مقبوضہ کشمیر : ہزاروں بغیر نشان قبروں کی تحقیقات کا مطالبہ

بھارت کے سرکاری حقوق کمیشن نے حکومت سے مقبوضہ کشمیر میں دریافت ہونے والی کم ازکم 2 ہزار 80 بغیرنشان قبروں کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ قطر کے میڈیا نیٹ ورک الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق کشمیر میں انسانی حقوق کی تنظیم ایسوسی ایشن آف پیرنٹس ڈس اپیرڈ پرسنس (اے پی ڈی پی) کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر بغیر نشان کی 3 ہزار 8 سو 44 قبریں موجود ہیں جن میں سے 2 ہزار 7 سو 17 پونچھ میں اور 1 ہزار 1 سو 27 راجوڑی میں دریافت ہوئی ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق کمیشن نے 6 مہینوں کی تحقیقات اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ اور لاشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کرنے کے بعد 2 ہزار 80 قبروں کی باقاعدہ شناخت کا سراغ لگا لیا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اے پی ڈی پی کے مطابق دہائیوں سے تنازع کی زد میں رہنے والے اس علاقے میں 8 ہزار افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔ اے پی ڈی پی نے بھارتی فوج کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج نے قتل وغارت کو چھپانے کے لیے بندوق اٹھا رکھا ہے۔ اے پی ڈی پی کے رہنما خرم پرویز نے الجزیرہ کو بتایا کہ ’ہم ان قبروں پر ایک خود مختار کمیشن کا قیام چاہتے ہیں’۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے 53 کیسز پر تحقیقات کیں جن کی لاشوں کو نامعلوم قبروں سے نکالا گیا تھا جس میں ہمیں معلوم ہوا کہ 49 لاشیں شہریوں کی تھیں جبکہ ایک لاش مسلح تنظیم کے رکن کی تھی اور باقی تین لاشیں نامعلوم ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ان افراد کو بھارتی حکومت کی جانب سے غیر ملکی مسلح تنظیم کا رکن بتایا گیا تھا’۔

واضح رہے کہ 2011 میں جموں و کشمیر کے ریاستی ادارے انسانی حقوق کمیشن نے بتایا تھا کہ بھارتی قابض فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں لاشوں کو بغیر نشان کے قبروں میں دفنایا گیا ہے۔ تحقیقات کے مطابق 2 ہزار لاشوں میں سے کم ازکم 5 سو 74 کشمیر کے شہری تھے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اے پی ڈی پی کا کہنا ہے کہ 2011 سے بھارتی حکومت انسانی حقوق کے کمیشن کی ہدایات کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے اور اب بھی امن و عامہ کی خرابی کے پیش نظر معاملے کی تفتیش سے گریز کر رہی ہے۔ ایسے ہی 2008 میں انسانی حقوق کی تنظیم انٹرنیشنل پیوپلز ٹریبیونل آن ہیومن رائٹس اینڈ جسٹس نے درجنوں گاؤں کے تین سالہ سروے کے بعد بغیر نشان قبروں کی نشاندہی کی تھی جہاں سے کئی ہزار لاشیں بر آمد ہوئی تھیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ کشمیر میں جاری 20 سالہ علیحدگی کی تحریک کے دوران 8 ہزار افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں دل، پھیپھڑوں کا مرض ہرچار میں سے ایک شخص کی موت کی وجہ

پاکستان میں اموات کی سب سی بڑی وجہ دل اور پھیپھڑوں کے امراض بن رہی ہے، مرنے والے ہر چار میں سے ایک پاکستانی اسی عارضے میں مبتلا ہوتے ہیں۔ آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو) میں ہونے والی 20ویں نیشنل ہیلتھ سائنسس ریسرچ سمپوزیم کی تین روزہ کانفرنس کا انقعاد کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ دل اور اس کے خطرے کو کم کرنے کے لیے عوام میں شعور بیدار کرنے کے علاوہ عوام کی صحت کا نظام بھی مؤثر اور مضبوط بنانا ہو گا۔ کانفرنس میں دل اور پھیپھڑوں کے عارضے اور مسائل سے نمٹنے اور ان کی بحالی کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔

کانفرنس میں ماہرین نے دل اور پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا افراد کے نئے طریقہ علاج اور زندگی بچانے والے طریقہ کار پر بحث کی جن کے ذریعے امراض کی فوری تشخیص اور علاج کے بہتر انتخاب کے عمل میں فائدہ پہنچا ہے۔ دل کے عارضے کے علاج میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے ماہرین کا کہنا تھا کہ کراچی اور اسلام آباد کے ہسپتالوں نے دل کے مرض سے نمٹنے کے لیے نیا طریقہ علاج اپنا لیا ہے جن میں ٹرانسکیتھیٹر اورٹک والو امپلیمنٹیشن (ٹاوی) اینڈو ویسکیلور اینیوریزم ریپیئر (ایوار) شامل ہیں، ان دونوں طریقہ علاج سے آرٹا کی مرمت کا عمل کیا جاتا ہے جو پہلے صرف ترقی یافتہ ممالک کے بڑے ہسپتالوں میں کیا جاتا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس طریقہ علاج سے امراض کے آخری اسٹیج کے مریضوں کے لیے بھی علاج ممکن ہو گیا ہے‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان دونوں طریقہ علاج نے مشکل ترین دل اور واسکیولر عارضے کے علاج میں ایک نئی راہ پیدا کر دی ہے جبکہ پاکستان میں اس طریقہ علاج کے چند ماہرین بھی موجود ہیں۔ آغا خان یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر عثمان فہیم کا کہنا تھا کہ ہمیں اس طریقہ علاج کو بڑے پیمانے پر کم لاگت میں مریضوں تک پہنچانے کے چیلینج کا سامنا ہے۔ پھیپھڑوں کے مرض کے علاج میں ہونے والی جدت پر ماہرین کا کہنا تھا کہ ویڈیو اسسٹڈ تھوراسک سرجری اور برونکو اسکوپی کی وجہ سے پھیپھڑوں کے امراض کے علاج میں واضح بہتری آئی ہے۔

ان دونوں طریقہ علاج میں سرجری کرنے والے ڈاکٹروں کو ٹیومر کی شناخت اور اس سے نمٹنے میں آسانی ہوتی ہے اور اس طریقہ علاج سے مریض کو درد بھی کم ہوتا ہے۔ کانفرنس میں دل کے عارضے میں مبتلا افراد پر اسٹیم سیل تھیراپی کے تجربات کے نتائج بھی پیش کیے گئے۔ آزمائشی مرحلے میں ہونے کے باوجود ماہرین کا ماننا ہے کہ اسٹیم سیل کو متاثرہ پھیپھڑے یا متاثرہ دل میں لگانے سے اعظاء کی بحالی سمیت، ان کے کام کرنے میں بھی دوبارہ بحالی دیکھی گئی۔
کانفرنس میں جدید ٹیکنالوجی اور تشخیص کے طریقہ کار تھری ڈی ایکو اور کارڈیک ایم آر آئیز پر بھی بات چیت کی اور بتایا کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے انسانی اعضاء کی بہترین تصویر سامنے آجاتی ہے جس کے ذریعے سرجنز اور فزیشنز کو مرض سے نمٹنے کے لیے بہترین معلومات میسر ہو جاتی ہیں۔

تقریب کے مقاصد بتاتے ہوئے کانفرنس منتظم صولت فاطمی کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مقصد جامعات کے درمیان باہمی تعلقات کے ساتھ بنائے گئے نئے منصوبوں کو سامنے لانا ہے تاکہ دنیا بھر میں ہوئی تحقیق سے پاکستانی مریض بھی مستفید ہو سکیں اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہم نے بین الاقوامی مقررین سے رجوع کیا تا کہ اس کانفرنس کا دیرپا اثر پڑ سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کانفرنس کا ایک اور مقصد ’گول 3‘ کی عالمی کوششوں کو حاصل کرنا اور نومولود بچوں میں کارڈیو ویسکیولر کے مرض سے اموات کی شرح کو 2030 تک کم کرنا ہے۔

فائزہ الیاس
یہ خبر 4 نومبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی.

