احساسِ تنہائی کیا ہے ؟

تنہائی کبھی نعمت ہے تو کبھی مصیبت۔ ادیبوں اور شاعروں نے تنہائی کو غنیمت سے تعبیر کیا ہے کیونکہ ہر وقت انہیں کوئی نہ کوئی خیال گھیرے رہتا ہے، لہٰذا تنہائی کہاں ہے؟ تنہائی کیا ہے ؟ اس بات کا دارومدار انسان کی سوچ پر ہے۔ بعض لوگ تنہائی کے لمحات ڈھونڈنے میں ساری زندگی صرف کرتے ہیں اور کچھ لوگ تنہائی کی ناگن کے ساتھ لڑتے لڑتے زندگی بتاتے ہیں۔ تنہائی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انسان دنیا میں تنہا آتا ہے اور تنہا ہی دنیا سے چلا جاتا ہے۔ مشہور و معروف شاعر حکیم مومن خان مومن نے اپنے ایک لافانی شعر سے خود کو ہی نہیں تنہائی کو بھی لازوال بنا دیا ہے۔ شعر یوں ہے۔

 تم میرے پاس ہوتے ہو گویا

 جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

 انسان اکیلا ہو سکتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ احساسِ تنہائی کا شکار ہو۔ احساسِ تنہائی اس وقت شروع ہوتا ہے جب ایک انسان اپنے آپ کو سماجی طور پر ٹھکرایا ہوا اور علیحدہ تصور کرنے لگے، وہ رشتہ داروں ، دوست و احباب کی کمی محسوس کرنے لگے۔ ایسے انسان کے لئے تنہائی کا مطلب ہوتا ہے، میرا کوئی نہیں ہے اور میں کسی کا نہیں ہوں۔ جیسے مرزا غالب فرما گئے ہیں

رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو

 ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو

 بے در و دیوار سا اک گھر بنانا چاہئے

 کوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو

 پڑئیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیمار دار اور

 اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو

 تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ تنہائی کا احساس انسان کی صحت کے لئے ضرر رساں ہو سکتا ہے۔

ایک یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو طلبا دوستوں سے ملنے جلنے کی بجائے تن تنہا زندگی گزارنے کے عادی تھے ان کا نظامِ قوتِ مدافعت ان طلبا کے مقابلے میں بے حد ضعیف تھا جو اپنا وقت دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق، کھیل کود اور تفریح میں گزارنے کے عادی تھے۔ اسی تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ کچھ طالب علم دوستوں کے درمیان رہ کر بھی احساسِ تنہائی کے شکار تھے، ایسے طلبا میں سے بیشتر نیند میں دائمی خلل کے بھی شکار تھے۔ احساسِ تنہائی کے شکار لوگ ہر وقت ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان کا فشار خون بڑی تیزی سے بلند یوں کو چھو سکتا ہے اور بعض اوقات دوائیوں کے استعمال سے بھی کم نہیں ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں ان کے جسم میں کولیسٹرول اور سیٹرس ہارمون کورٹیزول کی مقدار زیادہ ہونے کا امکان ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ایسے لوگ پریشانی، مایوسی اور افسردگی جیسے نفسیاتی امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ مگر محققین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سماجی علیحدگی اور احساسِ تنہائی میں فرق واضح کرنا لازمی ہے۔ اپنی مرضی سے سماجی علیحدگی اختیار کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ فرد احساسِ تنہائی کا شکار ہو۔ سماجی زندگی سے کنارہ کشی کا مطلب یہ نہیں کہ فرد کو احساسِ تنہائی بھی ہو۔ سماجی زندگی سے دوری اختیار کرنا فرد کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے جبکہ احساسِ تنہائی ایک مخصوص ذہنی کیفیت ہے۔ کچھ لوگ ’’لوگوں کے سیلاب‘‘ سے دور اپنی ایک الگ دنیا بسا کر اطمینان کا سانس لیتے ہیں۔

 احساسِ تنہائی میں مبتلا ہونے کا مطلب’’اکیلا‘‘ ہونا نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص کسی بھیڑ یا جشن میں بھی اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتا ہے اور کوئی شخص اکیلا ہونے کے باوجود بھی تنہائی کے احساس کا شکار نہیں ہوتا۔ احساسِ تنہائی ایک ایسی درد بھری ذہنی کیفیت ہے جس میں مبتلا شخص اپنے آپ کو سماجی زنجیرسے ’’کٹا ہوا‘‘ حلقہ محسوس کر کے یہ سوچنے لگتا ہے کہ اس کی بنیادی اور ضروری خواہشات پورا کرنے میں کوئی بھی شخص دلچسپی نہیں لے رہا ہے۔ اس لئے یہ ایک نفسیاتی عارضہ ہے۔

