کیا متحدہ مجلس عمل بحال ہو جائے گی ؟

پاکستان کی بڑی دینی جماعتوں نے اپنے اتحاد ‘متحدہ مجلسِ عمل’ (ایم ایم اے) کی بحالی یا اسی نوعیت کے کسی دوسرے اتحاد کے قیام پر اتفاق کیا ہے جس کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ کیا یہ اتحاد ماضی کی طرح انتخابی کامیابی حاصل کر سکے گا یا نہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق، جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق، جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ مولانا انس نورانی، جمعیتِ اہلحدیث کے سربراہ علامہ ساجد میر اور دیگر مذہبی سیاسی رہنمائوں نے اسلام آباد میں ہونے والے ایک اجلاس میں دینی جماعتوں کے اتحاد کے قیام پر اتفاق کیا تھا۔

ان جماعتوں کے رہنماؤں کے مطابق آئندہ چند روز میں لاہور میں ایک اجلاس ہو گا جس میں ایم ایم اے کی باقاعدہ طور پر بحالی یا تمام مذہبی جماعتوں پر مشتمل ایک وسیع تر اتحاد کے قیام کا اعلان کیا جائے گا۔ اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعتِ اسلامی کے رہنما موجودہ حالات میں متحدہ مجلس عمل کی بحالی یا اسی قسم کے کسی دوسرے اتحاد کی تشکیل کے امکانات پر بظاہر خوش ہیں۔ لیکن دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما اور تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ اس اتحاد کی ماضی کی کارکردگی اور ملک کے بدلتی ہوئی صورتِ حال میں مذہبی جماعتوں کے کسی اتحاد کو وہ پذیرائی حاصل نہیں ہو سکتی جو عوام نے 2002ء کے عام انتخابات میں ایم ایم اے کو بخشی تھی۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات عبدالجلیل جان نے مذہبی جماعتوں کے قائدین کے مابین والی ملاقات کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ ملکی اور بین الاقوامی حالات کے پیشِ نظر ملک کی مذہبی سیاسی جماعتوں کو متحد ہونا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2002ء کی نسبت موجودہ حالات نہایت گھمبیر ہیں کیونکہ اس وقت تو امریکہ اور اس کی اتحادی افواج صرف افغانستان میں داخل ہوئی تھیں مگر اب تو پاکستان کو بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2002ء کی طرح 2018ء کے انتخابات میں بھی اس نئے اتحاد کو پذیرائی حاصل ہو گی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اتحاد کے باقاعدہ اعلان کے بعد کسی بھی رکن جماعت کو انفرادی طور پر سیاسی فیصلے کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ایم ایم اے نے 2002ء کے عام انتخابات کے بعد خیبر پختونخوا میں حکومت بنائی تھی جب کہ یہ اتحاد قومی اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت بن کر ابھرا تھا جس کے باعث اس کے پاس قائدِ حزبِ اختلاف کا اہم عہدہ رہا تھا۔ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین کا کہنا ہے کہ 2002ء میں بھی مذہبی جماعتیں ایک غیر ملکی ایجنڈے کے تحت متحد ہوئی تھیں اور اب بھی غیر ملکی قوتوں نے جنوبی ایشیا بالخصوص پاکستان پر نظریں مرکوز کر رکھی ہیں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر آئندہ عام انتخابات میں انہیں مذہبی جماعتوں پر مشتمل کوئی اتحاد بنتا دکھائی نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کو متحدہ مجلسِ عمل کے غیر فعال ہونے کے بعد زیادہ فائدہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سے ملا ہے۔ ان کے بقول جماعت اسلامی پاکستان تحریکِ انصاف کی اتحادی ہے اور پاکستان تحریکِ انصاف کی دشمنی مولانا فضل الرحمن کے ساتھ واضح ہے۔ لہذا ان حالات میں ان دونوں جماعتوں کا ایک ہی فورم پر متحد ہونا بہت مشکل ہے۔ خیبر پختونخوا میں اس وقت پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت ہے جس کے رہنما اور صوبائی سیکرٹری اطلاعات شاہ فرمان کہتے ہیں کہ قومی سیاست میں سیاسی جماعتوں کا اتحاد بنانا ان کا حق ہے۔

