صدر ایردوان اس وقت واحد عالمی رہنما ہیں جن پر دنیا کی نگاہیں مرکوز ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ اور روس پر عالمی سطح پر لگائی جانے والی پابندیاں ہیں لیکن ایردوان ایک ایسے رہنما کے طور پر ابھر ے ہیں جن کے روس کے صدر ولادیمیر پوٹن اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بڑے گہرے اور دوستانہ مراسم ہیں۔ مغربی ممالک جو روس پر پابندیاں لگانے کے بعد خود انرجی اور اناج کے بحران سے دوچار ہیں اس بحران سے نکلنےکی اپنے تئیں کوششیں کر چکے ہیں لیکن تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں جبکہ صدر ایردوان نے مغربی ممالک ہی کی درخواست پر اپنے مضبوط مراسم استعمال کرتے ہوئے روس کو یوکرین کے اناج کو ترکی کے راستے بیرونی منڈیوں تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کی ہے، ترکیہ کے اس اقدام سے ایک طرف دنیا نے اور خاص طور پر افریقی ممالک نے سکھ کا سانس لیا تو دوسری طرف ترکیہ نے اس صورتِ حال کو اپنی اقتصادی بہتری کیلئے استعمال کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔
انہوں نے اس سے قبل روس سے قریبی تعلقات ہونے کے باوجود بڑی تعداد میں اپنے مسلح ڈرونز یوکرین کو فروخت کر کے نہ صرف یوکرین کےعوام کے دل جیت لئے بلکہ مغربی ممالک نے بھی ایردوان کے اس اقدام کی حمایت کی لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ترکیہ کے اس اقدام کے باوجود روس ترکیہ سے اپنے گہرے تعلقات کو جاری رکھے ہوئے ہے اور اپنے اناج اور گیس کو اب ترکیہ کے راستے عالمی منڈیوں تک پہنچانے کیلئے ایردوان کی ثالثی کا منتظر ہے کیونکہ اس کے خیال میں ایردوان سے بہتر کوئی بھی رہنما ثالثی کا کردار ادا نہیں کر سکتا۔ ایردوان کی کامیاب حکمتِ عملی نے نہ صر ف لیبیا، مصر، عرب ممالک بلکہ روس اور فرانس کو بھی اس قضیے سے اس طریقے سے نکال باہر کیا جیسے مکھن میں سے بال نکالا جاتا ہے اوریوں لیبیا کے عوام کو اپنا گرویدہ بنا لیا اور اب طویل عرصے بعد شام نے ترکیہ سے اپنے تعلقات کو نئے سرے سے استوار کرنے کے لیے (روس کی کوششوں سے ) ترک حکام سے رابطہ قائم کئے ہیں، دونوں ممالک کی خفیہ سروس کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور جلد ہی ان مذاکرات کے مثبت نتائج کی توقع کی جا رہی ہے۔
ترکیہ نیٹو کا واحد ملک ہے جس نے روس سےبڑے قریبی تعلقات قائم کر رکھے ہیں ، نیٹو کے رکن ممالک اس وجہ سے ترکیہ کو اکثر و بیشتر ہدفِ تنقید بھی بناتے رہے ہیں بلکہ امریکہ نے تو روس کی جانب سے فراہم کئے جانے والے ایس – 400 میزائلوں کی فروخت کے بعد ترکیہ کو نہ صرف ایف-16 طیاروں کی فروخت کو روک دیا بلکہ مشترکہ طور پر تیار کئے جانے والے ایف-35 طیاروں کے پروجیکٹ سے بھی اسے یک طرفہ طور پر نکال باہر کیا لیکن روس- یوکرین جنگ کے بعد امریکہ نے مجبور ہو کر ترکیہ پر ایف 16 طیاروں کی فروخت سے متعلق مذاکرات شروع کرنے کی ہامی بھر لی جو ترکیہ کیلئے ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ اگرچہ یونان اور متعدد یورپی ممالک ترکیہ کو نیٹو سےخارج کروانے کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن اس اتحاد کا بانی امریکہ اچھی طرح جانتا ہے نیٹو ترکیہ کے بغیر ایک ’’نمائشی اتحاد‘‘ ہے اسلئے امریکہ کبھی ترکیہ کو نیٹو سے خارج کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔
ترکیہ اگرچہ شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن نہیں لیکن ازبکستان نے چین اور روس کی خواہش پر ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کو خصوصی طور پر اس سربراہی اجلاس میں مدعو کرتے ہوئے اس ملک کی اہمیت کو تسلیم کر لیا جبکہ اس کانفرنس میں نیٹو کے کسی دیگر ملک کو مدعو نہیں کیا گیا۔ ترکیہ نے اس کانفرنس میں شرکت کرنے کے بعد تنظیم کی رکنیت حاصل کرنےکیلئے بھی غور کرنا شروع کر دیا ہے۔ جدید جمہوری دنیا میں کئی ایک ممالک کے رہنما ایسے بھی ہیں جو اگرچہ طویل عرصے سے برسر اقتدار ہیں لیکن بد قسمتی سے ان تمام ممالک میں سے کسی ایک میں بھی مغربی معیار کے جمہوری نظام پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا، اس لئے ان ممالک کے رہنماؤں کا صدر ایردوان سے تقابلی جائزہ ممکن نہیں یعنی چین کا نظام اور روس کا نظام ترکیہ سے کافی حد تک مختلف ہے جبکہ مغرب میں ایسا کوئی رہنما موجود نہیں جسے صدر ایردوان کی طرح طویل عرصے سے عوام کی حمایت حاصل ہو۔
مغرب میں جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل اگرچہ طویل عرصے تک عوام کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہیں لیکن وہ بھی عوامی حمایت اور کامیابی کی شرح کے لحاظ سے صدر ایردوان کی مقبولیت اور کامیابیوں کے معیار سے بہت پیچھے رہیں۔ صدر ایردوان واحد عالمی رہنما ہیں جنہوں نے اقوام متحدہ میں پانچ عالمی قوتوں، جنہوں نے ویٹو پاور حاصل کر رکھی ہے، کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر رکھا ہے اور وہ جنرل اسمبلی میں خطاب اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر واشگاف الفاظ میں ’’دنیا پانچ سے عظیم تر ہے‘‘ کا صرف نعرہ ہی نہیں لگا رہے بلکہ اس کیلئے انہوں نے باقاعدہ مہم بھی شروع کر رکھی ہے۔ صدر ایردوان طویل عرصے تک ترکیہ میں برسر اقتدار رہنے والے اور جمہوریہ کے بانی غازی مصطفیٰ کمال کو اپنے پیچھے چھوڑنے والے پہلے رہنما بن گئے ہیں۔ غازی مصطفیٰ کمال 5492 دن برسر اقتدار رہے تھے جبکہ ایردوان 9 مارچ 2003 سے مسلسل اقتدار میں ہیں۔ طویل عرصے اقتدار میں رہنے والی شخصیت کا عموماًیہ المیہ ہوتا ہے کہ عوام اس سے اُکتا جاتے ہیں لیکن صدر ایردوان کی یہ خوش قسمتی ہے کہ وہ اب تک عوام میں مقبول ہیں اور یہ مقبولیت کب تک برقرار رہتی ہے ؟ یہ 2023ء کے صدارتی انتخابات ہی بتا سکیں گے۔
پاکستانیوں کے نقطہ نظر سے بھی ایردوان بڑے کامیاب لیڈر تصور کئے جاتے ہیں کہ انہوں نے جس جرات مندانہ طریقے سے عالمی پلیٹ فارمز پر مسئلہ کشمیر کی حمایت کی اور پاکستان میں ماضی میں اور موجود دور میں قدرتی آفات میں مدد کی ہے اس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
