یورپی یونین نے اگر طاقت کے زور پر مہاجرین کو سرحدوں پر روکے رکھا تو یہ نہ صرف عالمی قوانین کے منافی ہو گا بلکہ اس سے یورپ کی بے حسی بھی بے نقاب ہوگی۔ برنڈ ریگرٹ کا کالم
یورپی یونین نے ترکی کے ساتھ مارچ 2016 ء میں ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت ترکی نے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے یورپ میں داخلے کو روکنے کا ذمہ لیا۔ اس کے عوض یورپی یونین نے ترکی کو ایک کثیر رقم دینے کا وعدہ کیا۔ لیکن اب جبکہ ترک صدر نے یہ معاہدہ توڑنے کا اعلان کر دیا ہے اور ترکی کی سرحدیں کھول دی ہیں، پناہ گزینوں کو اب اجازت ہے کہ وہ یونان اور بلغاریہ کی سرحدوں سے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کریں۔ ترک صدر ایردوآن کے اس اقدام کے پیچھے سیاسی محرکات ہیں، گو یہ ابھی واضح نہیں کہ اس سے انہیں کیا حاصل ہو گا۔ اس وقت ترکی میں 3.6 ملین شامی مہاجرین پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اور اب جب ہزاروں کی تعداد میں مزید شامی باشندے شام کے صوبے ادلب میں جاری لڑائی سے جان بچا کر نکل رہے ہیں، تو یہ بات قابل فہم ہے کہ ترکی عالمی برادری سے مزید مالی تعاون کا مطالبہ کر رہا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت کے جلد خاتمے کے امکانات بہت کم ہیں۔ روس، امریکا، شام، وہاں برسرپیکار ملیشیا ، ترکی اور نہ ہی اس تنازعے کے دیگر فریقوں میں سے کوئی بھی لڑائی کو ختم کرنے کے قابل یا اس پر آمادہ نظر آتا ہے۔
ایسے میں یورپی یونین کو کیا کرنا چاہیئے؟
یورپی یونین کے وزرائے خارجہ اور وزرائے داخلہ کے ہنگامی اجلاس بلائے گئے ہیں۔ سرحدوں کی نگرانی کے لیے اضافی نفری تعینات کی جا رہی ہے۔ لیکن یہ اقدامات منافقت کےسوا کچھ نہیں۔ چار سال پہلے جب یورپی یونین نے پناہ گزینوں کی روک تھام کے لیے ترکی سے معاہدہ کیا تو برسلز میں حکام کوپتہ ہونا چاہیے تھاکہ یہ صرف ایک عارضی حل ہو گا۔ تب سے یورپی کمیشن نے شام ، افغانستان، ایران اور بہت سے افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن اور پناہ کے متلاشی افراد کی درخواستیں بہتر انداز میں جانچنے کی کوششیں کیں، جن میں کامیابی نہیں ہوئی۔ پولینڈ ، ہنگری ، آسٹریا اور اٹلی نے ان کوششوں کی کھل کر مخالفت کی جبکہ دیگر یورپی ملکوں میں بھی دائیں بازوکے حلقوں نے پناہ گزینوں کے لیے سرحدیں کھولنے کی بڑھ چڑھ کر مخالفت کی۔
حقیقت یہ ہے کہ پناہ گزینوں سے متعلق معاہدے میں یورپی یونین نے اپنا کردار ادا نہیں کیا۔ پناہ کے متلاشی تارکین وطن مہاجر کیمپوں میں غیر انسانی حالات میں پھنسے رہے ہیں۔ شاید یہ سب ایک سوچے سمجھے پلان کا حصہ تھا، جس کا مقصد ہجرت کی حوصلہ شکنی تھا۔ لیکن اب جب کہ ترک صدر نے پناہ گزینوں کا معاہدہ ترک کر دیا ہے، یورپی یونین کے پاس بظاہر کوئی دوسرا آپشن نہیں سوائے اس کے کہ وہ ہجرت روکنے کے لیے کڑے اقدامات کرے اور اس کی زیادہ تر ذمہ داری اٹلی، اسپین اور یونان جیسے ملکوں پر ڈال دے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ایسا کرنا نہ صرف یورپی یکجہتی اور عالمی قوانین کے منافی ہو گا بلکہ اس سے یورپ کی بے حسی بھی بے نقاب ہو گی۔
