ یاد رکھیں، ناکامیاں، کامیابیوں کی بنیاد ہیں۔ اِن سے سیکھیں، معاملات و عادات کو صحیح کیجئے اور آگے بڑھیں۔

جہدِ مسلسل، کامیابی
کامیابی پر خوش ہونا اچھی بات ہے بلکہ خوشی ہی کامیابی ہے، مگر کامیابی کو حتمی سمجھنا غفلت اور بے وقوفی ہے۔ زندگی جہدِ مسلسل ہے، یہ نام ہے کامیابیوں اور ناکامیوں کے سلسلے کا اور اِس اصول کو فراموش مت کیجئے۔

اُٹھو، کامیابی کے لئے
سوچنا اچھی بات ہے۔ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا بہت اچھی بات مگر بہت زیادہ سوچنا فیصلوں کو کمزور کر دیتا ہے۔ وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے، کر گزرو۔ نتیجے میں جیت جاؤ گے یا سیکھ جاؤ گے۔

کامیاب انسان، روشن ستارے
کامیاب انسان، روشن ستاروں کی طرح ہوتے ہیں۔ جن کی روشنی سے ہزاروں دلوں میں اُمید کی کرنیں پیدا ہوتی ہیں۔ اِس لئے کامیاب انسانوں سے سیکھئے اور اگر ممکن ہے تو اُن کی صحبت اختیار کیجئے۔

انجینئر شاہد قادری

قومی ایئر لائن کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟

پی آئی اے، پاکستان کی پہچان اور شناخت ہے۔ دنیا بھر میں،وہ اب ایسی بد انتظامی اور اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوئی ہے کہ آئے روز کوئی نہ کوئی خبر میڈیا میں آتی ہے جس کا تاثر منفی ہی ہوتا ہے۔ اسلام آباد سے لندن اڑان بھرنے والے جہاز کی تلاشی لینے کے دوران بیس کلو ہیروئن برآمد ہونا انتہائی قابل افسوس ہے، کیونکہ یہ واقعہ پہلی بار نہیں ہوا بلکہ برطانیہ کے ہیتھرو ایئر پورٹ پر بھی چند روز قبل پی آئی اے جہاز کے خفیہ خانوں سے مبینہ طور پر ہیروئن برآمد ہونے کی خبر آئی تھی‘ تسلسل سے ایسے واقعات کا سامنے آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ عمل نہ جانے کتنے عرصے سے جاری تھا، اگر ہیتھرو ائیرپورٹ کا واقعہ نہ ہوتا تو حکام نہ جاگتے اور انتہائی ہوشیاری، چالاکی اور ملی بھگت سے اسمگلنگ کا عمل جاری رہتا۔

انتظامیہ کو تو ہوش اب آیا ہے، ہیروئن برآمدگی کے واقعے کے بعد پی آئی اے کی بیرون ملک جانیوالی تمام پروازوں کی روانگی سے قبل مکمل تلاشی لینے کا فیصلہ ہوا، ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس، اینٹی نارکوٹکس فورس اور انجینئرنگ کے ماہرین نے تلاشی لی تو طیارے کے عقبی حصے کے اندر دو پیکٹوں میں بند ہیروئن برآمد ہوئی۔ سیکیورٹی ایجنسیاں اور انجینئرنگ کے ماہرین کی ڈیوٹی میں یہ شامل نہیں تھا کہ وہ طیاروں کی تلاشی معمول کے مطابق لیتے، پی آئی اے کے جہاز پہلے کیوں بغیر چیکنگ کے روانہ ہوتے رہے، آنکھیں کیوں بند تھیں اور اب چیکنگ کے نام پر مسافروں کو انتظار کی اذیت سے دوچار کرنا کہاں کا انصاف ہے؟

