ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ایک قریبی ساتھی نے کہا ہے کہ ترک فورسز شامی باغی گروپ فری سیریئن آرمی کے ساتھ جلد ہی شامی سرحد عبور کریں گی۔
ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے کمیونیکشن ڈائریکٹر فخرتن التون نے کہا ہے کہ ترک فوج، شامی باغی فورسز فری سیریئن آرمی کے ساتھ مل کر شامی سرحد عبور کرے گی۔ ترکی کی طرف سے یہ پیشرفت شام کے شمالی حصے سے امریکی فورسز کے غیر متوقع انخلاء کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس فیصلے کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر امریکا کے اندر بھی بہت زیادہ تنقید کی جا رہی ہے جبکہ کُرد ملیشیا نے اس امریکی فیصلے کو کُردوں کی پیٹھ میں چُھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ترک حکام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ فوج نے شامی عراقی سرحد پر کارروائی کی ہے جس کا مقصد کُرد فورسز کو شام کے شمالی حصے کی طرف جانے سے روکنا تھا۔
کُرد فورسز وہاں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش میں ہیں۔ صدر ایردوآن کے کمیونیکشن ڈائریکٹر فخرتن التون نے کرد ملیشیا وائی پی جی کے جنگجوؤں کو متنبہ کیا کہ وہ اس ملیشیا سے الگ ہو جائیں ورنہ انقرہ انہیں ‘داعش کے خلاف ایکشن میں رکاوٹ‘ بننے نہیں دے گی۔ التون کی طرف سے ایک ٹوئیٹر پیغام میں کہا گیا، ”ترک ملٹری، فری سیریئن آرمی کے ساتھ مل کر ترک شام سرحد عبور کرے گی۔‘‘ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والے اپنے کالم میں التون نے لکھا ہے کہ ترکی شام کے شمال مشرقی حصے میں کارروائی سے ترک شہریوں کو ایک طویل عرصے سے لاحق خطرے سے پاک کرنا چاہتا ہے اور مقامی آبادی کو مسلح بدمعاشوں سے آزادی دلانا چاہتا ہے اور اس کےعلاوہ اس کا کوئی اور مقصد نہیں ہے۔ خیال رہے کہ ترکی وائی پی جی کو کالعدم کُرد تنظیم کردستان ورکرز پارٹی کا ہی ایک حصہ قرار دیتا ہے۔ قبل ازیں ترکی یہ کہہ چکا ہے کہ وہ شام کی ترکی کے ساتھ لگنے والی سرحد کے قریب ایک سیف زون یا محفوظ علاقہ قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ وہاں ترکی میں پناہ لیے ہوئے شامی مہاجرین کو بسایا جا سکے۔ تاہم اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی طرف سے ترکی کو کسی فوجی کارروائی سے خبردار کیا گیا ہے۔
اگرچہ پاکستانی میڈیا میں شام کے حوالے سے کم ہی خبریں موصول ہو رہی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ خانہ جنگی کے شکار اس خطے میں امن قائم ہو چکا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ تین ماہ کے دوران شام کے شمال مغربی علاقوں سے چار لاکھ سے زیادہ افراد نقل مکانی کر گئے ہیں جبکہ بشار الاسد کی حکومت نے باغیوں کے زیرکنٹرول علاقوں میں بمباری کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے او سی ایچ اے کے عہدیدار ڈیویڈ سوانسن نے شام پر اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’گذشتہ اپریل کے آخر سے شام میں چار لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔
جنگ کا شکار یہ خطہ 30 لاکھ نفوس پر مشتمل تھا جن میں سے نصف سے زیادہ پہلے ہی اپنے گھر چھوڑ کر یہاں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ تشدد اور خانہ جنگی سے ادلیب مکمل طور پر جبکہ اس کے پڑوسی صوبوں حلب، حاما اور الذقیہ کے بیشتر علاقے تباہی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ تازہ ترین نقل مکانی میں جنوبی ادلیب اور شمالی حاما کے علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد ہجرت کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے: ’ان فرار ہونے والے افراد کی اکثریت ادلیب صوبے کے دیگر علاقوں کی جانب ہجرت کر گئی ہے جب کہ ایک چھوٹی سی تعداد شمالی حلب صوبے میں منتقل ہو گئی ہے جبکہ ان میں سے تقریبا دو تہائی بے گھر خاندان کیمپوں کے باہر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
یہ علاقہ ’اتحاد ہئیت تحریر الاشام’ کے زیر کنٹرول ہے۔ برطانیہ کی انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے مطابق اپریل کے آخر تک دمشق حکومت اور اس کے اتحادیوں نے فضائی بمباری سے 730 سے زائد شہریوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ او سی ایچ اے نے کہا ہے کہ اپریل کے اختتام سے علاقے میں قائم صحت کے مراکز یا طبی کارکنوں کے خلاف 39 حملے کیے گئے ہیں جبکہ فضائی کارروائیوں میں کم از کم 50 سکول بھی تباہ ہو گئے ہیں۔ شدت پسندوں کی جانب سے بفر زون سے نکلنے سے انکار کے بعد اس خطے کو مزید خونریزی سے بچانے کے لیے ماسکو اور انقرہ کے درمیان ستمبر میں طے پائے گئے معاہدے پر مکمل طور عمل درآمد نہیں کیا جارہا بلکہ اس کے برعکس حالیہ ہفتوں میں بمباری میں اضافہ ہی ہوا ہے۔
مبصرین کے مطابق دمشق اور اس کے اتحادی روس نے علاقے میں فضائی کارروائی کے دوران 12 شہریوں کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ صرف گذشتہ پیر کے روز 50 مزید شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ کئی برس سے جاری اس جنگ میں او سی ایچ اے نے گذشتہ پیر کو علاقے میں ’سب سے مہلک ترین دن‘ قرار دیا ہے۔ شام میں 2011 سے جاری اس خون ریز جنگ میں اب تک 370،000 سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ دمشق میں متاثرین جنگ کی بحالی میں مصروف رضا کار نے انڈپینڈنٹ اردو کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ ہفتوں میں مشرقی حلب پر قابض مسلح گروہ کی جانب سے حلب پر میزائل اور مارٹر حملوں میں بہت زیادہ شدت آئی ہے اور سویلین آبادی کا بہت جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔
ایلان کردی ایک ایسے معصوم تارک وطن بچے کا نام تھا، جس کی ترکی کے ایک ساحل سے ملنے والی لاش پوری دنیا کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا بن گئی تھی۔ اب اس بچے کے نام کا ایک جرمن بحری جہاز سمندر میں تارکین وطن کو ڈوبنے سے بچائے گا۔ ایلان کردی شام کا کرد نسل کا ایک ایسا بچہ تھا، جو ستمبر 2015ء میں اپنے خاندان کے ہمراہ یورپ کی طرف سفر میں تھا۔ اس کے والد عبداللہ کردی نے انسانوں کے اسمگلروں کو رقوم دے کر یہ انتظام کیا تھا کہ اس کے خاندان کو ایک کشتی کے ذریعے ترکی سے یونان کے ایک جزیرے پر پہنچایا جانا تھا۔ اس خاندان کو اسمگلروں کی طرف سے مہیا کی گئی ربڑ کی کشتی میں ایلان، اس کا بھائی غالب، والدہ ریحانہ، والد عبداللہ کردی اور کئی دیگر تارکین وطن بھی سوار تھے۔ یہ کشتی طوفانی لہروں کی وجہ سے سمندر میں ڈوب گئی تھی۔ اس واقعے میں ایلان، اس کا بھائی اور اس کی والدہ سمندر میں ڈوب گئے تھے جبکہ اس کا والد زندہ بچ گیا تھا۔
پھر ایلان کردی کی ننھی لاش کو سمندر کی لہروں نے لا کر ترکی میں بودرُم کے ساحل پر پھینک دیا تھا۔ اس بچے کی لاش کی دنیا بھر میں گردش کرنے والی تصویریں عالمی ضمیر کے لیے ایک بڑا دھچکا اور انتہائی تکلیف دہ منظر ثابت ہوئی تھیں۔ اب کھلے سمندروں میں یورپ آنے کے خواہش مند تارکین وطن کو بچانے والی ایک جرمن تنظیم نے اپنے ایک چھوٹے امدادی بحری جہاز کا نام ایلان کردی کے نام پر رکھ دیا ہے۔ اس کے لیے ایک باقاعدہ تقریب منعقد کی گئی اور اس رسم کے لیے ایلان کردی کے والد عبداللہ کردی کو خاص طور پر مدعو کیا گیا۔ اس جرمن بحری جہاز کا نام ماضی میں ’پروفیسر البریشت پَینک‘ تھا اور اسے ایلان کردی سے موسوم کرنے کی تقریب اسپین میں پالما دے مایورکا کی ایک بندرگاہ میں منعقد کی گئی۔ یہ جہاز جرمن شہر ریگنزبرگ میں قائم بحری امدادی تنظیم ’سی آئی‘ (Sea Eye) کی ملکیت ہے۔
سب سے اہم بات
’سی آئی‘ کے ترجمان گورڈن اِیزلر کے مطابق، ’’اس ریسکیو شپ کا نام ’ایلان کردی‘ رکھنے کا واحد مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو یاد رہے کہ اہم ترین بات کیا ہے؟ واحد بہت اہم بات یہی ہے کہ ان انسانوں کے بدقسمتی اور ان کے لواحقین کے لامتناہی درد کو یاد رکھا جانا چاہیے، جو بہتر مستقبل کے لیے یورپ پہنچنے کی کوشش میں ہر روز بحیرہ روم کے پانیوں میں ڈوب جاتے ہیں۔‘‘ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایلان کردی کے والد عبداللہ کردی نے کہا، ’’میں Sea Eye کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنے اس جہاز کا نام تبدیل کر کے میرے بیٹے کا نام پر رکھا ہے۔ اب اس معصوم بچے کا نام کسی اچھے مقصد کے لیے استعمال ہو سکے گا اور اس کی روح کو بھی چین ملے گا۔‘‘ عبداللہ کردی کے مطابق ایسے کئی ہزار دیگر خاندان بھی ہیں، جنہوں نے اپنے بہت پیارے اور معصوم بچے اسی طرح کی المناک اموات کی صورت میں گنوا دیے ہیں۔
