زیارت ریذیڈنسی، اعلیٰ فن تعمیر کا شاہکار

زیارت ریذیڈنسی کو اس لئے اہمیت حاصل ہے کہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی کے آخری دن یہاں گزارے ۔ لکڑی سے تعمیر کی گئی یہ رہائش گاہ اعلیٰ فن کی عکاس ہے ، عمارت کے اندر بھی لکڑی کا استعمال بہت خوبصورتی سے کیا گیا ۔ 8 کمروں پر مشتمل ریذیڈنسی میں 28 دروازے بنائے گئے ، قیام پاکستان کے بعد 1948 میں اس رہائش گاہ کی تاریخی اہمیت میں اس وقت اضافہ ہوا جب یکم جولائی کو قائد اعظم ناسازی طبیعت کے باعث یہاں تشریف لائے ۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی کے آخری دو ماہ دس دن اس رہائش گاہ میں قیام کیا۔ جس کے بعد اس رہائش گاہ کو قائد اعظم ریذیڈنسی کا نام دے کر قومی ورثہ قرار دیا گیا ۔

عمارت کے بیرونی چاروں اطراف میں لکڑی کے ستون ہیں ، پاکستان کے سو روپے کے نوٹ کے عقبی رخ پر اس کی تصویر موجود ہے ، ریذیڈنسی میں قائم کمروں میں ایک کمرہ محترمہ فاطمہ جناح اور ایک کمرہ قائد اعظم محمد علی جناح کے ذاتی معالج کا اور ایک کمرہ ان کے ذاتی معتمد کے لیے مختص تھا۔ ریذیڈنسی میں قائد اعظم کے زیر استعمال کمروں میں کئی تصاویر آویزاں ہیں جن میں قائداعظم محمد علی جناح کی بیٹی ، بہنیں اور بلوچستان کے قبائلی عمائدین اور دیگر سرکردہ شخصیات ان کیساتھ ہیں ۔

انٹرنیٹ سے متعلق دلچسپ حقائق جو آپ نہیں جانتے

چائینہ میں انٹر نیٹ کے عادی افراد کے علاج کے لئے کیمپ موجود ہیں۔ روزانہ 30 ہزار سے زائد ویب سائٹس ہیک کی جاتی ہیں۔ زیادہ تر انٹر نیٹ ٹریفک انسانوں کی بجائے گوگل اور مال وئیر جیسے روبوٹس کی جانب سے استعمال کی جاتی ہے۔جب مونٹی نیگرو، یوگوسلاویہ سے آ زاد ہوا تو اس کی انٹر نیٹ ڈومین ’’ yu‘‘ سے تبدیل ہو کر ’’me‘‘ ہو گئی تھی۔ امریکا کے 15 فیصد نوجوان انٹرنیٹ کا استعمال نہیں کرتے۔ آج کل محققین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ انٹر نیٹ کا ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے والے افراد کا شمار بھی دماغی مریضوں میں کیا جائے یا نہیں۔

دنیا کا پہلا ویب کیم کیمبرج یونیورسٹی میں بنایا گیا تھا۔ تقریباً 1 لاکھ نئی ’’ ڈاٹ کوم‘‘ ڈومینز یومیہ رجسٹرڈ کی جاتی ہیں۔ بر طانیہ میں9 ملین نوجوانوں نے کبھی انٹر نیٹ استعمال نہیں کیا۔ فلپائن، جنوب مشرقی ایشیا میں 3.54 Mbps کے حساب سے سب سے سست انٹر نیت رفتار رکھنے والا ملک ہے۔ انٹر نیٹ یو زرز ایک منٹ میں 204 ملین ای میلز بھیجتے ہیں۔ چائینہ میں موبائل پر انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ پر انٹر نیٹ استعمال کرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔

دنیا میں بھیجی جانے والی تمام ای میلز میں سے 70 فیصد ’’ سپیم‘‘ ہوتی ہیں۔ اٹلی کی ایک تہائی آ بادی نے کبھی انٹر نیٹ استعمال نہیں کیا۔ ’’وائی فائی ‘‘ میں ’’ فائی‘‘ کا کوئی مطلب نہیں ہے، ڈویلپرز نے اس کو اس لئے اس لفظ میں شامل کیا کیونکہ اس کی شمولیت سے ’’وائی فائی‘‘ لفظ ’’ہائی فائی‘‘ سے تشبیہ رکھتا ہے۔ 1993ء کے اختتام پر دنیا میں صرف 623 ویب سائٹس تھیں۔ دنیا کی 6 فیصد آبادی خطرناک حد تک انٹر نیٹ کی عادی ہے۔ انٹر نیٹ سے قبل ’’LOL‘‘ کا مطلب ’’Lots of Love‘‘ ہوا کرتا تھا۔ ایک سال میں صرف 37.9 فیصد لوگوں کو انٹر نیٹ تک رسائی حاصل ہو پاتی ہے۔ 2010ء میں فن لینڈ دنیا کا واحد ملک تھا جہاں انٹر نیٹ کی سہولت کو قانونی حق قرار دیا گیا تھا۔ 1971ء میں دنیا میں پہلی بات انٹر نیٹ پر جو چیز خریدی یا بیچی گئی وہ میری جووانا کا ایک بیگ تھا۔ 1996ء میں Alexandria میں ایک لائبریری قائم کی گئی جس میں اب تک کے انٹر نیٹ پیجز کی کاپیا ں موجود ہیں۔

اگر انٹر نیٹ ایک دن کے لئے کام کرنا چھوڑ دے تو 196 بلین ای میلز اور 3 بلین گوگل سرچز کو انتظار کرنا پڑے گا۔ بھارت میں انٹر نیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد امریکہ کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ ناسا کا انٹر نیٹ عام انٹر نیٹ استعمال کرنے والے سے 13 ہزار گنا زیادہ تیز ہے۔ ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ضرورت سے زیادہ انٹر نیٹ استعمال کرنے والے ڈپریشن ، یکسانیت اور دماغی عدم توازن کا شکار ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق لوگوں کو انٹر نیٹ کی سہولت سے دور رکھنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ایلن کی مشہور آ سکر سیلفی کو 3.3 ملین مرتبہ ری ٹویٹ کیا گیا تھا۔ مشہور ویب سائٹ ایمازون نے اپنی پہلی کتاب 1995ء میں فروخت کی تھی۔

 تنزیل الرحمن جیلانی

اپنے اسمارٹ فون کو کبھی صاف کیا ہے؟

ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ آخری بار آپ نے اپنے فون کو کب صاف کیا تھا؟
اکثر افراد کا جواب یہی ہوگا کہ یاد نہیں۔ اگر آپ کا جواب بھی یہی ہے تو بہت زیادہ امکانات اس بات کے ہیں کہ آپ کے اسمارٹ فون کی اسکرین پر کسی ٹوائلٹ سے بھی زیادہ جراثیم ہو سکتے ہیں۔ جی ہاں ہو سکتا ہے کہ آپ کو یقین نہ آئے مگر موبائل فون ایسی ڈیوائس ہے جو گھر میں سب سے زیادہ جراثیم سے آلودہ ہوتی ہے اور یہ آپ کو فوڈ پوائزننگ یا ہاضمے کی خرابی کے ساتھ ساتھ دمے اور دیگر بیماریوں کا شکار کرنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