اب اے این ایف نے ایئرپورٹ سے پی آئی اے کیٹرنگ، ایئرپورٹ اور طیارے پر صفائی کا کام کرنے سمیت دیگر عملے کے 13 اراکین کو تحویل میں لے کر وسیع پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ تحقیقات کی اہمیت اپنی جگہ اور اس کی افادیت سے انکار بھی ممکن نہیں، لیکن سادہ سوال ہے کہ جن کی لاپرواہی اور ٰغفلت سے یہ سارا کھیل جاری رہا وہ کب پکڑ میں آئیں گے، محکمے کے ملازمین کی مدد اور اعانت کے بغیر یہ سب کچھ ممکن نہیں۔ اگر سارے ملزم پکڑے بھی جائیں تو جگ ہنسائی کا ازالہ ممکن نہیں، یہ معاملہ بہت زیادہ سنگین ہے کیونکہ اس سے ملک کی عزت اور وقار وابستہ ہے۔ ملکی عزت اور وقار کو داؤ پر لگانے والے مذموم عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی ہونی چاہیے اور انھیں قرار واقعی سزا دی جائے جو دوسروں کے لیے باعث عبرت ہو۔ وہی اس امر کی تحقیق بھی کی جانے چاہیے کہ یہ عمل کتنے عرصے سے جاری ہے اور اس میں کون سے عناصر شامل ہے۔

اداریہ ایکسپریس نیوز

کیا میں کوئی جانور تھا ؟ کشمیری نوجوان کا سوال

گذشتہ ماہ ایک کشمیری نوجوان کو جیپ سے باندھ کر ڈھال بنانے والے بھارتی فوج کے میجر نیتن گوگوئی کو خصوصی سرٹیفکیٹ سے نوازے جانے کے بعد ان کی بے حسی کا نشانہ بننے والے فاروق ڈار کا صرف ایک ہی سوال ہے کہ کس ملک کا قانون انسانوں کا ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے؟
بھارتی ویب سائٹ ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام سے تعلق رکھنے والے فاروق ڈار کا کہنا ہے کہ ‘اگر ایسا کرنا بھارت کے کسی قانون کے تحت درست ہے تو میں کیا کہوں؟’

بھارتی ویب سائٹ سے گفتگو میں کشمیری نوجوان نے کہا ‘میں ڈنڈا اٹھا کر اُن لوگوں کے پیچھے نہیں جا سکتا جو میرے ساتھ غیرانسانی سلوک کرنے والے فوجی افسر کو اعزاز سے نواز رہے ہیں’۔ تاہم فاروق ڈار کا انسانیت کے بارے میں اٹھایا جانے والا سوال کافی کڑا ہے، وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ‘کیا میں کوئی بھینس تھا یا بیل تھا؟، کیا میں کوئی جانور تھا جو مجھے جیپ کے بونٹ کے آگے باندھ کر نمائش کی گئی؟’ یاد رہے کہ گذشتہ روز فاروق ڈار کو ڈھال بنا کر جیپ سے باندھنے والے میجر گوگوئی کو بھارتی چیف آف آرمی اسٹاف نے علیحدگی پسندوں کے خلاف آپریشنز میں مستقل کوششوں پر ایوارڈ سے نوازا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی آرمی کے جنرل بپن راوت نے رائفل برانچ کے میجر گوگوئی کو کمنڈیشن کارڈ دیا تھا۔

بھارتی فوج کے مطابق میجر گوگوئی کو ایوارڈ دینے کی وجہ نوجوان کو جیپ سے باندھنا نہیں تاہم حزب اختلاف کی جماعت نیشنل کانگریس کے مطابق میجر کو اس اعزاز سے نوازا جانا اس حرکت کو نظرانداز کرنے اور حمایت کے مترادف ہے۔ اعزاز کے اعلان کے بعد کانگریس کے ترجمان جنید مٹو کا کہنا تھا، ‘آپ اپنی عدالت کے فیصلے کا انتظار بھی نہیں کر رہے اور ایسے شخص کو نواز رہے ہیں جس کے خلاف انسانی ڈھال استعمال کرنے کی تحقیقات جاری ہیں’۔ ان کا مزید کہنا تھا ‘معاملے کی انکوائری محض دھوکا ہے اور یہ حرکت کرنے والے افسر کو وزارت دفاع کی جانب سے کلین چٹ دی جا چکی ہے’۔

حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق کے مطابق میجر کو دیا جانے والا اعزاز کشمیریوں کے لیے کسی حیرانی کی بات نہیں، ‘بھارتی فوج طویل عرصے سے کشمیر میں ایسا ہی کررہی ہے’۔ دوسری جانب فاروق ڈار کے مطابق ان کی زندگی مکمل طور پر تبدیل ہو گئی ہے، جس کی وجہ جسمانی گھاؤ سے زیادہ ذہنی صدمہ ہے۔ ان کا کہنا تھا، ‘میرے پیروں اور پٹھوں میں اب بھی درد ہوتا ہے لیکن سب سے برا یہ ہے کہ میں اپنے گاؤں سے نکلنے کے قابل نہیں رہا، اگر مجھے گھر سے باہر بھی نکلنا ہو تو کسی کو ساتھ لے کر نکلتا ہوں’۔ گذشتہ ماہ 9 اپریل کو لوک سبھا کے ضمنی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے گھر سے نکلنے والے فاروق ڈار کے ساتھ پیش آنے والے اس غیرانسانی واقعے کے بعد ان کا کہنا ہے کہ ‘میرا اپنے آپ سے وعدہ ہے کہ آئندہ انتخابات کے دن کبھی گھر سے باہر نہیں نکلوں گا’۔ یاد رہے کہ 9 اپریل کو سوشل میڈیا کے ذریعے ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی، جس میں ایک کشمیری نوجوان کو بھارتی فوج کی جیپ کے بونٹ سے باندھ کر گشت کیا جا رہا تھا۔

جس نوجوان کو جیپ سے باندھ کر انسانی ڈھال بنائی گئی تھی، اس کی شناخت 26 سالہ فاروق احمد ڈار کے نام سے ہوئی تھی، جنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ فوجی اہلکاروں نے انھیں موٹر سائیکل سے اتارا، اپنی گاڑی کے بونٹ کے سامنے باندھا اور کئی گھنٹوں تک گاؤں گاؤں گھماتے رہے۔ بھارتی میجر نیتن گوگوئی نے کشمیری نوجوان فاروق ڈار کو جیپ سے باندھ کر 10 کلو میٹر تک گشت کیا تھا اور اُس رات جب وہ گھر واپس آئے تو ان کا الٹا ہاتھ ٹوٹا ہوا تھا۔

بیرم خان : مغل تاریخ کا ناقابل فراموش کردار

مغل تاریخ میں ویسے تو ان گنت کرداروں کومختلف اوصاف اور کارناموں کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا لیکن کچھ کردار حیرت انگیز ہیں اور ان کی خدا داد صلاحیتوں پر رشک آتا ہے۔ انہوں نے قدم قدم پر کامیابیوں کے پھول سمیٹے، قسمت کی دیوی ان پر مہربان رہی۔ ایسا ہی ایک کردار بیرم خان کا ہے جس نے مغل خاندان کی بے مثال خدمت کی ۔ بلکہ اس نے مغلوں کے اقتدار کا چراغ روشن رکھنے میں بھر پور کردار ادا کیا جو ہمایوں کی وفات کے بعد خطرے سے دو چار تھا۔ ہمایوں کے انتقال کے وقت اکبر کی عمر صرف چودہ برس تھی۔ اس وقت کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ اس نازک دور میں بیر م خان نے اکبر کو اقتدار کے سنگھاسن پر متمکن کروا دیا۔ کہنے کو تو اکبر بادشاہ تھا لیکن پانچ سال تک عملی طور پر بیرم خان ہی حکومت چلاتا رہا ۔

