Category Archives: Imam
ہم کیوں نہ شکر کریں
ایک جگہ ایک کمرے میں دو افراد سے کہا گیا کہ وہ کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھیں اور بتائیں کہ انھوں نے کیا دیکھا۔چنانچہ دونوں افراد نے باری باری کھڑکی سے باہر دیکھا تو ایک نے کہا کہ اسے گلی میں گندگی نظر آئی جب کہ دوسرے نے بتایا کہ اسے آسمان پر اڑتے پرندے نظر آئے۔ یہ حسن نظر اور یہ سوچ کا انداز ہی دراصل قوموں کی ترقی یا تنزلی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستانی قوم عام طور پر مایوس نظر آتی ہے۔ جو زندگی کے مختلف پہلوؤں پر شاکی اور رنجیدہ ہے حالانکہ ایسے بے شمار پہلو ہیں جن پر خوش اور مطمئن بھی رہا جا سکتا ہے مگر اس طرف ان کی نظریں اٹھتی ہی نہیں۔ دراصل انسان کے اندر خوشی اور انبساط کی کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ شکر ادا کرتا ہے۔ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ سوچ کا کون سا انداز اور فکر کا کون سا رخ ہمیں خوشی اور مسرت کی طرف لے جاسکتا ہے جس سے ہمارے معاشرے میں پھیلی ہوئی مایوسی اور بد دلی کو کسی حد تک کم یا ختم کیا جاسکتا ہے کہ یہی وہ عمل ہے جو قوموں کو ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگوں نے شاید اس بات کو محسوس ہی نہیں کیا کہ یہ ہم سب پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنی بہترین امت میں پیدا کیا اور ایمان پر ہماری آنکھ کھولی۔ پھر ہم اس بات پر کیوں نہ شکر کریں۔ انسان کے سدھار میں اس کی اپنی سوچ، احساس اور جذبہ جو مثبت کردار ادا کرتے ہیں وہ بڑے سے بڑا قانون نافذ کرنے والا ادارہ بھی نہیں کر سکتا۔
ہمیں تاریخ کا سبق یاد رکھنا چاہیے کہ مسلمانوں کی عظیم سلطنت عثمانیہ عربی اور عجمی کا تفرقہ پیدا کرکے ختم کردی گئی اور ہندوستان کی عظیم مغلیہ سلطنت اغیار کو رعایتیں دے دے کر خود اپنی قبر کھود بیٹھی۔
ہمارے ملک پاکستان کے پاس وسیع رقبہ ہے جو کئی ترقی یافتہ ممالک کی نسبت بڑا ہے۔ ہماری سرزمین بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ اس کے پاس دریا ہیں، ٹھاٹھیں مارتا ہوا وسیع و عریض سمندر ہے۔ قدرتی اجناس پھل اور سبزیاں بڑی مقدار میں یہاں پیدا ہوتے ہیں۔ قدرت کے سارے موسم اعتدال کے ساتھ یہاں اپنی بہاریں دکھاتے ہیں۔ پہاڑ، جنگل، چٹیل میدان سب کچھ یہاں موجود ہیں۔ باصلاحیت اور محنتی افرادی قوت کی اگرچہ ہمارے ملک میں اب قلت نہیں ہے مگر پچھلے چالیس (40) برسوں سے بڑی تعداد میں پاکستانیوں کا باہر ممالک میں جانا اور اپنا قیمتی وقت، محنت، طاقت اور علم اپنے وطن عزیز پر صرف کرنے کی بجائے بیرون ممالک کو شاداب کرنے پر لگانا ہمارے ملک کے لیے کوئی بہتر نتائج پیدا نہیں کر رہا۔ گوکہ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ملک میں بیروزگاری ہے اور لوگ بہتر روزگار کے لیے بیرون ملک چلے جاتے ہیں مگر یہ مسئلے کا مستقل حل تو نہیں۔ باہر جانے والے ہمارے زیادہ تر ہم وطنوں کی زندگیاں بھی زیادہ خوش کن نہیں ہوتیں انھیں ان کی اجرت اور تنخواہیں بھی وہ نہیں ملتیں جو بیرونی ممالک ان کے ہم پلہ اپنے شہریوں کو دیتے ہیں وہ ایک دوسرے درجے کے شہری کی طرح ڈرے سہمے اپنی زندگی کے دن وہاں گزار رہے ہوتے ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ حکومت کے ساتھ ساتھ وطن عزیز کی تمام تر افرادی قوت (بشمول بیرون ملک پاکستانی) اپنے تمام تر علم، تجربے ، طاقت اور مالی وسائل سے اپنی اسی سرزمین پر سجدہ شکر بجا لاتے ہوئے یہاں سے سونا نکالنے کی کوشش کریں۔میں نے ایک طویل عرصہ اعلیٰ تحقیقی اور انتظامی عہدوں پر کام کیا ہے۔
میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ ہمارے ملک میں اکثر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اعلیٰ مناصب پر فائز افراد جب غیر ملکیوں سے ملتے ہیں تو مرعوب ہوجاتے ہیں اور نہ تو اپنا مطمع نظر صحیح طور پر بیان کر پاتے ہیں۔ یہاں میں ایک امریکی بزنس مین رابرٹ۔ ای۔مولیگن (Robert E. Mulligan) سے اپنی ایک ملاقات کا ذکر کروں گی جب وہ 1989 میں قائد اعظم پر اپنی ایک فلم بنانے کے سلسلے میں پاکستان تشریف لائے۔ ایک غیر رسمی ملاقات میں انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ قائد اعظم پر فلم بنا رہے ہیں اور اپنی اس فلم کا ابتدائی یا تعارفی جملہ انھوں نے قائد اعظم کی 11 اگست 1947 کی ایک تقریر سے لیا ہے پھر انھوں نے مجھے وہ جملہ پڑھ کر سنایا۔ یہ وہی جملہ تھا جس کی عام طور پر غلط ترجمانی کی جاتی رہی ہے۔ جس کا مقصد اس وقت مذہبی رواداری کے اظہار کے سوا اور کچھ نہ تھا کیونکہ پاکستان کے قیام پر ہندوؤں کی بڑی تعداد جو یہاں رہائش پذیر تھی وہ ڈر کر ہندوستان جا رہی تھی۔
میں نے مولیگن صاحب سے پوچھا کہ انھوں نے اپنی فلم کے لیے قائد اعظم کی اس متذکرہ تقریر کا یہ جملہ کیوں منتخب کیا ہے؟ جب کہ قائد اعظم کی ایسی بے شمار تقاریر ہیں جن میں انھوں نے پاکستان کی ریاست و حکومت کے مسلم خدوخال کا بڑے واضح انداز میں جائزہ لیا ہے اس پر میں نے مولیگن صاحب کو اپنے آفس (قائد اعظم اکادمی) میں ہی اچھا خاصا لیکچر بھی دے ڈالا۔ انھوں نے میری بات کا کوئی جواب نہ دیا البتہ ہنس کر کہنے لگے کہ ’’آپ نے یہ بنیادی سوال (Fundamental Question) مجھ سے کیا ہے۔ میں پاکستان کے کئی شہروں میں گیا ہوں اور بہت لوگوں سے ملا ہوں مگر کسی نے بھی مجھ سے یہ سوال نہیں کیا جو آپ کر رہی ہیں‘‘۔ اس کے بعد رابرٹ مولیگن دوبارہ بھی میرے آفس میں مجھ سے ملنے آئے اور امریکا جاکر انھوں نے مجھے کئی خطوط بھی لکھے۔ مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ میری گفتگو کا ان پر کیا اثر ہوا مگر مجھے اتنا معلوم ہے کہ جناب رابرٹ مولیگن کی متذکرہ فلم کے بارے میں ہمیں کوئی مزید خبر موصول نہیں ہوئی۔ یہاں ہمیں یہ بتانا مقصود ہے کہ ملکی اور غیر ملکی سطح پر پاکستان کے کسی بھی پہلو کی غلط ترجمانی کی حوصلہ شکنی کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان کا وقار ہر سو بلند نہ ہوسکے۔
ہمیں اس بات کا بھی شکر ادا کرنا چاہیے اور خوش ہونا چاہیے کہ ہمارے ہاں شادی کا نظام مستحکم ہے اور رشتہ ازدواج میں بندھنے والے مرد اور عورت کی اولین کوشش ہوتی ہے کہ ان کی شادی قائم رہے اور وہ عمر بھر ایک دوسرے کا ساتھ نبھاتے ہیں ہمارے ملک میں بیرونی ممالک کی نسبت طلاق کے واقعات بہت کم ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مغربی ممالک میں بزرگوں کے بے شمار ادارے کھلے ہیں جہاں عمر رسیدہ افراد اپنا وقت گزارتے ہیں ہم کیوں نہ شکر کریں کہ ہمارا پاکستانی معاشرہ ان معاملات میں بہت اچھا ہے۔
Bari Imam Islamabad
Bari Imam (1617–1705), or Shah Abdul Latif Kazmi, is the patron saint of Islamabad and the greater Pothohar region.
History
Bari Imam (1617–1705), whose real name was Shah Abdul Latif Kazmi, was born in 1026 Hijra (1617 AD) in Jhelum. His father, Syed Mehmood Shah, shifted his family from Jhelum District to Baghan village, presently called Aabpara. At that time, it was a barren land. Soon after the arrival of Bari Imam’s family, his father started farming and also kept some animals. Shah Latif helped his father in grazing the animals, but left his father at 12 and came to Nurpur Shahan.
Nurpur Shahan, the village was initially called Chorpur Shahan since it was infested by thieves, robbers and people of dubious character in those days. Bari Imam while spreading the message of peace converted them to Islam and convinced them to become law abiding citizens.
From Nurpur Shahan, Bari Imam went to Ghaur Ghashti (now known as Attock) where he stayed for two years for learning fiqh, hadith, logic, mathematics, medicine and other disciplines, because at that time Ghaur Ghashti was a great seat of learning.
To get spiritual knowledge and satiate his love for Islam, Bari Imam visited many places, including Kashmir, Badakhshan, Bukhara, Mashhad, Baghdad and Damascus. He not only received spiritual knowledge in these places but also held discussions with scholars belonging to different schools of thought on various subjects. Later, he went to Saudi Arabia to perform Hajj.
Bari Imam received spiritual knowledge from Hayat-al-Mir (Zinda Pir). His Pir (Sufi Mentor) gave him the title of Bari Imam (The leader of the earth). Bari Imam converted thousands of Hindus into Muslims through the teachings of Islam at Nurpur Shahan. It is stated that once Mughal Emperor Aurangzeb Alamgir himself came there to pay respects to Bari Imam.
The Shrine
Mughal Emperor Aurangzeb, who was devoted to spreading his empire, originally built the silver-mirrored shrine of Bari Imam. It has been renovated since and is now maintained by the Government of Pakistan. Inside the mausoleum, where the great saint rests, only men are permitted, a steady stream of worshippers enter and exit, most bending to kiss and strew rose petals on the green cloth covering the grave of Bari Imam.
Every year at the Urs (Birth celebration) of the saint, who spread Islam in this part of the world, gains momentum; devotees in their thousands set out for the Margalla foothills and gather at Nurpur Shahan to pay their respect. Although many swarm the shrine all year round, only last year the number exceeded a head count of 1.2 million people.
Terrorist Act
In May 2005, the peaceful village of Noorpur Shahan, hosting the death anniversary (Urs) of Bari Imam was rocked by a vicious terrorist act that left 20 people dead and almost 70 injured.[1]