امریکا کی کنساس اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لوگ خاص طور پر خواتین برتن صاف کرنے والے کپڑوں کو سب سے زیادہ چھوتی ہیں اور مضر صحت جراثیم کو یہاں وہاں پھیلا دیتی ہیں۔ عام طور پر ایک فرد دن بھر میں اپنے اسمارٹ فون کی اسکرین کو سیکڑوں بار چھوتا ہے اور ہر جگہ اپنے ساتھ لے جاتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچن اسفنج جیسی جراثیموں سے بھرپور شے کو چھونے کے بعد بھی فون کو استعمال کرتا ہے۔ ہر بار ایسا کرنے پر ہاتھوں سے ایسے وائرس اور بیکٹریا فون پر منتقل ہو رہے ہوتے ہیں جو کہ سانس کی نالی میں زندہ رہ سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ بہتر ہوگا کہ فون کو روزانہ دن کے اختتام پر صاف کر لیا جائے۔ ویسے تو ٹچ اسکرین پر کلینرز کے استعمال کی اجازت اکثر فون کمپنیاں نہیں دیتیں مگر ایسے مائیکرو فائبر کپڑے دستیاب ہیں جو بیکٹریا کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔ اسی طرح کچھ ماہرین کے مطابق کبھی کبھار اینٹی بیکٹریل سے اس کی صفائی بھی فائدہ مند ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر آپ اپنا فون صاف نہیں کرتے تو ایسا ضرور کریں۔

ووٹ کی بے حرمتی کیا سیاستدانوں نے بھی نہیں کی ؟

اپنی نااہلی کے بعد میاں نواز شریف نے جی ٹی روڈ کے ذریعے گھر واپسی کا سفر تو مکمل کیا لیکن ایک نئے سیاسی سفر کے آغاز کا پیغام دے دیا جس کا مقصد ووٹ کے تقدس کی بحالی ہے۔ اسلام آباد سے لاہور تک کے اس سفر کے دوران سابق وزیر اعظم نے بار بار ووٹ کی بے حرمتی کی بات کی اور کہا کہ عوام ووٹ دے کر اپنا وزیر اعظم منتخب کرتے ہیں لیکن چند لوگ ووٹوں کے ذریعے چنے گئے وزیر اعظم کو اپنا دور اقتدار مکمل کیے بغیر نکال باہر کرتے ہیں۔ میاں صاحب بار بار پاکستان کی تاریخ کا حوالہ دے کر لوگوں کو بتاتے رہے کہ کسی ایک وزیر اعظم کو اپنی ٹرم مکمل کرنے نہیں دی گئی جب کہ فوجی ڈکٹیٹرز لمبے لمبے عرصہ تک اقتدار پر قابض رہے۔

میاں صاحب کا کہنا تھا کہ وزرائے اعظم کا اس طرح نکالا جانا دراصل ووٹ کی بے حرمتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کا مقصد ووٹ کی حرمت کو بحال کرنا ہے۔ بلاشبہ میاں صاحب نے ایک پرکشش نعرہ کے ساتھ اپنی نااہلی کے فیصلہ کو عوام کے سامنے رکھا۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے گٹھ جوڑ نے کسی سول حکومت اور وزیر اعظم کو جم کر کام کرنے کا موقع نہیں دیا جس کی وجہ سے ستر سال گزرنے کے باوجود ہم آج تک اپنی سمت کا تعین نہیں کر سکے۔ یہ بھی درست ہے کہ عدلیہ اور فوج کے اس گٹھ جوڑ نے عوام کی ووٹ کی بار بار تزہیک کی۔

لیکن کیا یہ درست نہیں کہ ووٹ کی بے حرمتی سیاستدانوں اور وزرائے اعظم نے بھی کی۔ اگر ووٹوں کے ذریعے چنے گئے وزیر اعظم کو کسی ایک یا کسی دوسرے بہانہ نکالنا ووٹ کے تقدس کی پامالی ہے تو کیا یہ بھی درست نہیں کہ ہماری سو ل و جمہوری حکومتوں نے بھی ووٹ کو اپنے اقتدار کے حصول کے لیے تو ضرور استعمال کیا لیکن ووٹرز سے کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا۔ کیا یہ بھی ووٹ کی بے حرمتی نہیں؟؟ کیا الیکشن میں کیے گئے وعدوں اور پارٹی منشور کو بھلا دینا بھی سول حکومتوں اور وزرائے اعظم کی طرف سے ووٹ کی بے حرمتی نہیں۔ میاں صاحب نے لاہور میں جی ٹی روڈ مارچ کے اختتامی جلسہ سے خطاب کرتے عوام سے وعدہ کیا کہ وہ عوام جلد انصاف کی فراہمی کا وعدہ کرتے ہیں کیوں کہ یہاں نسلیں ختم ہو جاتی ہیں لیکن کسی کو انصاف نہیں ملتا۔