جب اکبر 19 برس کا ہوا تو بیرم خان امور مملکت سے الگ ہو گیا۔ بیرم خان کی تربیت نے اکبر کو کندن بنا دیا ۔ پھر اس نے تقریباً 50 برس تک ہندوستان پر حکومت کی۔ بیرم خان بیک وقت کئی عہدوں پر کام کرتا رہا۔ وہ جلال الدین اکبر کا مشیر اعلیٰ اور مغل فوج کا کمانڈر انچیف بھی تھا ۔ وہ ایک مدبرّ کے طور پر کام کرتا رہا۔ بیرم خان وسطیٰ بد خشاں کے علاقے اوغذ ترک کے قبیلے کارا کیونلو میں پیدا ہوا ۔ اس کا باپ سفیالی بیگ بہارلو اور دادا جنبالی بیگ با بر کی فوج میں خدمت سر انجام دیتے رہے تھے۔ وہ 16 سال کی عمر میں بابر کی فوج میں شامل ہو کر مغلوں کی فتوحات میں اہم کردار ادا کرتا رہا۔ مغل سلطنت کے قیام میں بھی اس نے ہمایوں کے ساتھ مل کر بہت کام کیا۔

وہ بنارس، بنگال اور گجرات کی فوجی مہمات میں بھی شریک رہا ۔ جب شیر شاہ سوری سے شکست کھا کر ہمایوں ایران روانہ ہوا تو بیرم خان بھی اس کے ساتھ تھا۔ ہمایوں ایران سے فوج لے کر ہندوستان پر حملہ آور ہوا تو بیرم خان دوبارہ کامیابی کیلئے ہمایوں کی فوج میں کمانڈر بن گیا۔ 1556ء میں ہمایوں کی وفات کے بعد اسے اکبر کا اتالیق مقرر کردیا گیا۔ اس نے شمالی ہندوستان میں مغلوں کے اقتدار کو مستحکم کیا ۔ اس نے پانی پت کی دوسری لڑائی میں مغل فوجوں کی قیادت کی ۔ یہ لڑائی اکبر اور ہیموں کے درمیان نومبر 1556ء میں لڑی گئی۔ یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اکبر کے جوان ہونے سے پہلے بیرم خان نے اسے ہلاک کیوں نہیں کیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیرم خان اور اس کے باپ دادا ہمیشہ مغلوں کے وفادار رہے۔ اس نے اپنے خاندان کی روایات کو زندہ رکھا اور اپنے اور اپنے خاندان کے نام پر دھبہ نہیں لگنے دیا۔ بابر اور ہمایوں کے ساتھ بیرم خان نے بڑا شاندار وقت گزارا تھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بابر اور ہمایوں نے بیرم خان کو بہت احترام دیا۔ اس کی عزت و تکریم میں انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔

اس نے ہمایوں کا اس وقت ساتھ دیا جب اس نے ایران میں جلا وطنی کی زندگی اختیار کر لی تھی۔ یوں کہنا چاہیے کہ بیرم خان کی رگوں میں مغل خاندان سے وفاداری خون بن کر دوڑتی تھی۔ گرانقدر خدمات اور دیگر اوصاف کے باوجود بیرم خان کو دربار میں زیادہ پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ کچھ مورخین کے نزدیک 1560 میں اس کا زوال شروع ہوا جب وہ بہت مغرور ہو گیا تھا۔ تکبر انسان سے عقل و فراست چھین لیتا ہے۔ پھر اس نے اپنے قریبی دوستوں کو بھی نوازنا شروع کردیا تھا جس سے اس پر انگلیاں اٹھنے لگیں۔ اس نے گورنر تردی بیگ کو موت کے گھاٹ اتار دیا کیونکہ تردی بیگ ہیموں کے خلاف لڑائی میں دہلی کا دفاع کرنے میں نا کام ہو گیا تھا۔ جب اکبر نے بیرم خان کوسبکدوش کرنے کا فیصلہ کیا تو دونوں میں اختلافات پیدا ہوئے ۔ اکبر نے اسے جاگیر عطا کر دی۔

