آواران کی گلیوں میں

 کراچی سے آواران روانگی کے لیے شہر کے مختلف راستوں سے جب گذر ہوا تو جگہ جگہ نئے کپڑے پہنے ہوئے بچے اور بڑے نظر آئے۔ ان گلیوں میں جگہ جانوروں کی قربانی اور ان کی کھالوں کے عطیے کے لیے بینر نظر آئے۔ یہ منظر دیکھ کر ہم آگے بڑھتے رہے۔ بلوچستان کے پہلے شہر حب میں تو مٹھائی کی دکانوں اور بیکری پر لوگوں کا ہجوم نظر آیا لیکن اس کے آگے جیسے خوشیوں اور رنگ مدہم ہو تےگئے۔ آر سی ڈی شاہراہ سے آواران کی طرف مڑتے ہی زمین کی ناہمواری اور پہاڑی سلسلہ دیکھ کر ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ درد کا دیس ہے۔ پندرہ روز قبل بیلہ چوک پر ہمیں ایف سی کے کئی اہلکار نظر آئے تھے جو آگے جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے لیکن عید کے روز چوکی میں صرف ایک اہلکار نظر آیا جس نے جھک کر گاڑی کے اندر جھانکا مگر روکا نہیں۔ درد کے دیس میں “جب پچھلی مرتبہ ہم یہاں سے گزرے تھے تو آزاد بلوچستان کے جھنڈے نظر آتے تھے وہ اب موجود نہیں تھے۔

 مقامی لوگوں نے بتایا کہ ان جھنڈوں کو ہٹایا گیا ہے۔” یہ ایف سی پر تنقید کا اثر تھا یا اہلکار عید کی چھٹیوں پرگئے ہوئے تھے؟ کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ راستے میں وہی چرواے، کچے گھر اور ویران سڑک ہمارا استقبال کرتی رہی۔ اسی طرح ہم جھاؤ کیمپ پہنچے یہاں بھی ایف سی کا قلعہ نما کیمپ ہے لیکن وہاں بھی کوئی نظر نہیں آیا۔ جب ہمیں پچھلی مرتبہ ہم یہاں سے گزرے تھے تو آزاد بلوچستان کے جھنڈے نظر آتے تھے وہ اب موجود نہیں تھے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ ان جھنڈوں کو ہٹایا گیا ہے۔ آواران سے باہر ایف سی کی چیک پوسٹ پر ایک اہلکار نے روکا اور پوچھا کہ ’سر کہاں سے آ رہے ہیں، کہاں جائیں گے‘۔ ہم نے بتایا کہ کراچی سے آئے ہیں آواران جا رہے ہیں۔ یہ نوجوان بالوں اور شکل وہ صورت سے حکیم اللہ محسود سے کافی مشہابت رکھتا تھا۔ واپسی پر مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے اس سے پوچھ ہی لیا ’کیا تم محسود ہو۔‘ اس نے بتایا کہ وہ بروہی ہے اور بڑے بال رکھنے کی خاص اجازت لے رکھی ہے۔ آواران شہر میں ہمارا پہلا سٹاپ ہپستال تھا، جہاں پاکستان فوج کے بڑے بینر کے علاوہ الخدمت کے بھی بینر واضح طور پر لگائے گئے تھے۔ یہاں ایک شخص اپنی بیٹی کو منگولی سے لایا تھا۔ مشکے گجر کے قریب اس شہر کے پاس ایف سی کا کیمپ بھی موجود ہے لیکن کہیں بھی طبی سہولتیں دستیاب نہیں۔ 