جب احساسِ تنہائی کسی بھی شخص کو اپنی گرفت میں لیتا ہے تو

٭وہ محسوس کرتا ہے کہ اسے ’’محفل‘‘ سے نکالا گیا ہے۔

٭اس کا کوئی چاہنے والا نہیں ہے۔

٭وہ اپنے ماحول میں اپنے آپ کو بیگانہ محسوس کرتا ہے۔

٭ اسے یوں لگتا ہے کہ ایسا کوئی شخص نہیں جس کے ساتھ وہ اپنے تجربات، احساسات اور دکھ درد بانٹ سکے۔

٭اسے دوست بنانے میں دشواری پیش آتی ہے۔ وہ کسی اجنبی کے ساتھ سلام کرنے کی حد سے آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ اور پھر اِن کے منفی اثرات یوں ظاہر ہوتے ہیں۔

٭احساسِ تنہائی کا شکار فرد احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

٭اسے ہر وقت یہ خیال ستاتا ہے کہ ’’یہاں کسی کو بھی میری ضرورت نہیں ہے‘‘۔

٭ وہ دعوتوں اور محفلوں میں جانے سے گھبراتا ہے۔

٭وہ خود پسندی اور ’’خود آگہی‘‘ کے وہم میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

٭وہ کوشش کے باوجود اپنے جذبات اور احساسات بیان نہیں کر سکتا ہے۔

٭وہ دوسروں سے ہم کلام ہونے سے کتراتا ہے۔

٭وہ اپنے مسائل و مشکلات کسی دوسرے سے بیان کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے۔

٭وہ ایک مخصوص اور تنگ دائرے میں مقید ہو کر رہ جاتا ہے۔ اور پھر وہ ’’موجودہ جگہ‘‘ یا ماحول سے راہِ فرار اختیار کرتا ہے۔ مثلاً اگر وہ والدین کے ساتھ رہتا ہو تو اچانک کسی وقت بنا سوچے سمجھے گھر سے بھاگ کرکسی اور جگہ پناہ لیتا ہے، اس وقت وہ یہ بھی نہیں سوچتا کہ اسے مستقبل میں کن مشکلات ومسائل کا سامنا کرنا پڑے گا، اسی لئے گھر سے دور رہ کر ایسے نوجوان ایسی غلطیوں کے مرتکب ہو جاتے ہیں جن کا خمیازہ انہیں عمر بھر بھگتنا پڑتا ہے۔

نذیر مشتاق

سیاسی جماعتیں ختم نبوت سے متعلق حلف نامے کی بحالی کیلیے متفق

قومی اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں نے ختم نبوت سے متعلق حلف نامے کو اصل شکل میں واپس لانے کے لیے فوری آئینی ترمیم کے لیے اتفاق کر لیا ہے۔ قومی اسمبلی میں پارلیامنی لیڈران کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے سردار ایازصادق نے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کے وقت ختم نبوت سے متعلق حلف نامے کے الفاظ میں غلطی ہوگئی تھی، غلطی کودرست کرنا کوئی بری بات نہیں، اس کے لیے انہوں نے پارلیمانی لیڈران کا اجلاس بلایا تھا۔ ہم ختم نبوت سے متعلق حلف نامہ پرانی حیثیت میں بحال کریں گے۔ وفاقی وزیرقانون زاہد حامد نے کہا کہ ساری جماعتوں کا مشکور ہوں انہوں نے اس معاملے پر اتفاق کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن نے اس کی نشاندہی کی اوراسے اسمبلی میں سامنے لایا گیا، یہ بڑا حساس ، جذباتی اور اہم مسئلہ ہے، اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں ایک ترمیم کی جائے گی جس کے ذریعے حلف نامے کو اس کی اصل شکل میں لایا جائے گا، اس کے ساتھ ہی میں نے تجویز دی ہے کہ شق 203 پربھی نظرثانی کی جائے کیونکہ یہ معاملہ عدالتوں میں جا چکا ہے۔ اس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس میں اسپیکرقومی اسمبلی سردارایاز صادق کی زیرصدارت پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں شیخ صلاح الدین، اکرم درانی، شاہ محمود قریشی، مولانا امیرزمان اور دیگر پارلیمانی لیڈر شریک ہوئے۔ الیکشن بل میں امیدواروں کے حلف نامے میں الفاظ کی تبدیلی سے پیدا صورتحال پر غور کیا گیا، اجلاس میں سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران نے فیصلہ کیا کہ کاغذات نامزدگی میں حلف نامے کو اس کی اصل شکل میں لایا جائے گا۔