چین روس تعلقات میں کمان کس کے ہاتھ میں ہے؟

ٹونی بلیئر کے دور سے تعلق رکھنے والے برطانوی خارجہ پالیسی کے آرکائیوز کی ریلیز اس وقت کی یاد دہانی کرواتی ہے جب دنیا کو امید تھی کہ روس کے اس وقت کے نوجوان نئے رہنما ولادی میر پوتن اپنی قوم کو پورے دل سے جمہوریت پسند بین الاقوامی برادری کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ سال 2001 میں ٹونی بلیئر نے دوسرے یورپی رہنماؤں اور واشنگٹن میں جارج ڈبلیو بش کی طرح روس کے ساتھ سفارتی طور پر بہت زیادہ توانائی خرچ کی۔ جارج بش نے اس وقت عوامی طور پر پوتن کے بارے میں کہا تھا کہ ’میں نے اس شخص کی آنکھوں میں دیکھا۔ میں نے انہیں بہت کھرا اور قابل بھروسہ پایا۔ میں نے ان کے اندر کے احساس کو جان لیا تھا۔‘ ادھر ٹونی بلیئر نے صدر پوتن کو چاندی کے کفلنک کا ایک سیٹ سالگرہ کے تحفے کے طور پر بھیجا تھا۔ لیکن اب ہم یہ بھی جان چکے ہیں کہ مغرب کے صلاح کار اس وقت بھی زیادہ محتاط رویہ اختیار کرنے پر زور دے رہے تھے، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ جب (یورپ اور امریکہ) ان سے پرامید تھے، اس وقت بھی روس مغربی مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے انٹیلی جنس ایجنٹس تعینات کر رہا تھا۔

اب ہم یہ بھی جان چکے ہیں کہ پوتن کی اصلاح پسندانہ جبلت اسی وقت سے حاوی تھی، جب انہیں مشرقی جرمنی کے سویت انٹیلی جنس ’کے جی بی‘ کے سٹیشن سے واپس بلایا گیا تھا۔ یہاں تک کہ 20 سال پہلے انہوں نے سوویت یونین کے زوال اور مشرقی یورپ میں اس پر انحصار کرنے والی ریاستوں کے بلاک کو تاریخی تناسب کے سانحے کے طور پر دیکھا اور اس وقت بھی انہیں یوکرین ایک دکھاوے کا ملک ہی لگتا تھا۔ ایسٹونیا کی طرح کے نقصان سے کہیں زیادہ 1990 میں یوکرین کی آزادی یو ایس ایس آر کے خاتمے کی علامت ہے۔ اگر یوکرین روس کے ساتھ اپنی شراکت داری برقرار رکھتا تو شاید یو ایس ایس آر ٹوٹنے سے بچ جاتا، لیکن ایسا نہیں ہوا اور پوتن تب سے ہی اس حقیقت سے نالاں تھے اور جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں، انہوں نے اسے پلٹنے کی کوشش کی۔ اس وقت ٹونی بلیئر اور جارج بش پوتن کی حقیقی فطرت کے بارے میں بے وقوف بنے رہے کیوں کہ بعد میں انہیں حقیقت سمجھ میں آئی۔

لیکن پوتن کے نئے دوست اور حلیف شی جن پنگ کے ساتھ ایسا نہیں ہے، جنہوں نے ایک ویڈیو کانفرنس میں ان کے ساتھ بات چیت کی۔ جب صدر شی نے گذشتہ سال فروری میں یوکرین پر روسی حملے سے قبل اعلان کیا تھا کہ ماسکو کے ساتھ بیجنگ کی دوستی کی ’کوئی حد‘ نہیں ہے، تو شاید ان کے ذہن میں مغرب کے ساتھ تھرمونیوکلیئر جنگ کا خطرہ نہیں تھا، جو کرہ ارض کو تباہ کر دے گی۔ یہ چین اور صدر شی کو فراموشی میں لے جائے گی۔ اور نہ ہی حقیقت میں صدر شی نے اس بات کا تصور کیا کہ اب یوکرین میں ایک طویل جنگ جاری ہے، جس کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آرہا ہے، جو عالمی تجارت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے اور اس وجہ سے ہی چین کی صنعتی برآمدات متاثر ہو رہی ہی۔) اور نہ ہی مسٹر پوتن نے اس کا تصور کیا تھا، جنہوں نے اپنی فتح کے بارے میں اسی اعتماد کا ظاہر کیا، جو انہوں نے میدان جنگ میں اپنی افواج کی تذلیل سے پہلے باقی دنیا کے سامنے کیا تھا۔)