عالمی ادارے غائب، مذہبی تنظمیں جگہ جگہ “ماضی میں زلزلہ متاثرین کی مدد کے اقوام متحدہ، آکسفیم، برطانیہ اور امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کے اداروں اور دیگر غیر ملکی اداروں کے کیمپ اور بینر نظر آتے تھے لیکن انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں مل سکی اور ان کی جگہ مذہبی اداروں نے لے لی ہے” اس نے بتایا کہ اس کی بیٹی کو پیٹ میں درد کی شکایت ہے۔ زیادہ تکلیف ہوئی تو ہزار روپیہ ادھار لے کر موٹر سائیکل پر یہاں پہنچا ہے۔ ہپستال میں ڈاکٹر امیر بخش سے ملاقات ہوئی ۔ یہ وہی ڈاکٹر تھا جس نے زلزلے کے روز اکیلے چوبیس گھنٹے ڈیوٹی کی تھی اور عید کے روز بھی وہ ہی اکیلا ڈاکٹر تھا۔ اگلے کتنے روز یوں ہی ڈیوٹی کرنی تھی یہ اس کو معلوم نہ تھا۔ ہپستال سے باہر سڑک پر چند بچے تھیلیوں میں گوشت لےکر جاتے ہوئے نظر آئے۔ان سفید رنگ کے شاپنگ بیگوں پر الخدمت تحریر تھا۔ جماعت اسلامی کے اس فلاحی ادارے کی نارنجی کوٹی پہنے ہوئے نوجوانوں سے ملاقات ہوئی جو مٹیاری، کشمور، کندھ کوٹ اور سندھ کے دیگر شہروں سے آئے تھے۔ الخدمت کے رضاکاروں نے ہمیں بتایا کہ وہ متاثرین میں گوشت تقسیم کر رہے ہیں اور فی فرد پانچ سے چھ کلو گوشت دے رہے ہیں۔ جماعت الدعویٰ کے فلاحی ادارے فلاح انسانیت کے بھی کئی رضاکاروں نے عید آواران میں ہی گذاری تھی۔ انہوں نے یہی جانور قربان کیے اور گوشت تقسیم کیا۔ آوران شہر میں الخدمت اور فلاح انسانیت کے علاوہ الرحمت ٹرسٹ اور الخیر ٹرسٹ کے بھی بینر نظر آئے۔

 الرحمت ٹرسٹ پر جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کا نام تحریر تھا۔ ان دونوں اداروں نے متاثرین کی کیا مدد کی ہے یہ معلوم نہیں ہوسکا۔ عام طور پر آفات سے متاثرہ علاقوں میں اقوام متحدہ، آکسفیم، برطانیہ اور امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کے اداروں اور دیگر غیر ملکی اداروں کے کیمپ اور بینر نظر آتے تھے لیکن انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں مل سکی اور ان کی جگہ مذہبی اداروں نے لے لی ہے۔

Enhanced by Zemanta

افتخار چوہدری،جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور ہم………سلیم صافی.

 

 خلاقی انحطاط ہی ہماری تباہی اور رسوائی کی اصل علت ہے ۔ ہم بحیثیت قوم بدترین اخلاقی انحطاط سے دوچار ہیں لیکن اپنے گریبان میں جھانکنے کی بجائے ہم خارج کی طرف انگلی اٹھاتے رہتے ہیں ۔ کردار امریکہ کا بھی ہوگا ‘ ہندوستان کا بھی ‘ افغانستان کا بھی ‘ سعودی عرب کا بھی اور ایران وغیرہ کا بھی لیکن اصل خرابی ہمارے اندر ہے اور اپنے راستے میں گڑھےہم خود کھود رہے ہیں۔