غیر متوقع طور پر بیرم خان ، اکبر کے خلاف بغاوت کا علَم بلند کرتے ہوئے اس کے خلاف میدان جنگ میں کود پڑا۔ جس میں اسے شکست ہوئی۔ طویل خدمات اور مغل خاندان سے وفاداری کی بنا پر اکبر نے اسے معاف کر دیا۔ اکبر نے بیرم خان کو پیش کش کی کہ یا تو وہ ریٹائر ہو جائے اور محل میں قیام پذیر ہو جائے یا پھر حج کرنے مکہّ معظمہ چلا جائے۔ بیرم خان نے حج کرنے کو ترجیح دی ۔ براستہ گجرات سفر کے دوران حاجی خان سیوا تی نے 31 جنوری 1561ء کو بیرم خان کو قتل کر دیا ۔ حاجی خان میواتی ہیموں کی فوج میں جرنیل تھا اور اس نے بیرم خان کو قتل کر کے ہیموں کی موت کا بدلہ لیا۔ بیرم خان کے بیٹے اور بیوی کو آگرہ بھیج دیا گیا۔ اس کے بیٹے عبدالرحیم خان ِ خاناں کو اکبر کے دربار میں خصوصی حیثیت دی گئی۔ وہ اکبر کے نورتنوں میں شامل کر لیا گیا ۔ ہمایوں نے بیرم خان کوخانِ خاناں کا خطاب دیا تھا جس کا مطلب ہے بادشاہوں کا بادشاہ۔ پہلے پہل اسے بیرم بیگ کے نام سے پکارا جاتا تھا لیکن بعد میں وہ بیرم خان کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ ایک ناقابل ِ تردید حقیقت ہے کہ مغل تاریخ میں بیرم خان کا نام انتہائی اہمیت کا حامل ہے بلکہ اس کے بغیر مغل تاریخ کا تذکرہ بے معنی ہے۔

عبدالحفیظ ظفرؔ

صدر ٹرمپ کی میل ملاقاتیں نہیں، بیانیہ اہم ہو گا : خالد المعینا

صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر ہفتہ کی صبح الریاض پہنچ گئے ہیں۔ وہ جب واشنگٹن سے روانہ ہوئے تو وہاں ایک غوغا آرائی جاری تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں خواہ کوئی کچھ ہی کہے لیکن وہ ایک ایسے شخص ہیں جو اپنے دل اور دماغ سے بولتے ہیں۔ انھوں نے انتخابات کے دوران میں مختلف موضوعات پر جو بلند آہنگ گفتگو کی تھی اور جو بلند بانگ دعوے کیے تھے، اس پر بہت سے لوگ تشویش میں مبتلا ہو گئے تھے۔ انھوں نے میکسیکیوں اور مسلمانوں کے بارے میں جو کچھ کہا،اس پر امریکا کے مختلف حلقوں میں پائی جانے والی تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔

ان کے مسلمانوں کے بارے میں بیانات سے مسلم دنیا میں بہت سے لوگوں میں تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی تھی جبکہ ان کے انتخابی نعرے بہت سے لوگوں کو بھائے بھی تھے۔ ان کے اس بیان :’’ میرے خیال میں اسلام ہم سے نفرت کرتا ہے‘‘ ، سے کروڑوں مسلمانوں کے دل دُکھے تھے۔ لیکن آج جب وہ سعودی سرزمین پر اترے ہیں تو ہمیں حقیقی معنوں میں یہ یقین کرنا ہو گا کہ انھوں نے جو کچھ کہا تھا ، وہ سب کچھ ایک انتخابی مہم کا حصہ تھا۔ وہ بہت سے مسلم لیڈروں سے گفتگو کرنے والے ہیں اور وہ بھی ان کی اس گفتگو کے منتظر ہیں کہ وہ کیا کہتے ہیں۔ قیاس یہ ہے کہ وہ امن اور رواداری کی ضرورت پر زور دیں گے اور یہ کہیں گے کہ لوگوں کو اسلام کو دہشت گردی سے نہیں جوڑنا چاہیے۔