پی آئی اے برائے فروخت

ایئر انڈیا بھی پی آئی اے کی طرح برس ہا برس سے نقصان میں جا رہی ہے۔ مودی سرکار نے بھی اُس کو فروخت کرنے کی کوشش کی مگر کانگریس نے اقلیت ہونے کے باوجود نہیں ہونے دی کہ یہ بھارت کی آن ہے۔ سری لنکاء ایئر کے 10 بارہ سال پہلے تامل ٹائیگر نے ایک صبح کولمبو ایئر پورٹ پر کھڑے تمام جہاز اُڑا دیئے تھے۔ سرکار نے امارات سے جہاز لیز اور پارٹنر شپ کر کے سری لنکا ایئر کواپنے پائوں پر دوبارہ کھڑا کر دیا مگر سری لنکا ایئر کو فروخت نہیں کیا۔ خود پی آئی اے نے دیگر ممالک کی ایئر لائنز بنا کر دیں ۔ آج وہ تمام کی تمام منافع بخش ائرلائنوں میں شمار ہوتی ہیں۔

پی آئی اے نے 25 سال پہلے صرف 3 جہاز امارات ائیرلائن کو لیز پر دیئے تھے اُس وقت ہمارے پاس 55 بہترین جہاز تھے ان 3 جہازوں سے ایمریٹس ایئر لائن نے یو اے ای کی پہلی پرائیویٹ ایئر لائن کا درجہ حاصل کر کے آج 500 جہازوں سے پوری دنیا کے روٹس تشکیل دے کر آج اپنے آپ کو دنیا کی 10 بڑی ایئر لائنز میں شمار کر لیا ہے۔ ماضی میں پی پی پی کی حکومت نے پی آئی اے کی فروخت کی پوری کوشش کی تو مسلم لیگ ن کی حکومت نے اُس کی مخالفت کی اور فروخت نہیں ہونے دی۔ پھر پی پی پی کے نامزد چیئر مین نے مختلف روٹس فروخت کر دیئے تو مسلم لیگ ن کی یونین نے مزاحمت کر کے ہڑتال کروا دی۔ یوں چیئرمین ،ایم ڈی کو مستعفی ہونا پڑا۔ پھر جب سے مسلم لیگ ن کی حکومت آئی ہے وہ مسلسل پی آئی اے کو فروخت کرنے کی کوشش کرتی رہی ۔

اب پی پی پی کی نامزد یونین اُس کو فروخت نہیں ہونے دے رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 20 پچیس سال پہلے تک پی آئی اے منافع بخش ایئر لائنز میں شمار ہوتی تھی اُس وقت تک پی آئی اے کی اپنے ملازمین کی یونین تھی پھر اُس کے بعد یکے بعد دیگرے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے جیالوں اور مسلم لیگیوں کو بھرتی کر کے اُن کی یونین بنوا دی تو اُس کا معیا ر ختم اور کرپشن کا راج ہو گیا ۔دونوں پارٹیاں نجکاری کر کے اپنی جیبیں بھرنا چاہتی ہیں۔ دونوں کو معلوم ہے کہ پی آئی اے کی ملکیت میں اربوں ڈالرز کے ہوٹل ہیں ہم نے آج تک نیب ،ایف آئی اے یا احتساب ادارے سے یہ انکوائریاں نہیں کروائیں کہ کس کس نے پی آئی اے کو اندر سے کھوکھلا کر کے لوٹا اور کس کس کو سیاسی بنیادوں پر بھرتی کیا گیا اور کرپشن میں نکالے ہوئے ملازمین کو اپنی حکومت آنے کے بعد نہ صرف پھر بھرتی کیا بلکہ پچھلا معاوضہ بھی دلوایا گیا۔

اور جب سے ہمارے سابق وزیراعظم نااہل ہوئے تو انہوں نے جان بوجھ کر نئے وزیراعظم جن کا تعلق بھی ائیر لائن سے ہے یہ ٹاسک دیا کہ قومی ائیر لائن کی نجکاری کا عمل جاری رکھو۔ اور انہوں نے نجکاری کا نیا حربہ استعمال کیا کہ پی آئی اے کے ایک ایک پر توڑ ڈالو پہلے تو نااہل افراد کو بھرتی کرو۔ جن کا سول ایوی ایشن سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ اور نئے سربراہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں جن کی سالانہ تنخواہ تین کروڑ ہے ان کے ماتحت قطر آئل کمپنی سے وابستہ تھے ان کی تنخواہ 20 لاکھ ماہانہ ہے ان کے ماتحت ایک موبائل کمپنی سے وابستہ تھے ان کی تنخواہ 15 لاکھ ہے تقریباً 1 کروڑ ماہانہ پی آئی اے کو مزید تنخواہوں کا اضافی بوجھ ڈال کر مزید مقروض بنا دیا گیا ۔

