افغانستان جنگ کی ٖخونی تاریخ

افغانستان میں انیس سال تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران ایک لاکھ افغانوں اور 35 سو اتحادی فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ امریکا کو مجموعی طور پر 2 ہزار ارب ڈالر کا مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ دوحہ میں امریکا اور طالبان کے مابین طے پانے والے معاہدے کے بعد دو دہائیوں جاری جنگ اپنے خاتمے کی جانب بڑھ رہی ہے تاہم ان برسوں میں امریکا کو بھاری مالی و جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ دوسری جانب دہائیوں سے جنگی تباہ کارروائیوں کے شکار افغانستان میں مزید تباہ حالی کا شکار ہوا۔ اس عرصے میں ایک لاکھ افغان شہریوں کا جانی نقصان ہوا جن میں خواتین اور بجے بھی شامل تھے۔ 2001 میں نو گیارہ کے واقعات کے بعد امریکا نے افغانستان میں اس واقعے کے ذمے داران کو کیفر کردار تک پہنچانے کا جواز بنا کر اپنے اتحادیوں کے ساتھ جنگ کا آغاز کیا۔ چند ماہ بعد ہی طالبان حکومت ختم ہو گئی اور اسامہ بن لادن سمیت القاعدہ کی دیگر قیادت پاک افغان سرحدی علاقوں میں روپوش ہو گئی۔ امریکا نے جنگ کو طول دیتے ہوئے افغانستان میں قیام کا فیصلہ کیا۔

امریکا کا ساتھ دینے والے بین الاقوامی اتحاد نے 2014 میں اپنی افواج کو واپس بلانا شروع کر دیا اوراپنی سرگرمیاں صرف افغان فوج کی تربیت تک محدود کر دیں۔ افغان طالبان 2001 میں پسپا ہونے کے بعد دوبارہ منظم ہونا شروع ہوئے اور رفتہ رفتہ ان کی کارروائیوں میں تیزی آںے لگی۔ 2019 کے صرف آخر چار ماہ میں افغان طالبان نے 8204 حملے کیے جو ایک دہائی میں اس دورانیے میں ہونے والی سب سے زیادہ کارروائیاں تھیں۔ کارروائیوں کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ ایک برس میں امریکی ایئر فورس نے 7423 بم اور میزائل داغے جو 2006 کے بعد سے سب سے زیادہ تعداد بنتی ہے۔ گزشتہ برس برطانوی خبر رساں ادارے نے کی یہ رپورٹ سامنے آئی کہ افغانستان کے 70 فی صد علاقوں میں طالبان اپنے قدم جما رہے ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں میں افغان سیکیورٹی فورس کے 50 ہزار سے زائد اہلکاروں کی ہلاکتیں ہوئیں اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ نیٹو افواج کے 3550 فوجی ہلاک ہوئے جن میں2400 امریکی تھے۔ 20 ہزار امریکی فوجی زخمی ہوئے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

نیٹو کیا ہے، کب بنا اور اب اس اتحاد کا مستقبل کیا ہے؟

نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کی تشکیل سنہ 1949 میں سرد جنگ کے ابتدائی مراحل میں اپنے رکن ممالک کے مشترکہ دفاع کے لیے بطور سیاسی اور فوجی اتحاد کے طور پر کی گئی تھی۔ امریکہ کے زیر قیادت اس اتحاد کے 29 ممبران کا اجلاس لندن میں ہو رہا ہے، اور اگرچہ اس کے حامی اس کو تاریخ کا سب سے کامیاب فوجی اتحاد قرار دیتے ہیں، لیکن اس کے مستقبل پر سوالات ہو رہے ہیں۔ ستر برس بعد بھی بنیادی طور پر مختلف ترجیحات کے ساتھ بدلی ہوئی دنیا میں کیا اب بھی اس اتحاد کی ضرورت ہے؟ حالیہ عرصے میں نیٹو کے رکن ممالک کے مابین ہم آہنگی کم کم ہی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس تنظیم یا دیگر رکن ممالک پر امریکہ، فرانس اور ترکی کی جانب سے تنقید کی گئی ہے۔ نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) اتحاد امریکہ اور کینیڈا کے علاوہ دس یورپی ممالک کی جانب سے دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں بنایا گیا تھا۔ اس اتحاد کا بنیادی مقصد اس وقت کے سوویت یونین سے نمٹنا تھا۔

