دو قومی نظریہ ٹھکرا کر بھارت سے الحاق کا فیصلہ غلط ثابت ہو گیا، محبوبہ مفتی

مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ آج مقبوضہ کشمیر کی لیڈرشپ کا دو قومی نظریہ کو ٹھکراتے ہوئے بھارت سے الحاق کا فیصلہ غلط ثابت ہو گیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارت کا یکطرفہ فیصلہ غیر قانونی وغیر آئینی ہے، آج بھارتی جمہوریت کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے اور اس فیصلے سے 1947 میں مقبوضہ کشمیر کی لیڈرشپ کا دو قومی نظریہ کو ٹھکراتے ہوئے بھارت سے الحاق کا فیصلہ غلط ثابت ہو گیا۔

Today marks the darkest day in Indian democracy. Decision of J&K leadership to reject 2 nation theory in 1947 & align with India has backfired. Unilateral decision of GOI to scrap Article 370 is illegal & unconstitutional which will make India an occupational force in J&K.
— Mehbooba Mufti (@MehboobaMufti) August 5, 2019

محبوبہ مفتی کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کا آئین سے آرٹیکل 370 کو ختم کرنا یک طرفہ، جانبدرانہ اور خودساختہ فیصلہ ہی نہیں بلکہ یہ غیر قانونی اور غیر آئینی بھی ہے جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی موجودگی کو ایک ’قابض فورس‘ میں تبدیل کر دے گا۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارتی فیصلے سے برصغیر سے تباہ کن نتائج ہوں گے اور بھارت مقبوضہ کشمیر میں کیے گئے اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو گیا جب کہ بھارتی حکومت کے ارادے صاف ظاہر ہیں، وہ چاہتے ہیں مقبوضہ کشمیر کی عوام خوف و ہراس کا شکار ہو جائیں۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل سے انکار دھوکا اور جارحیت ہے اور بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے جنرل اسمبلی سے سشما سوراج کی تقریرکے جواب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری بھارت کو سیز فائرکی خلاف ورزی سے روکے، بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے، کلبھوشن یادیو نے پاکستان میں دہشتگردی کا اعتراف کیا، بھارتی حکمران جماعت کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں، نریندرمودی گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث رہا، بھارت میں کوئی بھی اقلیت محفوظ نہیں، بھارت دہشتگردی کوریاستی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے جب کہ بھارت کو مذاکرات کیلیے دہشت گرد پالیسی ترک کرنا ہو گی۔

کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں، کشمیر پر بھارتی قبضہ غیرقانونی ہے، مذاکرات کیلئے بھارت کو دہشت گردی کی پالیسی ترک کرنا ہو گی، پاکستان تمام مسائل کا حل مذاکرات سے چاہتا ہے، کشمیرمیں بھارتی جرائم کی تحقیقات ہونی چاہیئں اور فریقین تنازعہ حل نہ کر سکیں تو اقوام متحدہ اور عالمی برادری مداخلت کی پابند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اپنے ہر پڑوسی سے جنگیں لڑیں اورقائداعظم پرتنقید کرنے والوں کے ہاتھ گجرات میں مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سب سے بڑی منافقت ہے۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارت بہتان تراشی پراترآیا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل سے انکار دھوکا اور جارحیت ہے، بھارت مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق پامال کر رہا ہے جب کہ بھارت نے اپنے ہرپڑوسی سے جنگیں لڑیں اوربھارت پاکستان میں دہشت گردوں کی معاونت بند کرے۔