تاہم 2002ء سے2007ء تک متحدہ مجلس عمل کے صوبائی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں شاہ فرمان کا کہنا تھا کہ عوام اس بارے میں بہتر فیصلہ دے سکتے ہیں کیوں کہ ان کے بقول 2008ء اور 2013ء کے عام انتخابات میں مذہبی جماعتوں کے بارے میں عوامی رائے زیادہ تسلی بخش نہیں تھی۔ تجزیہ کار بریگیڈیر (ر) محمود شاہ کا کہنا ہے کہ ایم ایم اے بحال ہو یا مذہبی جماعتوں پر مشتمل کوئی نیا اتحاد بنے، اسے 2002ء کے عام انتخابات کی طرح پذیرائی حاصل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی اور بین الاقوامی حالات تیزی سے تبدیل ہوتے جا رہے ہیں.

شمیم شاہد

بشکریہ وائس آف امریکہ

ایک اور حلف جس کی خلاف ورزی پر سب خاموش ہیں

گزشتہ روز قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی متفقہ طور پر حال ہی میں نئے الیکشن قانون میں کی گئی انتہائی متنازع ترامیم کو واپس لے لیا جو ایک خوش آئند عمل ہے جس پر پاکستان کے عوام مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ ختم نبوت کے مسئلہ پر کسی قسم کا کوئی بھی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ بجا طور پر میڈیا اور عوام کی توجہ اس خاص ترمیم پر مرکوز رہی لیکن متنازع تبدیلیوں میں ایک اور خطرناک تبدیلی بھی کی گئی جس کا میڈیا میں کوئی ذکر نہ ہوا لیکن میرے رب کی مہربانی سے وہ تبدیلی بھی واپس ہو گئی۔

قارئین کرام کی معلومات کے لیے یہ بتاتا چلوں کے الیکشن لڑنے کے خواہش مند افراد کے لیے قانون کے مطابق مہیا کیے گئے کاغذات نامزدگی میں ختم نبوت کے ساتھ ساتھ ایک اور حلفیہ بیان لازم ہے جس کا تعلق اسلامی نظریہ پاکستان کے تحفظ اور پاکستان میں جمہوریت کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلانے سے متعلق ہے۔ اس بیان کو بھی نئے الیکشن قانون میں حلفیہ بیان سے بدل کر اقرار نامہ کیا گیا لیکن اب تازہ ترامیم کے ساتھ ہی پھر صورت حال پرانی ہو چکی جو قابل تسکین بات ہے۔

درج ذیل میں اس حلفیہ بیان کو پڑھیے:
’’میں مذکورہ بالا امیدوار حلفاً اقرار کرتا ہوں کہ : (دوم) میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے کئے ہوئے اعلان کا وفادار رہوں گا ؍گی کہ پاکستان معاشرتی انصاف کے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوریت ہو گی۔ میں صدقِ دل سے پاکستان کا حامی اور وفادار رہوں گا؍ گی اور یہ کہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں رہوں گا؍ گی جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے۔‘‘

یہ حلفیہ بیان حالیہ قانون میں کی گئی تبدیلیوں سے پہلے بھی موجود تھا اور اب دوبارہ ترمیم کے ذریعے ایک بار پھر کاغذات نامزدگی میں حلف کے ساتھ شامل کر دیا گیا ہے جو بہت اچھی خبر ہے۔ یہ حلفیہ بیان پاکستان کی پارلیمنٹ یعنی سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ تمام صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کے لیے لازم ہے لیکن مجھے تعجب اس بات پر ہے کہ حلف لینے کے باوجود ہمارے حکمران اور ممبران پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی پاکستان کی اسلامی اساس کے تحفظ اور اس ملک کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلانے کے لیے کوئی کوشش کیوں نہیں کر رہے۔

بلکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ نہ صرف وفاقی و صوبائی حکومتوں کی طرف سے پاکستان کو روشن خیالی ، لبرل ازم اور ترقی پسندی کے نام پرمغرب زدہ کیا جا رہا ہے بلکہ یہاں تو کئی سیاسی رہنما اورممبران اسمبلی ایسے ہیں جو کھلے عام پاکستان کو سیکولر بنانے کی بات کر کے اس حلف کی خلاف ورزی کرتے ہیں لیکن اس خلاف ورزی کو نہ تو عدلیہ دیکھتی ہے نہ ہی الیکشن کمیشن، میڈیا یا کوئی اور اگر کوئی ممبر پارلیمنٹ اپنے کسی سیاسی معاملہ میں اپنی پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کر دے یا اُس کے خلاف بول پڑے تو اس پر تو ایکشن لیا جاتا ہے۔ کوئی اپنی دولت کے بارے میں دی گئی تفصیلات کے متعلق جھوٹ بولے یا پیسہ چھپائے تو اس پر بھی نااہلی کی کارروائی شروع کر دی جاتی ہے۔