اس رشتے میں یہ بہت واضح ہے کہ اب کمان کس کے ہاتھ میں ہے۔ چین دنیا میں روس کا واحد اہم اتحادی ہے اور سخت مغربی پابندیوں کے دور میں اپنی معاشی بقا کے لیے اس پر اور بھی زیادہ انحصار کر چکا ہے۔ چین جو اس وقت کرونا بحران کی گرفت میں ہے، کی معیشت مغرب کی جانب سے سرمایہ کاری ختم کرنے اور اس کی برآمدات پر پابندیاں لگانے سے پہلے بھی، روس کی نسبت کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ درحقیقت تنازع کے دوران روس کے ساتھ چین کی دوستی کی حدیں واضح تھیں اور کچھ کو عوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ چین مغربی پابندیوں کے خوف سے روس کو اس ناامیدی والی جنگ میں کوئی اہم فوجی سازوسامان فروخت نہیں کرے گا، جس میں تبدیلی کا بھی امکان نہیں ہے۔ بیجنگ کو شاید یوکرین کے مستقبل کی زیادہ پرواہ نہ ہو لیکن وہ بلاوجہ امریکہ کو اکسانا نہیں چاہے گا کیوں کہ یوکرین کا تنازع پہلے ہی چین کے لیے غیر مددگار ثابت ہوا ہے۔ مثال کے طور پر تائیوان پر تیزی سے حملہ کرنے کے لیے یوکرین کی نظیر اور خلفشار دونوں کو استعمال کرنے کا اس کا خواب اس وقت تیزی سے دھندلا گیا جب روسی فوج ڈونیتسک کے مشرقی محاذ سے شکست کھا کر پیچھے ہٹ گئی۔

جنوبی کوریا، جاپان اور آسٹریلیا جیسی علاقائی طاقتوں سمیت مغرب کے اتحاد اور لچک کے مظاہرے نے روس اور چین کو حیرت میں ڈال دیا ہے اور خطے میں چینی توسیع پسندی کے متوازی خطرات اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو (بی آر آئی) کے ذریعے طاقت کے حصول کے لیے اس کی عالمی رسائی کو اجاگر کیا ہے۔ جرمنی نے اپنی سابقہ نیم امن پسندی کی پالیسی کو تبدیل کر دیا ہے اور جاپان اپنے دفاعی پروگراموں کو تیز کرنے کے لیے تیار نظر آتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی پیش رفت چینی مفادات کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔ یہاں تک کہ چین کی اقتصادی مدد، جس کا دونوں رہنماؤں کی بات چیت کے بعد جاری کیے گئے بیان میں پیش رفت کے ایک اہم شعبے کے طور پر حوالہ دیا گیا ہے، کریملن کے لیے دو دھاری تلوار ہے۔ مغربی توانائی کی منڈیوں کے نقصان کے ساتھ چین اب روس کی اہم برآمدی منڈی بن گیا ہے اور صدر شی نے درحقیقت اپنا جوتا روسی معیشت کی ونڈ پائپ پر رکھ دیا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ روس آسانی سے چینی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی پر بہت زیادہ انحصار کر سکتا اور بی آر آئی نیو۔ کالونیل کی طرح کا قبضہ ہے۔ 