اس موقع پر انھیں کسی اکھڑپن کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے اور انتہا پسندی کی تمام شکلوں کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔ انھیں دوٹوک انداز میں اسلام فوبیا کو مسترد کرنا چاہیے اور اس کی تبلیغ اور اس پر عمل پیرا ہونے والوں کی مذمت کرنی چاہیے۔ یہ سعودی عرب کا ایک کریڈٹ ہے کہ اس نے بڑی تعداد میں عرب اور مسلمان لیڈروں کو ایک چھتری تلے اکٹھے کیا ہے تاکہ امریکی صدر سے بات کی جا سکے۔ مشرق وسطیٰ کو اپنے داخلی مسائل اور بیرونی مداخلت سے نمٹنے کی صلاحیت نہ ہونے کی بنا پر بھاری قیمت چکا نا پڑی ہے۔ یہاں بہت سا خون بہ چکا ہے۔ اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کو جو بنیادی ایشوز درپیش ہیں ،ان میں عراق ،شام اور خطے کے دوسرے ملکوں میں نظم ونسق کی بحالی پہلے نمبر پر ہے۔ تاہم اس مقصد کے لیے توپوں کو خاموش کرانا ہو گا اور لوگوں کی امنگوں اور خواہشات کا احترام کرنا ہو گا۔

بڑے تصفیہ طلب تنازعات میں سے مسئلہ فلسطین اور فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کا قبضہ سب سے نمایاں ہے۔ وہ اقوام متحدہ کی ہر قرارداد کو مسترد کرتا چلا آ رہا ہے۔ اس دیرینہ تنازع کے حل کے لیے امریکا ایک دیانت دار بروکر کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ ہر کسی کی داد وتحسین کے مستحق ٹھہریں گے اگر وہ اسرائیل کو اس بات پر آمادہ کر لیتے ہیں کہ وہ قبضے اور جبر واستبداد کو جاری رکھ کر دنیا کی نظروں میں اچھا نہیں بن سکتا ہے۔ اس صورت حال میں ان کا بیانیہ ان کی دورے کی مصروفیات اور میل ملاقاتوں سے زیادہ طاقت ور اور تعمیری ہو گا۔ دنیا بھر کے امن پسند لوگ امریکا کی مسلم دنیا کے ساتھ شراکت داری کو کامیابی سے ہم کنار ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

خالد المعینا
خالد المعینا اخبار سعودی گزٹ کے ایڈیٹر ایٹ لارج ہیں۔

سمندر ی پانی کی سطح میں اضافہ خطرناک ہو سکتا ہے

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سمندری پانی کی سطح میں معمولی اضافہ بھی
خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتا ہے ۔ سمندر کی سطح میں یہ معمولی مگر ناگریز اضافہ دنیا کے بیشتر علاقوں میں سیلابوں میں اضافہ کر دے گا جس سے ساحلی علاقوں سے ملحقہ بڑے شہر خطر ے میں پڑ جائیں گے۔ تحقیق میں سمندر کی بڑی لہروں اور طوفانوں کو مدنظر رکھا گیا ہے جو آہستہ آہستہ بڑھتی ہوئی سمندر کی سطح کے باعث زیادہ شدید ہو سکتے ہیں اور ساحلی علاقوں پر غالب آ سکتے ہیں۔ سب سے پہلے نچلے علاقے متاثر ہوں گے اور یہ افریقہ سے لے کر جنوبی امریکہ اور جنوب مشرقی ایشیا تک ہیں۔ سب سے زیادہ خطرہ برازیل اور آئیوری کوسٹ کے بڑے شہر وں کو ہے۔ اس کے علاوہ ان میں بحرا لکاہل کے چھوٹے جزیرے شامل ہیں۔

ایک عشرے کے دوران خدشہ ہے کہ خطرات کے شکار مقامات کی تعداد دو گنا ہو جائے گی۔ اس تحقیق میں نمایاں حصہ لینے والی شکاگو کی ایلی نوئس یونیورسٹی کی لوسی لیمبل نے بڑے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پانی کی سطح کا انتہائی بلند ہونا ناگزیر ہے۔ موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے اور یہ اضافہ 4 ملی میٹر سالانہ تک ہو سکتا ہے، کیونکہ قطبین کی برف پگھل رہی ہے اور سمندر کا پانی گرم ہو رہا ہے ۔ چونکہ انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کوعمل جاری ہے اس لیے برف پگھلنے اور سمندری سطح بلند ہونے کا عمل کئی سالوں تک جاری رہے گا۔ سمندر کی سطح میں اضافہ سے طوفانوں میں اضافہ ہو جائے گا اور ساحلی علاقے اس کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔

یہ تحقیقی رپورٹ جس جریدے میں شائع ہوئی ہے اس کا نام سائنٹیفک رپورٹس ہے۔ یہ پہلی رپورٹ ہے جس نے ان عوامل کا تجزیہ کیا ہے۔ بحرِاوقیانوس سے ملحقہ شہروں میں سمندر کی سطح میں 2.5 سینٹی میٹر اضافے سے پانی زیادہ شدت کے ساتھ وہاں کا رخ کر سکتا ہے جبکہ پانچ سے دس سینٹی میٹر اضافے کا مطلب ہے کہ منقطہ حارہ کے ساحلی علاقوں میں سمندری طوفانوں میں دوگنا اضافہ ہو جائے گا۔ 20 سینٹی میٹر اضافے کا مطلب ہے کہ تمام ساحلوں پر اس کا خطرہ دو گنا ہو جائے۔ خیال رہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی بھی ساحل سمندر کے قریب واقع ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سمندر کی سطح میں اضافے کی رفتار پر مختلف پیش گوئیاں کی جاتی رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کی 2013 میں رپورٹ کے مطابق سال 2021 تک یہ اضافہ 30 اور 100 سینٹی میٹر کے درمیان ہو گا۔ ایک حالیہ تحقیق میں یہ بتایا گیا ہے کہ قطبین کی برف کے پگھلنے کا خدشہ اس سے بہت زیادہ ہے جتنا کہ سمجھا جا رہا تھا ۔ اس لیے سمندروں کی سطح بہت تیزی سے بڑھ سکتی ہے ۔ اور صدی کے خاتمے تک یہ 200 سے 300 سینٹی میٹر تک بھی ہو سکتی ہے ۔ دو دہائیوں کے درمیان پانچ سے دس سینٹی میٹر تک سمندر کی سطح میں اضافے کا امکان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکہ میں سان فرانسسکو، بھارت میں ممبئی، ویت نام میں ہوچی منہہ اور آئیوری کوسٹ میں ابید جان میں سمندری سیلابوں کا خطرہ دوگنا ہوجائے گا۔ اس رپورٹ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سمندر کی سطح میں چھوٹی تبدیلیاں بھی کتنے خطر ناک نتائج پیدا کرسکتی ہیں۔ پرفیسر تھامس واہل کا کہنا ہے کہ ان حقائق سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی اور ایسا کرنا حماقت ہو گی۔ لیکن ایک اور بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ابھی اوربھی کئی تجزیے باقی ہیں اور ہمیں بہرحال کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچنا چاہیے ۔ اس سے پہلے جو تحقیق کی گئی اس کے مطابق 2050 تک سمندری طوفانوں سے کئی کھرب ڈالر سالانہ کا نقصان ہو سکتا ہے۔

عبدالحفیظ ظفرؔ

پاکستانی پہاڑوں کی شہزادی راکا پوشی

 ہم نے پیچھے دیکھا تو ٹھٹک گئے۔ برف پوش چوٹیوں کی خوبصورت قطار منظر پر چھائی ہوئی تھی جو کافی دور تھی، لیکن ہمارے عقب میں موسم صاف اور چمکیلا تھا اس لئے واضح تھی۔ ڈرائیور ہماری محویت پر کچھ حیران تھا۔ ’’یہ کونسی چوٹی ہے۔ ‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’یہ کئی چوٹیاں ہیں ہاراموش، دیراں ،راکا پوشی اور پتہ نہیں کون کون سی ‘‘ ’’راکا پوشی !‘‘ میں نے زیرِ لب دوہرایا۔ راکا پوشی۔۔۔ پاکستان کے پہاڑوں کی شہزادی اور سلسلۂ قراقرم میں میری پہلی پسند۔