ہم بحیثیت قوم ‘اعلیٰ انسانی اور قومی اوصاف سے محروم ہوچکے ہیں۔ اس قوم کی اصل ذہنیت جاننی ہو تو کسی وقت کسی پبلک ٹائلٹ کے اندر دیواروں پر لکھی تحریروں کو پڑھ لیجئے۔ لیڈر نہیں تو کیا صحافی ٹھیک ہے؟ ‘ کیا استاد کا قبلہ درست ہے؟ ‘ کیا دانشور ‘ دانش فروش نہیں؟‘ کیا سرکاری ملازم کام چور اور رشوت خورنہیں؟کیا جج انصاف فروش اور وکیل قانون شکن نہیں ؟۔ کیا ہم بحیثیت قوم سب سے بڑی جھوٹی قوم کا ’’اعزاز‘‘نہیں رکھتے؟ ۔ کیا منافقت کی بیماری اس قوم کی رگوں میں رچ بس نہیں گئی ہے ؟۔ مجھ سمیت کون ہے جو سچ بول سکتا ‘ سچ لکھ سکتا اور سچ کے ساتھ زندگی گزار رہا ہو؟۔مستثنیات ہر جگہ موجود رہتی ہیں ۔ یقیناً پاکستان میں بھی ایک بڑی تعدادمیں صاحبان عزیمت موجود ہے ۔میں اگر گناہوں میں لت پت ہوں تو میرے گھر کے اندر بھی میری ماں کی صورت میں ایک عظیم انسان موجود ہے۔ اچھے لوگ ہر طبقے میں کہیں کہیں نظر آتے ہیں اور شاید انہی لوگوں کی برکت سے ابھی تک یہ ملک قائم اور ہم بنی اسرائیل کی طرح کسی بڑے عذاب سے بچے ہوئے ہیں لیکن بحیثیت مجموعی ہم اخلاقی انحطاط کی آخری حدوں کو چھونے لگے ہیں۔ وجہ شاید یہی ہے کہ مصلحین سیاست میں لگ گئے ہیں ۔ فلاحی کاموں کی استعداد رکھنے والے لیڈر بننے کی کوشش کررہے ہیں۔

استاد ‘ معلم نہیں رہا نوکر بن گیا جبکہ صحافی جج اور مفتی بننے کی ناکام کوشش کررہا ہے ۔ فوجی سیاست کرتے رہے اور خفیہ ایجنسیوں والے دشمنوں کی بجائے اپنوں کے بیڈروموں کی نگرانی کرنے لگے ۔ علاج تو ایک ہی ہے کہ جس کا جو کام ہے ‘ وہ اسی کو کرنے میں لگ جائے ۔ دوسرے اداروں کی اصلاح کی بجائے ہر ادارہ اپنے آپ سے اصلاح کی کوشش کرے۔ پڑوسی اور ساتھی پر انگلی اٹھانے کی بجائے ہم میں سے ہر کوئی اپنے گریبان میں جھانک لے ۔ ہم ایسا کرنے کو تیار نہیں تبھی توہم ایک دوسرے کی قدر کرنا بھول گئے ۔ محبت کی بجائے نفرت ہماری پہچان بنتی جارہی ہے ۔ اذیت دینا ہماری عادت اور سہنا ہماری مجبوری بنتی جارہی ہے ۔ لطیف احساسات رخصت رہے اور سازشی نفسیات غلبہ پارہی ہے ۔ سب سے بڑا المیہ یہ رونما ہوا کہ ہم گناہ اور جرم کے فرق کو بھول گئے۔ گناہ

جو اللہ اور انسان کے بیچ کا معاملہ ہوتا ہے ‘ کا ہم ذکر بھی کرتے ہیں اوراس پر لوگوں کو مطعون بھی کرتے ہیں لیکن جرم ہمارے لئے قابل توجہ نہیں رہا ۔ جرم وہ ہے جس سے دوسرے انسان متاثر اور حقوق العباد مجروح ہوتے ہیں ۔ ہم چڑھتے سورج کے پجاری بنتے جارہے ہیں ۔ جانے والے کو گالی دینا او رآنے والے کے سامنے سجدہ ریز ہونا ‘ ہمارا قومی وصف بنتا جارہا ہے ۔ تازہ ترین مثال جسٹس ریٹائرڈ افتخار محمد چوہدری کی ملاحظہ کرلیجئے ۔ وہ لوگ جنہوں نے نعوذ بااللہ انہیں مسیحا بنائے رکھا‘ جو دن رات ان کے گن گاتے رہے ‘ جو ان سے کسی غلطی کے صدور کے امکان کو ماننے پر آمادہ نہ تھے ‘ وہ لوگ بھی آج شیر بن کر ان کو گالیاں دینے پر اتر آئے ۔ اخلاقی پیمانوں پر دیکھا جائے توبابر ستار ‘ ڈاکٹر بابراعوان‘ جسٹس طارق محمود ‘ عاصمہ جہانگیر‘ فواد چوہدری ‘ بیرسٹر محمد علی سیف اور ان جیسے چند لوگوں کو ہی زیب دیتا ہے کہ افتخار چوہدری پر تنقید کریں ۔ درست یا غلط لیکن یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اس وقت ان پر تنقید کی جرأت کی جب افتخار چوہدری صاحب کی طاقت کا طوطی بول رہا تھا لیکن وہ لوگ کس اخلاقی جواز کے تحت ان کے خلاف گلے پھاڑ رہے ہیں جو کل تک ان کے مدح خواں تھے۔ ہم اس اخلاقی دورنگی کے صرف افتخار چوہدری کے معاملے میں نہیں بلکہ کم و بیش ہر حوالے سے شکار ہیں ۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنما ملا عبدالقادر کی پھانسی پر ہماری خاموشی اور بے حسی ملاحظہ کر لیجئے۔