ساٹھ سے زائد سمندری امدادی مشن
’سی آئی‘ تارکین وطن کی مدد کرنے والی ایک ایسی جرمن امدادی تنظیم ہے، جو 2016ء سے لے کر اب تک بحیرہ روم کے پانیوں میں اپنے 60 سے زائد ریسکیو مشنوں کے ذریعے غیر محفوظ کشتیوں میں یورپ کی طرف سفر کرنے والے 14 ہزار سے زائد انسانوں کو سمندر میں ڈوبنے سے بچا چکی ہے۔ اب اس جرمن تنظیم کو بھی کئی دیگر جرمن اور یورپی امدادی تنظیموں کی طرح یورپی یونین کے رکن متعدد ممالک کی طرف سے اپنی امدادی کارروائیوں کے خلاف مسلسل سخت سے سخت تر ہوتے ہوئے اقدامات کا سامنا ہے۔
عالمی طاقتوں کی جانب سے ملک شام میں حملوں کی بنیاد داعش کے خلاف
کارروائیوں کو بنایا گیا تھا لیکن ان طاقتوں میں شامی صدر بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے کوئی سمجھوتا طے نہیں پا سکا تھا۔ امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں کے برعکس روس کا یہ موقف تھا کہ شامی عوام ہی کو انتخابات کے ذریعے بشارالاسد کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے جبکہ امریکا ، ترکی اور عرب ممالک شامی صدر کی بحران کے حل کے لیے اقتدار سے رخصتی چاہتے تھے۔ روس کا موقف تھا کہ شامی صدر نہیں بلکہ داعش کے خلاف جنگ پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے اور اس میں شرکت کیلئے بشارالاسد کی رخصتی سمیت کوئی پیشگی شرط عائد نہیں ہونی چاہئے۔
فرانس اور روس کے جہازوں نے شام پر ہزاروں ٹن بارود کے گولے برسائے نتیجتاً سیکڑوں معصوم شہری لقمہ اجل بنے لیکن داعش کو اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا پہنچنا چا ہئے تھا۔ اس کا جواز یہ پیش کیا گیا کہ داعش نے پیشگی احتیاطی تدابیر اختیار کیں جس کی وجہ سے وہ بڑے نقصان سے بچ گئے لیکن یہاں پر معاملہ وہ ہی قندوز حملے جیسا تھا کہ حملے کے بعد کہا گیا کہ ہلاک ہونے والے تمام تر بدنام زمانہ دہشت گرد تھے لیکن جوں جوں حقیقت سامنے آتی گئی اس سے واضح ہوا کہ فضائی کارروائی خالصتاً درندگی تھی جس سے معصوم حفاظ لقمہ اجل بنے۔
سب سے پہلے روس کی جانب سے اعتراف سامنے آیا کہ شامی سرزمین پراپنے تیار کردہ 200 نئے اقسام کے ہتھیاروں کو شام کی خانہ جنگی میں آزمائش کے طور پر استعمال کیا، گویا شام اور اس کے معصوم شہریوں کا تختہ مشق بنایا گیا۔
روس کے اپنے نئے تجربات کی کامیابیوں کا ذکر یو ں آیا کہ روسی فوج کے سابق کمانڈر اوراس وقت کے ’ڈوما‘ کی دفاعی کمیٹی کے سربراہ ولادی میر شامانوو نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ماسکو کے انجینئروں نے ملکی سطح پر تیار کردہ 200 اقسام کے نئے ہتھیاروں کو شام میں ٹیسٹ کیا، شامی حکومت کی مدد کے لیے نئے اقسام کے ہتھیار بنائے گئے اور انہیں استعمال کیا، ہمارے ہتھیار اس قدر کامیاب ہوئے کہ خود بشارلاسد حکومت نے ہم سے مانگے اور ذخیرہ کیا جب کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہتھیار شامی حکومت نے اپنے شہریوں پر استعمال کئے۔
تازہ اطلاعات ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد امریکا نے شام پر برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر حملہ کیا ہے، حملے میں بظاہر سائنسی تحقیق کی لیبارٹری کو نشانہ بنایا گیا امریکی صدر نے کہا ہے کہ شام میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے جب کہ حملوں کا مقصد کیمیائی ہتھیاروں کا خاتمہ ہے۔ لیکن ان دعوئوں پر حقائق سامنے آنے تک کوئی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہو گا کیوں کہ وتیرہ تو یہ ہی بنایا جاتا ہے کہ حملے ہدف پر تھے، دہشت گرد مارے گئے، مقصد حاصل کر لیا گیا لیکن جب زمینی حقائق سامنے آتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مارے گئے عام معصوم شہری تھے، حفاظ تھے، بچے تھے، عورتیں تھیں اور دہشت گرد اس لئے بچ گئے کیوں کہ انہوں نے احتیاطی تدابیر اختیار کر لی تھیں۔