ایک طرف ہوائی جہاز اور ادارے کو فعال کرنے کا کوئی تجربہ نہیں اور پھر انہوں نے آتے ہی 1961ء سے امریکہ کی پروازیں یک دم بند کر دیں حالانکہ اگر ان کے روٹس بیچتے تو اربوں روپے میں یہ 108 فلائٹس سالانہ لیز پر دی جا سکتی تھیں ایک تو پی آئی اے کی ملکیت برقرار رہتی اور پھر سالانہ آمدنی بھی ہوتی اب امریکن سول ایوی ایشن کی مرضی ہو گی تو دوبارہ پی آئی اے کو حقوق دے یا نہ دے کیونکہ امریکن ائیرلائنز پاکستان سے اپنی فلائٹس بند کر چکی ہیں یہاں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ ایک سال قبل بھی میاں صاحب نے ایک جرمن چیف ایگزیکٹو آفیسر پی آئی اے میں لگایا تھا تو وہ کروڑوں کا چونا لگا کر ایک جہاز بھی ساتھ لے گیا جو اس کے استعمال میں ہے ۔

پی آئی اے انتظامیہ اب تک کیوں خاموش ہے اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے یاد رہے کہ جب پی آئی اے نے بہتر ین کمائی والے روٹس ترکش ائیر لائنز والوں کے ہاتھوں فروخت کئے تو اس وقت مسلم لیگ ن کے رہنمائوں بشمول میاں نواز شریف نے پارلیمنٹ کے باہر پی آئی اے کے ملازمین کے جلسے سے خطاب کرنے کے ساتھ ساتھ اعلان کیا تھا کہ اگر ان کی زندگی میں کسی نے پی آئی اے کی طرف بُری نگاہوں سے دیکھا تو اُس کی آنکھیں نکال دی جائیں گی یہاں تک کہ انتظامیہ اور کارکنوں کے درمیان کشمکش ایک ماہ تک چلتی رہی اور آخر کار انتظامیہ نے ہتھیار ڈال دیئے تھے اور اُن روٹس کا معاہدہ منسوخ کرنا پڑا تھا۔

ہمارے ایک درجن سے زیادہ جہاز ناکارہ کر کے کراچی ایئر پورٹ پر کھڑے کر دیئے گئے ہیں. پھر مہنگے داموں پر کمیشن کی آڑ میں نئے جہاز لیز کرائے جا رہے ہیں ۔ اور ایک دن سننے میں آجائے گا کہ ہم نے پی آئی اے جو کہ مسلسل خسارے میں جا رہی تھی فروخت کر کے جان چھڑالی ہے یا پھر ائیر بلیو میں ضم کر دی ہے۔ قوم کو یہ خوشخبری مبارک ہو۔ یاد رہے کہ پی آئی اے کے بہترین ملازمین پی آئی اے سے گولڈن شیک ہینڈ لے کر آج دوسری ایئر لائنز میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس وقت پی آئی اے کے 50 ہزار ملازمین اگر نکالے جائیں گے تو وہ کہاں جائیں گے یہ سوال سابق وزیراعظم میاں نواز شریف صاحب سے کریں جو کہتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا ؟ اگریہ نجکاری کامیاب ہو گئی تو اس کے بعد اسٹیل مل کی باری آئے گی۔

خلیل احمد نینی تا ل والا

بیٹی کی محبت اور قائداعظمؒ کا اسلامی اقدار سے لگاؤ

بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی اکلوتی صاحبزادی دینا واڈیا 98 برس کی عمر میں نیو یارک میں انتقال کر چکی ہیں۔ ان کی وفات کی خبر سن کر ذہن ایک بار پھر ماضی کے جھروکوں میں چلا گیا ہے۔ یہ 1918ء کا زمانہ ہے اور مسلمانان برصغیر غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ہندوستان میں اسلامی نشاۃ ثانیہ کے دور کا آغاز ہو چکا ہے ۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ ، علامہ محمد اقبالؒ و دیگر مسلم رہنما مسلمانان ہند کو حصول آزادی کیلئے تیار کر رہے ہیں۔ مختلف سیاسی تحریکیں بھی زوروں پر ہیں اور قائداعظم ؒ اہم تقریبات میں شریک ہو کر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات سے ملاقات کر رہے ہیں ۔

