روس پرکورونا وائرس کی ویکسین کی تحقیق چرانے کا الزام

امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا نے روس پر کورونا وائرس کی ویکسین سے متعلق تحقیقاتی مواد چرانے کی کوشش کا الزام لگایا ہے۔ خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ویکسین کے حوالے سے مثبت پیش رفت سامنے آئی تھی جب آکسفورڈ یونیورسٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی تیار کردہ ویکسین کورونا کے خلاف درست مدافعتی ردعمل حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے، جو کورونا سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو گی۔ اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی برطانوی نیشنل سائبر سکیورٹی سنٹر نے کہا کہ ’اے پی ٹی 29‘ نامی ہیکنگ گروہ نے برطانوی لیبارٹری کو جاسوسی کا ہدف بنایا ہے جو کورونا وائرس پر تحقیق کر رہی تھی۔ سائبر سکیورٹی سنٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ہیکنگ گروپ کا مقصد قیمتی انٹلیکچوئل پراپرٹی چوری کرنا تھا۔

سنٹر کا کہنا تھا کہ انہیں 95 فیصد سے زیادہ یقین ہے کہ ہیکنگ گروہ روسی خفیہ ایجنسی کا حصہ ہے جس کا مقصد کورونا کی ویکسین سے متعلق تحقیق پر معلومات جمع کرنا تھا۔ امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ نے مشترکہ سکیورٹی ایڈوائزری میں روس کو ہیکنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ موسکو نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہیکنگ کی کوششوں سے روس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یاد رہے کہ دو روز قبل روس کی وزارت دفاع نے کورونا وائرس کی ’محفوظ‘ ویکسین کلینکل ٹرائلز کے بعد تیار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اے ایف پی کے مطابق روسی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ کورونا وائرس سے متعلق ویکسین کے تحقیقاتی تجربے میں 18 رضا کاروں نے حصہ لیا تھا جو بغیر کسی پیچیدگیوں کے ڈسچارج کر دیے گئے تھے۔

وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ ’رضاکاروں میں سے کسی پر بھی ویکسین کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے، نہ صحت کے حوالے سے کوئی شکایت آئی، اور نہ ہی کوئی اور پیچیدگی سامنے آئی ہے۔’ وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ کلینیکل ٹرائلز پر مبنی نتائج کی وجہ سے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ویکسین مریضوں کے استعمال کے لیے محفوظ ہے۔ عالمی وبا سے اب تک دنیا بھر میں 5 لاکھ 88 ہزار افراد ہلاک جبکہ ایک کروڑ سے زیادہ متاثر ہو چکے ہیں۔ گزشتہ سال دسمبر میں پھوٹنے والی اس وبا سے عالمی معیشت کو بے حد نقصان پہنچا ہے۔ وائرس کے پھیلاؤ کے باعث پیدا ہونے والی مشکل صورتحال کا حل صرف ویکسین کی تیاری پر ہی منحصر ہے۔

بشکریہ اردو نیوز

پچیس سال پہلے آٹھ ہزار بوسنیائی مسلمانوں کو کیسے قتل کیا گیا ؟

’وہ تمام لوگ جو جانا چاہتے ہیں، انھیں منتقل کیا جائے گا۔ نوجوان ہوں یا بوڑھے۔ خوفزدہ نہ ہوں۔ آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔‘ 11 جولائی سنہ 1995 کو بوسنیائی سرب فوجیوں نے بوسنیا ہرزیگووینا میں سربرینیکا کے قصبے پر قبضہ کر لیا۔ دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں ان کی فورسز نے منظم انداز میں 8000 سے زائد بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کر ڈالا۔ یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے یورپ کی سرزمین پر بدترین اجتماعی قتل و غارت تھی۔ بوسنیائی سرب یونٹس کے کمانڈر راتکو ملادچ کے فوجی قتلِ عام شروع کر رہے تھے جبکہ وہ خود خوفزدہ شہریوں کو بے خوف رہنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ یہ سلسلہ 10 دنوں تک جاری رہا ۔   ہلکے اسلحے سے لیس اقوامِ متحدہ کے امن فوجیوں نے اقوامِ متحدہ کی جانب سے ’پناہ گاہ‘ قرار دیے گئے اس علاقے میں اپنے اردگرد جاری تشدد کو روکنے کے لیے کچھ نہ کیا۔