کوئی اپنی پہلی پسند کو اتنی جلدی بھول جایا کرتا ہے؟ زیادہ عرصہ تو نہیں گزرا۔ کل ہی کی تو بات ہے۔ صرف پانچ سال پہلے کریم آباد کی ایک خوبصورت صبح تھی اور میں شہر سے باہر ایک چھوٹی سی پہاڑی کی چوٹی پر بے حس و حرکت کھڑا راکا پوشی کی دلکشی او ر رعنائی کو آنکھوں کے رَستے دِل میں بساتے ہُوئے عہدِ وفا استوار کر رہا تھا۔ اسے ہمیشہ یاد رکھنے کا وعدہ تو مجھے یاد تھا لیکن خود اسے میں نے بھلا دیا تھا۔ راکاپوشی کا نقش تو نا پائیدار ہو ہی نہیں سکتا، جذبہ کی سچّائی ہی مشکوک تھی! ہم نے اس خوبصورت منظر کی کچھ تصاویر لیں اور دوبارہ روانہ ہو گئے۔ ہم تاتو گاؤں کے قریب پہنچنے والے تھے اور ہم نے رائے کوٹ پل سے یہاں تک کسی بھی قسم کے سائے یا پانی کا نشان تک نہ دیکھا تھا۔

بے آب و گیاہ چٹیل پہاڑ اور اِنہی پہاڑوں سے لڑھک کر نیچے آئے ہوئے چٹان نما پتھر یا پتھر نما چٹانیں۔ دیکھنے کو اور کچھ بھی تو نہیں تھا۔ اِس راستے پر ہم نے ایک ضعیف العمر مقامی شخص کو دیکھا، وہ اپنی کمر پر غالباً گندم کی بوری اٹھائے ہوئے اپنی لاٹھی کے سہارے آہستہ آہستہ لیکن یکساں رفتار سے فاصلہ طے کر رہا تھا۔ وہ تھوڑی دیر چلتا، پھر کسی بڑے پتھر پر بوری کا وزن منتقل کر کے چند منٹ سانس لیتا اور دوبارہ سفر شروع کر دیتا۔ جب یہ سڑک نہیں بنی تھی تو ٹریکرز اور مقامی لوگ پیدل ہی رائے کوٹ پل سے تاتو گاؤں تک آتے تھے اور دروغ بر گردن ’’تارڑ صاحب ‘‘ کئی ٹریکرز صرف اس لئے دار فانی سے کوچ کر گئے کہ انہوں نے رائے کوٹ پل سے کوچ کرتے وقت پانی کا کافی ذخیرہ ساتھ لانے کی زحمت نہیں کی تھی۔ ہم تاتو گاؤں کے پاس سے گزر رہے تھے جو درختوں کے تنوں اور پتھروں سے بنے چند جھونپڑوں پر مشتمل تھا۔

تاتو کا اصل اور مقامی تلفظ ’’ تَتَّو ‘‘ ہے جس کے معنی گرم کے ہیں۔ ایک جگہ سے بھاپ کے مرغولے اٹھ رہے تھے جو کافی بلندی تک جا رہے تھے۔ ڈرائیور نے بتایا کہ وہ گرم پانی کا چشمہ ہے اور یہی تتّو نام کی وجہ تسمیہ ہے۔ اس کے بقول اگر مرغی کے انڈے کو کپڑے میں باندھ کر چشمے میں رکھ دیا جائے تو دو منٹ میں وہ فل بوائل ہو جاتا ہے۔ سڑک نہیں بنی تھی تو پید ل راستہ چشمے کے قریب سے گزرتا تھا اور یہ جگہ ایک مصروف کیمپنگ سائٹ تھی۔ چشمے کے کنارے ہر وقت کافی رش رہتا تھا۔ غیر ملکی ٹریکر اور ٹریکریاں چشمے کے پانی کو بالٹی میں ٹھنڈے پانی سے ملا کر نہاتے تھے تو مقامی لوگ یہ منظر دیکھنے کے لئے اکٹھے ہو جاتے تھے۔ جیپ روڈ نے سفر آسان اور مختصر کر دیا تھا، پورے ایک دن کا ٹریک کم ہو گیا تھا۔ لیکن ساتھ ہی تاتو گاؤں کے گرم پانی کے چشمے کا اعزاز بھی چھن گیا تھا۔

ڈاکٹر محمد اقبال ہما