ترکوں نے ثابت کر دیا کہ وہ جمہوریت اور رجب طیب اردگان کے ساتھ کھڑے ہیں

ترکوں نے ثابت کر دیا کہ وہ جمہوریت اور رجب طیب اردگان کے ساتھ کھڑے ہیں.  رجب طیب اردگان کا کہنا تھا کہ ‘آج کے بعد ویسا کچھ نہیں ہوگا جیسا 15 جولائی سے پہلے ہوتا تھا’۔ ناکام بغاوت کا پہلی جنگ عظیم سے تقابل کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘قوموں اور ریاستوں کی تاریخ میں اہم ٹرننگ پوائنٹ آتے ہیں جو ان کی مستقبل سازی کرتے ہیں، 15 جولائی ترکی کے لیے ایسی ہی ایک تاریخ تھی’۔بغاوت کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر ترک حکومت کے بنوائے گئے خصوصی پوسٹرز ملک کے مختلف علاقوں میں آویزاں کیے گئے۔

 

خیبر ایجنسی

    خیبر ایجنسی لنڈی کوتل، جمرود اور باڑہ کی تحصیلوں پر مشتمل ہے، اس کا رقبہ کوئی 995 مربع میل ہے، اس علاقے کا انتظام براہ راست وفاقی حکومت کے تحت ہے۔ اس لیے اسے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ یا ’’فاٹا‘‘ کہا جاتا ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے گورنر، وفاق کے نمائندے اور صدر پاکستان کے ایجنٹ کے طور پر ان علاقوں کے انتظامی سربراہ ہیں۔ اسکی اکثریت آفریدی قبیلہ سے تعلق رکھتی ہے۔ تاہم شنواری، ملاگوری اور شلمانی بھی اس علاقے کے باشندے ہیں۔ ان حریت پسندوں نے پورے سو برس تک فرنگی حکمرانوں کے خلاف جہاد جاری رکھا یہاں تک کہ غیر ملکی سامراجیوں کو یہاں سے نکلنا پڑا۔ خیبر ایجنسی کی اصل اہمیت درہ خیبر ہی کے باعث ہے تاریخ کے مختلف ادوار میں وسط ایشیاء سے آنے والے حملہ آور اسی درہ سے گزرکر ہندوستان پہنچتے رہے۔

یہ درہ کیا ہے؟ اونچی نیچی پہاڑیوں کے مابین پیچ وخم کھاتی ہوئی ایک گھاٹی ہے۔ اصل درہ جمرود کچھ آگے شادی گھیاڑ کے مقام سے شروع ہو کر پاک افغان سرحد پر واقع مقام طورخم تک پہنچتا ہے جو کوئی 33 میل لمبا ہے جمرود کے مقام پر اس درہ کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے شاہراہ پر ایک خوبصورت محرابی دروازہ بنایا گیا ہے جسے ’’باب خیبر‘‘ کہتے ہیں یہ دروازہ جون 1963ء میں بنا۔ باب خیبر پر مختلف تختیاں نصب ہیں جن پر اس درہ سے گزرنے والے حکمرانوں اور حملہ آوروں کے نام درج ہیں۔ ’’باب خیبر‘‘ کے پاس ہی جرگہ ہال ہے جہاں قبائلی نمائندوں کے اجلاس منعقد ہوتے ہیں۔ جمرود میں ایک اونچے مقام پر مٹیالے رنگ کا قلعہ ہے جس کی شکل و صورت ایک بحری جہاز کی طرح ہے۔ سکھ جرنیل ہری سنگھ نلوہ نے 1836ء میں درہ خیبر کی حفاظت کے لیے یہ قلعہ تعمیر کروایا تھا۔

لیکن اس کے دوسرے ہی سال مسلمانوں نے ایک معرکہ میں ہری سنگھ کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ ان دنوں یہاں عسکری اداروں کے جوان مقیم ہیں جو پاکستانی سرحدوں کے جیالے پاسبان ہیں قدم کے قصبہ سے لنڈی کوتل کی طرف بڑھیں تو چڑھائی شروع ہوجاتی ہے سڑک کے دونوں جانب ہزار ڈیڑھ ہزار فٹ اونچی پہاڑی چٹانیں ہیں۔ علی مسجد تک پہنچتے پہنچتے سڑک سکڑ کر صرف پندرہ فٹ رہ جاتی ہے۔اس مسجد کے پاس ایک اونچی جگہ شاہ گئی کا قلعہ ہے۔ یہاں پانی کے چشمے بھی ہیں۔ لنڈی کوتل اس سڑک پر بلند ترین مقام ہے۔ یہاں سے پھر اترائی شروع ہو جاتی ہے۔