ایک وقت تھا جب بنگلہ دیش میں پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے والوں کو خراج تحسین پیش کرنا فیشن تھا تو اس وقت اس قوم کے سیاستدانوں اور دانشوروں کی اکثریت جماعت اسلامی بنگلہ دیش یا پھر البدر اور الشمس کے حق میں رطب اللسان تھی لیکن آج جب مذہبی عسکریت پسندوں کے بارے میں سوچ بدل گئی ہے تو یہاں جماعت اسلامی کے سوا پوری قوم جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے ساتھ روا رکھے گئے ظلم پر خاموش ہے ۔ یہاں کی حکومت کو تھائی لینڈ میں سیاسی تبدیلیوں پر تو تشویش ہے اور فاطمی صاحب کی دفتر خارجہ نے اس پر بیان جاری کرنا ضروری سمجھا لیکن بنگلہ دیش میں پاکستان کی خاطر جان قربان کرنے والے عبدالقادر ملا کی پھانسی پر مذمتی نہ سہی تعزیتی بیان بھی جاری نہ کرسکی۔ ایک زمانہ میں سوچ اور تھی لیکن اس وقت میں جماعت اسلامی کی پالیسیوں کا شدید ناقد ہوں۔

مجھے اعتراف ہے کہ جماعت اسلامی کی قیادت نے بنگلہ دیش کے المیے سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اس کے بعد بھی پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے مہرے کا کردار ادا کرتی رہی ۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش یا پھر البدر و الشمس کے اس وقت کے فیصلے اور کردار سے متعلق بھی اکثر اعتراضات کو میں درست سمجھتا ہوں لیکن وہ ایک اجتہادی غلطی تھی ۔ عبدالقادر ملا جیسے لوگ بنگلہ دیش کے غدار لیکن پاکستان کے تومحسن ہیں ۔ وہ پاکستان کا ساتھ دینے کی وجہ سے وہاں غدار قرار ٹھہرے ۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا کردار قابل اعتراض ہوسکتا ہے لیکن مشرقی پاکستان کو الگ کرنے کا آغاز اس نے نہیں کیا تھا۔ اردو کو قومی زبان بنانے کا فیصلہ جماعت اسلامی نے نہیں بلکہ کچھ اور لوگوں نے کیا تھا ۔ بنگالیوں کے حقوق جماعت اسلامی نے نہیں بلکہ مغربی پاکستان کی اشرافیہ نے ہڑپ کررکھے تھے ۔ اکثریت حاصل کرنے کے باوجود عوامی لیگ کو اقتدار دینے کی راہ میں جماعت اسلامی نہیں بلکہ پیپلز پارٹی رکاوٹ ڈال رہی تھی جبکہ فوج کشی کا فیصلہ جماعت اسلامی نے نہیں بلکہ جنرل یحیٰ خان نے کیا تھا۔ اس سے بھی بڑی اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہتھیار البدر اور الشمس نے نہیں جنرل نیازی نے ڈالے تھے ۔ نتیجہ تو 65 اور کارگل کی جنگوں کا بھی پاکستان کے حق میں اچھا نہیں نکلا تو کیا ان جنگوں میں فوج کا ساتھ دینے والے بھی ہمارے ہیرو نہیں۔