انہی تقریبات کے دوران پارسی خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی رتن بائی قائداعظم محمد علی جناحؒ کی محبت میں گرفتار ہو گئی۔ رتن بائی نے قائداعظمؒ کو شادی کا پیغام بھجوایا لیکن قائداعظمؒ نے ایک غیر مسلم لڑکی کے ساتھ شادی کرنے سے صاف انکار کر دیا ۔ رتن بائی قائداعظمؒ کی طلسماتی شخصیت میں پوری طرح گرفتار ہو چکی تھی لہٰذا انہوں نے شادی سے قبل اسلام قبول کر لیا اور ان کا اسلامی نام مریم رکھا گیا ۔ 1918ء میں قائد اعظمؒ اور مریم جناح شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ شادی کے ایک سال بعد 1919ء میں ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام دینا جناح رکھا گیا۔ قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ اپنی مصروفیات کے باعث بیوی اور بیٹی کو زیادہ وقت نہیں دے پاتے تھے۔

مریم جناح 1929 ء میں صرف 29 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ اس وقت قائد اعظمؒ کی بیٹی دینا جناح کی عمر صرف دس سال تھی۔ قائد اعظمؒ اپنی اکلوتی بیٹی سے بہت پیار کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی بہن محترمہ فاطمہ جناحؒ کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ دینا کی اسلامی تعلیم و تربیت کا بندوبست کریں۔ دینا کو قرآن پاک پڑھانے کا اہتمام بھی کیا گیا۔ یہ تحریک پاکستان کے عروج کا دور تھا اور قائد اعظمؒ آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے تحریک پاکستان کو آگے بڑھانے میں مصروف تھے۔ محترمہ فاطمہ جناحؒ بھی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہنے لگی تھیں لہٰذا دینا جناح اپنے پارسی ننھیال کے زیادہ قریب ہو گئیں۔

پھر ایک دن قائد اعظمؒ کو پتا چلا کہ ان کی بیٹی ایک پارسی نوجوان نیول واڈیا کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہیں۔ قائد اعظمؒ نے اپنی بیٹی کو ایک غیر مسلم کے ساتھ شادی کرنے سے روکا۔ اس موضوع پر باپ بیٹی کے درمیان ہونیوالی گفتگو تاریخ کی کئی کتابوں میں محفوظ ہے۔ قائداعظمؒ نے اپنی بیٹی کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں لاکھوں پڑھے لکھے مسلمان لڑکے ہیں تم ان میں سے کسی بھی مسلمان لڑکے کے ساتھ شادی کر لو۔ جواب میں بیٹی نے باپ سے کہا کہ ہندوستان میں لاکھوں خوبصورت مسلمان لڑکیاں تھیں لیکن آپ نے ایک پارسی لڑکی سے شادی کیوں کی؟ قائد اعظمؒ نے جواب میں کہا کہ تمہاری ماں نے شادی سے قبل اسلام قبول کر لیا تھا لیکن بیٹی پر کوئی اثر نہ ہوا۔

وہ قائداعظمؒ جن کی آنکھ کے ایک اشارے پر کروڑوں مسلمان اپنی گردنیں کٹوانے کے لئے تیار تھے وہ اپنی بیٹی کی ضد کے سامنے بے بس ہو گئے اوربیٹی نے باپ کی مرضی کے خلاف شادی کر لی ۔ دینا واڈیا شادی کے بعد ممبئی منتقل ہو گئی تھیں ۔ پارسی نوجوان سے پسند کی شادی کرنے کے بعد دینا واڈیا کے اپنے والد سے تعلقات ہمیشہ رسمی رہے۔ قائداعظمؒ جس وقت شادی کے بندھن میں بندھے تھے ان کی عمر 42 سال جبکہ ان کی اہلیہ مریم جناح کی عمر 18 سال تھی۔ یہ محبت کی شادی تھی اور آپ کی اہلیہ کا نوجوانی میں ہی انتقال ہو چکا تھا اب قائداعظمؒ کے پاس اس محبت کی ایک ہی نشانی دینا واڈیا کی صورت میں موجود تھی ۔