برہان وانی : تمھارے بعد کہاں وہ وفا کے ہنگامے

 

برہان وانی : تمھارے بعد کہاں وہ وفا کے ہنگامے

برہان وانی نے کھل کر سوشل میڈیا کے ذریعے کشمیری نوجوانوں کو بندوق اٹھانے اور بھارت کیخلاف مسلح جدوجہد کی راہ اپنانے کی بھرپور مہم چلائی جس کے جواب درجنوں نوجوان بھارتی فوج اور کشمیر پولیس سے اسلحہ چھین کر مجاہدین کی صفوں میں شامل ہونے لگے۔

 

 

 

 

 

فیس بک پر صرف ’’لائیک ‘‘ کرنے کا نقصان

    .بہت سے لوگ دن بھر میں آنکھیں بند کر کے سینکڑوں لائیک کر کے ہی دم لیتے

ہیں۔ لیکن وہ اس کے نقصانات سے بے خبر ہوتے ہیں ایک لائیک کرتے ہی آپ کی سرچ ہسٹری سوشل میڈیا کے کرتا دھرتائوں کے علم میں آ جائے گی۔ وہ جو چاہیں معلوم کر سکتے ہیں۔ چنانچہ سوچ سمجھ کر لائیک یا ڈس لائیک کیجیے۔ وہ یہ سب کچھ بند کمپیوٹرز پر بھی کر سکتے ہیں۔ سرچ انجن کوئی بھی ہو ، یا سوشل میڈیا ہو، آپ کمپیوٹر بند کر کے کسی اورکام پر لگ جائیں لیکن سوشل میڈیا کے کرتا دھرتا اگر چاہیں تو بند کمپیوٹرز پر بھی آپ کی سرچ ہسٹری کا پتا چلا سکتے ہیں۔ جب کوئی کسی بھی ویب سائٹ پر لائیک کا بٹن دباتا ہے تو یہ انٹرنیٹ کے ریکارڈ میں چلا جاتا ہے اور فیس بک کے ریکارڈ میں بھی۔

بند کمپیوٹرز پر بھی یہ ادارے اس کی مدد سے ڈیٹا معلوم کر سکتے ہیں۔ ایسا ہی ایک مقدمہ امریکہ میں دائر ہوا، ایک شخص نے فیس بک انتظامیہ پر اپنا ڈیٹا چوری کرنے کا الزام لگایا۔ تاہم امریکی جج نے تکنیکی وجوہات کی بنا پر ریلیف دینے سے گریز کیا۔ درخواست گزار نے کہا کہ فیس بک بند کمپیوٹر پر اس کا ڈیٹا چوری کر سکتا ہے ۔ اس کے کیخلاف فیصلہ سنایا جائے‘‘۔ عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے ایسا کوئی واقعہ نہیں درج کیا جس سے ڈیٹا کی چوری کا پتہ چل سکے۔ درخواست دہندہ بہت سے طریقوں سے اپنا سسٹم محفوظ بنا سکتا ہے۔اس نے ایسا کیوں نہیں کیا۔ وہ اپنے سسٹم کو محفوظ بنانے میں خود ناکام رہا ہے۔امریکی ڈسٹرکٹ جج ایڈورڈ ڈیولا کے مطابق کیلی فورنیا کا یہ شہری اپنے سسٹم کی پرائیویسی کو قائم رکھنے میں ناکام رہا۔ وہ چاہتا تو مختلف طریقوں کے ذریعے اپنی پرائیویسی قائم رکھ سکتا تھا۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس لیے درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ خواتین و حضرات آپ بھی ہوشیار رہیے،ایک لائیک مہنگی پڑ سکتی ہے۔

سید آصف عثمان گیلانی