’’دیوار بناؤ صدر ٹرمپ، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ

امریکی سپریم کورٹ نے میکسیکو کی سرحد کے ساتھ متنازعہ دیوار بنانے سے متعلق مقدمے میں ٹرمپ انتظامیہ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، میکسیکو کی سرحد پر دیوار کا ایک حصہ تعمیر کرنے کے لیے امریکی محکمہ دفاع (پنٹاگون) کے بجٹ میں سے 2.5 ارب ڈالر خرچ کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ صدارتی انتخابات کے دوران میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر، ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی منشور میں شامل تھی جبکہ انہوں نے صدر بنتے ہی اس دیوار کی تعمیر کےلیے کوششیں شروع کر دی تھیں۔ البتہ، ٹرمپ کے سیاسی مخالفین اس فیصلے کے خلاف ریاست کیلیفورنیا کی عدالت میں چلے گئے تھے جس نے ٹرمپ کو یہ دیوار تعمیر کرنے سے روک دیا تھا۔

اس فیصلے کے خلاف صدر ٹرمپ نے امریکی سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس نے گزشتہ روز انہیں نہ صرف یہ دیوار تعمیر کرنے کی اجازت دے دی ہے بلکہ یہ بھی فیصلہ دیا ہے کہ وہ اس مقصد کےلیے پنٹاگون کے بجٹ میں سے ڈھائی ارب ڈالر استعمال بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی مخالفین، خاص کر ڈیموکریٹس نے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر اور ڈیموکریٹک پارٹی کی ممتاز رہنما نینسی پلوسی نے ٹرمپ کے طرزِ حکمرانی کو ’’بادشاہت‘‘ کہتے ہوئے اس فیصلے کو ’’انتہائی غلط‘‘ قرار دیا ہے۔

ٹرمپ کی مخالف اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ سیلی ڈیل نے ٹرمپ کی ٹویٹ کا طنزیہ جواب دیتے ہوئے لکھا: ’’بہت خوب! تو آپ نے ہمارے دفاعی فنڈز ایک ایسی بے کار دیوار کے لیے لوٹ لیے جس کی مخالفت اکثر امریکی کرتے ہیں۔‘‘ اُدھر امریکا میں شہری آزادی کی تنظیم ’’اے سی ایل یو‘‘ اور ماحولیاتی تحفظ کے پریشر گروپس نے بھی اس فیصلے پر کڑی نکتہ چینی کی ہے اور اس کے خلاف ’’نائنتھ سرکٹ کورٹ‘‘ جانے کا اعلان کیا ہے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

امریکا ایف-35 طیارے نہیں دے گا تو کسی اور ملک سے خریدیں گے، طیب اردگان

ترکی کے صدر طیب اردگان نے صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا ایف-35 طیارے نہیں دے گا تو کسی اور ملک سے رجوع کریں گے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک صدر نے امریکا کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے F-35 طیاروں کی فراہمی سے انکار کو کھلی بدمعاشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترکی کسی اور ملک سے طیارے خریدنے کے لیے رجوع کرے گا۔ ترک صدر طیب اردگان نے حکمراں پارٹی کے ارکان سے خطاب میں مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے معاہدے کو ختم کرنے پر کسی قسم کے دباؤ پر نہیں آئیں گے اور نہ ہی اپنے فیصلوں کو تبدیل کریں گے اور اپنے ملک کی سلامتی سب سے مقدم رکھی جائے گی۔ واضح رہے کہ ترکی کے روس سے اینٹی میزائل دفاعی نظام ایس-400 خریدنے کی وجہ سے امریکا نے دھمکی دی تھی کہ اگر ترکی نے یہ دفاعی سسٹم خریدا تو امریکا معاہدہ منسوخ کرتے ہوئے ترکی کو ایف-35 طیارے فروخت نہیں کرے گا۔

امریکی صدر ٹرمپ کے مشیر نے بھارتیوں کو آئینہ دکھا دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے معاشی امور نے بھارتیوں کو آئینہ دکھا دیا۔ صحافی نے صدر ٹرمپ کے مشیر لیری کڈلو سے کشمیر پر ثالثی سے متعلق امریکی صدر کے بیان کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے بھارتیوں کے سامنے اصل بات کھول کر رکھ دی۔ امریکی صدر کے مشیر سے پوچھا گیا کہ بھارت ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کی تردید کر رہا ہے کہ نریندر مودی نے کشمیر پر ثالثی کے لئے ان سے کہا ہے، کیا یہ بات صدر ٹرمپ نے خود گھڑی ہے؟ لیری کڈلو نے واضح الفاظ میں کہا کہ امریکی صدر خود سے کوئی بات نہیں گھڑتے، میں اس سوال کو ہی انتہائی نامناسب سمجھتا ہوں، ٹرمپ نے جو کہنا تھا وہ کہہ دیا ہے۔