معروف ویب سائٹ اسکرول پر ارون دھتی رائے کا ایک مضمون شائع ہوا۔ جب رائے جیسے لکھاری لکھ رہے ہوں تو مجھ جیسوں کو ان کے سامنے با ادب بیٹھ کر صرف دھیان سے سننا چاہیے۔ پیشِ خدمت ہے اس مضمون کی تلخیص۔ ابھی چند ہی دن پہلے حکمران جماعت کی اشتعال انگیز تقریروں سے مسلح فاشسٹ ہجوم شمالی مشرقی دہلی کی مسلمان اکثریتی بستیوں پر اس اطمینان کے ساتھ چڑھ دوڑا کہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہے گی، عدالتوں کی بصارت مقفل رہے گی اور الیکٹرونک میڈیا اس بربریت کو مسلسل جواز کی غذا فراہم کرتا رہے گا۔ پچھلے کئی ہفتے سے سب کو توقع تھی کہ کچھ برا ہونے والا ہے۔ مگر اتنا منظم برا کہ املاک، کاروبار ، گاڑیاں جلا دی جائیں اور لوگ گولیوں اور تیز دھار ہتھیاروں سے مار ڈالے جائیں، گلیاں پتھروں سے اور اسپتال زخمیوں سے اور مردہ خانے لاشوں سے بھر جائیں۔
مسلمان تو خیر تھے ہی زد میں مگر ان بلوائیوں کی زد میں عام ہندو بھی تھے اور دو سرکاری اہلکار بھی مار ڈالے گئے۔ ایک جانب اگر وحشت و بربریت کا ننگا ناچ تھا تو دوسری طرف ایک دوسرے کو مذہبی تفریق سے بالا ہو کر بچانے اور پناہ دینے والے بھی تھے۔ یعنی انسان کے دونوں چہرے ایک بار پھر ہم سب کو دکھائی دیے۔ مگر یہ حقیقت تو اب لکھی جا چکی کہ بستیوں پر ٹوٹ پڑنے والے جے شری رام کے نعرے لگاتے ہجوم ریاست کی مکمل حمایت کے بھروسے پر دندنا رہے تھے۔ یہ کوئی روایتی ہندو مسلم فساد نہیں بلکہ ایک ننگی فسطائی حکومت کا فسطائیت مخالف شہریوں پر کھلا حملہ تھا۔ اور نشانے پر آنے والے مسلمان آخری نہیں بلکہ پہلا گروہ ہے۔ یہ کوئی دائیں بمقابلہ بائیں یا غلط بمقابلہ درست کی لڑائی نہیں بلکہ ایک خاص نظریے کا باقی سب نظریات پر کھلا حملہ ہے۔
بھلا کس نے اب تک وہ سوشل میڈیا پر وہ وڈیوز نہیں دیکھی ہوں گی جن میں پولیس صرف تماشائی نہیں بلکہ فسادیوں کا کھل کر ہاتھ بٹا رہی ہے۔ پولیس آتش زنوں اور توڑ پھوڑ کرنے والوں کے ساتھ برابر کی شریک ہے۔ پولیس سرکاری سی سی ٹی وی کیمرے توڑ رہی ہے اور ایک دوسرے پر گرے زخمی مسلمان نوجوانوں کو اسپتال پہنچانے کے بجائے ان سے ڈنڈے اور جوتے کی نوک پر وندے ماترم گنوا رہی ہے۔ ان میں سے ایک زخمی اگلے روز مر گیا۔ مگر حیرت کیوں؟ جب آج سے ٹھیک اٹھارہ برس پہلے ریاست گجرات میں جس وزیرِ اعلی کے ہوتے تباہی و بربادی کی بھیانک کہانیاں لکھی گئیں، وہی وزیرِ اعلی تو آج دلی میں وزیرِ اعظم ہے۔ اگرچہ شمال مشرقی دلی میں جو ہونا تھا ہو گیا کہ بعد بظاہر سکون ہے۔ مگر وہی بلوائی اب دہلی کے وسطی علاقے میں جے شری رام اور دیش کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو کے نعرے لگاتے پھر رہے ہیں۔
دلی بی جے پی کے ایک مقامی رہنما کپل مشرا نے قتل و غارت سے کچھ دن پہلے انتخابی مہم کے دوران اشتعال انگیز نعرے لگوائے تھے۔ اس کے بارے میں خود دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس مرلی دھرن نے دلی پولیس کو مشرا سمیت اشتعال انگیزی پھیلانے والے تین چار رہنماؤں کا نام لے کر ایک دن کے اندر اندر گرفتاری کا حکم دیا۔ چند ہی گھنٹے میں آدھی رات سے ذرا پہلے جسٹس مرلی دھرن کا تبادلہ پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ میں کر دیا گیا اور کپل مشرا پھر سے سڑک پر نعرے لگوانے کے لیے آ گیا ’’ دیش کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو ‘‘۔مگر اس میں حیرت کیوں۔ آخر کو کپل مشرا بھی اسی پارٹی کا ہے۔ جس پارٹی کے بابو بجرنگی نے دو ہزار دو میں گجرات میں پچانوے مسلمانوں کو ایک وڈیو میں خود مارنے کا اعتراف کیا۔
عدالت نے اسے لمبی سزا سنا دی اور اس فیصلے کے خلاف اپیل کے نتیجے میں چند ہی مہینوں میں بابو بجرنگی باہر آ گیا۔ اور باہر آتے ہی بابو بجرنگی کی ایک اور وڈیو بھی آ گئی جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ ججوں سے سیٹنگ کر کے نریندرا بھائی ( مودی ) نے مجھے رہائی دلوائی۔ بھارت میں انتخابات سے پہلے کئی بار قتلِ عام ہوا۔ مگر ایسا پہلی بار ہوا کہ دلی کے ریاستی الیکشن میں بی جے پی کے صفائے کے ایک ہی ہفتے کے اندر قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔ یہ سیدھا سیدھا پیغام ہے کہ یا ہمیں ووٹ دو ورنہ بدلے میں موت لو۔ خبردار اگلا ریاستی الیکشن بہار میں ہونے والا ہے۔ میڈیا کی کرامات دیکھئے۔ سب کے پاس دلی الیکشن سے پہلے بی جے پی کے مقامی رہنماؤں سے لے کر وزیرِ داخلہ امیت شاہ اور وزیرِ اعظم تک کی زہر آلود وڈیو تقاریر کا ریکارڈ موجود ہے۔ مگر دیش کے لیے پھر بھی سب سے بڑا خطرہ دلی کے شاہین باغ میں پچاسی روز سے بیٹھی عورتیں اور بچے بتائے جا رہے ہیں جنھیں شہریت کا نیا قانون کسی صورت منظور نہیں۔
اب تو باقی دنیا بھی کہہ رہی ہے کہ شہریت کا ترمیمی قانون کروڑوں مسلمانوں کو رفتہ رفتہ بھارتی شہریت سے محروم کرنے کے منصوبے کی جانب پہلا بھر پور قدم ہے۔ کسی کی شہریت چھیننا سزائے موت سے کم نہیں۔ شہریت ہی وہ حق ہے جس سے دیگر تمام حقوق پھوٹتے ہیں۔ ورنہ انسان ہوا میں معلق ہو جاتا ہے۔ مذہب کی بنیاد پر شہریت کے قانون سے صرف بھارتی مسلمان خطرے میں نہیں پڑیں گے بلکہ بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان میں بسنے والے لاکھوں غیرمسلموں کا مستقبل بھی غیر یقینی ہو سکتا ہے۔ اور ہمسائیوں کو یہ راہ کوئی اور نہیں بھارتی حکومت سجھا رہی ہے۔ یہ حقیقت جان بوجھ کر جھٹلائی اور بھلائی جا رہی ہے کہ سینتالیس میں آزادی کی لڑائی صرف ہندوؤں نے نہیں بلکہ سب ہندوستانیوں نے مل کر لڑی تھی۔
اگر کوئی اس لڑائی سے بالکل لاتعلق تھا تو وہ موجودہ حکمرانوں کی سیاسی والدہ آر ایس ایس تھی۔ اور آج یہی آر ایس ایس ہمیں بتا رہی ہے کہ حب الوطنی کیا ہوتی ہے۔ کون محبِ وطن ہے اور کون غدار۔ آئین کی کسی بھی شق سے کسی کو بھی اختلاف ہو سکتا ہے۔ مگر موجودہ حکومت تو آئین کے ساتھ وہ سلوک کر رہی ہے جیسے اس کا وجود ہی نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دراصل جمہوریت کو ہی مٹانے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ ہم شائد اب کہہ سکتے ہیں کہ بھارتی جمہوریت کو فسطائیت کا کورونا وائرس چمٹ گیا ہے۔ کوئی جماعت یا گروہ اس وائرس سے جوج رہے بھارت کی مدد کرنے کو تیار نہیں، سب اپنے منہ پر حفاظتی ماسک لگا کر محفوظ فاصلے پر کھڑے شیشے کے پیچھے سے مریض کو دیکھ رہے ہیں۔ایسی بے چارگی اور تنہائی تو کبھی نہ تھی۔