اسلام سے خوف یا اسلاموفوبیا کی وجہ سے عالمی امن کو لاحق خطرات کے خلاف تنبیہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان اور ترکی کی طرف سے مشترکہ طور پر پیش کردہ ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ یہ قرارداد بنیادی طور پر ترکی کی طرف سے پیش کی گئی تھی اور پاکستان اس کا شریک پیش کنندہ ملک تھا۔ اس پر رائے شماری نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہوئی اور کسی بھی رکن ملک نے اس کی مخالفت نہ کی۔ اس قرارداد میں ایک مذہب کے طور پر بین الاقوامی سطح پر اسلام کے خلاف پائے جانے والے خوف یا اسلاموفوبیا کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا گیا تھا کہ اس وقت عالمی برادری کو اس رجحان کی وجہ سے جو خطرات لاحق ہیں، ان کا سدباب کیا جانا چاہیے۔
نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مسلمانوں کی دو مساجد پر سفید فام نسلی برتری کی سوچ کے حامل ایک آسٹریلوی حملہ آور کی طرف سے کیے گئے اور پچاس مسلمانوں کی موت کی وجہ بننے والے دہشت گردانہ حملوں کا ذکر بھی کیا گیا تھا۔ قرارداد کی دستاویز میں کہا گیا تھا کہ اسلاموفوبیا کی اسی سوچ کی بنیاد پر ایک مذہب کے طور پر اسلام اور اس مذہب کے پیروکار انسانوں کے طور پر مسلمانوں پر مختلف معاشروں میں جو حملے کیے جا رہے ہیں، ان کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے قرارداد کی منظوری کے بعد جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا کہ ایسے مسلح اور ہلاکت خیز حملے ان انتہائی قوم پسندانہ اور عوامیت پسندانہ نظریات کی عکاسی کرتے ہیں، جو مغربی دنیا کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا میں پاکستان کے ہمسائے میں بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
ملیحہ لودھی نے بھارت کی طرف بین السطور میں اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے آبادی کے لحاظ سے دوسرے سب سے بڑے ملک اور پاکستان کی ہمسایہ ریاست میں ہندتوا کے جس نظریے کی ترویج جاری ہے، وہ ’’منافقت، عدم برداشت، مردم بیزاری اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا‘ دے رہا ہے۔ عالمی ادارے میں پاکستان کی مستقل مندوب نے کہا، ’’اس قرارداد کی متفقہ منظوری اس موقف کی تصدیق بھی ہے کہ اقوام عالم نسل پرستانہ اور مذہبی منافرت کی بنیاد پر پھیلائی جانے والی اس سوچ کے خلاف مل کر کھڑا ہونے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔
قرارداد پر رائے شماری سے قبل ترک وزیر خارجہ مولود چاوُش اولو نے اس دستاویز کو جنرل اسمبلی میں متعارف کراتے ہوئے کہا تھا کہ اسلاموفوبیا کی صورت میں نفرت کے جس سلسلے کو ہوا دی جا رہی ہے، عالمی برادری کو مل کر اس کے خلاف کھڑا ہونا اور اس کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ اس موقع پر کرائسٹ چرچ کے دہشت گردانہ حملوں میں ہلاک ہونے والے چار درجن سے زائد مسلمانوں کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ اسلامو فوبیا اور نسل پرستی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ کرائسٹ چرچ میں مساجد پر دہشت گردانہ حملوں میں ہلاک ہونے والے پچاس ملسمانوں میں کئی ممالک کے شہری شامل تھے، جن میں سے نو پاکستانی تھے۔
امریکا میں اسلامی تعلقات کی کونسل (سی اے آئی آر) ایڈووکیسی گروپ نے اشتہاری کمپنیوں سے امریکی نشریاتی ادارے ‘فاکس نیوز’ کی جانب سے اسلام مخالف بیانات پر دو میزبانوں کو برطرف نہ کیے جانے تک ادارے کو اشتہارات نہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی ’انادولو‘ کی رپورٹ کے مطابق ‘سی اے آئی آر’ کے ڈائریکٹر نہاد اواد نے گزشتہ روز جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ ’فاکس نیوز واضح طور پر کہے کہ جینین پیرو کو اسلام مخالف اور نفرت انگیز بیانات کی طویل تاریخ کی وجہ سے دوبارہ آن ایئر ہونےکی اجازت نہیں دی جائے گی‘۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’فاکس نیوز کو ٹکر کارلسن جیسے دیگر اسلام مخالف میزبانوں کے خلاف بھی اسی نوعیت کے اقدامات کرنے چاہیئیں‘۔
نہاد اواد نے مزید کہا کہ ’تمام اشتہاری کمپنیوں کو فاکس نیوز کے اشتہارات بند کر کے اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ وہ نفرت کے فروغ سے وابستہ نہیں ہیں‘۔ امریکا میں اسلامی تعلقات کی کونسل نے جینین پیرو کی جانب سے امریکی کانگریس خاتون الہان عمر کے اسکارف پہننے پر تنقید کے بعد ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا۔ جینین پیرو نے الہان عمر کے فیصلے کو ’ آئین کے خلاف‘ قرار دیا تھا۔ فاکس نیوز کی جانب سے جینین پیرو کے بیان کی شدید مذمت کی گئی لیکن ان کے خلاف کسی قسم کے قابل ذکر اقدامات نہیں لیے گئے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ فاکس نیوز خاتون میزبان کے خلاف اقدامات کر رہا ہے یا نہیں۔
جینین ہفتے کی شب کو ایک پروگرام کی میزبانی کرتی ہیں لیکن رواں ہفتے ان کا پروگرام نشر نہیں کیا گیا تھا۔ ہالی ووڈ رپورٹر کے مطابق اس کے ساتھ ہی جینین پیرو کے پروگرام کے 4 مشتہرین نے اشتہارات بند کر دیئے ہیں جن میں الیرگان، لیٹ گو، نیرڈ والٹ اور فارماسیوٹیکل کمپنی نووو نورڈسک شامل ہیں۔ سی اے آئی آر نے فاکس نیوز سے ایک اور میزبان ٹکر کارلسن کو بھی ملازمت سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ چند ہفتے قبل ٹکر کارلسن کے نسل پرست اور اسلام مخالف بیانات سامنے آنے کے بعد سے ان پر تنقید جاری ہے۔ میڈیا میٹرز ویب سائٹ کی جانب سے ریکارڈنگز جاری کیے جانے کے بعد سے بعض مشتہرین نے فاکس نیوز کو اشتہارات دینا بند کر دیئے ہیں۔
نیوزی لینڈ کے سانحے پر پوری دنیا دکھی ہے۔ 50 جیتے جاگتے انسان لمحوں میں جان سے مار دیے گئے۔ اسی پر بس نہیں، اس قتلِ عام کو اس طرح نشر کیا گیا کہ دنیا بھر کے تارکینِ وطن اور خصوصاً مسلمانوں میں دہشت پیدا ہو۔ ملزم ایک 28 سالہ سفید فام ، نسل پرست شخص ہے جو مبینہ طور پہ ‘ اسلامو فوبیا ‘ کا شکار نظر آتا ہے۔ ابتدائی تفتیش سے اس کا ایک ذاتی مینی فیسٹو بھی نظر آتا ہے۔ گویا وہ کوئی نفسیاتی مریض نہیں بلکہ باقاعدہ ایک نظریے کا بانی یا حامی ہے جس کے تحت، مسلمان تارکینِ وطن کو واپس ان کے ملکوں میں دھکیل دیا جائے۔ بظاہر وہ اپنے نظریے کے لیے ہتھیار اٹھانے والا اکیلا شخص نظر آتا ہے لیکن ‘اسلامو فوبیا’ کسی ایک شخص کا نظریہ نہیں، نہ ہی یہ کوئی نظریہ ہے۔ یہ ایک ایسا خوف ہے جو دنیا کی دو ارب آبادی کے لیے باقی دنیا کے دل میں پیدا کیا گیا۔
انسانی تاریخ کے اوراق خون سے چپچپے ہیں۔ کہیں کھوپڑیوں کے مینار ہیں اور کہیں اجتماعی قبریں دریافت ہوتی ہیں۔ انسان واحد جانور ہے جو اپنی نوع کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ وہ واحد مخلوق ہے جسے کسی دوسری مخلوق کے ہاتھوں معدومیت کا خطرہ نہیں ہاں اس کے ہاتھوں آئے دن کسی نوع کے ناپید ہونے کی خبریں آ تی رہتی ہیں۔ صلیبی جنگوں کے بعد انسان مذہب کے نام پر جنگ کرنے سے توبہ پکڑ گیا تھا یا شاید یہ میرا خیالِ خام ہے۔ ایسا ہی جیسا کہ مجھے لگتا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد انسان نسل پرستی سے کان پکڑ چکا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو کمیونسٹ بلاک کو شکست دینے کے لیے کیپٹلسٹ بلاک، مسلمانوں کو اپنی ‘پراکسی’ لڑنے پر نہ لگاتا۔