جنگ کے ایک فاتح کے طور پر ابھرنے کے بعد، سوویت فوج کی ایک بڑی تعداد مشرقی یورپ میں موجود رہی تھی اور ماسکو نے مشرقی جرمنی سمیت کئی ممالک پر کافی اثر و رسوخ قائم کر لیا تھا۔ جرمنی کے دارالحکومت برلن پر دوسری جنگ عظیم کی فاتح افواج نے قبضہ کر لیا تھا اور سنہ 1948 کے وسط میں سوویت رہنما جوزف سٹالن نے مغربی برلن کی ناکہ بندی شروع کر دی تھی، جو اس وقت مشترکہ طور پر امریکی، برطانوی اور فرانسیسی کنٹرول میں تھا۔
شہر میں محاذ آرائی سے کامیابی سے گریز کیا گیا لیکن اس بحران نے سوویت طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد کی تشکیل میں تیزی پیدا کر دی تھی۔ اور سنہ 1949 میں امریکہ اور 11 دیگر ممالک (برطانیہ، فرانس، اٹلی، کینیڈا، ناروے، بیلجیئم، ڈنمارک، نیدرلینڈز، پرتگال، آئس لینڈ اور لکسمبرگ) نے ایک سیاسی اور فوجی اتحاد تشکیل دیا۔ سنہ 1952 میں اس تنظیم میں یونان اور ترکی کو شامل کیا گیا جبکہ سنہ 1955 میں مغربی جرمنی بھی اس اتحاد میں شامل ہوا۔ سنہ 1999 کے بعد سے اس نے سابقہ مشرقی بلاک کے ممالک کا بھی خیر مقدم کیا اور اس کے ارکان کی مجموعی تعداد 29 ہو گئی۔ مونٹینیگرو جون 2017 میں اس کا حصہ بننے والا آخری ملک تھا۔

نیٹو کے قیام کے مقاصد کیا تھے؟
نیٹو کے قیام کا بنیادی مقصد ’شمالی اٹلانٹک کے علاقے میں استحکام اور بہبود‘ کو فروغ دے کر اپنے رکن ممالک کی ’آزادی ، مشترکہ ورثے اور تہذیب کی حفاظت‘ کرنا ہے۔ نیٹو معاہدہ یہ ثابت کرتا ہے کہ نیٹو کے ایک رکن ملک کے خلاف مسلح حملہ ان سب کے خلاف حملہ سمجھا جائے گا، اور یہ کہ وہ ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ عملی طور پر اتحاد اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ’یورپی رکن ممالک کی سلامتی شمالی امریکہ کے رکن ممالک کی سلامتی سے جدا نہیں ہے۔‘ اس تنظیم نے سوویت یونین اور کمیونزم کو اس سلامتی کے لیے سب سے بڑے خطرے کے طور پر دیکھا تھا۔ لیکن اس کی تخلیق کے بعد سے نیٹو کی سرحدیں ماسکو کے 1000 کلومیٹر قریب ہو گئی ہیں، اور اب یہ تنظیم مشرقی یورپ میں 1989 کی انقلابات اور سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سابق سوویت یونین میں شامل ممالک کو اپنا رکن گنتی ہے۔

اب اگر سویت یونین نہیں ہے تو نیٹو کا وجود کیوں ہے؟
سرد جنگ کے خاتمے اور سوویت یونین کے ٹوٹنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ مغرب نے ماسکو کی فکر کرنا چھوڑ دی ہے۔ سنہ 2003 میں نیٹو کے ایک اعلیٰ عہدیدار، جیمی شیا نے اپنی مشہور تقریر میں کہا تھا کہ ’کسی کو اس بات پر یقین نہیں تھا کہ کمیونزم کے اچانک ختم ہونے سے دنیا ایک جنت بن جائے گی، ایک ایسے سنہری دور کی تشکیل جس میں اتحادی مسلح افواج کے بغیر زندہ رہ سکیں گے، یا دفاع کے بغیر زندگی بسر کر سکیں گے۔‘ یہ بھی حقیقت ہے کہ روس عسکری طور پر طاقتور رہا اور یوگوسلاویا کے خاتمے سے 1990 کی دہائی میں ہی جنگ یورپ میں واپس آ گئی۔

اس کے بعد کے تنازعات میں دیکھا گیا کہ نیٹو نے اپنا کردار ایک مداخلت پسند تنظیم میں بدل لیا: فوجی کارروائیوں میں بوسنیا اور کوسوو میں سربیا کی افواج کے خلاف فضائی مہم کے علاوہ بحری ناکہ بندی اور امن فوج بھی شامل تھیں۔ 2001 میں نیٹو نے پہلی بار یورپ کے باہر اپنی کاروائیاں کیں: اس نے 11 ستمبر کے حملوں کے بعد افغانستان بھیجے گئے اقوام متحدہ کی جانب سے منظور شدہ اتحادی فوج کی سٹریٹجک کمانڈ سنبھالی۔ نیٹو کمانڈ میں آج بھی افغانستان میں تقریباً 17،000 فوجی افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت، رہنمائی اور مدد کے مشن پر موجود ہیں۔

نیٹو رکن ممالک آپس میں کیوں الجھ رہے ہیں؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سنہ 2016 میں جب وہ ابھی صدارتی امیدوار تھے، انھوں نے نیٹو کو ’فرسودہ‘ قرار دیا اور کہا تھا کہ اگر وہ تنظیم ’ٹوٹ جائے‘ تو انھیں ’کوئی مسئلہ‘ نہیں ہو گا۔ ٹرمپ نے یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ امریکہ اتحادی ممبروں پر حملے کی صورت میں ان کا دفاع کرنے کے عزم کی پابندی کرنے یہاں تک کہ تنظیم کو بھی چھوڑ سکتا ہے۔ انھوں نے یہ شکایت بھی کی کہ واشنگٹن نیٹو کے دیگر رکن ممالک کے مقابلے میں دفاع پر زیادہ رقم خرچ کر رہا ہے۔ انھوں نے ستمبر 2018 میں ٹویٹ کیا تھا کہ ’امریکہ کسی دوسرے ملک کے مقابلے میں نیٹو پر بہت زیادہ خرچ کر رہا ہے۔ یہ مناسب نہیں ہے اور نہ ہی یہ قابل قبول ہے۔‘ اور شاید ان کا نکتہ اعتراض درست ہے کیونکہ امریکہ نیٹو کے تمام رکن ممالک (2018 کے اعداد و شمار کے مطابق) کے دفاع پر کل اخراجات کا تقریباً 70 فیصد ادا کرتا ہے اور اگرچہ 2014 میں تمام نیٹو ممبران نے سنہ 2024 تک اپنے دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے 2 فیصد تک بڑھانے پر رضا مندی ظاہر کی تھی۔ تاہم ابھی تک چند رکن ممالک ہی ایسا کر سکے ہیں۔

ترکی کہاں کھڑا ہے؟
ترکی نے، جو 1951 کے بعد سے نیٹو کا رکن ہے اکتوبر میں شمالی شام میں مداخلت کے فیصلے اور کرد فورسز کے خلاف کارروائی کے بعد سے اتحاد میں پھوٹ ڈال دی ہے۔ یوروپی یونین نے جوابی کارروائی کے طور پر ترکی کو ہتھیاروں کی فروخت معطل کر دی، اور ایسا کرنے والوں میں 28 ممالک میں سے 22 نیٹو کے ممبر ہیں۔ اس فہرست میں فرانس، سپین اور برطانیہ شامل تھے، جو ترکی کو ہتھیاروں کی سپلائی میں سرفہرست ہیں۔ لیکن ماسکو کے ساتھ انقرہ کے بڑھتے ہوئے فوجی تعلقات پہلے ہی کشیدگی پیدا کر رہے تھے۔ ترک صدر رجب طیب اردوغان کی حکومت نے واشنگٹن کے اعتراضات کے باوجود روس سے دفاعی میزائل نظام S-400 حاصل کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے۔

امریکہ 2013 سے ترکی کو اپنا پیٹریاٹ ہوائی دفاعی نظام فروخت کرنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن ترک صدر اردوغان کی جانب سے ٹیکنالوجی کی منتقلی کے مطالبے کے بعد مذاکرات ٹھپ ہو گئے۔ اس کا مقصد ترکی کی جانب سے اپنا نظام خود تیار کرنا تھا جسے اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما کی انتظامیہ نے مسترد کر دیا تھا۔ چنانچہ انقرہ نے ماسکو کا رخ کیا اور ترک حکومت ایس 400 کی خریداری کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔ اس کے بعد امریکہ نے ترکی کو اس مشترکہ پروگرام سے الگ کر دیا جس کے تحت جدید ترین ایف 35 جنگی طیارے تیار کیے جا رہے تھے۔ کیونکہ واشنگٹن نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایس 400 معاہدہ ماسکو کو ایف 35 کے بارے میں حساس تکنیکی تفصیلات تک رسائی فراہم کر سکتا ہے۔ معاملات کو مزید پیچیدہ یہ بات کرتی ہے کہ ترکی کے خطے میں نیٹو کے اڈے ہیں اور شام کے قریب ملک کے جنوب میں واقع انکرلک ایئر بیس ایک اہم امریکی تنصیب بھی موجود ہے۔ ترکی ان پانچ یورپی نیٹو رکن ممالک میں سے ایک ہے جن کی سرزمین پر امریکی ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔

فرانس کا کیا ؟
فرانسیسی صدر میکرون نے نیٹو کو ’دماغی طور پر مردہ‘ قرار دیا تھا. فرانسیسی صدر ایمنیوئل میکخواں نے اکانمسٹ میگزین کو بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نیٹو ’دماغی طور پر مردہ‘ ہے اور انھوں نے امریکہ کی نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں میں سنجیدگی پر یہ کہتے ہوئے سوال کیا کہ واشنگٹن نے نیٹو کو اطلاع دیے بغیر شام سے فوجیوں کے انخلا کا فیصلہ کر لیا۔ انھوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ اس بات کا یقین نہیں کر سکتے کہ حملے کی صورت میں نیٹو کے ارکان ایک دوسرے کے دفاع کے لیے آئیں گے۔ میکخواں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’میں یہ بحث کروں گا کہ ہمیں امریکہ کی (نیٹو سے) وابستگی کی روشنی میں نیٹو کے حقائق کا جائزہ لینا چاہیے۔‘ ’فوجی حکمت عملی اور صلاحیت کے لحاظ سے یورپ کو خود مختار ہونا چاہیے۔‘ میکخواں کے انٹرویو نے ہلچل مچا دی اور ان کی قریبی اتحادی جرمن چانسلر انگیلا مرکل کے ساتھ ماحول تھوڑا عجیب ہو گیا تھا۔  امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق انھوں نے فرانسیسی رہنما کو بتایا کہ ’بار بار مجھے، آپ کے توڑے ہوئے کپوں کو جوڑنا پڑتا ہے تاکہ ہم بیٹھ جائیں اور ایک ساتھ چائے کا کپ پی سکیں۔

کیا بریگزٹ مسائل پیدا کر سکتا ہے؟
نیٹو کا اجلاس برطانیہ کے عام انتخابات سے ایک ہفتہ قبل لندن میں ہو رہا ہے، جس کے نتائج کے بارے میں بہت بے یقینی ہے۔ برطانیہ نے ابھی یورپی یونین سے علیحدگی کی شرائط کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ایک تلخ بریگزٹ نیٹو اتحاد میں اختلاف رائے پیدا کر سکتا ہے جس میں فی الحال یورپی یونین کے 28 ممالک میں سے 22 ممالک موجود ہیں۔ فی الحال نیٹو ممالک میں صرف امریکہ ہے جو دفاع پر برطانیہ سے زیادہ خرچ کرتا ہے۔

نیٹو کا مستقبل کیا ہے؟
اس سوال کے جواب کا انحصار اس بات پر ہے کہ خطے میں روس کہاں کھڑا ہے۔ نیٹو کے سابق ڈپٹی سیکرٹری جنرل، الیگزینڈر ورشبو نے رواں سال کے اوائل میں این پی آر ریڈیو کو بتایا تھا کہ ’جب تک ہم ایک جارحانہ روس کا سامنا کر رہے ہیں ہمیں اجتماعی دفاع اور عدم استحکام کے اپنے بنیادی مشن کے لیے نیٹو کی ضرورت ہو گی۔‘ ’تو مجھے لگتا ہے کہ (نیٹو میں) اس میں کم سے کم کئی دہائیاں ہیں اور شاید مزید 70 برس ہوں۔‘ یہ بات بھی اہم ہے کہ ٹرمپ کی تنقید کے باوجود امریکی کانگریس نے گذشتہ جنوری میں ملک کو نیٹو سے نکلنے سے روکنے کے لیے قانون سازی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ ڈیموکریٹ اور ریپبلیکن دونوں پارٹیوں نے اس کی زبردست حمایت کی تھی اور اس کے حق میں 357 ووٹ تھے اور اس کے مخالف صرف 22 ووٹ ڈالے گئے تھے۔ نیٹو کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر ہونے والے اجلاس پر گرم جوشی شاید اتحاد میں شامل افراد کی امیدوں سے کم ہو لیکن امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ تنظیم کی آخری سالگرہ نہیں ہو گی۔