ایران نے اعتراف کیا ہے کہ اس کی فوج نے ’غیر ارادی‘ طور پر یوکرائنی مسافر بردار طیارہ مار گیا۔ اس سے صرف ایک روز قبل ایرانی سول ایوی ایشن محکمے کے سربراہ نے ایسے الزامات کو رد کیا تھا۔ یوکرائن کے بوئنگ جہاز کی تباہی کے نتیجے میں 176 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے سے کچھ ہی دیر قبل ایران نے عراق میں دو امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا۔ گزشتہ پانچ دہائیوں میں مسافر بردار جہازوں کے مار گرائے جانے والے دیگر واقعات پر ایک نظر
چودہ جولائی 2014 کو ملائیشین ایئرویز کی پرواز MH17 کو مشرقی یوکرائن میں باغیوں کے زیرقبضہ علاقے کی فضائی حدود سے گزرے ہوئے مار گرایا گیا۔ یہ جہاز ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور کے راستے پر تھا۔ اس بوئنگ 777 جہاز پر 298 افراد سوار تھے، جن میں بڑی تعداد ڈچ باشندوں کی تھی۔ کییف حکام اور علیحدگی پسند باغیوں کی جانب سے اس جہاز کو میزائل سے نشانہ بنائے جانے کے الزامات ایک دوسرے پر عائد کیے گئے تھے۔
تیئیس مارچ 2007 کو بیلاروس ایئرلائن کا ایک اِلیوشن ٹو سیونٹی سکس کارگو جہاز صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو سے پرواز کے فوراﹰ بعد مار گرایا گیا۔ اس واقعے میں گیارہ افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ جہاز بیلاروس کے ان انجینیئرز اور ٹیکنیشنز کو لے کر وطن واپس آ رہا تھا، جو اس واقعے سے صرف دو ہفتے قبل ایک میزائل کا نشانہ بننے والے جہاز کی مرمت کے لیے موغادیشو بھیجے گئے تھے۔
چار اکتوبر 2001 کو سربیا ایئرلائنز کا ٹوپولیف ٹی یو 154 طیارہ تل ابیب سے نووسِبرسک جاتے ہوئے فضا میں پھٹ کر تباہ ہو گیا۔ یہ کریش کریمیا کے ساحل سے تین سو کلومیٹر سے بھی کم دوری پر پیش آیا۔ ایک ہفتے بعد کییف حکام نے اعتراف کیا کہ یہ جہاز غلطی سے فائر کیے گئے یوکرائنی میزائل کے نتیجے میں تباہ ہوا۔ اس واقعے میں جہاز پر سوار تمام 78 افراد مارے گئے، جن میں زیادہ تر اسرائیلی شہری تھے۔
ایک مسافر بردار جہاز کی تباہی
تین جولائی 1988 کو ایران ایئر کی ایئر بس اے 300 بندرعباس سے دبئی کی جانب جا رہی تھی، جب اسے ایرانی سمندری حدود کی فضا میں دو امریکی میزائلوں کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔ یہ میزائل آبنائے ہرمز میں گشت کرتے ہوئے امریکی بحری جہاز سے فائر کیے گئے۔ اس مسافر طیارے کی تباہی غالباﹰ اسے لڑاکا طیارہ سمجھ کر نشانہ بنانے کا نتیجہ تھی۔ اس واقعے میں جہاز پر سوار تمام 290 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس پر امریکا نے ایران کو ایک سو ایک اعشاریہ آٹھ ملین ڈالر ہرجانہ ادا کیا تھا۔
یکم ستمبر 1983 کو کورین ایئر کے ایک بوئنگ سیون فور سیون جہاز کو سوویت لڑاکا طیاروں نے ساخلِن جزیرے کے اوپر دوران پرواز مار گرایا۔ اس جہاز پر سوار تمام 269 افراد اس واقعے میں ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے پانچ روز بعد سوویت حکام نے تسلیم کیا کہ انہوں نے جنوبی کوریا کا جہاز مار گرایا ہے۔
اکیس فروری 1973 کو لیبین عرب ایئرلائن کا بوئنگ سیون ٹو سیون جہاز طرابلس سے قاہرہ کے راستے پر تھا، جب اسے سینائی کے صحرا میں اسرائیلی طیاروں نے مار گرایا۔ اس وقت سینائی کا علاقہ اسرائیلی قبضے میں تھا اور جہاز کو سینائی میں ایک اسرائیلی عسکری تنصیب کے اوپر سے گزرتے ہوئے تباہ کیا گیا۔ اس واقعے میں جہاز پر سوار 112 میں سے صرف چار افراد زندہ بچے تھے۔