مذہب کا جن بوتل سے نکالا تو روس کی شکست کے بعد یہ جن آدم بو آ دم بو کرتا امریکہ پر لپکا۔ تب ہی اپنی ذاتی اور اپنے دستِ خاص سے تیار کردہ ملائشیا پر ‘دہشت گرد’ کا لیبل لگا دیا گیا۔ اصل بات یہ تھی کہ کمیونزم کی شکست کے بعد کیپلٹل ازم کو ‘خلافت’ کا بھوت ڈرانے لگا۔ ‘ملا عمر اور اسامہ’ کی شکل میں ایک اور مخالف نظر آیا۔ یہیں سے ‘اسلامو فوبیا’ کی بنیاد پڑی۔ یہ خوف عوام کو نہیں نظام کو تھا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ‘دہشت گرد’ افغانستان میں جنگ کر رہے ہیں، شام، یمن، عراق، فلسطین، پاکستان اور کشمیر سب جگہ دہشت گرد متحرک اور فعال ہیں۔ دکھ اورحیرت کی بات پر ہے کہ فوج کو پالنے پر ریاستوں کی کمر دہری ہو رہی ہے لیکن ان دہشت گردوں کو کون پال رہا ہے؟ اس پر کبھی سوال نہیں اٹھا۔
کل ان دہشت گردوں کے مقاصد کیا تھے اور آج ان کے مقاصد کیا ہیں؟ ان سوالوں پر ذرائع ابلاغ پر کم ہی بحث ہوتی ہے، بات زیادہ تر حملہ آوروں کی مذہبی شناخت اور ان کی کسی گروہ سے تعلق تک ہی محدود رہتی ہے۔ ذرائع ابلاغ پر یہ بات بھی نہیں کی جاتی کہ وہ مسلمان جو بقول ممتاز مفتی ‘منھ زبانی’ مسلمان ہیں ان کا نہ کل ان لوگوں سے کچھ لینا دینا تھا اور نہ آج۔ نیوزی لینڈ کا سانحہ صرف اس وجہ سے پریشانی کا باعث نہیں کہ اس میں اتنے انسان مارے گئے۔ یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بھی ہے۔ کیا ‘اسلامو فوبیا’ بھی ’دہشت گردی ‘ کی طرح کی ایک اصطلاح ہے جو آج کانوں کو نامانوس محسوس ہو رہی ہے لیکن کل یہ دنیا بھر میں پھیلے مسلمانوں کے لیے کوئی اگلی آفت بپا کرے گی؟
نسل پرستی کی اس نئی لہر کا رخ واضح نظر آ رہا ہے۔ گو میں بہت کوتاہ بین اور کم عقل ہوں لیکن بریٹن ٹرینٹ ایک فرد نہیں ایک سوچ ہے۔ انڈیا میں ہندو توا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ میں نسل پرستی کی نئی لہر، امریکہ اور یورپ میں اسلامو فوبیا یہ سب کہانیاں نہیں ہیں اور نہ ہی یہ کسی ‘اتحاد بین المسلمین’ قسم کے مضمون کا ابتدائیہ ہے۔ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جسے جس قدر جلد سمجھ کے سنبھال لیا جائے اسی قدر بہتر ہو گا۔ جنگوں کی ماری یہ دنیا ایک اور ہولو کاسٹ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ بریٹن ٹیرنٹ کا یہ فعل برفانی تودے کی نوک ہے۔ اس کے نیچے ایک بہت بڑا پہاڑ موجود ہے۔ اگر ‘اسلامو فوبیا’ نامی اس جن کو بھی بوتل سے باہر نکا ل لیا گیا تو کوئی بڑا انسانی المیہ رونما ہو سکتا ہے۔ مجھے امید ہے دنیا کے امن کے ٹھیکیدار اس مسئلے کا کوئی سنجیدہ حل نکال لیں گے۔
ترک قومی اسمبلی نے یورپی ممالک میں مسلمانوں پر حملوں اور اسلام مخالف پراپیگنڈا کے خلاف ایک قدم اٹھایا ہے۔ اس دائرہ کارہ میں مغربی ملکوں میں اسلامی دشمنی کا جائزہ ذیلی کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ کمیشن اسلامو فوبیا کے سب سے زیادہ عام ہونے والے ملکوں جرمنی، آسڑیا، فرانس اور بیلجیم کا دورہ کرتے ہوئے ان ممالک میں اس کے اسباب کو جاننے کی کوشش کرے گا۔
کمیشن مذکورہ ملکوں سے اجازت لیتے ہوئے جائے مقام پر تفتیش کرنے اور اسلام و فوبیا حملوں کے متاثرین سے ملاقاتیں کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ یہ یورپ میں پر تشدد واقعات، اموری زندگی میں ہیڈ اسکارف اور برقعے کے خلاف امتیازی سلوک، عبادت کی آزادی اور مساجد کی بے حرمتی پر محیط دین ِ اسلام سے خوف کا ہر پہلو سے جائزہ لے گا۔ خیال رہے کہ مغربی ممالک میں 2016 تک 2800 سے زائد اسلام و فوبیا واقعات رونما ہوئے تھے جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد تین ہزار سے بھی زائد تھی۔