آخر ہم اپنی قوم کو کیا پیغام دے رہے ہیں ؟۔ درست یا غلط لیکن اگر ماضی میں ریاست پاکستان اور افواج پاکستان کا ساتھ دینے والوں کو ہم بھی غدار سمجھیں گے تو ہم مستقبل کے لئے بلوچ ‘ سندھی اور پختون عوام کو کیا پیغام دے رہے ہیں ۔ مدعا ہر گز یہ نہیں کہ پاکستانی قوم سڑکوں پر نکل آئے اور بنگلہ دیشی حکمرانوں کی بجائے اپنا نقصان کرلے ۔ عرض صرف یہ کرنا ہے کہ حکومت اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے خلاف مظالم کو اٹھائے ۔ یہ جماعت اسلامی کا نہیں پاکستان کا مسئلہ ہے ۔ ان لوگوں کا جرم اس کے سوا کچھ نہیں کہ کسی وقت انہوں نے پاکستان اور افواج پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔ بنگلہ دیشیوں کے لئے یہ جرم ہے لیکن کیا پاکستان میں بھی یہ کام جرم بن گیا ہے ؟ اگر نہیں تو پھر حکومت پاکستان کی اس خاموشی کا کیا جواز ؟۔

ایک وضاحت: میرے گزشتہ کالم کے جواب میں تحریک انصاف کے نئے نامزد کردہ (منتخب وہ نہیں) صوبائی صدر اعظم خان سواتی صاحب کا جوابی کالم 12 دسمبر کے جنگ میں شائع ہوا ہے ۔ میں اپنے کالم کے مندرجہ جات کی صحت پر قائم ہوں ۔ انہوں نے اپنے جوابی کالم میں میرے ساتھ بالمشافہ مکالمے کی پیشکش کی تھی ۔ کالم پڑھتے ہی میرے ٹی وی پروگرام کے پروڈیوسروں چوہدری خالد عمر اور عادل اعوان نے ان سے نہ صرف رابطہ کیا بلکہ التجائیں بھی کیں کہ وہ اگلے پروگرام میں آکر ون ٹوون انٹرویو کے دوران اپنا موقف پیش کردیں ۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ اس وقت ڈی آئی خان میں ہیں اور اگلے دو ہفتوں تک فارغ نہیں ہیں ۔ ان کا ایس ایم ایس میرے پاس اور میری ٹیم کے پاس موجود ہے ۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اسی شام وہ خیبرپختونخوا ہائوس اسلام آباد میں عمران خان صاحب کی قیادت میں تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کی میٹنگ میں نظر آئے ۔ جہاں ان کی نامزدگی کے خلاف تحریک انصاف کے نظریاتی اراکین نے خوب احتجاج کیا۔

اس مجلس میں ایک رکن اسمبلی نے عمران خان کی موجودگی میں گواہی دی کہ پارٹی کے صدارتی انتخابات کے موقع پر اعظم سواتی نے انہیں رقم کی پیشکش کرکے خریدنے کی کوشش کی ۔ میرے دونوں پروڈیوسر اعظم سواتی صاحب کو شو میں شرکت کے لئے منانے کی خاطر اسی وقت خود پختونخوا ہائوس چلے گئے لیکن اعظم سواتی صاحب نے ان سے ملاقات کی اور نہ شو میں آنے پر آمادہ ہوئے ۔ بہرحال ان کی پیشکش کے جواب میں ہماری آمادگی برقرارہے ۔ وہ جس وقت چاہیں میرے پروگرام میں اپنا موقف بیان کرسکتے ہیں ۔ اعظم سواتی صاحب نے اپنے جوابی کالم میں بتایا ہے کہ وہ عرصہ دراز سے میرے ساتھ بیٹھنا چاہتے ہیں لیکن میں گریز کررہا ہوں ۔ ان کی یہ بات اپنی جگہ درست ہے لیکن اللہ گواہ ہے کہ میرا ان کے ساتھ کوئی ذاتی تنازع نہیں ۔ وہ ملنے جلنے میں ایک ملنسار انسان ہیں ۔ میری بے انتہاقدر کرتے ہیں اور بحیثیت انسان میں بھی ان کی بے حد قدر کرتا ہوں ۔ مجھے بس ان کی پیسے کے زور پر سیاست کرنے کی روش سے اختلاف ہے ۔ جب وہ ایم ایم اے میں تھے تب بھی ان پر اسی بنیاد پر تنقید کرتا رہا اور اسی وجہ سے ان کے ساتھ کبھی خلوت میں نہیں بیٹھا اور اب جبکہ وہ تحریک انصاف میں بھی اسی ہتھیار کو استعمال کررہے ہیں تو مجھے اچھا نہیں لگتا ۔ تحریک انصاف سے اختلاف اپنی جگہ لیکن میرے نزدیک اس ملک کے مخلص اور انقلابی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے اس جماعت کو اپنی امیدوں کا مرکز بنالیا ہے ۔ وہ میرے صوبے کی حکمران ہے اور اس کی ناکامی اب میری بھی ناکامی ہے ۔ میں اعظم سواتی ‘ جہانگیر ترین اور شیریں مزاری جیسے لوگوں کے ہاتھوں تحریک انصاف کے اس نظریاتی اور مخلص لاٹ کے جذبات کا خون ہوتا دیکھ رہا ہوں ‘ اس لئے تنقید میں سختی اور شدت آجاتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ “جنگ

Enhanced by Zemanta

علمائے کرام اور فوج کےخلاف الگ الگ نفرت پھیلانے کے منصوبے

خبردار آپ کا دشمن آپ کی صفوں میں گھس کر وار کر رھا ھے۔
میرے دوستو۔ دو تین دن سے بالکل غیر محسوس طریقے سے دو گروہ ایک سوچ کے تحت علمائے کرام اور فوج کےخلاف الگ الگ نفرت پھیلانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔

اس شورشرابے سے متاثر ھوکر جانے انجانے میں ھم سب بھی اس سازش کا شکار ھو رھے ہیں۔
آنکھیں کھلی رکھئیے۔
نہ تو علماء اس وطن کے اور فوج کے دشمن ہیں اور نہ ہی فوج ۔
اس آگ کو بھڑکانے میں ھمارا دجالی الیکٹرانک میڈیا اھم کردار ادا کر رھا ھے جو دونوں اطراف کے لوگوں کو بھرپور طریقے سے استعمال کر رھا ھے۔
کبھی فوج کا ھمدرد بن کر شہید فوجیوں کے اھل خانہ کو ٹی وی اسکرین پر لا بٹھاتا ھے اور ان کے جزبات سے کھیل کر ان سے علماء کے خلاف اگلواتا ھے اور کبھی علما میں سے کسی سیدھے سادے عالم دین کے منہ سے فوج کے خلاف اپنی مرضی کے الفاظ نکال لیتا ھے اور ان الفاظ سے جلتی پر تیل کا کام لیتا ھے
اس سے پہلے کہ غدار میڈیا ھمارے سب کے دشمن کے ناپاک منصوبے کو کامیاب کرے اس کے مشن کو ناکام بنا دیجئیے۔
یاد رکھئیے ھمارے علماء اور ھمارے دفاعی ادارے محب وطن اور ملک سے مخلص ہیں۔ ان کی نیتوں پر شک مت کیجئیے ۔
ھمارا دشمن ھمیں آپس میں مصر کے عوام کی طرح لڑا کر مارنا چاہتا ھے۔ بکاؤ میڈیا میں موجود بدبخت اپنے آقا کا مشن پورا کرنے میں مصروف ہیں۔ ان سب کا مشن خاک میں ملا دیجئیے

Syed Abul A’la Maududi in Pictures


Syed Abul A’la Maududi  in Pictures

Enhanced by Zemanta