یہاں تک کہ ماؤ کے زمانے میں اور ایک مشترکہ مارکسسٹ لیننسٹ نظریے کے تحت، جب چین اور روس عالمی کمیونسٹ انقلاب کی قیادت کے لیے لڑ رہے تھے اور ان کی دشمنی کبھی کبھار سرحدی تشدد میں بدل سکتی تھی، امریکہ سے ان کی باہمی دوری نے انہیں قریب لانے کا سامان پیدا کیا لیکن واضح طور پر دیوار ابھی بھی موجود ہے اور تعلقات یک طرفہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ چین کو روس سے زیادہ مغرب کی ضرورت ہے اور روس کو چین کی ضرورت ہے، چین کو روس کی نہیں۔ ان رہنماؤں کی اگلی ملاقات کے وقت تک جب صدر شی ماسکو کا سرکاری دورہ کریں گے، چین ممکنہ طور پر یوکرین میں جنگ کے خاتمے اور اس کے نتیجے میں عالمی معیشت میں استحکام دیکھنے کو ترجیح دے گا۔ اس دوران یوکرین میں جنگ کے خاتمے کا مطلب ولادی میر پوتن کی معزولی اور روسی دارالحکومت میں تقریب کے لیے ایک نئے میزبان کو دیکھنا ہو سکتا ہے۔ اگر یہ چین کے مفاد میں ہوتا تو صدر شی اسے یکسوئی کے ساتھ قبول کر لیتے کیوں کہ بہترین دوستی کی بھی اپنی حدود ہوتی ہیں۔

بشکریہ دی انڈپینڈنٹ
 

بااثر اور عظیم ثالث : ایردوان

صدر ایردوان اس وقت واحد عالمی رہنما ہیں جن پر دنیا کی نگاہیں مرکوز ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ اور روس پر عالمی سطح پر لگائی جانے والی پابندیاں ہیں لیکن ایردوان ایک ایسے رہنما کے طور پر ابھر ے ہیں جن کے روس کے صدر ولادیمیر پوٹن اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بڑے گہرے اور دوستانہ مراسم ہیں۔ مغربی ممالک جو روس پر پابندیاں لگانے کے بعد خود انرجی اور اناج کے بحران سے دوچار ہیں اس بحران سے نکلنےکی اپنے تئیں کوششیں کر چکے ہیں لیکن تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں جبکہ صدر ایردوان نے مغربی ممالک ہی کی درخواست پر اپنے مضبوط مراسم استعمال کرتے ہوئے روس کو یوکرین کے اناج کو ترکی کے راستے بیرونی منڈیوں تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کی ہے، ترکیہ کے اس اقدام سے ایک طرف دنیا نے اور خاص طور پر افریقی ممالک نے سکھ کا سانس لیا تو دوسری طرف ترکیہ نے اس صورتِ حال کو اپنی اقتصادی بہتری کیلئے استعمال کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔

انہوں نے اس سے قبل روس سے قریبی تعلقات ہونے کے باوجود بڑی تعداد میں اپنے مسلح ڈرونز یوکرین کو فروخت کر کے نہ صرف یوکرین کےعوام کے دل جیت لئے بلکہ مغربی ممالک نے بھی ایردوان کے اس اقدام کی حمایت کی لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ترکیہ کے اس اقدام کے باوجود روس ترکیہ سے اپنے گہرے تعلقات کو جاری رکھے ہوئے ہے اور اپنے اناج اور گیس کو اب ترکیہ کے راستے عالمی منڈیوں تک پہنچانے کیلئے ایردوان کی ثالثی کا منتظر ہے کیونکہ اس کے خیال میں ایردوان سے بہتر کوئی بھی رہنما ثالثی کا کردار ادا نہیں کر سکتا۔ ایردوان کی کامیاب حکمتِ عملی نے نہ صر ف لیبیا، مصر، عرب ممالک بلکہ روس اور فرانس کو بھی اس قضیے سے اس طریقے سے نکال باہر کیا جیسے مکھن میں سے بال نکالا جاتا ہے اوریوں لیبیا کے عوام کو اپنا گرویدہ بنا لیا اور اب طویل عرصے بعد شام نے ترکیہ سے اپنے تعلقات کو نئے سرے سے استوار کرنے کے لیے (روس کی کوششوں سے ) ترک حکام سے رابطہ قائم کئے ہیں، دونوں ممالک کی خفیہ سروس کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور جلد ہی ان مذاکرات کے مثبت نتائج کی توقع کی جا رہی ہے۔

ترکیہ نیٹو کا واحد ملک ہے جس نے روس سےبڑے قریبی تعلقات قائم کر رکھے ہیں ، نیٹو کے رکن ممالک اس وجہ سے ترکیہ کو اکثر و بیشتر ہدفِ تنقید بھی بناتے رہے ہیں بلکہ امریکہ نے تو روس کی جانب سے فراہم کئے جانے والے ایس – 400 میزائلوں کی فروخت کے بعد ترکیہ کو نہ صرف ایف-16 طیاروں کی فروخت کو روک دیا بلکہ مشترکہ طور پر تیار کئے جانے والے ایف-35 طیاروں کے پروجیکٹ سے بھی اسے یک طرفہ طور پر نکال باہر کیا لیکن روس- یوکرین جنگ کے بعد امریکہ نے مجبور ہو کر ترکیہ پر ایف 16 طیاروں کی فروخت سے متعلق مذاکرات شروع کرنے کی ہامی بھر لی جو ترکیہ کیلئے ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ اگرچہ یونان اور متعدد یورپی ممالک ترکیہ کو نیٹو سےخارج کروانے کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن اس اتحاد کا بانی امریکہ اچھی طرح جانتا ہے نیٹو ترکیہ کے بغیر ایک ’’نمائشی اتحاد‘‘ ہے اسلئے امریکہ کبھی ترکیہ کو نیٹو سے خارج کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔

ترکیہ اگرچہ شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن نہیں لیکن ازبکستان نے چین اور روس کی خواہش پر ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کو خصوصی طور پر اس سربراہی اجلاس میں مدعو کرتے ہوئے اس ملک کی اہمیت کو تسلیم کر لیا جبکہ اس کانفرنس میں نیٹو کے کسی دیگر ملک کو مدعو نہیں کیا گیا۔ ترکیہ نے اس کانفرنس میں شرکت کرنے کے بعد تنظیم کی رکنیت حاصل کرنےکیلئے بھی غور کرنا شروع کر دیا ہے۔ جدید جمہوری دنیا میں کئی ایک ممالک کے رہنما ایسے بھی ہیں جو اگرچہ طویل عرصے سے برسر اقتدار ہیں لیکن بد قسمتی سے ان تمام ممالک میں سے کسی ایک میں بھی مغربی معیار کے جمہوری نظام پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا، اس لئے ان ممالک کے رہنماؤں کا صدر ایردوان سے تقابلی جائزہ ممکن نہیں یعنی چین کا نظام اور روس کا نظام ترکیہ سے کافی حد تک مختلف ہے جبکہ مغرب میں ایسا کوئی رہنما موجود نہیں جسے صدر ایردوان کی طرح طویل عرصے سے عوام کی حمایت حاصل ہو۔

مغرب میں جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل اگرچہ طویل عرصے تک عوام کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہیں لیکن وہ بھی عوامی حمایت اور کامیابی کی شرح کے لحاظ سے صدر ایردوان کی مقبولیت اور کامیابیوں کے معیار سے بہت پیچھے رہیں۔ صدر ایردوان واحد عالمی رہنما ہیں جنہوں نے اقوام متحدہ میں پانچ عالمی قوتوں، جنہوں نے ویٹو پاور حاصل کر رکھی ہے، کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر رکھا ہے اور وہ جنرل اسمبلی میں خطاب اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر واشگاف الفاظ میں ’’دنیا پانچ سے عظیم تر ہے‘‘ کا صرف نعرہ ہی نہیں لگا رہے بلکہ اس کیلئے انہوں نے باقاعدہ مہم بھی شروع کر رکھی ہے۔ صدر ایردوان طویل عرصے تک ترکیہ میں برسر اقتدار رہنے والے اور جمہوریہ کے بانی غازی مصطفیٰ کمال کو اپنے پیچھے چھوڑنے والے پہلے رہنما بن گئے ہیں۔ غازی مصطفیٰ کمال 5492 دن برسر اقتدار رہے تھے جبکہ ایردوان 9 مارچ 2003 سے مسلسل اقتدار میں ہیں۔ طویل عرصے اقتدار میں رہنے والی شخصیت کا عموماًیہ المیہ ہوتا ہے کہ عوام اس سے اُکتا جاتے ہیں لیکن صدر ایردوان کی یہ خوش قسمتی ہے کہ وہ اب تک عوام میں مقبول ہیں اور یہ مقبولیت کب تک برقرار رہتی ہے ؟ یہ 2023ء کے صدارتی انتخابات ہی بتا سکیں گے۔

پاکستانیوں کے نقطہ نظر سے بھی ایردوان بڑے کامیاب لیڈر تصور کئے جاتے ہیں کہ انہوں نے جس جرات مندانہ طریقے سے عالمی پلیٹ فارمز پر مسئلہ کشمیر کی حمایت کی اور پاکستان میں ماضی میں اور موجود دور میں قدرتی آفات میں مدد کی ہے اس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

ڈاکٹر فر قان حمید

بشکریہ روزنامہ جنگ

بھارت‘ روس تعلقات میں دراڑ

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھڑوں کے چھتے کو چھیڑ دیا ہے۔ انہوں نے کچھ ایسا کہا ہے جو روس کی بین الاقوامی کونسل برائے سیاست سے خطاب کرتے ہوئے ابھی تک کسی روسی رہنما یا سفارت کار یا سکالر نے نہیں کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا‘ چین اور روس کو محکوم بنانا چاہتا ہے‘ وہ پوری دنیا پر اپنی شان و شوکت قائم کرنا چاہتا ہے‘ وہ عالمی سیاست کو یک طرفہ بنانا چاہتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ہندوستان کی پیٹھ تھپتھپا رہا ہے اور اس نے ہندوستان‘ جاپان‘ آسٹریلیا اور امریکا کا ایک اتحاد کھڑا کر دیا ہے۔ انہوں نے بحر الکاہل کے خطے کا نام ‘ہند بحر الکاہل‘ رکھنے کی کوشش کی ہے تاکہ ہندوستان اور چین کے مقابلوں کا سلسلہ بدستور جاری رہے۔ ان کی کوشش ہے کہ روس کے ساتھ ہندوستان کے روایتی دوستی کے تعلقات بھی تعطل کا شکار ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ بھی ٹرمپ انتظامیہ کی اسی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے روس کے ایس 400 میزائل کی ہندوستانی خرید کی مخالفت کرے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں چلتے چلتے بھارت کے ساتھ بیسک ایکسچینج اینڈ کوآپریشن ایگریمنٹ (بیکا) کے نام سے ایک سٹریٹیجک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی کریں گے۔ اس حساس ڈیٹا کی مدد سے ہندوستان اس قابل ہو جائے گا کہ وہ میزائلوں‘ ڈرونز اور دیگر اہداف کو درست اور بالکل ٹھیک ٹھیک انداز سے نشانہ بنے سکے گا۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع مارک ایسپر نے اس معاہدے کے لیے خصوصی طور پر بھارت کا دورہ کیا تھا۔ بہرکیف روسی وزیر خارجہ کے مندرجہ بالا شبہات بے بنیاد نہیں ہیں انہیں اس حقیقت سے بھی تقویت ملی ہے کہ اسرائیل‘ خلیجی ممالک‘ جو ریاست ہائے متحدہ کے کٹر حامی ہیں‘ آج کل بھارت کے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ بھارت کے آرمی چیف نے گزشتہ دنوں میں خلیجی ممالک کا دورہ بھی کیا تھا‘ لیکن کیا روسی وزیر خارجہ یہ بھول گئے کہ بھارت نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو کبھی ختم نہیں کیا۔ حال ہی میں‘ ہندوستان کے وزیر دفاع اور وزیر خارجہ ماسکو گئے تھے اور وزیراعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان براہِ راست بات چیت ہوئی تھی‘ تاہم یہ ٹھیک ہے کہ اس وقت ہندوستان اور چین کے مابین تنائو ہے اور امریکا کسی حد تک اس صورتِ حال کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔

آسام کی سرکاری مدرسوں پرٹیڑھی نظر
آسام کے وزیر تعلیم ہمنتا وشوا شرما نے سرکاری مدرسوں کے خلاف جو کارروائی کی ہے وہ ترکی کے رہنما کمال پاشا اتا ترک کی طرح ہی ہے۔ انہوں نے اپنی کابینہ میں اعلان کیا ہے کہ نئے اجلاس سے آسام کے تمام سرکاری مدرسوں کو سرکاری سکولوں میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ ریاست کا مدرسہ تعلیمی بورڈ اگلے سال سے تحلیل کر دیا جائے گا۔ یہ مدرسے اب صرف قرآن شریف‘ حدیث‘ اصول الفقہ‘ تفسیر حدیث اور دعا وغیرہ کی تعلیم نہیں دیں گے‘بلکہ یہاں عربی زبان کے طور پر پڑھائی جائے گی۔ سکول میں تبدیل ہونے والے چھوٹے اور بڑے مدرسوں کی تعداد بالترتیب 189 اور 542 ہے۔ حکومت ہر سال کروڑوں روپے جدید تعلیم پر خرچ کرے گی۔ بظاہر اس اقدام سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مذہب کے مخالف کوئی سازش ہے‘ لیکن حکومت کا ماننا ہے کہ حقیقت میں یہ سوچ صحیح نہیں ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ پہلے‘ مدرسوں کے ساتھ‘ یہ حکومت سنسکرت کے 97 مراکز کو بھی بند کر رہی ہے۔

اب ان میں ثقافتی اور لسانی تعلیم دی جائے گی‘ مذہبی تعلیم نہیں۔ جب میں آج سے تقریباً 70 سال قبل سنسکرت کی کلاس میں جاتا تھا‘ تب مجھے کالی داس‘ بھاس اور بانی بھٹ پڑھایا جاتا تھا‘ وید‘ اپنشد اور گیتا نہیں! دوسری بات یہ کہ غیر سرکاری مدرسوں کو جو چاہیں‘ وہ پڑھانے کی اجازت ہو گی۔ تیسرا‘ ان مدرسوں اور سنسکرت مراکز میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی بے روزگاری اب کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔ وہ جدید تعلیم کے ذریعے ملازمت اور عزت‘ دونوں حاصل کریں گے۔ چوتھا‘ آسام حکومت کے اس اقدام سے متاثر ہوکر‘ 18 ریاستوں کی مرکزی حکومت‘ جن کے مدرسوں کو کروڑوں روپے کی مدد ملتی ہے‘ کی شکل بھی بدل جائے گی۔ صرف 4 ریاستوں میں 10 ہزار مدرسے ہیں جن میں کم و بیش 20 لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ ان پر پابندی لگانا غیر منصفانہ ہے۔ تمام صوبائی حکومتوں اور مرکزی حکومت کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ آسام حکومت نے جو قدم اٹھایا ہے‘ اس کا پس منظر کیا ہے۔ آسام کے مدرسوں اور سنسکرت مراکز سے ایک بھی استاد کو برخاست نہیں کیا جائے گا۔ ان کی ملازمت برقرار رہے گی۔ اب وہ نئے اور جدید مضامین کی تعلیم دیں گے۔ آسام حکومت کا یہ ترقی پسند اقدام ملک کے غریب‘ ناخواندہ اور اقلیتی طبقے کے نوجوانوں کے لئے ایک نیا وژن لے کر آ رہا ہے۔
پارلیمانی اجلاس سے کیوں ڈرتے ہیں؟

پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اب صرف بجٹ سیشن ہو گا‘ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ حزب اختلاف کے رہنمائوں کی رضا مندی کے بعد لیا ہے‘مگر پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد پٹیل کی یہ دلیل کچھ حد تک وزن دار ہے کہ پارلیمنٹ کے آخری اجلاس میں ممبرانِ پارلیمنٹ کی شرکت بہت کم تھی اور کچھ ارکانِ پارلیمنٹ اور وزرا کی کورونا کی وجہ سے موت بھی ہو گئی ہے۔ اب اگلا اجلاس بجٹ سیشن ہو گا جو چند ہی دنوں بعد‘ جنوری 2021ء سے شروع ہونے والا ہے۔ پٹیل نے کانگریس اور ترنمول کے کچھ ممبران کے اعتراضات پر بھی سوال کیا ہے کہ جو لیڈر بی جے پی پر جمہوری اقدار کی نافرمانی کا الزام لگاتے ہیں‘ وہ کم از کم اپنی پارٹیوں میں خاندانی آمریت کے خلاف جرأت کا مظاہرہ کر کے دکھائیں۔ ان دلائل کے باوجود حکومت اگر چاہتی تو سردیوں کے اجلاس کے لئے پارٹی کے تمام رہنمائوں کو راضی کر سکتی تھی۔

اگر وہ اس سیشن کا بائیکاٹ کرتے تو اس کی ناک کٹ جاتی۔ اگر پارلیمنٹ کا یہ اجلاس بلایا جاتا تو کچھ ایسے معاملات پر شدید بحث ہوتی جو حکومت اور پورے ملک کو حیرت میں ڈال دیتے۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس بحث میں اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ‘ صحیح یا غلط‘ حکومت کی ٹانگیں کھینچنے سے بازنہیں آتے‘ لیکن اس بحث میں کچھ تعمیری تجاویز‘ مستند شکایات اور کارآمد مشورے بھی سامنے آتے ہیں۔ اس وقت کورونا ویکسین کی ملک گیر تقسیم‘ اقتصادی فزیبلٹی‘ بے روزگاری‘ کسانوں کی تحریک‘ بھارت چین تنازع وغیرہ ایسے جلتے ہوئے سوالات ہیں جن پر کھلی بحث ہوتی۔ وہ لوگ‘ جو ہندوستان اور اس کی جمہوریت کے بارے میں فکر مند ہیں‘ وہ چاہیں گے کہ آئندہ ماہ ہونے والا بجٹ اجلاس تھوڑا طویل ہو اور اس میں ایک صحت مند مباحثہ ہونا چاہئے تاکہ ملک کے مسائل کا بروقت حل نکالا جا سکے۔

ڈاکٹرویدپرتاپ ویدک

بشکریہ روزنامہ جنگ

روس کی ’سپتنک فائیو‘ ویکسین کا مقصد عالمی اثر و رسوخ بڑھانا ہے؟

روس عالمی سطح پر اپنے آپ کو منوانے کے لیے توانائی اور اسلحے کی برآمد کا سہارا لیتا رہا ہے لیکن کورونا وائرس کی عالمی وبا نے روس کو اس حوالے سے ایک نیا ذریعہ ویکسین کی صورت میں فراہم کیا ہے۔ خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق تجزیہ کاروں کے خیال میں روس کے کورونا وائرس کی ویکسین متعارف کرنے کا مقصد عالمی سطح پر اپنا اثر و رسوخ مضبوط کرنا ہے۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اگست میں دنیا کی پہلی کورونا ویکسین رجسٹر کروانے کا اعلان کیا تھا جس پر دیگر ممالک نے حیرت اور تشویش کا اظہار کیا تھا۔ روس کی ’سپتنک فائیو‘ نامی ویکسین کی افادیت کے حوالے سے سائنسدانوں نے تشویش کا اظہار کیا تھا کہ ویکسین کے ٹرائلز مکمل ہونے سے پہلے ہی روس کیسے اس کی کامیابی کا دعویٰ کر سکتا ہے۔

سپتنک ویکسین تیار کرنے والے روسی سائنسدانوں نے اس کے ٹرائل مکمل ہونے سے پہلے ہی ویکسین کے مؤثر ہونے کا دعویٰ کر لیا تھا۔ روس نے ویکسین کے تیسرے مرحلے کے ٹرائل سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ یہ ویکسین 95 فیصد مؤثر ہے۔ تاہم ٹرائلز فی الحال جاری ہونے کی وجہ سے ان کا مکمل ڈیٹا ابھی تک فراہم نہیں کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کورونا کی ویکسین کے اعلان کا مقصد صحت عامہ کے علاوہ عالمی سطح پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانا ہے۔ سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سے روس فارماسیوٹیکل تحقیق میں دیگر ترقی یافتہ ممالک سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ جب کہ اس سے قبل سویت یونین سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں مغربی ممالک کے مقابلے میں کھڑا تھا۔ سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سے روس مغربی ممالک کی لیبارٹریوں کا سہارا لیتا رہا ہے۔

روس میں سابق فرانسیسی سفیر کا کہنا ہے کہ سویت یونین کے بعد سے سپتنک ویکسین روس میں بننے والی پہلی فارماسیوٹکل ایجاد ہے جو اس نے بلا اشتراک تیار کی ہے۔ فرانسیسی سفیر ژون گلنیاسٹی کے مطابق سپتنک فائیو کی کامیابی روس کی بڑی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے مقابلے میں کھڑے ہو جانے کی علامت ہے جو روس کے لیے بطور ایک قوم فخر کا مقام ہے۔ روس نے ویکسین کا نام بھی دنیا کی پہلی سیٹلائٹ سپتنک فائیو کے نام پر رکھا ہے جو سویت یونین نے 1957 میں لانچ کر کہ امریکہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو چیلنج کیا تھا۔ روسی تجزیہ کار ٹٹیانہ سٹینووایا کے مطابق صدر ولادیمیر پوتن نے ویکسین متعارف کروا کر دنیا کو پیغام دیا ہے کہ روس پیچیدہ ٹیکنالوجی بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے ماہرین کا شمار دنیا کے بہترین سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔

ٹٹیانہ کا کہنا تھا صدر پوتن عالمی سطح پر دکھانا چاہتے تھے کہ روس کورونا کی وبا سے نمٹنے میں پیش پیش ہے اور ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں اس بحران سے نمٹنے میں زیادہ کامیاب ہے۔ یاد رہے کہ روس نے دارالحکومت ماسکو میں لوگوں کو بڑے پیمانے پر ویکسین سپتنک فائیو لگانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ویکسین ڈاکٹروں، طبی عملے، اساتذہ اور سماجی کارکنوں کو لگائی جائے گی۔ روس نے رواں ماہ کے شروع میں اعلان کیا تھا کہ دنیا بھر سے سپٹنک ویکسین کی ایک ارب 20 کروڑ خوراکوں کے آرڈر موصول ہوئے ہیں۔ روسی حکام کے مطابق رواں سال کے آخر تک ویکسین کی صرف 20 لاکھ خوراکیں تیار کی جائیں گی۔ جبکہ روس کی عوام کی ضرورت پوری کرنے کے لیے 10 لاکھ 45 ہزار ویکسین کی خوراکوں کی ضرورت ہے۔

بشکریہ اردو نیوز