اللہ کے شیروں کو آتی نھیں روباھی………..علامہ محمد اقبال

علامہ محمد اقبال بھت بڑے دانشور شاعر اور مفکر تھے۔ان کے مشاھدے اور استدلال سے با شعور انسان بھت ذیادہ استفادہ کرتا ھے۔علامہ اقبال کا یہ نظریہ تھا کہ مسلمان کو کسی بھی صورت حق کا دامن نھیں چھوڑنا چاھیے۔انھوں نے ان اسباب کی بھی نشاندھی کی جو انسان کو حق سے دور لے جاتے ھیں۔ان اسباب میں سے بڑا سبب انسان کے مادی مفا دات اور معاشی مجبوریاں ھیں۔ان مجبوریوں کا آغاز اس کے گھر بنانے ھی سے شروع ھو جاتا ھے۔آپ فرماتے ھیں
تعمیر آشیاں سے میں نے یہ راز پایا
اھل نوا کے حق میں بجلی ھے آشیانہ
آپ مسلمانوں کو ملی غیرت کا سودا کر کے معیشت بھتر بنانے سے روکتے رھے۔آپ کے نزدیک اس رزق سے اجتناب ضروری ھے جو انسان کو حق پرستی سے دور لے جا ےْ۔ اس حوالے سےآپ نے اپنے جذبات کا اظھار بڑے خوبصورت انداز میں کیا ھے۔آپ فرماتے ھیں:
اے طایْر لاھوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ھو پرواز میں کوتاھی
دارا و سکندر سے وہ مرد فقیر اولٰیٰ
ھو جس کی فقیری میں بو اسداللہی
آیْینِ جوانمردی حق گوْیی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نھیں روباھی
یقینا حکمت اور دانایْ مومن کی گم گشتہ متاع ھے جھاں سے ملے اس کو اپنا لینا چاھیے۔اللہ ھمیں ھمیشہ علم و حکمت کے راستے پر کاربند رکھے آ مین۔

Enhanced by Zemanta

کس منہ سے قیامت کے دن ان کے حضور پیش ہونگے کیا کبھی سوچا ہم نے ؟

قافلہ ابھی شہر سے تھوڑا پیچھے تھا کہ موسلا دھار بارش شروع ہوگئی اونٹوں پر لدا ہوا سامان تجارت جو کہ کھجوروں اور اناج پر مشتمل تھا بھیگنے لگا . بارش سے محفوظ جگہ پر پہنچتے پہنچتے آدھا مال بھیگ چکا تھا. منڈی میں پہنچ کر تاجروں نے مال اتارنا شروع کیا ان تاجروں میں ایک بہت معصوم چہرے والا انتہائی خوش شکل نوجوان تاجر بھی موجود تھا. اس نوجوان تاجر نے جب اپنا مال اتارا تو اس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا. …خشک کھجوریں اور خشک اناج ایک طرف رکھ دیا اور بھیگی کھجوریں اور اناج علیحدہ کر کے رکھ دیا. جب خرید و فروخت شروع ہوئی تو نوجوان تاجر کے پاس جو خریدار آتا وہ اسے بھیگے مال کا بھاؤ کم بتاتے جب کہ خشک مال کا بھاؤ پورا بتاتے گاھک پوچھتا کہ ایک جیسے مال کا الگ الگ بھاؤ کیوں تو وہ بتاتے کہ مال بھیگنے سے اس کا وزن زیادہ ہوگیا ہے خشک ہونے کے بعد وزن کم ہوجائے گا یہ بددیانتی ہوتی . لوگوں کیلئے یہ نئی بات تھی تھوڑی ہی دیر میں پوری منڈی میں ان کی دیانتداری کا چرچا ہوگیا. لوگ جوق در جوق معصوم صورت والے تاجر کے گرد جمع ہونے لگے. اتنی چھوٹی سی بددیانتی ان کے لئے معمولی بات تھی لیکن جنہوں نے تاجدار انبیا علیہ السلام بننا تھا ان کے لئے یہ بات معمولی کیسے ہوسکتی تھی.
میں اپنے اردگرد لوٹ مار اور نفسا نفسی دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کیا ہم سب اسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں جو اتنی معمولی سی بات کو بھی بددیانتی سمجھتے تھے . آج تو ہم خود وزن زیادہ کرنے کیلئے مال میں مٹی اور پتھر تک ملانے سے گریز نہیں کرتے . کس منہ سے قیامت کے دن ان کے حضور پیش ہونگے کیا کبھی سوچا ہم نے ؟

تحریر۔ عباس خان

Enhanced by Zemanta

Gurdwara Panja Sahib Hasanabdal, Pakistan

Interior of Panja Sahib Gurdwara in Hasan Abdal
Interior of Panja Sahib Gurdwara in Hasan Abdal (Photo credit: Wikipedia)
English: Gurdwara Nankana Sahib, in Nankana Sa...
English: Gurdwara Nankana Sahib, in Nankana Sahib, Pakistan. (Photo credit: Wikipedia)
Panja Sahib Gurdwara
Panja Sahib Gurdwara (Photo credit: Wikipedia)
Panja Sahib Gurdwara
Panja Sahib Gurdwara (Photo credit: Wikipedia)
Inside Panja Sahib Gurdwara
Inside Panja Sahib Gurdwara (Photo credit: Wikipedia)
Gurdwara Janam Asthaan,Nankana Sahab, Pakistan

 
Enhanced by Zemanta