لیکن یہ کیا کہ قسم اٹھا کر یہ حلف لینے والے کہ وہ نہ صرف پاکستان کے قیام کی بنیاد بننے والے اسلامی نظریہ کا تحفظ کریں گے بلکہ پاکستان کی جمہوریت کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلائیں گے، کس آسانی سے لبرل اور سیکولر پاکستان کی بات کرتے ہیں، خلاف اسلام قانون سازی کرتے ہیں، ایسی پالیسیاں بناتے ہیں جو اسلامی اصولوں کے خلاف ہوتی ہیں لیکن ایسے سیاسی رہنمائوں، حکمرانوں اور ممبران پارلیمنٹ کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔ میری سیاسی جماعتوں، الیکشن کمیشن، عدلیہ اور پارلیمنٹ سے گزارش ہے کہ وہ اس حلف کی کھلے عام خلاف ورزی کرنے والوں کے بارے میں بھی سوچیں اور اُن کا احتساب کریں.

کیوں کہ یہ دھوکہ پاکستانی قوم کے ساتھ نہیں کیا جانا چاہیے کہ حلف تو آپ لیں پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کا اور جب اسمبلیوں میں آئیں یا اقتدار کی کرسی پر بیٹھیں تو روشن خیالی، لبرل ازم اور ترقی پسندی کی باتیں کریں اور مغرب زدہ پالیسیاں بنائیں۔ میڈیا سے مجھے کوئی امید نہیں کہ اس معاملہ پر بات کرے گا کیوں کہ بہت کچھ جو میڈیا کر رہا ہے وہ تو اسلامی پاکستان میں چل ہی نہیں سکتا۔

انصار عباسی

سیاسی جماعتیں ختم نبوت سے متعلق حلف نامے کی بحالی کیلیے متفق

قومی اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں نے ختم نبوت سے متعلق حلف نامے کو اصل شکل میں واپس لانے کے لیے فوری آئینی ترمیم کے لیے اتفاق کر لیا ہے۔ قومی اسمبلی میں پارلیامنی لیڈران کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے سردار ایازصادق نے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کے وقت ختم نبوت سے متعلق حلف نامے کے الفاظ میں غلطی ہوگئی تھی، غلطی کودرست کرنا کوئی بری بات نہیں، اس کے لیے انہوں نے پارلیمانی لیڈران کا اجلاس بلایا تھا۔ ہم ختم نبوت سے متعلق حلف نامہ پرانی حیثیت میں بحال کریں گے۔ وفاقی وزیرقانون زاہد حامد نے کہا کہ ساری جماعتوں کا مشکور ہوں انہوں نے اس معاملے پر اتفاق کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن نے اس کی نشاندہی کی اوراسے اسمبلی میں سامنے لایا گیا، یہ بڑا حساس ، جذباتی اور اہم مسئلہ ہے، اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں ایک ترمیم کی جائے گی جس کے ذریعے حلف نامے کو اس کی اصل شکل میں لایا جائے گا، اس کے ساتھ ہی میں نے تجویز دی ہے کہ شق 203 پربھی نظرثانی کی جائے کیونکہ یہ معاملہ عدالتوں میں جا چکا ہے۔ اس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس میں اسپیکرقومی اسمبلی سردارایاز صادق کی زیرصدارت پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں شیخ صلاح الدین، اکرم درانی، شاہ محمود قریشی، مولانا امیرزمان اور دیگر پارلیمانی لیڈر شریک ہوئے۔ الیکشن بل میں امیدواروں کے حلف نامے میں الفاظ کی تبدیلی سے پیدا صورتحال پر غور کیا گیا، اجلاس میں سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران نے فیصلہ کیا کہ کاغذات نامزدگی میں حلف نامے کو اس کی اصل شکل میں لایا جائے گا۔