تم کو بھی لے ڈوبیں گے

کرہِ ارض پر پائی جانے والی نباتات و حیاتیات و جمادات انسانی وجود سے بہت پہلے سے موجود ہیں اور اگر ساڑھے چار ارب سال پر محیط بقائی کیلنڈر کی جمع تقسیم کی جائے تو اس حساب سے انسان کو یہاں موجودہ شکل میں وجود پذیر اور آباد ہوئے محض چند گھنٹے ہی گذرے ہیں۔ اتنی سی دیر میں ہی اس نے کرہِ ارض کی جمی جمائی زندگی اور ارتقائی زنجیر کا تیا پانچا کر کے رکھ دیا ہے اور اب بھی خجل ہونے کے بجائے یہ سوچ رہا ہے کہ اگلی ایک صدی میں جب یہ سیارہ اس کی حرکتوں کے سبب اتنا گرم ہو جائے گا کہ زیست کرنا دوبھر ہو جائے۔ تب وہ کس سیارے کا رخ کرے گا ؟ چونکہ انسان اس زمین کی تمام مخلوق کے درمیان نووارد ترین ہے۔ چنانچہ قاعدے سے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ اپنا بقائی نظریہ اربوں برس سے جاری حیاتیاتی نظائر کی روشنی میں ترتیب دے کر اردگرد کی وسیع حیاتیاتی برادری کا ماحول دوست کردار بن جاتا ہے۔ مگر انسان نے اس کرہ ِ ارض کو رواں رکھنے والے فطری اصولوں کو حقیر سمجھ کے ٹھکراتے ہوئے خود ساختہ اصول دیگر تمام مخلوق پر لاگو کرنے کی غیر فطری کوشش کی۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ 

تازہ بری خبر یہ ہے کہ انسان عالمی درجہِ حرارت کو دو ہزار تیس تک کم ازکم ڈیڑھ ڈگری سنٹی گریڈ تک کم کرنے کی جس کوشش کا وعدہ کر بیٹھا ہے۔ اس پر خود انسان نے ہی سب سے کم کان دھرا۔ چنانچہ درجہ حرارت میں ڈیڑھ ڈگری کا اضافہ اندازوں سے بہت جلد یعنی دو ہزار ستائیس تک محسوس ہونے لگے گا۔ گویا بقا کی لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتی ٹرین میں سوار انسان شاید ہی ہنگامی زنجیر کھینچ پائے۔  درجہ حرارت میں ہماری حرکتوں کے سبب ڈیڑھ ڈگری سنٹی گریڈ میں اضافے کا مطلب مزید سیلاب، مزید خشک سالی، موسموں کا پہلے سے بڑھ کے باؤلا پن اور پورے حیاتیاتی بقائی نظام کی زنجیر کا خطرناک حد سے بھی اوپر تک کمزور ہونا شامل ہے۔ اسے کہتے ہیں ہم تو ڈوبیں گے صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔ ہم میں سے کتنے جانتے ہیں کہ حیاتیاتی تنوع کے جس ستون پر انسانی تہذیب کھڑی ہے۔ اب وہ ستون ہی لرز رہا ہے۔ آٹھ میں سے تین ارب انسانوں کی بیس فیصد پروٹین ضروریات محض مچھلی سے پوری ہوتی ہیں۔ اسی فیصد انسانی غذا پودوں سے حاصل ہوتی ہے اور کم وبیش اتنے ہی انسان جڑی بوٹیوں سے تیار ادویات استعمال کرتے ہیں، اگر مچھلی ، پودے اور جڑی بوٹیاں ختم ہو جائیں تو سوچیے کیا ہو گا ؟

اسی لیے کہتے ہیں کہ حیاتیاتی تنوع کا تحفظ دراصل اس بقائی زنجیر کا تحفظ ہے جس سے خود ہماری زندگی بندھی ہوئی ہے، مگر ہم اتنے ڈھیٹ ہیں کہ احساس تک نہیں کہ کم از کم پچھلے دو سو برس میں ہماری لالچ اور مستقبل کو جان بوجھ کے نظرانذاز کرنے کی عادت نے اس کرہِ ارض کے پچھتر فیصد رقبے اور چھیاسٹھ فیصد سمندری حیات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ زمین پر کم ازکم آٹھ کروڑ اقسام کے پودے اور جانور موجود ہیں، مگر ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اور کتنی حیات ہے جو اب تک دریافت ہونے کی منتظر ہے۔ اور کون کون سے ان گنت پودے ، چرند ، پرند اور سمندری مخلوق ہے جس کے وجود سے اب تک ہم واقف ہی نہیں ہو پائے، اور جتنی مخلوق دریافت ہو چکی ہے اس سے دوستی کرنے اور اس کا تحفظ کرنے کے بجائے ہم باہوش و حواس اسے بھی تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو
کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا
اس کی تشریح یوں ہے کہ بقائی زنجیر سے صحرا اور سمندر اور پہاڑ اور جنگل اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ کسی ایک کو چھیڑنے کا مطلب زندگی کی پوری عمارت کو ہلانا ہے۔ 

مثلاً افریقہ کے صحراِ اعظم سے جو ریت اڑ کے فضا میں شامل ہوتی ہے۔ ہر سال ہوائیں اس میں سے بائیس ہزار ٹن ریت کے ذرات تین ہزار میل پرے واقع ایمیزون کے جنگلات پر برساتی ہیں اور پھر یہ ریتیلی برسات ایمزون کو تازہ حیاتیاتی جلا بخشتی ہے۔ اس وقت معلوم نباتات میں سے ایک ملین پودے ، پھول اور حیاتیاتی اقسام بقا کی آخری جنگ لڑ رہے ہیں، اور ہم کہ جو حیاتیاتی تنوع کے تنے پر بیٹھے ہیں،اس تنے کو ہی تیزی سے کاٹ رہے ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ عالمی معیشت کا آدھا دار و مدار قدرتی وسائل پر ہے۔ ایک ارب سے زائد انسانوں کی روزی روٹی جنگلات سے وابستہ ہے۔ ہم اور ہماری ’’ نام نہاد ترقی ’’ جتنی بھی کاربن خارج کرتی ہے۔ اس کا آدھا یہی جنگلات اور سمندر جذب کر کے ہمیں ہم سے محفوظ بنانے کا اضافی کارِ مسلسل کر رہے ہیں۔ مگر ہماری حرکتوں کے سبب یہ کاربن جذب کرنے والی پچاسی فیصد دلدلیں اور مینگرووز (تمر ) کے جنگلات غائب ہو چکے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ زرعی زمین اور لکڑی حاصل کرنے کے جنون میں کاربن جذب کرنے والے جنگلات تیزی سے کٹ رہے ہیں۔ نایاب پودے اور ان پر بھروسہ کرنے والے حشرات و پرند زرعی زمینوں میں مصنوعی کھاد اور کیڑے مار ادویات کے اندھا دھند استعمال کا نشانہ ہیں۔ 

ان حرکتوں کے سبب درجہِ حرارت میں جو اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے ہاتھوں مجبور ہو کے سخت جان پودے اور جنگلی حیات ٹھنڈے علاقوں کی جانب مراجعت کر رہے ہیں، مگر وہاں بھی موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں برف تیزی سے پگھلنے کے سبب سرد علاقوں میں رہنے والی مخلوق کو اپنی زندگی کے لالے پڑ ے ہوئے ہیں۔ گزشتہ دو سو برس کی انسانی سرگرمیوں کے سبب بڑھتے سمندری درجہِ حرارت نے نصف کورل ریفز کو نگل لیا ہے اور بقیہ اگلے پچاس برس میں غائب ہو جائیں گی۔ اور ان کے ساتھ ہی بحری مخلوق کی بے شمار نسلیں کہ جن کی نسلی و غذائی بقا کا دار و مدار ہی کروڑوں برس سے ان ریفز پر ہے وہ بھی جہان سے رخصت ہو جائیں گی۔ اب بھی وقت ہے کہ جو تیس فیصد جنگل بچ گئے ہیں انھیں بچا لیا جائے اور جو تین فیصد دلدلی علاقے اور جھیلیں اپنے حجم سے دوگنی کاربن ہضم کر رہی ہیں انھیں پھر سے پاؤں پر کھڑا کرنے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکالا جائے۔ یہ عناصر گئے تو ہم بھی تھوڑی بہت صاف ہوا، غذا اور دوا سے گئے۔ یہ آخری فصیل منہدم ہو گئی تو زہریلی وباؤں کا جو لشکر ان عناصر نے روک رکھا ہے وہ اتنے انسان کھا جائے گا کہ ہلاکو اور ہٹلر معصوم نظر آئیں گے۔

(یہ کالم عالمی یومِ حیاتیاتی تنوع ( بائیس مئی ) کے تناظر میں بغرض آگہی لکھا گیا)
وسعت اللہ خان 

بشکریہ ایکسپریس نیوز

اکانوے گھنٹے بعد بچی کے زندہ بچ جانے پر صدر اردوان کا ٹوئٹ

ترکی کے شہر ازمیر میں خوفناک زلزلہ آنے کے 91 گھنٹوں بعد چار سالہ بچی کو عمارت کے ملبے سے زندہ نکال لیا گیا، بچی کی حوصلہ افزائی کرنے اور امدادی کارکنان کی ستائش کے طور پر تُرک صدر رجب طیب اردوان نے ایک ٹوئٹ بھی کیا ہے۔ اپنے ٹوئٹ میں اردوان نے اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور کئی گھنٹے ملبے تلے دبے رہنے کے باوجود ننھی بچیوں کے زندہ بچ جانے کو معجزہ قرار دیا ہے۔ اردوان کا کہنا تھا کہ ’خدائے برتر کا شکر ہے کہ جس نے معجزہ دکھاتے ہوئے ہمیں پُرامید رہنے کا ایک اور موقع دیا۔‘ انہوں نے لکھا کہ معجزانہ طور پر بچ جانے والی بچی نے امدادی کارکنان کے حوصلے بلند کئے ہیں۔

خیال رہے کہ ازمیر میں 91 گھنٹوں تک عمارت کے ملبے میں دبی چار سالہ بچی آئیدا معجزانہ طور پر زندہ رہی۔ ازمیر کے میئر کا کہنا ہے کہ ہم نے 91 گھنٹوں میں ایک معجزہ دیکھا ہے۔ خیال رہے کہ ترکی میں ایجین ساحل اور یونان کے شمالی جزیرے سیموس میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق ترکی کے مغربی صوبے ازمیر کے ساحل سے سترہ کلو میٹر دور یہ زلزلہ آیا جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7 ریکارڈ کی گئی ہے۔ ترک حکام نے زلزے کی شدت 6.6 بتائی ہے اور ترکی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ازمیر میں اب تک 26 افراد ہلاک جبکہ 800 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زلزلے کے جھٹکے بلغاریہ، یونان، برطانیہ، مصر اور لیبیا میں بھی محسوس کیے گئے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

آگ میں جلتا آسڑیلیا امداد کا منتظر

کینگروز اور کوالا کا دیس گذشتہ پانچ ماہ سے آگ میں جل رہا ہے ۔ پہلے کیلیفورنیا پھر ایمیزون اور اب آسٹریلیا کے جنگلات آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں ہیں۔ اکیسیویں صدی میں موسمیاتی تغیرات اپنے عروج پر ہیں۔ اب بھی انسان بیدار نہ ہوا تو ہماری آنے والی نسلوں کا مقدر ایک تباہ حال کرہ ارض ہو گی جہاں زندگی کامیاب اور موت ارزاں ہو گی۔ آسٹریلیا کا زیادہ تر رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے، یہاں ہر برس موسم گرما میں جنگلات میں آگ لگنا معمول کی بات سمجھی جاتی ہے، مگر امسال یہ آگ معمول کی نہ تھی ۔ ستمبر 2019 میں لگنے والی آگ پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا، پانچ ماہ میں ملک کےجنگلا ت کا بڑا حصہ جل کر خاکستر ہو گیا ہے۔ میڈیا پر آنے والی جانوروں کی تصاویر اور ویڈیوز دل دہلا دینے والی ہیں۔

آسڑیلیا کی پہچان انسان دوست جانور کوالا (جسے ٹری بیئر بھی کہتے ہیں) اور کینگروزکی آبادی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ کوالا کی آدھی نسل معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق اب تک ایک کروڑ 20 لاکھ ایکڑ رقبہ آگ سے جل کر راکھ ہو چکا ہے۔ یہ رواں صدی کا سب سے بڑا سانحہ ہے ، اس سے قبل 2018 میں کیلیفورنیا کے جنگلات میں لگی آگ سے تقریباً 19 لاکھ ایکٹر جنگلات جل گئے تھے۔ آسڑیلیا میں آگ سے ہونے والا نقصان رواں برس اگست میں ایمیزون جنگلات میں لگنے والی آگ سے چھ گنا زیادہ بتایا جارہا ہے۔ 8 جنوری کو سڈنی یونیورسٹی کے چونکا دینے والے اعداد و شمار کے مطابق نیو ساؤتھ ویلز ریاست میں 80 کروڑ جانوروں کی ہلاکت ہو چکی ہے جبکہ ملک بھر میں ایک تخمینے کے مطابق ایک ارب جانوروں، پروندوں اور حشرات کی ہلاکت کا اندیشہ ہے۔

آسڑیلیا کو مجموعی طور پر اب تک 4 ارب 40 کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ 25 افراد اس آگ کی نذر ہو چکے ہیں ، 1400 سے زائد گھر مکمل تباہ ہو گئے۔ آگ بجھانے والے ہزاروں کارکن دن رات آگ پر قابو پانے کے لیے اپنی زندگی کو داؤ پر لگائے مصروف عمل ہیں ۔ زمین پر زیادہ تر حصوں میں شدید سردی ہے جبکہ آسٹریلیا میں یہ سخت گرمی کا موسم ہے ۔ کئی ریاستوں میں درجہ حرارت 47 سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ خطے میں تیز ہوائیں چلنے کی وجہ سے آگ مسلسل پھیلتی جارہی ہے، جس پر فی الفور قابو پانا انسان کے بس سے باہر نظر آتا ہے ۔ آسٹریلیا کے کئی شہروں میں اس وقت سموک کی وجہ سے سانس لینا دشوار ہو رہا ہے۔ آگ لگنے کی بنیادی وجوہات کچھ بھی ہو سکتی ہیں، مگر اس کے پھیلاؤ اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کو ترقی یافتہ ممالک نے اس سنجیدگی سے نہیں لیا جو ان سے توقعات وابستہ تھیں۔ اس معاملے میں آسٹریلین وزیراعظم اسکارٹ موریسن بات کرنے سے کترا رہے ہیں ، کیونکہ آسٹریلیا ان بڑے ممالک میں شامل ہے جو گیسی اخراجات میں کمی پر تیار نہیں ہیں کیونکہ اس سے ان نام نہاد ترقی یافتہ ممالک کی معیشت پر حرف آتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ میں ماہرین نے آسٹریلین حکومت کو پہلے ہی سے متنبہ کیا تھا کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی لانے میں حکومت ناکام رہی ہے، جس کی وجہ سے امسال سخت گرمی کی لہر متوقع ہے، مگر حکومت نے اس رپورٹ پر بھی کان نہیں دھرے ۔ موسمیاتی تبدیلیوں پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات خاصے مضحکہ خیز رہے ہیں، وہ سرے سے ہی موسمیاتی تبدیلیوں کے انکاری ہیں۔

بظاہر تو یہ ممالک عالمی ماحولیاتی معاہدے (پیرس ایگریمنٹ ) میں شامل ہیں مگر اس معاہدے پر عمل پیرا نہیں ہیں ۔ 2019 میں بڑے پیمانے پر جنگلات میں آگ لگنے سے واضح ہے کہ بطور انسان ہم ایک خطرناک عہد میں جی رہے ہیں۔ موسمیاتی تغیرات کی وجہ سے نہ صرف مختلف نوع کے جانوروں اور پرندوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے بلکہ نسل ِ انسان بھی خطرے سے دوچار ہے ۔ عہدِ جدید میں انسان اربوں ڈالر محض کائنات کا جائزہ لینے کے لیے صرف کر رہا ہے۔ زمین کے سوا، کہیں زندگی کے آثار مل سکیں ، کوئی ایک جرثومہ حیات مل جائے ۔ اس مقصد کے لیے انسان نے ارب ہا ارب ڈالر خرچ کر دیے ہیں مگر کیا ہم زمین پر زندگی کی حفاظت کے لیے اس قدر سنجیدہ ہیں کہ جو حیات ہمارے سامنے جل رہی ہیں اس کی حفاظت کے لیے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اقدامات کر سکیں؟

فہد محمود

بشکریہ روزنامہ جسارت

کیا سڈنی اور میلبورن بھی جل جائیں گے؟

جنگلات میں لگی آگ نے ریاست وکٹوریا، نیو ساؤتھ ویلز اور ساؤتھ آسٹریلیا کو بری طرح متاثر کیا ہے اور دیگر ریاستوں کے جنگلات بھی اس آگ سے متاثر ہوئے ہیں۔ آگ سے متاثرہ بڑی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے دارالحکومت اور آسٹریلیا کے اہم ترین شہر سڈنی سے اگرچہ آگ اب بھی کافی دوری پر ہے اور اندازہ اس شہر سے آگ 100 میل سے کم دوری پر ہے تاہم آگ کے دھویں نے اس شہر کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا ہے۔ سڈنی تک آنے والے دھویں کی وجہ سے لوگوں کو سانس لینے میں مشکلات کا سامنا ہے جب کہ اسی ریاست کے قریب ہی دارالحکومت کینبرا واقع ہے اور وہاں تک بھی آگ کے دھویں کے اثرات پہنچے ہیں۔

اسی طرح ریاست وکٹوریا کے اہم ترین شہر میلبورن سے بھی آگ 50 سے 70 میل کی دوری پر ہے اور آگ کے اثرات شہر تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ وکٹوریا اور نیو ساؤتھ ویلز کی طرح ریاست ساؤتھ آسٹریلیا کا شہر ایڈیلیڈ بھی آگ سے 80 میل کی دوری پر ہے اور آگ کے دھویں نے اس شہر کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ آگ مذکورہ شہروں تک پہنچے کیوں کہ ان تینوں شہروں میں آسٹریلوی فوج کے اڈوں سمیت فائر فائیٹرز اور دیگر حکومتی ادارے موجود ہیں اور مذکورہ شہروں میں فوج، فائر فائیٹرز اور دیگر ریسکیو اہلکاروں کو پہلے ہی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ تاہم آگ کے انتہائی قریب پہنچنے اور ان شہروں تک دھویں کے پھیلنے کی وجہ سے لوگوں میں خوف پایا جاتا ہے اور ایک بہت بڑی آبادی کو سانس لینے سمیت دیگر امور سر انجام دینے میں مشکلات درپیش ہیں۔

بشکریہ ڈان نیوز