قائداعظمؒ با اصول اور اسلامی اقدار پر کاربند رہنے والی شخصیت تھے لہٰذا انہی اسلامی اقدار کی پیروی کرتے ہوئے انہوں نے ایک غیر مسلم کے ساتھ شادی کرنے پر اپنی بیٹی سے منہ موڑ لیا اور اسلامیان ہند کی آزادی کیلئے اپنی زندگی وقف کر دی۔ تحریک پاکستان کے دوران قائداعظمؒ کے کچھ مخالفین نے کوشش کی کہ یہ سوال اٹھایا جائے کہ جس شخص کی بیٹی نے ایک غیر مسلم سے شادی کر لی وہ مسلمانوں کا لیڈر کیسے ہو سکتا ہے؟ لیکن برصغیر کے مسلمانوں کی اکثریت قائداعظمؒ کے ساتھ کھڑی رہی۔ قیام پاکستان کے بعد دینا واڈیا محض دو بار ہی پاکستان آئیں۔ پہلی دفعہ ستمبر 1948ء کو اپنے والد کے انتقال کے موقع پر وہ کراچی پہنچی تھیں اور کچھ وقت اپنی پھوپھو محترمہ فاطمہ جناحؒ کے ساتھ گزارنے کے بعد واپس ممبئی لوٹ گئی تھیں اور پھر نیویارک میں مقیم ہو گئیں۔

قیام پاکستان کے بعد دوسری بار وہ 2004ء میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے دورۂ پاکستان کے موقع پر یہاں آئیں۔ اس موقع پر دینا واڈیا نے کہا کہ میں محمد علی جناح کی بیٹی ہوں اور اپنے باپ سے آج بھی محبت کرتی ہوں اسی لئے اپنے بیٹے نسلی واڈیا اور پوتوں کے ساتھ اپنے باپ کے خواب پاکستان کو دیکھنے آئی ہوں لیکن میں اپنے باپ کے نام سے شہرت نہیں کمانا چاہتی۔ دینا واڈیا جب مزار قائد کے اندر گئیں تو اس دوران کسی فوٹوگرافر یا میڈیا کو اندر نہیں جانے دیا گیا، وہ تنہا باپ کی قبر پر کچھ لمحات گزارنا چاہتی تھیں۔

مزار قائد پر موجود مہمانوں کی کتاب میں انہوں نے اپنے جذبات ظاہر کئے، انہوں نے وزیٹر بک پر ایک جملہ یوں لکھا’’ یہ میرے لئے ایک دکھ بھرا شاندار دن تھا۔ ان کے خواب کو پورا کیجئے‘‘۔ پاکستان سے جاتے ہوئے ان کے آخری الفاظ تھے ’’ بابا کا دیس پیارا لگا‘‘۔ دینا واڈیا کے انتقال پر ممبئی میں واڈیا گروپ کے ترجمان کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے اپنے سوگواروں میں بیٹے نسلی این واڈیا جو واڈیا گروپ کے چیئرمین بھی ہیں اور بیٹی ڈیانا این واڈیا کو چھوڑا ہے۔ ان کے شوہر نویل واڈیا تھے۔

دینا نویل واڈیا سے شادی کے بعد ممبئی اور بعد ازاں اپنے خاندان سمیت امریکہ منتقل ہو گئی تھیں اور ایک عرصے سے وہیں مقیم تھیں۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو ہر والد کی طرح اپنی صاحبزادی سے بہت پیار تھا اور جب دینا جناح نے والد کی نافرمانی کرتے ہوئے پسند کی شادی کی تو انہیں بہت دکھ ہوا لیکن قائداعظمؒ نے اپنے اصولوں اور اسلامی اقدار کی پاسداری پر کوئی حرف نہیں آنے دیا ۔ انہوں نے اپنا مشن جاری رکھا اور 14اگست 1947ء کو اسلامیان ہند کو آزادی کی نعمت میسر آ گئی۔

شاہد رشید