میاں صاحب نے غریب اور متوسط طبقہ کو کم قیمت گھروں کی فراہمی کا بھی وعدہ کیا۔ یہی وعدے میاں صاحب نے 2013 الیکشن مہم کے دوران کیے ۔ انہی وعدوں کا مسلم لیگ ن کے گزشتہ الیکشن منشور میں بھی تفصیل کے ساتھ ذکر ہے۔ لیکن اپنے گزشتہ چار سالہ دور حکومت میں میاں صاحب نے ان وعدوں کو پورا کرنے کے لیے کوئی خاص توجہ نہ دی۔ ن لیگ کا پارٹی منشور پڑھیں تو آپ کو اور بہت بڑے بڑے وعدے مل جائیں گے لیکن اُن وعدوں کو اقتدار میں آتے ہی میاں صاحب بھلا بیٹھے۔ کیا یہ ووٹ کی بے حرمتی نہیں؟؟ میاں صاحب نے تو لٹیروں کے احتساب اور نئے احتساب کمیشن بنانے کا بھی وعدہ کیا تھا لیکن اس سلسلہ میں اپنے دور حکومت میں کچھ نہ کیا؟؟

میاں صاحب نے پولیس اور سول سروس کو غیر سیاسی کرنے کا بھی وعدہ کیا لیکن یہ وعدہ بھی بھول گئے۔ یہی حال دوسری سیاسی جماعتوں کا رہا۔ پی پی پی نے ہمیشہ اپنی سیاست روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرہ پر کی لیکن عوام کو روٹی ملی، نہ کپڑا اور نہ ہی مکان۔ اگرچہ ڈکٹیٹرشپ اور جمہوری حکومت کا کوئی تقابل نہیں لیکن پاکستان کے جمہوریت پسندوں کو ایک بات سمجھنی پڑے گی کہ جمہوریت صرف الیکشن اور ووٹ کا نام نہیں بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ عوام کی زندگیوں کو اُن وعدوں اور اُس منشور کے مطابق بدلا جائے جن کے نام پر عوام سے ووٹ حاصل کیے گئے۔ ووٹ کو اپنے اقتدار کے حصول کے لیے استعمال کرنا اور عوام سے کیے گئے وعدوں کو بھلا دینا ووٹ کی بے حرمتی اور ووٹر کے ساتھ مذاق ہے۔

میاں صاحب اگر کچھ بدلنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے اپنے وعدوں کو پورا کریں، عوام کی زندگیوں میں بہتر حکمرانی اور اصلاحاتی ایجنڈے سے ایسی تبدیلی لائیں کہ لوگ خوشی محسوس کر سکیں، انہیں اپنا آپ بہتر لگے، اُن کی عزت میں اضافہ ہو، سرکاری محکموں میں اُن کے کام رشوت اور سفارش کے بغیر کیے جائیں، حکومتی محکمہ جس کام کے لیے بنے ہوں وہ کام وہ مستعدی سے کریں نہ کہ احسان جتلا کر۔ جمہوریت اور آمریت کے درمیان فرق کو ووٹر اور عوام کے لیے اپنی پرفارمنس اور ڈلوری سے واضع کریں۔ محض نعروں اور وعدوں سے کچھ نہیں ہونے والا۔

انصار عباسی