عالمی عدالت میں بھارت نے کیا کھویا اور کیا پایا ؟

گزشتہ دنوں عالمی عدالت انصاف کی جانب سے بھارتی درخواست پر حتمی فیصلے تک کلبھوشن کی پھانسی روکے جانے اور ویانا کنونشن کے تحت قونصلر رسائی دینے کے فیصلے سے پاکستان میں یہ تاثر ابھرا کہ عالمی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے خلاف ہے اور پاکستان کے موقف کو عالمی عدالت میں پذیرائی نہیں مل سکی۔ دوسری طرف بھارت میں عالمی عدالت کے فیصلے کو بھارتی فتح اور پاکستان کی شکست سے تعبیر کیا گیا اور کئی شہروں میں جشن منایا گیا۔ عالمی عدالت میں بھارت نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان ویانا کنونشن کا Signatory ہے جس کے تحت وہ غیر ملکی قیدی کو قونصلر رسائی دینے کا پابند ہے جبکہ پاکستان کا موقف تھا کہ بھارتی شہری کلبھوشن عام قیدی نہیں بلکہ دہشت گرد اور جاسوس ہے جس کے ہاتھ پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، اِس لئے وہ ویانا کنونشن کے تحت قونصلر رسائی کا حق نہیں رکھتا۔

پاکستان میں اپوزیشن نے عالمی عدالت کے فیصلے کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہراتے ہوئے فیصلے کو نواز، جندل ملاقات کا نتیجہ قرار دیا اور وزیراعظم کو ملکی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا جبکہ کچھ ٹی وی اینکرز نے عالمی عدالت میں پاکستان کی پیروی کرنے والے وکیل کو بھی نہیں بخشا اور اُنہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خاور قریشی عالمی عدالت میں پاکستان کے کیس کا صحیح طرح سے دفاع نہیں کر سکے۔ میرے خیال میں عالمی عدالت کے فیصلے کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرانا اور خاور قریشی کی صلاحیتوں پر شک کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ اس سلسلے میں جب میں نے لندن میں مقیم اپنے دوست نسیم احمد جو ایک معروف وکیل ہیں، سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ خاور قریشی کے بارے میں کیا جانے والا پروپیگنڈہ درست نہیں، خاور قریشی نے برطانیہ کی مشہور کیمبرج یونیورسٹی سے قانون کی اعلیٰ ترین بیرسٹر کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور وہ اِسی یونیورسٹی میں کافی عرصے تک تدریس سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں جبکہ وہ قانون پر کئی کتابیں لکھ چکے ہیں اور کوئن کونسل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خاور قریشی 1993ء میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں کیس کی پیروی کرنے والے سب سے کم عمر وکیل تصور کئے جاتے تھے جبکہ وہ 2013ء میں برطانوی ہائیکورٹ کے نائب جج بھی رہ چکے ہیں۔

ہالینڈ کے شہر ہیگ میں قائم اقوام متحدہ کی عالمی عدالت برائے انصاف (مستقل کورٹ برائے ثالثی ) اپنے تاریخی فیصلوں کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتی ہے۔ اس عدالت کا قیام 1945ء میں دوسری جنگ عظیم کے بعد عمل میں لایا گیا تھا اور عدالت کے ججوں کی تعداد 15 ہوتی ہے جنہیں اقوام متحدہ مقرر کرتی ہے۔ پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ 2011ء میں پشاور ہائیکورٹ کی خاتون جج خالدہ راشد بھی اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں جج کے فرائض انجام دے چکی ہیں۔ اس سلسلے میں ہیگ میں مقیم میرے دوست شاہین سید جو عالمی عدالت انصاف سے منسلک ہیں، نے بتایا کہ ہیگ میں قائم اس عالمی عدالت میں صرف دو ممالک کے مابین تنازعات لائے جا سکتے ہیں اور انفرادی تنازع کو عالمی عدالت نہیں لایا جا سکتا۔ اُن کے بقول عالمی عدالت کے قواعد کے تحت اگر کسی ملک کیلئے تنازع کے حل کے تمام دروازے بند ہو جائیں تو وہ عالمی عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔

شاہین سید نے بتایا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے پاس سزائے موت کے خلاف صدر مملکت اور اعلیٰ عدلیہ سے رحم کی اپیل کرنے کا آپشن موجود تھا، عالمی عدالت انصاف کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب جاسوسی کے حوالے سے اس نوعیت کا کوئی کیس لایا گیا اور کیس کی سماعت میں حیرت انگیز طور پر جلد بازی سے کام لیا گیا کیونکہ عام طور پر عالمی عدالت انصاف میں کیس کی سماعت میں طویل عرصہ درکار ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے کلبھوشن یادیو کی سزا کے خلاف دائر کئے گئے کیس کی سماعت کرنے والے ججز میں اکثریت یہودیوں کی ہے جبکہ فیصلہ سنانے والے جج رونی ابراہام جو عالمی عدالت انصاف کے صدر ہیں، بھی فرانسیسی نژاد یہودی ہیں، اسی طرح بینچ میں شامل جج دلویر بھنڈاری کا تعلق بھارت سے ہے جنہوں نے عالمی عدالت کے فیصلے کے بعد اسے بھارت کی سفارتی کامیابی قرار دیا۔

ایک تجزیہ نگار کی حیثیت سے میرے نزدیک بھارت نے کلبھوشن کے کیس کو عالمی عدالت لے جا کر بہت بڑی غلطی کی ہے جس سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ کلبھوشن کوئی عام شہری نہیں بلکہ بھارتی جاسوس اور دہشت گرد ہے جسے بھارت اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتا رہا۔ دہشت گرد کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد شروع میں بھارت نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ کلبھوشن کا بھارت سے کوئی تعلق نہیں مگر بعد میں بھارت نے اسے اپنا شہری تسلیم کر لیا۔ کلبھوشن کے معاملے میں بھارت کے عالمی عدالت جانے کی بڑی وجہ بھارتی حکومت پر عوام اور اسٹیبلشمنٹ کا دبائو تھا کہ حکومت، کلبھوشن کو تنہا نہ چھوڑے اور اُس کی رہائی کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں جس پر بھارتی وزیر خارجہ کو یہ بیان دینا پڑا کہ ’’بھارت کلبھوشن کی رہائی کیلئے کسی حد تک بھی جا سکتا ہے۔‘‘ شاید اسی دبائو اور بوکھلاہٹ میں بھارت نے عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا حالانکہ عام طور پر دو ممالک میں جاسوسوں کی رہائی کیلئے اِس طرح کا طریقہ اختیار نہیں کیا جاتا بلکہ اِن ممالک کے مابین جاسوسوں کا تبادلہ ہوتا ہے۔ امریکہ اور روس میں جاسوسوں کے تبادلے کی کئی مثالیں موجود ہیں۔

عالمی عدالت کے فیصلے کے بعد پاکستانی عوام یقینا یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ ایک بھارتی جاسوس جس کے ذریعے بھارت پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا تھا، اب اُسے عالمی عدالت کی پروٹیکشن بھی حاصل ہو گئی ہے۔ میرے خیال میں اگر پاکستان کلبھوشن کو قونصلر رسائی دیتا ہے تو قونصلر رسائی کے بعد بھارت یہ موقف اختیار کرے گا کہ ’’کلبھوشن کا اعتراف جرم پاکستانی ایجنسیوں کے تشدد کا نتیجہ ہے۔‘‘ ایسی صورت میں عالمی عدالت، حکومت پاکستان سے کلبھوشن کے کیس کی اعلیٰ عدلیہ کے ذریعے غیر جانبدارانہ ٹرائل کروانے کی درخواست کر سکتی ہے مگر ماضی میں اس طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں کہ کئی ممالک کی اعلیٰ عدلیہ عالمی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد سے انکار کر چکی ہیں جیسا کہ امریکہ میں قید میکسیکو کے مجرموں کے کیس میں عالمی عدالت کے فیصلے کو امریکی عدلیہ نے ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

عالمی عدالت انصاف کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ عدالت اپنے فیصلے پر عملدرآمد کی طاقت نہیں رکھتی، اس لئے عالمی عدالت کو ایسے شیر سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کے دانت نہیں ہوتے۔ کلبھوشن کیس کے معاملے میں بھی اگر عالمی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہوا تو یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ بھارتی دہشت گرد کلبھوشن کو نہ قونصلر رسائی مل سکے گی اور نہ ہی وہ کبھی بھارت واپس جا سکے گا۔ کلبھوشن کے معاملے کو عالمی عدالت میں لے جانا بھارت کی بہت بڑی غلطی تھی جس کا تمام تر فائدہ پاکستان کو پہنچا کیونکہ بھارتی اقدام سے پاکستان کو یہ موقع ہاتھ آ گیا ہے کہ اب پاکستان مسئلہ کشمیر کے تنازع کو عالمی عدالت لے جا سکتا ہے، ایسی صورت میں بھارت کیلئے یہ کہنا ممکن نہ ہو گا کہ کشمیر کا معاملہ عالمی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا کیونکہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے مابین بہت بڑا تنازع ہے جو کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سرد خانے کی نذر ہے۔ اگر پاکستان مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت میں لے کر گیا تو یہ معاملہ عالمی سطح پر اہمیت اختیار کرجائے گا جو یقیناً پاکستان کی بہت بڑی سفارتی فتح ہوگی۔

مرزا اشتیاق بیگ

صدر ایردوان کا دورۂ بھارت

صدر ایردوان نے اکتیس مارچ تا یکم مئی 2017ء بھارت کا سرکاری دورہ کیا۔ یہ
کسی بھی ترک صدر کا سات سال بعد دورۂ بھارت تھا اس سے قبل صدر عبداللہ گل بھارت کا دورہ کر چکے ہیں جبکہ ایردوان نے اس سے قبل وزیراعظم کی حیثیت سے بھارت کا سرکاری دورہ کیا تھا۔ یہ صدر ایردوان کا 16 اپریل کے صدارتی ریفرنڈم کے بعد پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔ بھارت روانگی سے قبل استنبول کے اتاترک ہوائی اڈے پر صدر ایردوان نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اور ترکی کے درمیان خاص طور پر تجارتی شعبے میں تعلقات کو فروغ دینے کے لئے دونوں ممالک بڑی صلاحیتوں اور وسائل کے مالک ہیں جن سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ترکی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے لئے تیار ہے۔ اس وقت ترکی کے لئے بھارت مشرقِ بعید کے ممالک کو کھلنے والے دروازے کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ بھارت کے لئے ترکی یورپ تک رسائی حاصل کرنے کا ایک اہم وسیلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے دورہ بھارت کے دوران ان تعلقات کو فروغ دینے کے لئے اعلیٰ بھارتی حکام سے بات چیت کریں گے اور پھر اس کے بعد ہی کسی روڈ میپ کو واضح کیا جائے گا۔

اس سے قبل صدر ایردوان نے بھارتی ٹی وی چینل ’’رلڈ ایز ون نیوز‘‘(ڈبلیو آئی او این ) کو انٹرویو دیتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ثالث کا کردار ادا کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ضروری ہوا تو ترکی کی حیثیت سے ہم معاملے میں شامل ہو سکتے ہیں، مسئلہ کشمیر کا مذاکراتی حل پاکستان اور بھارت دونوں کے مفاد میں ہے۔ ترکی کے صدر ایردوان نے 15 اپریل 2016 کو استنبول میں 13ویں تنظیم اسلامی کانفرنس کے سربراہی اجلاس کے موقع پر تنظیم اسلامی کانفرنس کے سیکرٹری جنرل عیاد مدنی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے موقع پر بڑے واضح انداز میں کہا تھا کہ ’’ہمیں یقین ہے کہ مسئلہ جموں کشمیر کو بہترین طریقے سے حل کرنے کا راستہ کشمیری عوام کی خواہشات کا احترام کرنے ہی سے گزرتا ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود کیوں کر مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کیا جا سکا ہے۔ میرے خیال میں علاقے کے عوام کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کیے بغیر اس مسئلے کو حل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس طرح ترکی ابتدا ہی سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف کی کھل کر حمایت کرنے والا پاکستان کا سب سے قریبی اور دوست ملک ہے۔

ترک صدر ایردوان نے اپنے دورۂ بھارت کے دوران ترک۔ انڈیا بزنس کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’بھارت کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے لئے ہم پُرعزم ہیں۔ ہم بھارت کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے خواہاں ہیں اور دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کو ایک دوسرے کے ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاسوں کو جاری رکھنے اور آزاد تجارتی سمجھوتے سے متعلق مذاکرات شروع کرنے اور اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ اس وقت موجود تجارتی حجم کے ساڑھے چھ بلین ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ اس تجارتی حجم کو وقت کے ساتھ ساتھ مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا کی عظیم ترین 250 کنسٹرکشن فرموں میں42 ترک فرمیں شامل ہیں جن سے بھارت کو بھی استفادہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اپنی کرنسی ہی میں تجارت کو جاری رکھنے کی بھی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ترکی میں بھارتی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کرنے کی ہر ممکنہ سہولت کی بھی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ ترکی، بھارت کے لئے بحیرہ اسود، یورپ، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطی کے علاقے تک رسائی حاصل کرنے کے لئے ایک اڈہ بننے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے اس موقع پر بھارتی سیاحوں کو جن کی تعداد انہتر ہزار سالانہ ہے میں مزید اضافہ کرنے اور بھارت میں شادی کرنے والوں جوڑوں کو ترکی میں شادی کا اہتمام کرنے اور ہنی مون منانے کے بارے میں بھی اپنی خواہش سے آگاہ کیا۔

ترکی جس کے اس وقت یورپی یونین کے رکن ممالک کے ساتھ تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں حالات کو سازگار بنانے کے لئے بھارت، چین اور روس کی جانب اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اسی لئے ترکی کے صدر ایردوان نے یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات کے کھٹائی میں پڑ جانے کے بعد بھارت کا دورہ کیا۔ ترکی خاص طور پر اپنی کنسٹرکشن فرموں کے ذریعے بھارت کے دور دراز علاقوں تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے اور بھارت کے کنسٹرکشن فیلڈ میں بہت کمزور ہونے کے باعث استفادہ کرتے ہوئے علاقے میں کنسٹرکشن کے میدان میں اپنی مہر ثبت کرنا چاہتا ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان جب نئی دہلی پہنچے تو ان کا استقبال بھارت کی وزیر اسپورٹس اور یوتھ نے کیا اور بعد میں صدر ایردوان نے بھارت کے صدر مکھر جی پرناب اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ اس کے بعد صدر ایردوان نے بھارت کے بانی مہاتما گاندھی کی سمادی پر پھول چڑھائے اور وزٹنگ بک میں اپنے تاثرات کو قلمبند کیا۔ بعد میں ترک صدر ایردوان نے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی سے ون ٹو ون ملاقات کی جس کے بعد دونوں ممالک کے وفود کے درمیان مذاکرات منعقد ہوئے اور جس میں مختلف سمجھوتوں پر دستخط بھی کیے گئے۔ اس کے بعد دونوں رہنمائوں نے مشترکہ طور پر پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پربھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ترکی میں جی 20 اجلاس میں شرکت اور پھر ترکی کے ساتھ فروغ پانے والے تعلقات کا ذکر کیا۔

ترک صدر ایردوان نے بعد میں دہلی کی جامع ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کی جانب سے ان کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری دینے کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے اقوام متحدہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے دنیا کے مستقبل کے اقوام متحدہ کے پانچ مستقل رکن ممالک کے ہاتھوں میں ہونے کی شکایت کی اور کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پانچ مستقل رکن ممالک کے علاوہ دیگر عبوری دس رکن ممالک کی کوئی اہمیت نہیں ہے وہ عبوری رکن ممالک ان پانچ مستقل رکن ممالک کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں اقوام متحدہ میں بھارت جس کی آبادی ڈیڑھ بلین کے لگ بھگ ہے اور عالم ِ اسلام جس کی آبادی 7.1 بلین ہے، کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ اس سلسلے میں بھارت، اسلامی ممالک اور جاپان کو بھی آواز بلند کرنے اور اقوام متحدہ کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کیلئے اپنے اوپر عائد ہونیوالے فرائض کو ادا کرنے کی ضرورت ہے تا کہ دنیا کو پانچ ممالک کے ہاتھوں یرغمال بننے سےروکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارا نظریہ ہے۔ حق پر مبنی ملک ہی کو طاقتور ہونا چاہئے۔‘‘

ڈاکٹر فر قان حمید