اقوامِ متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے بعد میں کہا: ’سربرینیکا کا سانحہ ہمیشہ اقوامِ متحدہ کی تاریخ کے لیے ایک بھیانک خواب بنا رہے گا۔‘ یہ قتلِ عام بوسنیائی جنگ کے دوران بوسنیائی سرب فورسز کے ہاتھوں مسلمانوں کی نسل کشی کا ایک حصہ تھا۔ بوسنیائی جنگ سنہ 1990 کی دہائی میں یوگوسلاویہ کے بکھرنے کے دوران ہونے والے کئی مسلح تنازعات میں سے ایک تھی۔ اس وقت سوشلسٹ ریپبلک آف بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کہلانے والی یہ ریاست یوگو سلاویہ کا حصہ تھی اور یہاں کئی اقوام آباد تھیں جن میں بوسنیائی مسلمان، قدامت پسند سرب اور کیتھولک کروٹ افراد شامل تھے۔ بعد میں بوسنیا ہرزیگووینا نے سنہ 1992 میں ایک ریفرینڈم کے ذریعے اپنی آزادی کا اعلان کر دیا اور اسے کچھ ہی عرصے بعد امریکی اور یورپی حکومتوں نے تسلیم کر لیا۔

مگر بوسنیائی سرب آبادی نے ریفرینڈم کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ اس کے بعد جلد ہی سربیا کی حکومت کی حمایت یافتہ بوسنیائی سرب فورسز نے نئے تخلیق شدہ اس ملک پر حملہ کر دیا۔ انھوں نے اس علاقے سے بوسنیائی لوگوں کو نکالنا شروع کر دیا تاکہ ’گریٹر سربیا‘ بنایا جا سکے۔ یہ پالیسی نسلی کشی کے مترادف تھی۔ بوسنیائی لوگ اکثریتی طور پر مسلمان ہوتے ہیں اور یہ بوسنیائی سلاو نسل سے تعلق رکھتے ہیں جنھوں نے قرونِ وسطیٰ کے دور میں عثمانی ترک حکمرانی کے عرصے میں اسلام قبول کیا تھا۔ بوسنیائی سرب فوجیوں نے 1992 میں سربرینیکا پر قبضہ کر لیا تھا مگر فوراً بعد ہی اسے بوسنیائی فوج نے دوبارہ حاصل کر لیا۔ فریقوں کے درمیان جھڑپوں کے ساتھ شہر محاصرے میں چلا گیا۔

اپریل 1993 میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس علاقے کو ’کسی بھی مسلح حملے یا کسی دیگر دشمنانہ کارروائی سے محفوظ علاقہ‘ قرار دے دیا۔ مگر محاصرہ جاری رہا۔ شہریوں اور اقوامِ متحدہ کے امن فوجیوں کے طور پر کام کر رہے ڈچ فوجیوں کی چھوٹی سی فورس کے لیے رسد ختم ہونی شروع ہو گئی۔ بوسنیائی رہائشی بھوک سے مرنے لگے۔ چھ جولائی سنہ 1995 کو بوسنیا کی سرب فورسز نے سریبرینیکا پر شدومد کے ساتھ حملہ کیا۔ اقوام متحدہ کی افواج نے ہتھیار ڈال دیے یا پھر شہر میں پیچھے ہٹ گئی اور جب نیٹو کی افواج کو فضائی حملے کے لیے بلایا گیا تو اس نے سرب فورسز کی پیش رفت کو روکنے میں کوئی مدد نہیں کی۔

یہ انکلیو پانچ دنوں میں ہی ان کے قبضے میں آ گیا۔ جنرل ملادچ دوسرے جرنیلوں کے ساتھ شہر میں فاتحانہ انداز میں داخل ہوئے اور گشت کیا۔ تقریبا 20 ہزار مہاجرین اقوام متحدہ کے مرکزی ڈچ کیمپ کی جانب فرار ہو گئے۔ اس کے دوسرے دن ہی قتل و غارت گری کا آغاز ہو گیا۔ جب مسلمان پناہ گزینوں نے شہر چھوڑنے کے لیے بسوں پر سوار ہوئے تو بوسنیا کی سرب فورسز نے مردوں اور لڑکوں کو بھیڑ سے علیحدہ کیا اور انھیں وہاں سے دور لے گئے تاکہ انھیں گولی مار کر ہلاک کر دیں۔ ہزاروں افراد کو پھانسی دے دی گئی اور پھر بلڈوزروں کے ذریعہ ان کی لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دھکیل دیا گیا۔ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ بعض افراد کو تو زندہ ہی دفن کر دیا گیا تھا جبکہ کچھ بڑے بوڑھوں کو اپنے بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مارے جاتے ہوئے دیکھنا پڑا تھا۔ اس دوران خواتین اور لڑکیوں کو نقل مکانی کرنے والوں کی قطار سے نکال کر لے جایا گیا۔ شاہدین کا کہنا ہے کہ سڑکیں لاشوں سے پٹی پڑی تھیں۔

کم سازوسامان والے ڈچ فوجی سرب فوجیوں کی جارحیت دیکھتے رہے اور انھوں نے کچھ نہیں کیا یہاں تک کہ ان کے کیمپ میں پناہ گزین پانچ ہزار مسلمانوں کو ان کے حوالے کر دیا گیا۔ دی ہیگ میں واقعات کی تفتیش کرنے والے اقوام متحدہ کے ایک ٹریبونل نے بعد میں اس قتل و غارت گری میں ڈھیر ساری منصوبہ بندی کی بات کی۔ ایک بوسنیائی سرب کے ایک کمانڈر کے خلاف فیصلے میں کہا گیا کہ ‘فوجی عمر کے تمام مسلمان مردوں کو گرفتار کرنے کے لیے متحدہ طور پر کوشش کی گئی تھی۔’ خواتین اور بچوں کو لے جانے والی بسوں میں باقاعدگی سے مردوں کی تلاشی کی گئی اور تلاش کرنے والے فوجی اکثر ایسے جوان لڑکوں اور بوڑھے مرد کو بھی لے جاتے تھے جو فوج میں خدمات انجام دینے کے اہل نہیں ہوتے تھے۔

اس قتل عام کے اثرات آج بھی ارتعاش پیدا کرتے ہیں۔ نسل کشی کے 25 سال بعد آج بھی متاثرین کی لاشیں اور اجتماعی قبریں ملتی ہیں۔ سنہ 2002 کی ایک رپورٹ میں نیدرلینڈز کی حکومت اور فوجی عہدیداروں پر ان ہلاکتوں کو روکنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس رپورٹ کے پیش نظر پوری حکومت نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ سنہ 2019 میں ملک کی عدالت عظمی نے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں نیدرلینڈ کو سریبرینیکا میں 350 افراد کی اموات کے لیے جزوی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ سنہ 2017 میں ہیگ میں اقوام متحدہ کے ایک ٹربیونل نے ملادچ کو نسل کشی اور دیگر مظالم کا مرتکب قرار دیا۔ کمانڈر ملادچ سنہ 1995 میں جنگ کے خاتمے کے بعد روپوش ہوگئے تھے اور سنہ 2011 میں شمالی سربیا میں اپنے کزن کے گھر میں ملنے سے پہلے کہیں نظر نہیں آئے تھے۔ سربیا نے جنگ کے خاتمے کے بعد وہاں رونما ہونے والے جرائم پر معذرت کر لی ہے لیکن پھر بھی اس نے اسے نسل کشی ماننے سے انکار کیا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

یورپ میں 57 ہزار اموات نرسنگ ہومز میں ہوئیں، عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ یورپ میں کرونا وائرس سے نصف اموات نرسنگ ہومز اور ان جیسے طویل مدت تک دیکھ بھال کرنے والے مراکز میں ہو رہی ہیں۔ اس کی سنگینی یہ جان کر بڑھ جاتی ہے کہ اس وبا سے یورپ میں اب تک ایک لاکھ 14 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس بیان کا مقصد صحت عامہ کے ماہرین کی توجہ وائرس کے آسان شکار بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد کی طرف دلانا ہے۔ اب تک حکومتوں اور ماہرین صحت کی تمام تر توجہ اسپتالوں کی طرف رہی ہے۔ اکثر اموات کے اعداد و شمار صرف اسپتالوں میں مرنے والوں کی تعداد پر مشتمل ہوتے ہیں۔

