امریکا میں اسلامی تعلقات کی کونسل (سی اے آئی آر) ایڈووکیسی گروپ نے اشتہاری کمپنیوں سے امریکی نشریاتی ادارے ‘فاکس نیوز’ کی جانب سے اسلام مخالف بیانات پر دو میزبانوں کو برطرف نہ کیے جانے تک ادارے کو اشتہارات نہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی ’انادولو‘ کی رپورٹ کے مطابق ‘سی اے آئی آر’ کے ڈائریکٹر نہاد اواد نے گزشتہ روز جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ ’فاکس نیوز واضح طور پر کہے کہ جینین پیرو کو اسلام مخالف اور نفرت انگیز بیانات کی طویل تاریخ کی وجہ سے دوبارہ آن ایئر ہونےکی اجازت نہیں دی جائے گی‘۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’فاکس نیوز کو ٹکر کارلسن جیسے دیگر اسلام مخالف میزبانوں کے خلاف بھی اسی نوعیت کے اقدامات کرنے چاہیئیں‘۔
نہاد اواد نے مزید کہا کہ ’تمام اشتہاری کمپنیوں کو فاکس نیوز کے اشتہارات بند کر کے اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ وہ نفرت کے فروغ سے وابستہ نہیں ہیں‘۔ امریکا میں اسلامی تعلقات کی کونسل نے جینین پیرو کی جانب سے امریکی کانگریس خاتون الہان عمر کے اسکارف پہننے پر تنقید کے بعد ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا۔ جینین پیرو نے الہان عمر کے فیصلے کو ’ آئین کے خلاف‘ قرار دیا تھا۔ فاکس نیوز کی جانب سے جینین پیرو کے بیان کی شدید مذمت کی گئی لیکن ان کے خلاف کسی قسم کے قابل ذکر اقدامات نہیں لیے گئے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ فاکس نیوز خاتون میزبان کے خلاف اقدامات کر رہا ہے یا نہیں۔
جینین ہفتے کی شب کو ایک پروگرام کی میزبانی کرتی ہیں لیکن رواں ہفتے ان کا پروگرام نشر نہیں کیا گیا تھا۔ ہالی ووڈ رپورٹر کے مطابق اس کے ساتھ ہی جینین پیرو کے پروگرام کے 4 مشتہرین نے اشتہارات بند کر دیئے ہیں جن میں الیرگان، لیٹ گو، نیرڈ والٹ اور فارماسیوٹیکل کمپنی نووو نورڈسک شامل ہیں۔ سی اے آئی آر نے فاکس نیوز سے ایک اور میزبان ٹکر کارلسن کو بھی ملازمت سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ چند ہفتے قبل ٹکر کارلسن کے نسل پرست اور اسلام مخالف بیانات سامنے آنے کے بعد سے ان پر تنقید جاری ہے۔ میڈیا میٹرز ویب سائٹ کی جانب سے ریکارڈنگز جاری کیے جانے کے بعد سے بعض مشتہرین نے فاکس نیوز کو اشتہارات دینا بند کر دیئے ہیں۔
نیوزی لینڈ کی مسجد میں نمازیوں پر حملہ کرنے والے آسٹریلوی دہشتگرد کو عبدالعزیز نے للکارتے ہوئے اس کا پیچھا کیا اور اسے بھگانے میں کچھ حد تک کامیاب بھی ہوا ۔ اسرائیلی اخبار ’’ہاریٹز‘‘ نے عبدالعزیز کی زبانی حملے کا احوال کچھ اس طرح رقم کیا۔ اخبار نے لکھا کہ عبدالعزیز کے بقول وہ حملہ آور کی توجہ بٹانے کے لیے چیختا چلاتا ہوا باہر کی طرف بھاگا۔ حملہ آور جب مزید اسلحہ لینے اپنی کار کی طرف گیا تو اس نے حملہ آور پر کریڈٹ کارڈ مشین پھینک کر ماری۔
عبدالعزیز نے بتایا کہ اس کے کانوں میں اپنے پانچ اور گیارہ سال کے بچوں کی آوازیں آرہی تھیں جو اسے واپس اندر بلا رہے تھے، اتنے میں حملہ آور نے مڑ کر پھر فائرنگ شروع کر دی۔ عزیز نے کہا کہ گولیوں سے بچنے کیلیے کاروں کے درمیان بھاگتا رہا۔ اتنے میں حملہ آور کی پھینکی ہوئی ایک گن پڑی نظر آئی، وہ اٹھا کر حملہ آور پر تانی، فائر کیا، مگرگن خالی تھی۔ اسرائیلی اخبار نے لکھا کہ عزیز نے بتایا کہ اسے حملہ آور کا سامنا کرتے کسی لمحے خوف محسوس نہیں ہوا۔ یہ ایسے ہی تھا جیسے وہ آٹو پائلٹ پر تھا اور اسے یقین تھا کہ اللہ نے ابھی اس کے مرنے کا وقت متعین نہیں کیا ہے۔