بشکریہ بی بی سی اردو

طیب اردوان نے فرانسیسی صدر کو ’’مردہ دماغ‘‘ قرار دے دیا

فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں کے ایک حالیہ بیان کے جواب میں ترک صدر طیب اردوان نے انہیں ’’مردہ دماغ‘‘ قرار دے دیا ہے۔ قبل ازیں فرانسیسی صدر میخواں نے ایک انٹرویو میں شام کے حوالے سے ترکی پر تنقید کرتے ہوئے اس کی حکمتِ عملی کو ’’احمقانہ‘‘ کہا تھا جبکہ نیٹو کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ شمالی اوقیانوس کے ممالک کی یہ تنظیم مر رہی ہے اور اس کے رکن ممالک میں باہمی تعاون کا شدید فقدان ہے۔ اس کے برعکس، میخواں کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک کو ایک نئے اور بہتر فوجی اتحاد کی ضرورت ہے۔

گزشتہ روز اس بیان کا جواب دیتے ہوئے ترک صدر طیب اردوان نے کہا کہ نیٹو کے بارے میں میخواں کا بیان ان کی سطحی اور بیمار سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ ’’فرانسیسی صدر کو چاہیے کہ وہ پہلے اپنا معائنہ کرائیں کہ کہیں وہ خود ہی ’مردہ دماغ‘ تو نہیں،‘‘ اردوان نے سخت الفاظ میں میخواں پر تنقید کرتے ہوئے کہا۔ طیب اردوان کے اس بیان پر فرانس نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے فرانسیسی صدر کی ’’توہین‘‘ قرار دیا ہے۔ پیرس میں تعینات ترک سفارت کار کو فرانسیسی وزارتِ خارجہ میں طلب کر کے احتجاجی مراسلہ دیا گیا جس میں واضح کیا گیا تھا کہ جو کچھ بھی صدر میخواں نے کہا، وہ ایک بیان اور سرکاری مؤقف تھا جبکہ اردوان نے اس کا جواب توہین آمیز الفاظ سے دیا ہے جو انتہائی نامناسب ہے۔ 

بشکریہ ایکسپریس نیوز

نیٹو سے امریکا نکل گیا تو کیا ہو گا ؟

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ انہیں مکمل یقین ہے کہ امریکا اس عسکری اتحاد کا حصہ رہے گا اور اسی لیے امریکا کے نیٹو چھوڑنے سے متعلق کوئی تیاری نہیں کی جا رہی۔ اسٹولٹن برگ نے کہا کہ امریکا مغربی دفاعی اتحاد نیٹو سے نہیں نکلے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس اتحاد سے امریکا کے غیرمتوقع اخراج کی تیاری اس لیے نہیں کی جا رہی، کیوں کہ ایسی صورت میں دنیا کو یہ پیغام ملے گا کہ امریکا اس اتحاد سے نکل بھی سکتا ہے۔ اسٹولٹن برگ کی جانب سے یہ بات نیوزی لینڈ کے دورے کے موقع پر خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اور نیوز روم کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی گئی۔ 

انہوں نے کہا کہ امریکا میں نیٹو کے حوالے سے تمام قانون ساز متفق ہیں اور یورپ میں امریکا کی فوجی موجودگی اس عسکری اتحاد سے متعلق امریکا کے عزم کی عملی نشان دہی کرتی ہے۔ اسٹولٹن برگ کا کہنا تھا، ”مضبوط نیٹو یورپ کے لیے بہت ضروری ہے، مگر یہ امریکا کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔ اس میں امریکا کا بے حد فائدہ ہے کہ اس کے 28 دوست اتحادی ممالک موجود ہیں ۔ رواں برس کے آغاز پر امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد نجی تقاریب میں یہ کہتے نظر آئے ہیں کہ امریکا مغربی دفاعی اتحاد سے نکلنا چاہتا ہے۔

اسٹولٹن برگ نے کہا کہ ٹرمپ اصل میں اس اتحاد کے رکن ممالک کے دفاعی اخراجات میں اضافہ چاہتے ہیں۔ ”اور ہم دیکھ بھی رہے ہیں کہ یورپ اور کینیڈا دفاع کی مدد میں اپنے اخراجات میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ برسوں تک دفاعی بجٹ میں کٹوتیوں کے بعد اب ان ممالک میں ایک مرتبہ پھر دفاعی اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب زیادہ اتحادی ممالک دو فیصد جی ڈی پی کی شرط پوری کر رہے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر نیٹو اتحاد پر تنقید کر چکے ہیں۔ ایک موقع پر تو انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ اتحاد غیرفعال ہو چکا ہے۔ صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ نیٹو اتحاد میں شامل ممالک کی جانب سے دفاع کی مد میں کم مالی وسائل خرچ کیے جانے کا بوجھ بھی امریکا پر پڑتا ہے۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو