اکانوے گھنٹے بعد بچی کے زندہ بچ جانے پر صدر اردوان کا ٹوئٹ

ترکی کے شہر ازمیر میں خوفناک زلزلہ آنے کے 91 گھنٹوں بعد چار سالہ بچی کو عمارت کے ملبے سے زندہ نکال لیا گیا، بچی کی حوصلہ افزائی کرنے اور امدادی کارکنان کی ستائش کے طور پر تُرک صدر رجب طیب اردوان نے ایک ٹوئٹ بھی کیا ہے۔ اپنے ٹوئٹ میں اردوان نے اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور کئی گھنٹے ملبے تلے دبے رہنے کے باوجود ننھی بچیوں کے زندہ بچ جانے کو معجزہ قرار دیا ہے۔ اردوان کا کہنا تھا کہ ’خدائے برتر کا شکر ہے کہ جس نے معجزہ دکھاتے ہوئے ہمیں پُرامید رہنے کا ایک اور موقع دیا۔‘ انہوں نے لکھا کہ معجزانہ طور پر بچ جانے والی بچی نے امدادی کارکنان کے حوصلے بلند کئے ہیں۔

خیال رہے کہ ازمیر میں 91 گھنٹوں تک عمارت کے ملبے میں دبی چار سالہ بچی آئیدا معجزانہ طور پر زندہ رہی۔ ازمیر کے میئر کا کہنا ہے کہ ہم نے 91 گھنٹوں میں ایک معجزہ دیکھا ہے۔ خیال رہے کہ ترکی میں ایجین ساحل اور یونان کے شمالی جزیرے سیموس میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق ترکی کے مغربی صوبے ازمیر کے ساحل سے سترہ کلو میٹر دور یہ زلزلہ آیا جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7 ریکارڈ کی گئی ہے۔ ترک حکام نے زلزے کی شدت 6.6 بتائی ہے اور ترکی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ازمیر میں اب تک 26 افراد ہلاک جبکہ 800 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زلزلے کے جھٹکے بلغاریہ، یونان، برطانیہ، مصر اور لیبیا میں بھی محسوس کیے گئے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

موجودہ سیاسی صورتحال میں مذاکرات ناگزیر کیوں ہیں؟

پاکستان اس وقت تیزی سے بدلتی سیاسی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے سبب ملک میں عدم استحکام کے بڑھنے کا خدشہ ہے، اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے بہت خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ اس سیاسی صورتحال کے کم از کم 5 پہلو ایسے ہیں جو ایک ایسے وقت میں مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی پیدا کر رہے ہیں جب ملک کو اندرونی اور بیرونی چلینجز کا سامنا ہے۔ ان تمام پہلوؤں کے مابین تعلق نے صورتحال کو مزید مخدوش بنا دیا ہے۔  پہلا پہلو تو یہ ہے کہ حکومت اور حزبِ اختلاف میں جاری کشیدگی اور لفظی جنگ کے ختم ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔ ایک دوسرے پر لگائے جانے والے الزامات سیاسی ماحول کو مزید آلودہ کر رہے ہیں۔ پریس کانفرنسوں میں اپنے سیاسی مخالفین پر گھناؤنے الزامات لگائے جا رہے ہیں اور پارلیمانی کارروائی کے دوران ایک دوسرے کو غدار کہنے اور جارحانہ حرکات کا ارتکاب کیا جارہا ہے۔

دوسرا پہلو
دوسرا پہلو یہ ہے کہ حکومتی طرزِ عمل نے حزبِ اختلاف کے اتحاد کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں شامل 11 جماعتیں وسیع عوامی نمائندگی کے ساتھ حکومت کے خلاف صف آرا ہیں، یعنی اب صورتحال عمران خان بمقابلہ دیگر تمام کی ہو گئی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کا سیاسی چیلنج اس لیے کمزور ہو رہا ہے کیونکہ حزبِ اختلاف سے تنازع میں اس کے اتحادی خاموش ہیں اور وہ خاطر خواہ حمایت نہیں کر رہے۔

تیسرا پہلو
حالات کا تیسرا اور نسبتاً دوسرے پہلو سے قریب ترین پہلو یہ ہے کہ ملکی سیاست دو انتہاؤں میں تقسیم ہو گئی ہے اور اس میں سے اعتدال کا عنصر ختم ہو گیا ہے۔ سیاسی مخالفین کے درمیان اعتماد کا فقدان اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ قومی ضرورت اور مشترکہ مفاد کے حامل معاملات پر بھی آپس میں بہت کم ہی تعاون کیا جاتا ہے۔

چوتھی بات
چوتھی بات یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی اس تمام معاملے سے دُور رہنے کی خواہش کے باوجود اسے اس سیاسی کھیل میں گھسیٹا جا رہا ہے۔ حزبِ اختلاف کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ وہ سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی دخل اندازی کو بڑھا چڑھا کر بیان کرے۔ دوسری طرف حکومت بھی خود کو فوج کی حمایت حاصل ہونے کے دعوے کر کے غیر ارادی طور پر حزبِ اختلاف کا ہی کام کر رہی ہے۔ حکومت کے اس عمل سے اسٹیبلشمنٹ سیاسی رسہ کشی اور میڈیا میں ہونے والے مباحث کا مرکز بن گئی ہے۔

پانچواں پہلو
موجودہ سیاسی صورتحال کا پانچواں اور سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیاسی درجہ حرارت کی وجہ سے ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے توجہ ہٹ رہی ہے۔ سیاسی عدم استحکام معاشی ترقی کا سب سے بڑا دشمن ہوتا ہے اور خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی کورونا کی وجہ سے معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ جب مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کر دیا ہے، ایسی صورتحال میں حکومت کی توجہ عوام کو درپیش مسائل کے حل کے بجائے سیاسی رسہ کشی پر ہو تو حکومت پر سے عوام کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ ان پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد ہمارے سامنے ایک ایسی صورتحال سامنے آتی ہے جو مستقبل میں سب کے قابو سے باہر نکل سکتی ہے، اور جو کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہو گی۔

مذکورہ پہلوؤں نے پہلے ہی حالات کو سب کے لیے ناقابلِ برادشت بنا دیا ہے۔ آخر ایک ایسی حکومت کس طرح حزبِ اختلاف سے کسی قسم کی مفاہمت کو خارج از امکان قرار دے سکتی ہے جس کے پاس نہ ہی پارلیمان میں واضح اکثریت ہو اور نہ ہی اس کے پاس ایک اہم صوبے کا کنٹرول ہو؟ آخر حزبِ اختلاف اپنی تحریک کو کتنا عرصہ جاری رکھ سکتی ہے؟ کتنے عرصے تک حکومت اور اپوزیشن عوامی حمایت کھوئے بغیر عوامی مسائل کو نظر انداز کر سکتے ہیں؟ اور آخر کب تک اسٹیبلشمنٹ خود کو اس سیاسی کھیل سے دُور رکھنے کا بہانہ کر سکتی ہے جس میں اسے باربار گھسیٹا جا رہا ہے۔ ان سوالات سے 3 ممکنہ منظرنامے تشکیل پارہے ہیں۔

پہلا منظرنامہ
پہلا تو یہ کہ حالات میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہو۔ سیاسی کشیدگی، تصادم، پارلیمان کی کارروائی میں رکاوٹوں اور الفاظ کی جنگ ایسے ہی جاری رہے۔ ایسے میں اگر پی ڈی ایم نے واقعی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی دھمکی پر عمل کر لیا تو ملک سیاسی بحران اور عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ اس منظرنامے میں دیکھا جائے تو سیاسی جماعتوں کی توجہ معاشی اور سیکیورٹی صورتحال سے ہٹ جائے گی۔ یہ دونوں معاملات ہی اپنے حل کے لیے قومی اتحاد کے متقاضی ہیں اور ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی دُوریاں اس راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس منظر کے آخر میں ملک ایک بحران سے نکل کر دوسرے بحران کا شکار ہوتا ہوا نظر آتا ہے، اور اس دوران ملک کو درپیش مسائل حل ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے۔

دوسرا منظرنامہ
دوسرے منظرنامے میں حکومت اپوزیشن پر قابو پانے کے لیے پابندیوں کا سہارا لیتی نظر آتی ہے اور اس ضمن میں میڈیا پر بھی مزید غیر اعلانیہ پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی تنازعات میں گھرے ہوئے احتساب کے عمل میں تیزی آسکتی ہے۔ لیکن اس قسم کے جابرانہ اقدامات کا ہونا مشکل نظر آتا ہے کیونکہ ایک جمہوری حکومت کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ ویسے بھی اگر ہم پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کی پابندیوں سے ملک مزید سیاسی انتشار کا شکار ہوا ہے۔

تیسرا منظرنامہ
تیسرا منظر نامہ یہ تشکیل پاتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں سیاسی نظام کو لاحق خطرات کے پیش نظر اپنے مابین جاری کشیدگی کو کم کریں اور مذاکرات کی میز پر اپنے اختلافات کو حل کر لیں۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر اسٹیبلشمنٹ بھی اپنا کردار ادا کرے۔ سیاستدانوں کے مابین جاری چپقلش کو دیکھتے ہوئے شاید یہ سمجھنا خوش گمانی ہی ہو گی کہ وہ کسی قومی معاہدے پر تیار ہوں گے۔ بہرحال مستقبل کے لیے اصول اور ضابطوں کا تعین ہو سکتا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ ساتھ ہی ملک کو درپیش دفاعی اور معاشی چیلنجز کے حل کے لیے بھی اتفاق رائے ہونا چاہیے اور اسے تمام اداروں کی حمایت بھی حاصل ہونی چاہیے۔ پہلے اور دوسرے منظرنامے میں ملک کی سالمیت اور اتحاد کو درپیش خطرات کی وجہ سے حکومت اور حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ بامقصد مذاکرات پر سنجیدگی سے غور کریں۔ ظاہر ہے کہ یہ قدم حکومت کی طرف سے اٹھایا جانا چاہیے کیونکہ حزبِ اختلاف کے اکثر رہنما پہلے ہی مثبت رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان مذاکرات میں ایک باعمل سیاسی نظام اور مستقبل کے چیلنجز کو دیکھتے ہوئے ایک مؤثر قومی لائحہ عمل بھی ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ وہ کم از کم امید ہے جو پاکستان کے عوام اپنے سیاستدانوں سے رکھتے ہیں۔

ملیحہ لودھی
یہ مضمون 2 نومبر 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

رابرٹ فسک : ایک نڈر اور بے باک صحافی کی داستان

برطانوی میڈیا پلیٹ فارم ’دی انڈپینڈنٹ‘ کے مشرق وسطیٰ میں معروف نامہ نگار اور اپنے دور کے سب سے مشہور صحافی رابرٹ فسک علالت کے بعد چل بسے۔ ان کی عمر 74 برس تھی۔ فسک حکومتوں کے سرکاری بیانیے پر سوال اٹھانے اور جس چیز سے وہ پردہ اٹھاتے تھے اسے شاندار انداز میں تحریر کرنے کے سبب سے مشہور تھے۔ وہ 1989 میں ’دا ٹائمز‘ کو چھوڑ کر ’دی انڈپینڈنٹ‘ کے ساتھ وابستہ ہو گئے اور تیزی سے اس کے سب سے زیادہ معروف اور ایسے مصنف بن گئے جن کی ان کے نام کے ساتھ سٹوریز کو سب سے زیادہ سرچ کیا جاتا تھا۔ وہ ڈبلن میں اپنی موت تک ’دی انڈپینڈنٹ‘ کے لیے لکھتے رہے۔ گذشتہ ہفتے تک ’دی انڈپینڈنٹ کے ایڈیٹر رہنے والے اور اب مینیجنگ ایڈیٹر کرسچیئن بروٹن نے کہا: ’نڈر، سمجھوتہ نہ کرنے والے، ثابت قدم اور ہر قیمت پر سچائی اور حقیقت کو سامنے لانے میں انتہائی پرعزم رابرٹ فسک اپنی نسل کے عظیم ترین صحافی تھے۔ انہوں نے ’دی انڈپینڈنٹ‘ میں جو آگ روشن کی وہ جلتی رہے گی۔‘

فسک نے جو کچھ لکھا اس کا زیادہ تر حصہ متنازع تھا۔ ایسا لگتا ہے انہیں اس بات سے لطف آتا تھا۔ 2003 میں جب امریکہ اور برطانیہ نے عراق پر حملے کی تیاری کی تو فسک نیو یارک میں اقوام متحدہ کے دفتر میں گئے جہاں انہوں نے دیکھا کہ اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے جنگ کے لیے غیر متاثر کن کیس تیار کر رکھا تھا۔ انہوں نے لکھا: ’جب جنرل کولن پاول سلامتی کونسل پہنچے اور نمائندوں کے گال چومے اور اپنے بڑے بازو کے ارگرد پھیلائے تو اس وقت کھیل کا آغاز بہت خوفناک تھا۔ جیک سٹرا ان کے بڑے سے امریکی معانقے کے لیے خاصے موزوں تھے۔‘ فسک کینٹ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے لنکاسٹر یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور فلیٹ سٹریٹ میں واقع اخبار ’سنڈے ایکسپریس‘ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ انہوں نے ’دا ٹائمز‘ کے لیے کام کرنا جاری رکھا جہاں وہ شمالی آئرلینڈ، پرتگال اور مشرق وسطیٰ میں مقیم رہے۔

انہوں نے لبنان کے شہر بیروت میں کئی دہائیاں گزاریں۔ وہ ساحلی علاقے میں شہر کی معروف سڑک پر واقع اپارٹمنٹ میں مقیم رہے۔ انہوں نے ایسے وقت میں جب لبنان میں کام کیا جب قوم خانہ جنگی کا شکار ہو کر منقسم تھی اور بہت سے صحافیوں کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ فسک نے کئی ایوارڈ حاصل کیے جن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور برٹش پریس ایوارڈز شامل ہیں۔ انہوں نے متعدد کتابیں جن میں ’پٹی دا نیشن: لبنان ایٹ وار‘ اور ’دا گریٹ وار فار سویلائزیشن‘ اور ’دا کنکوئسٹ آف دا مڈل ایسٹ‘ سب سے زیادہ قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے ٹرینیٹی کالج سے ڈاکٹریٹ مکمل کی اور کاؤنٹی ڈبلن کے علاقے ڈالکی میں گھر کے مالک تھے۔ انہوں نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کا دو مرتبہ انٹرویو کیا۔ نائن الیون کے حملوں اور ان کے نتیجے میں عراق پر امریکہ اور برطانیہ کے حملے کے بعد انہوں نے پاکستان افغانستان سرحد کا سفر کیا جہاں ان پر افغان مہاجرین کے ایک گروپ نے حملہ کر دیا جو مغربی طاقتوں کے ہاتھوں اپنے ہم وطنوں کی ہلاکت پر غصے میں تھے۔ انہوں نے اس واقعے کو صفحہ اول پر شائع ہونے والی مشہور رپورٹ بنا دیا جو ان کے زخمی چہرے کی تصویر کے ساتھ مکمل تھی۔

انہوں نے لکھا: ’مجھے احساس ہوا کہ وہ سب افغان مرد اور لڑکے تھے جنہوں نے مجھ پر حملہ کی۔ وہ ایسا کبھی نہ کرتے لیکن ان کا وحشی پن مکمل طور پر دوسروں، ہماری وجہ سے تھا۔ ہم جنہوں نے ان روسیوں کے خلاف ان کی جدوجہد کو مسلح کر دیا تھا اور ان کے درد کو نظرانداز کرکے ان کی خانہ جنگی پر قہقہہ لگایا اور اس کے بعد صرف چند میل کے فاصلے پر ’وار فار سویلائزیشن‘ کے لیے انہیں پھر رقم دی اور اس کے بعد ان کے گھروں پر بمباری کی اور ان کے خاندانوں کو منتشر کر دیا اور انہیں ’اضافی نقصان‘ قرار دیا۔‘ فسک جنہوں نے آئرلینڈ کی شہریت حاصل کر لی تھی ان کی آئرش صدر مائیکل ڈی ہگنز نے بھی تعریف کی ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں لکھا: ’مجھے رابرٹ فسک کی موت کے بارے میں جان کر بہت دکھ ہوا۔ ان کی موت سے صحافت اور مشرق وسطیٰ پر معلوماتی تبصرے کی دنیا بہترین تبصرہ کرنے والے افراد میں سے ایک سے محروم ہو گئی ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’صرف آئرلینڈ کے لوگ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں نسلیں دنیا کے جنگ زدہ علاقوں میں ہونے والے واقعات اور مزید اہم یہ کہ وہ اثرورسوخ جو شائد اس جنگ کا سبب تھے، ان پر ان کے تنقیدی اور معلوماتی نکتہ نظر کے لیے انحصار کرتی تھیں۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

بائیڈن جیتے یا ٹرمپ، ہمیں اس سے کیا؟

ہمارے ہاں جمہوریت ہر دوسرے دن، ہر دوسری بات پر خطرے میں رہتی ہے۔ کتابی معنوں میں عوام کی حکومت عوام کے لیے، عوام کے ذریعے ہی ہوتی ہے مگر یہاں یہ معنی کسی اور مطلب میں ڈھل جاتے ہیں۔ جمہور کے سٹیج پر جاری پُتلی تماشہ اور اقتدار کے نام پر مزید اختیار کی دوڑ کو شاید جمہوریت ہی کہا جاتا ہو تاہم انتخابات کے نام پر ووٹ چُرانے کے الزامات نے عوام کی رائے کو ہمیشہ مشکوک بنایا ہے۔ جمہوریت کے نام پر جو نظام ہمارے ہاں رائج ہے اس میں شخصی آزادی، سویلین اور پارلیمانی بالادستی جیسے نعرے فقط دل لبھانے کے لیے ہی ہیں ورنہ ’جمہوریت‘ اصل میں کس چڑیا کا نام ہے کم از کم عوام اس سے آگاہ نہیں ہیں۔ جمہوریت کا صحیح مطلب اور ماخذ ہمارے ہاں صرف ’وہ‘ سمجھتے ہیں۔ جہاں جسے جب چاہا لگا دیا جب چاہا ہٹا دیا۔۔۔ جب چاہا تحریر و تقریر کی آزادی دی جب چاہا چھین لی۔

جب چاہا انقلاب کے نعرے لگوائے، جب چاہا احتساب کو ہتھیار بنایا، کم و بیش بہتر سال سے جمہوریت کی بس یہی کہانی ہے۔ جناب! اسی کو تو جمہوریت کہتے ہیں، انقلاب کا ہر راستہ براستہ راولپنڈی، تبدیلی کا ہر ماحول پوٹھوہار اور دو آمریتوں کے درمیان سانس لیتی ہلکی پھلکی جمہوریت بھی ’اُنھی‘ کی مرہون منت ہے۔  خیر اپنی جمہوریت کا نوحہ کیا پڑھنا۔ امریکہ جیسے ملک میں جمہوریت مشکلات کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔ جہاں اس وقت بحث اس طور آگے بڑھ رہی ہے کہ ان انتخابات کے بعد جمہوریت کی اصل صورتحال کیا ہو گی۔ یہ خدشات اس وقت پیدا ہوئے ہیں جب صدر ٹرمپ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر شدید تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں اور ہارنے کی صورت میں نتائج تسلیم نہ کرنے کا اشارہ دے چکے ہیں۔ دوسری جانب شکست کی صورت میں ڈیموکریٹس کی جانب سے شدید احتجاج کا خطرہ لاحق ہے۔

امریکہ میں تجزیہ نگاروں اور جرائد کی بڑی تعداد ان شُبہات کا اظہار کر رہی ہے کہ ایسی صورت میں امریکہ بیرون ملک متنازع جمہوریتوں جیسی صورتحال سے دوچار ہو سکتا ہے۔ فنانشل ٹائمز جیسے جریدے نے اپنے خدشات اور تحفظات کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے کہ عراق اور مصر میں جمہوریت کی ناکامی محض اُن ممالک کا قومی بحران ہے لیکن امریکہ میں ایسی صورتحال عالمی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ امریکہ میں انتخابات کا اس بار موضوع کووڈ 19، صحت عامہ، ماحولیاتی آلودگی اور سفید فام نسل پرستی کا رجحان ہے۔ معاشرے میں کھلے عام ان سب موضوعات پر بحث ہو رہی ہے۔ اختلاف رائے موجود ہے اور کہیں کہیں روس نوازی کی صورت غداری کے الزامات بھی سُنائی دے رہے ہیں۔ کون جیتتا ہے اور کون ہارتا ہے اس کا فیصلہ دس امریکی سوئنگ ریاستیں کرتی ہیں یا ڈاک سے ملنے والے ووٹ۔۔۔ فیصلہ بہرحال عوام کا ہی ہو گا۔

امریکہ کے حالیہ انتخابات کے نتائج پاکستان کے لیے کتنے اہم ہیں؟ دوست احباب گاہے گاہے اس بارے میں پریشانی کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہمیں اس سے کیا لینا دینا کہ ٹرمپ کامیابی کے جھنڈے گاڑتا ہے یا جو بائیڈن۔ امریکی عوام کووڈ 19 کے حوالے سے کس کے بارے میں اچھی رائے رکھتے اور کس بارے نہیں، ہمیں تو افغانستان میں امن کے نتائج دینے ہیں تاکہ امریکی افواج یہاں سے سرخرو لوٹیں۔ ایک طرف چین کی قربت اور دوسری جانب انڈیا کا پاکستان سے عناد، ایران سعودی عرب کا جھگڑا اور سب سے اہم پاکستان کے ذریعے دنیا کے لیے دروازے کھولتی راہداری اور اُن سب سے بڑھ کر امریکہ کے خطے میں مفادات۔ ہمیں آنے والے دنوں میں اسی تناظر میں لیا جائے گا۔ وہی ہو گا جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے، یعنی ڈو مور کے مطالبے۔ بائیڈن آئے یا ٹرمپ ہمیں اس سے کیا۔

عاصمہ شیرازی

بشکریہ بی بی سی اردو