لیجئے! ابھی ایشیاء کے افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا مکمل نہیں ہوا کہ روس نے اپنے پڑوسی یورپی ملک اور یوکرین میں اپنے مفادات کیلئے روسی فوج کو بھیج کر یورپ اور امریکہ پر ایک بار پھر واضح کردیا کہ دو عالمی جنگوں اور سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد یورپ سرد جنگ اور تصادم کے خطرات سے پاک نہیں ہوا۔ یہ بھی ایک چشم کشا حقیقت ہے کہ یوکرین میں فوج بھیجنے والا روس اور اس اقدام کی مذمت کرنے والا امریکہ دونوں ہی اپنے اپنے موقف کا جواز دیتے ہوئے جمہوریت ، آزادی، انسانی حقوق، عالمی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کا سہارا لے رہے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروو نے 3؍مارچ کو جنیوا میں جو بیان دیا اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے روسی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسی 3 مارچ کو جو بیان دیا ہے دونوں کا موازنہ کیجئے تو دونوں عالمی قوتوں کے متضاد موقف میں اعلیٰ انسانی اقدار، یوکرین کے عوام کی بھلائی ، اقوام متحدہ یوکرین کی سلامتی اور عالمی قانون کا یکساں طور پر احترام کے ساتھ ذکر ملے گا جبکہ دونوں عالمی طاقتوں کے مفادات میں ٹکرائو اور محاذآرائی تلخ زمینی حقائق ہیں۔
اس تمہید کا مقصد اس حقیقت کی نشاندہی کرنا ہے کہ عالمی یا علاقائی طاقتور اقوام ہمیشہ عالمی اصولوں، جمہوریت، آزادی، دہشت گردی، امن، استحکام اور سلامتی کی عملی تعریف اور اقدامات کا تعین اپنے مفادات کے مطابق کرتی ہیں۔ امریکہ افغانستان میں کئی ہزار امریکی فوجی لمبی مدت کیلئے افغان ، امریکہ دو طرفہ معاہدہ کے تحت مقیم رکھنا چاہتا ہے مگر گزشتہ بارہ سال سے امریکی سرپرستی، حمایت اور امداد سے افغانستان کے سربراہ مملکت حامد کرزئی معاہدہ پر دستخط سے انکاری ہیں۔ کرزئی کو اس انکار کے باعث صدر اوباما نے ناپسندیدہ قرار دے دیا اب چند دنوں میں وہ افغان صدارت سے بھی رخصت ہونے والے ہیں۔ یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ بیرونی طاقتوں کی سرپرستی سے اپنے ملکوں پر حکومت کرنے والے قائدین کی جب افادیت ختم ہوجاتی ہے تو بڑی طاقتیں انہیں ’’ٹشوپیپر‘‘ کی طرح نکال پھینکنے میں بھی دیر نہیں لگاتیں۔ گلوبلائزیشن کے جدید دور میں یہ عمل اب زیادہ واضح ہو گیا ہے۔
یہ نظریہ سازش نہیں ایک عالمی حقیقت ہے کہ عالمی اور علاقائی قوتیں کمزور اقوام اور ان کے قائدین کا رول اور عالمی امن کی تعریف اپنے مفادات کے تقاضوں کے مطابق متعین کر رہی ہیں۔ امریکہ استحکام، امن، ترقی اور جمہوریت کا حوالہ دیکر افغانستان میں اپنی فوج رکھنا چاہتا ہے لیکن انہی مقاصد کے نام پر یوکرین میں روسی فوج مداخلت کو خطرناک قرار دے کر مذمت اور مخالفت کرتے ہوئے روس کو اس اقدام کی سزا دینے اور ایک نئی سرد جنگ شروع کرنے کا خطرہ بھی مول لے رہا ہے جبکہ روس نے یوکرین میں فوج بھیجنے کے اقدام کو وہاں کے عوام کی بھلائی ،انہیں فاشسٹوں سے نجات دلانے میں مدد اور امن کا اقدام قرار دے رہا ہے۔ یہی عالمی طاقتوں کی عالمی حقیقت ہے کہ ’’جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے‘‘۔
موسم سرما کے اولمپکس گیمز کا زورشور ختم ہونے سے قبل ہی یوکرین میں عوامی مظاہروں اور حکومتی بحران نے یوکرین کے روس نواز صدر ینکووچ کو ملک سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا تو سب کو یقین تھا کہ روس لازماً اپنے مفادات کیلئے اقدام کرے گا اور اب یہ واضح بھی ہوگیا کہ امریکہ اور یورپ کی پروا نہ کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے یوکرین میں روسی آبادی کے اکثریتی علاقے کریمیا میں روسی فوجی دستے بھیج دیئے تاکہ بحران زدہ یوکرین میں روسی مفادات کا تحفظ ہو سکے۔ روس آج بھی ایک عالمی طاقت اور اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں ویٹو کا حق رکھنے والا ملک ہے اور صدر پیوٹن ٹوٹے ہوئے سوویت یونین میں سے ایک گرینڈ روسی فیڈریشن کی تعمیر چاہتے ہیں۔ وہ اپنے اردگرد کی سابقہ سوویت یونین کے نو آزاد ممالک کو اپنے دائرہ اثر میں رکھنا چاہتے ہیں۔
اسی لئے وہ پہلے جارجیا میں بھی روسی فوج بھیج چکے ہیں اور دو علاقے عملاً جارجیا سے آزاد کرائے، اس وقت بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں نےاحتجاج کیا روس کو تنہا کرنے اور رابطے منقطع کرنے کے اقدامات کئے لیکن حالات و واقعات اور اپنے اردگرد کے ممالک میں اپنی مضبوط گرفت کے باعث روس ڈٹا رہا اور اس نے جارجیا کے ساتھ جنگ بندی کی شرائط پر بھی عمل نہیں کیا اور صرف ایک سال بعد ہی 2009ء میں نیٹو ممالک نے روس سے ملٹری رابطے بحال کرلئے جبکہ 2010ء میں صدر اوباما نے روس کے ساتھ سویلین نیوکلیئر سمجھوتے پر دستخط کرکے تعلقات کو بہتر بنا لیا کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس روس کے خلاف جوابی عملی اقدام کرنے کے آپشن بہت محدود تھے اس کے برعکس یورپ کو روسی گیس کی سپلائی کی بڑی لازمی ضرورت بھی بے بس کردیتی ہے۔
اب تو امریکہ کو بھی ایران اور شام کے معاملات میں روسی تعاون کی بڑی ضرورت ہے لہٰذا امریکہ اور یورپی طاقتیں یوکرین میں روسی فوجی مداخلت کے باوجود تصادم نہیں چاہتیں بلکہ وقتی طور پر معاشی تعاون کی معطلی، مذمتی بیانات، یورپ کی جانب سے روسیوں پر ویزا کی پابندیاں عالمی دبائو اور حدود سے تجاوز نہ کرنے کی وارننگ تک ہی معاملات محدود رہیں گے۔ صدر پیوٹن یہ سمجھتے ہیں امریکہ اور اس کے ساتھیوں کے پاس بڑے محدود آپشن ہیں لہٰذا وہ کچھ زیادہ نہیں کرسکیں گے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، یوکرین اور دیگر رکن ممالک نے اپنی تقاریر میں روس کو عالمی قانون، معاہدہ ہلسنکی اور دیگر معاہدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے یوکرین میں فوج بھیجنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے لیکن روس نے بھی کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ کی یاد تازہ کرتے ہوئے یوکرین کے معزول صدر یوکونوچ کے دستخط سے روسی صدر کے نام ایک خط اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیا ہے جس میں یوکرین کے صدر نے یوکرین سے فرار ہونے سے قبل روس سے مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یوکرین انتہا پسندوں اور فاشسٹوں کے ہاتھ خانہ جنگی کی حالت میں ہے لہٰذا صدر پیوٹن یوکرین میں امن و امان کے قیام میں تعاون کریں۔
روس کی جانب سے بلائے جانے والے سلامتی کونسل کے اجلاس میں روسی سفیر کی جانب سے معزول صدر یوکونوچ کا یہ خط یہ ظاہر کرتا ہے کہ روس یوکرین کے منتخب صدر کی درخواست پر یوکرین میں فوجی مداخلت کر رہا ہے جبکہ امریکہ روس کو عالمی قانون ، معاہدہ ہلسنکی، معاہدہ بڈاپسٹ اور پڑوسی ملک یوکرین کی آزادی کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دے رہا ہے۔ گویا اقوام متحدہ کے محاذ پر امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ کا محاذ ایک بار پھر کھل گیا ہے۔ سلامتی کونسل میں روس کو ویٹو کا حق حاصل ہے لہٰذا روس کی مرضی کے بغیر سلامتی کونسل کوئی قرارداد بھی منظور نہیں کرسکتی۔ روس کو عالمی حالات کے بہائو سے علیحدہ کرنا بھی اتنا آسان نہیں۔ روسی زبان بولنے والے مشرقی یوکرین کے تقسیم ہوجانے کا خطرہ بھی موجود ہے۔ شام ، عراق ، لیبیا ، افغانستان اور دیگر ممالک پر بآسانی اقتصادی اور دیگر پابندیاں عائد کر ڈالنے والی سلامتی کونسل ویٹو کے حامل روس کے خلاف مذمتی قرارداد بھی منظور نہیں کرواسکتی مگر سلامتی کونسل میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور ان کے حامی ممالک کی مختلف دھمکیوں پر مبنی تقاریر کا زور ہے۔ پابندیوں اور اس کی قیمت ادا کرنے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں مگر صدر پیوٹن کے رویہ اور موقف میں تاحال کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
روس اپنی فوجی مداخلت کو باہمی معاہدوں اور عالمی قانون کے تقاضوں کے مطابق یوکرین کی مدد کرنے کا اقدام قرار دے رہا ہے۔ سلامتی کونسل میں امریکی سفیر سمنتھا پاورز، برطانوی سفیر مارک لائل گرانٹ روسی سفیر ویٹالی چرکن زبردست شعلہ بیانی اور سفارت کاری میں مصروف ہیں۔ چین کے سفیر غیر جانبدارانہ اور ڈائیلاگ سے مسئلہ حل کرنے کے اصولی موقف پر زور دے رہے ہیں۔ بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان سرد جنگ کے ایام کی طرح محاذ آرائی اور مذمت کرنے کا ماحول قائم ہے اور بقیہ چھوٹے بڑے ممالک عالمی طاقتوں کی محاذ آرائی میں مشکلات سے دوچار ہیں یوکرین ہو یا افغانستان، وینزویلا ہو یا شام، لیبیا ہو یا جارجیا جیسے ممالک ہوں انہیں تو بڑی عالمی طاقتوں کے ایجنڈے اور مفادات کا حصہ بننا پڑ رہا ہے۔ نئی صدی میں گلوبلائزیشن کے تقاضے، چھوٹی یا کمزور اقوام کے حق میں نظر نہیں آتے۔
قیام پاکستان کے فوراً بعد سبھی ہمارے قائدین نے امریکہ اور سوویت یونین میں جاری سرد جنگ میں دھکیل دیا تھا، جس کی قیمت پاکستان کو آج بھی ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ روس کی دشمنی اور دھمکیاں امریکہ کی امداد اور پابندیاں، خطے میں ہماری علاقائی تنہائی اور دہشت گردی کے دور کے بعد ہماری عالمی تنہائی یہ سب کچھ ہمارے قائدین کی عاقبت نااندیشی اور عالمی طاقتوں کی سرد جنگ اور رسہ کشی میں خود کو پھنسانے کا نتیجہ بھی ہے۔