یورپ میں ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ہانز کلوگ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معمر افراد کے مراکز کی انتہائی پریشان کن تصویر سامنے آ رہی ہے۔ یورپی ملکوں کے اپنے اندازوں کے مطابق، نصف اموات نرسنگ ہومز جیسے مقامات پر ہو رہی ہیں۔ یہ ناقابل تصور انسانی المیہ ہے۔ ہانز کلوگ کا انتباہ یورپ سے متعلق ہے، لیکن امریکہ میں بھی معمر افراد کے مراکز کی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے کہا ہے کہ اس کے محتاط اندازے کے مطابق، امریکہ کے ہر دس میں سے ایک مرکز نے کرونا وائرس کا کیس رپورٹ کیا ہے اور ان میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق۔ یہ تعداد کم از کم سات ہزار ہے۔

ریاست نیویارک میں کرونا وائرس سے ایک چوتھائی اموات نرسنگ ہومز ہی میں ہوئی ہیں۔ ان مراکز کو ریفریجریٹر ٹرکس منگوانے پڑے جہاں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں رکھنا پڑیں، کیونکہ مردہ خانوں یا فیونرل ہومز میں جگہ نہیں تھی۔ ریاست نیوجرسی نے 425 نرسنگ ہومز کی فہرست جاری تھی جن میں کرونا وائرس کے کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ریاست میں ہوئی 4377 اموات میں سے 1779 ان مراکز میں ہوئیں۔ ان میں سے ایک مرکز انڈوور میں ہے جہاں 70 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور سوا چار سو رہائشی یا عملے کے ارکان بیمار پڑے ہیں۔

ایک ہفتہ پہلے نامعلوم شخص کی مخبری پر پولیس نے وہاں چھاپا مارا تو ایک کمرے سے 17 لاشیں ملیں جنھیں باڈی بیگز میں بند کر کے وہاں رکھا گیا تھا۔ اس سے پہلے ورجینیا کے شہر رچمنڈ سے خبر ملی تھی کہ اس کے ایک کینٹربری نرسنگ ہوم کے 160 میں سے 45 رہائشی کرونا وائرس کا شکار ہو کر چل بسے۔ امریکہ میں کرونا وائرس ریاست واشنگٹن سے پھیلنا شروع ہوا تھا اور کرک لینڈ کا ‘لائف کئیر نرسنگ ہوم’ اس کا پہلا نشانہ تھا۔ وہاں 43 اموات ہو چکی تھیں ۔  یورپ اور امریکہ کے نرسنگ ہومز نے ان مراکز میں مقیم افراد کو کرونا وائرس سے بچانے کے لیے رشتے داروں کا داخلہ بند کیا ہوا ہے۔ لیکن، اس کا نتیجہ یہ برآمد ہو رہا ہے کہ وہ تنہائی میں انتقال کر رہے ہیں۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

مغرب میں اسلام کا بڑھتا خوف، وجوہات کیا ہیں

مغرب میں اسلام کا خوف اور اس کے بارے میں غلط فہمیاں اور جارحانہ رویہ کوئی نئی بات نہیں۔ اسی خوف اور سوچ کی بنیادی وجہ تو صلیبی جنگیں بنیں لیکن تاریخ میں بعد میں رونما ہونے والے مختلف واقعات نے بھی اس رحجان کو تقویت دی۔ موجودہ دور میں نائن الیون کے واقعے کے بعد اس منفی سوچ میں زیادہ شدت نظر آئی ہے۔ اسلام دشمن فکر مغرب میں نہ صرف عام لوگوں کے رویوں میں ظاہر ہوتی ہے بلکہ مغربی ممالک کے ریاستی ادارے بھی اس ذہینیت کا برملا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ عوامی اور ریاستی طرز فکر مختلف مسلمان ممالک میں یا تو فوج کشی کی صورت میں دکھائی دیتا ہے یا ان میں سیاسی اور معاشی انتشار پھیلانے کی کاوشوں میں نظر آتا ہے۔

اس غیرمہذب اور جارحانہ رویے کو سمجھنے کے لیے مغربی ممالک، خصوصاً امریکہ میں اسلام کے خلاف پائے جانے والے تعصبات کے علاوہ مختلف عوامل کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم عنصر اسلام کے بارے میں تصورات خیالات کو بنا کسی دلیل کے حقیقت سمجھ لینا ہے۔ ان میں مثبت اور منفی دونوں قسم کے خیالات شامل ہوتے ہیں لیکن زیادہ تر منفی خیالات کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے پھیلا کر لوگوں کے ذہنوں میں اسلام کا ایک جھوٹا اور خوفناک چہرہ بٹھا دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ثقافتی یلغار کی جا رہی ہے جس میں بالی وڈ کی فلموں، دائیں بازو کے ٹی وی چینلز، ریڈیو، سوشل میڈیا اور سماجی رابطے یعنی خاندانوں اور احباب کے حلقوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

ان ذرائع کے ذریعے مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں تعصب پر مبنی خیالات پختہ کیے جا رہے ہیں جن میں سب سے گھناؤنا تعصب اسلام اور دہشت گردی کا رشتہ جوڑنا ہے۔ اسی قسم کا تعصب سیاہ فام امریکیوں کے بارے میں بھی کامیابی سے پیدا کیا گیا کہ وہ خطرناک لوگ ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ اس طرح کا تعصب عموماً لوگوں کے مجموعی رویے کو ان کی مثبت اقدار کے باوجود زیادہ متاثر کرتا ہے۔ غیر ملکیوں کا خوف بھی اس مہم میں مؤثر طریقے سے استعمال کیا گیا ہے۔ اسلام کے بارے میں اس خوف کو ہوا دی گئی ہے کہ غیرملکی مسلمان مغرب کی اعلیٰ ثقافت اور ان کی عظیم اقدار کو سخت نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن اس خوف کا سامنا صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ دوسرے مذاہب کے حامل مختلف تارکین وطن کو بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

امریکہ میں مختلف اوقات میں آئرش، چینی، اطالوی، میکسیکن اور جاپانیوں کو اس نسلی اور ثقافتی تعصب کا نشانہ بنایا گیا۔ موجودہ حالات میں مسلمان اور اسلام اس مہم کا خاص نشانہ ہیں۔ مغربی ممالک میں عام شہریوں کے ذہنوں میں یہ خوف پیدا کیا جا رہا ہے کہ اسلام کے پھیلنے سے ان کی ثقافت اور مذہبی اقدار کو سخت خطرہ ہے جو مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اسلام سے خوف میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں معلومات کی کمی یا لاعلمی بھی اس خوف کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق امریکیوں کی بڑی اکثریت مسلمانوں یا اسلام کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ صرف 38 فیصد امریکی کسی مسلمان سے ملے ہیں یا انہیں ذاتی طور پر جانتے ہیں۔ کم از کم 62 فیصد امریکی کسی مسلمان سے نہ ملے ہیں اور نہ ہی انہیں کبھی ان سے بات کرنے کا موقع ملا۔ اسی طرح 57 فیصد شہری اسلام کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں اور 26 فیصد کچھ بھی نہیں جانتے۔ ان اعداد و شمار میں نائن الیون اور مسلمان ملکوں سے دو جنگوں کے باوجود کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

اس کم علمی کی وجہ اسلام اور دوسرے مذاہب کے بارے میں تعلیمی اداروں یا نصاب میں معلومات کا کم ہونا ہے۔ ابھی حال ہی میں جو معلومات نصاب کا حصہ بنیں وہ عموماً ناکافی، تعصب پر مبنی اور غیرمتوازن سمجھی جاتی ہیں۔ یہ دراصل اسلام کے بارے میں مزید غلط فہمیاں پیدا کرنے کا سبب بھی بنی ہیں۔ نصاب میں شامل معلومات عموماً یہ پیغام دیتی نظر آتی ہیں کہ اسلام اور جدیدیت ایک دوسرے کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اس سے اسلام کے بارے میں خوف میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان عوامل کی وجہ سے اسلام کے بارے میں سکولوں کا نیا نصاب درحقیقت منفی کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام کے خوف اور اس کے خلاف نفرت پھیلانے کی مہم اب ایک طرح کی پوری صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس منافع بخش صنعت کو مسلمانوں کے مخالف ادارے اور افراد فراخدلی سے مالی امداد دیتے ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق صرف 2013 میں اس سلسلے میں امریکہ میں 205 ملین ڈالرز کے عطیات اسلام مخالف تحقیقی اداروں کو دیے گئے۔ یہ ادارے اپنی ساکھ بڑھانے کے لیے عموماً تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور لکھاریوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ ان اداروں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ 2010 میں ایسے اداروں کی تعداد تقریباً پانچ تھی جو 2018 میں تیزی سے بڑھتے ہوئے 114 کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اسلام کا خوف پھیلانے میں ذرائع ابلاغ کے علاوہ ہالی وڈ نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ معلومات کی تشہیر کے آلات میں اضافہ ہوا ہے جن میں تعصب کی بنیاد پر قائم ویب سائٹس، لٹریچر، سوشل میڈیا، ویڈیو گیمز، مسجدوں اور شریعہ کے خلاف مہم اور مسلمانوں کے خلاف سیاست اور پالیسیاں شامل ہو گئے ہیں۔

نائن الیون کے بعد میڈیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مواد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ کے بڑے اخباری اداروں اے بی سی اور سی بی ایس میں یہ اضافہ 80 فیصد کے قریب ہے جبکہ فاکس ٹی وی میں یہ اضافہ 60 فیصد کے قریب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح دہشت گردی کے جن واقعات میں مسلمان شامل تھے، انہیں ان واقعات سے جن میں غیر مسلمان شامل تھے، تقریباً 3.5 گنا زیادہ مشتہر کیا گیا۔ اسی طرح جب مسلمان تشدد کے واقعات میں شامل ہوں انہیں بلا تحقیق فوراً دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔ جبکہ اس سے ملتے جلتے واقعات، جن میں غیرمسلموں کا ہاتھ ہو، ان کو صرف تشدد سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اسلام کے خلاف انتہا پسند تجزیہ نگار اس مہم کو مہمیز دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان تجزیہ کاروں کو سننے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو اسلام کے بارے میں ان کی اطلاعات کو حرفِ آخر سمجھتے ہیں۔

بالی وڈ کی فلموں میں مسلمان مردوں کو اکثر بدکردار اور دہشت گرد اور مسلمان عورتوں کو کسمپرسی کی غلامانہ زندگی گزارتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔ ایک تجزیے کے مطابق تقریباً ایک ہزار فلموں اور ٹی وی شوز میں مسلمانوں کو منفی طریقے سے دکھایا گیا ہے۔ اسلام کے بارے میں معلومات میں قدرے اضافہ ہونے کے باوجود ہالی وڈ کی فلمیں ابھی بھی اس تعصب کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور بےتحاشہ ایسی فلمیں بنائی جا رہی ہیں جن میں مسلمانوں کو منفی کرداروں میں دکھایا جاتا ہے۔ ان اقدامات سے مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اسلام کے بارے میں خوف میں اضافہ بڑھتا جا رہا ہے۔ 2019 میں ایک سروے کے مطابق صرف 15 فیصد امریکی اسلام کے بارے میں پسندیدہ رویہ رکھتے ہیں جبکہ 37 فیصد اسلام کو انتہائی ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ 57 فیصد امریکی سمجھتے ہیں کہ ان کی ثقافت اور اقدار کو اسلام سے شدید خطرہ ہے۔

اس تعصب کی وجہ سے ان ممالک میں مقیم مسلمانوں کے معیار زندگی پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ وہ ایک طرح کے مسلسل خوف میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ تعصب مسلمان طالب علموں کے حصول علم اور ملازمت میں ان کے ترقی کے راستے بھی محدود کرتا ہے۔ اس تعصب کا مقابلہ کرنے کے لیے ان ممالک میں مسلمانوں کو ایک مؤثر مہم کے ذریعے ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے ایک پراثر اور حقائق پر مبنی بیانیہ تیار کرنا ہو گا جس کے ذریعے یہ پیغام دیا جا سکے کہ اسلام زندگی کے ہر میدان میں اعتدال پسندی کی تربیت دیتا ہے اور کسی حالت میں بھی دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا۔ مسلمانوں کو اندرونی گروہی اور فرقہ بندی کے اختلافات سے بالاتر اور متحد ہو کر اس کام پر جٹ جانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے جدید ذرائع ابلاغ اور ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے نوجوان نسل اور تعلیمی اداروں پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

عاقل ندیم سابق سفیر

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو