گلزار محل بہاول پور

1904ء میں نواب بہاول پور خان خامسی نے دربار سے متصل نہایت خوبصورت گلزار محل تعمیر کروایا۔ یہ محل کئی عمارتوں پر مشتمل ہے۔ اس کے کئی دروازے ہیں۔ عام دیوار سنگ مرمر کی ہے۔ چھتوں پر پچی کاری کا کام کیا گیا ہے۔ ہال کے ساتھ گیلری ہے جہاں والیان ریاست کی تصاویر دیوار پر آویزاں ہیں۔ یہ محل نواب صاحب کے ولی عہد کے زیر تصرف رہا۔ اب اس میں فوجی دفاتر موجود ہیں۔

مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی ‘غیر قانونی’

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس وقت ایک اور قانونی دھچکے کا سامنا کرنا پڑا جب ایک وفاقی اپیل کورٹ نے چھ مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر عائد پابندی کو بحال کرنے سے انکار کر دیا۔ امریکا کے شہر سان فرانسسکو میں قائم نویں سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے پہلے امریکی ریاست ہوائی کے ایک وفاقی جج کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی سفری پابندی کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ری پبلکن صدر کا 6 مارچ کا حکمنامہ موجودہ امیگریشن قوانین سے متصادم ہے۔

مگر تین ججوں، جو کہ سب ڈیموکریٹک پارٹی کے نامزد کردہ ہیں، پر مشتمل اس پینل نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ سفری پابندی مسلمانوں کے خلاف غیر آئینی تفریق ہے۔ دوسری جانب رچمنڈ، ورجینیا میں قائم چوتھی سرکٹ کورٹ آف اپیل نے بھی 25 مئی کو ریاست میری لینڈ کے ایک جج کی جانب سے ٹرمپ کی سفری پابندیوں کے خلاف دیے گئے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔ اس عدالت نے اپنے حکمنامے میں کہا تھا کہ یہ پابندیاں مسلمانوں کے خلاف “مذہبی عدم برداشت، تفریق، اور مخاصمت سے بھرپور ہیں۔”

ٹرمپ انتظامیہ اپنی ان سفری پابندیوں پر اب تک تمام عدالتی سماعتوں میں ناکام رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان اسپائسر کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ پیر کے روز آنے والے عدالتی حکمانے کا جائزہ لے گی۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ سفری پابندیاں مکمل طور پر قانونی ہیں، اور سپریم کورٹ انہیں برقرار رکھے گی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر نے اقتدار سنبھالتے ہی لیبیا، ایران، صومالیہ، سوڈان، شام، اور یمن کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر 90 روزہ پابندی عائد کر دی تھی۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ امریکا کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا تھا، کیوں کہ ان ممالک کے شہری دہشتگردی میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ سفری پابندیوں کے خلاف فوراً ہی وکلاء تنظیموں اور عوام نے درخواستیں دائر کیں، جس کے بعد سے لے کر اب تک یہ پابندی معطل ہے، اور اب اس کا حتمی فیصلہ امریکا کی سپریم کورٹ میں ہوگا۔

امریکا افغانستان میں جنگ جیت نہیں رہا ؟

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے کہ امریکا سولہ سال بعد بھی افغانستان میں جنگ نہیں جیت رہا، ملک میں طالبان کا اثرو رسوخ بڑھ رہا ہے ۔ امریکی وزیر دفاع نے افغانستان میں استحکام کے لیے مزید امریکی فوجیوں کی تعیناتی پر بھی زور دیا ہے۔ کانگریس میں اپنے بیان میں امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کا کہنا تھا کہ امریکا 16 سال بعد بھی افغانستان کی جنگ نہیں جیت رہا بلکہ افغانستان میں استحکام کے لیے ضروری ہے کہ مزید امریکی فوجیوں کو تعینات کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو افغانستان سے اس صورت حال میں نہیں نکلنا چاہئے بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان میں طویل مدت کی بنیاد پر امریکی فوجیوں کو تعینات کیا جائے تاکہ وہ افغان سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کو قیام امن میں مدد دے سکیں ۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جیمز میٹس افغانستان کے لیے مزید 3 سے 5 ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی بنتی کہاں ہے ؟

ممالک کی خارجہ پالیسیاں آخر بنتی کہاں ہیں؟ کیا یہ بند کمروں میں طویل اجلاسوں میں بنتی ہیں، وزیر اعظم کے خصوصی طیارے میں کسی غیرملکی ثالثی مشن کی پرواز کے دوران بنتی ہیں یا پارلیمانوں میں بنتی ہیں؟ اس کی تفصیل یا بو تک نہ تو وزارت خارجہ کی ویب سائٹ سے، سرکاری میڈیا یا اس کے تشہیر کے ان گنت محکموں اور وزارتوں سے ملتی ہے اور نہ فوجی ترجمان کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے۔ حکومت کے مخالفین خصوصاً شدت پسند تو اس بارے میں بات سات سمندر پار امریکہ تک لے جاتے ہیں کہ شاید خارجہ پالیسیوں کی فیکٹری وہاں کہیں لگی ہے۔

تو آخر پاکستان میں اس خارجہ پالیسی کی فیکٹری اتنے خفیہ مقام پر کیوں قائم ہے جہاں کسی عام آدمی کی آواز یا خواہش تو کیا پہنچے میڈیا کی جاسوس نظروں سے بھی اوجھل رہتی ہے۔ پارلیمان کے دو پاٹ مطلب دونوں ایوان حکومت سے خارجہ پالیسی کی تفصیل طلب کر کر کے تھک جاتے ہیں لیکن انہیں تسلی دینے کے لیے کم ہی وزرا کے پاس وقت ہوتا ہے۔ ان ایوانوں کے مکین پھر اپنا ایجنڈا ماروضی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے خاموشی سے تبدیل کرلیتے ہیں۔ خیال آتا ہے کہ شاید ملک کے قرب و جوار میں جیسے کہ خلیجی ممالک سعودی عرب اور قطر تک کی پالیسی تو شاید اسلام آباد میں ہی بنتی ہو گی اور باآسانی ہر کسی کی دسترس میں ہو گی لیکن ایسا بھی کچھ نہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف اپنی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر وزراء کی ٹیم کے ساتھ بھاگے بھاگے ’خلیجی ممالک میں پیدا صورتحال‘ کے تناظر میں سعودی عرب روانہ تو ہو گئے لیکن وہاں پاکستان کیا تجویز لے کر گیا، اس پر بات کیا ہوئی، فیصلہ کیا ہوا اور آئندہ کا لائحہ عمل کیا طے ہوا اس بابت نہ سعودی حکومت اور نہ پاکستان کی جانب سے کوئی لب کشائی کا کشت ہوا۔ لوگ حیران ہیں کہ اس دورے سے نتیجہ کیا اخز کریں؟ کیا یہ محض سعودی شاہ کی جانب سے جدہ کے اسلام محل میں افطاری کی معمول کی دعوت تھی یا اس سے بڑھ کر کچھ اور؟

میرے جیسے صحافی سعودی پریس ایجنسی اور پاکستانی سرکاری میڈیا ٹٹولتے رہے کہ کچھ تو معلوم ہو کیا بات ہوئی لیکن اس بابت مکمل خاموشی ہے۔ ترجمان وزارت خارجہ بھی جمعرات کے جعمرات ہفتہ وار بریفنگ میں ہی دکھائی دیتے ہیں اور بس۔ اس سے قبل اسی وزیر اعظم اور سابق فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان اوبال ختم کروانے کے لیے دونوں ممالک کے طوفانی دورے کیے تھے لیکن ان میں سے نکلا کیا آج تک کسی کو معلوم نہیں ہو سکا ہے۔ دونوں مسلمان ممالک کے درمیان کشیدگی تو اب بھی ہے لیکن ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملوں میں بظاہر کمی آئی ہے تو اس کا سہرا کس کے سر ہے؟ پاکستان کے ہوتا تو شاید حکمراں اس کو تسلیم کرتے نہ تھکتے لیکن یہ بھی جدہ یاترا کی طرح بس ایک دورہ تھا۔

سعودی قیادت میں قائم ہونے والے عسکری اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کا فیصلہ کیا کس نے؟ آج تک کسی کو معلوم نہیں ہوسکا۔ بس ایک بیان جاری ہوا جدہ سے اور دو کروڑ عوام کو معلوم ہوا کہ پاکستان اس میچ میں بھی کھیل رہا ہے۔ پھر جنرل راحیل کب، کیسے اور کن شرائط پر سعودی عرب گئے کسی کو کچھ نہیں معلوم۔ خود حکومت نے کبھی کہا کہ انھیں این او سی دے دی پھر کہا نہیں دی اور بل آخر وزیر دفاع خواجہ آصف نے مانا کہ ہاں شاید دے دی ہے۔ اس سے عقل ناقص سے جو نتیجہ اخز کیا جا سکتا ہے وہ یہی ہے کہ حالیہ بھاگ دوڑ کا مقصد خیلجی ممالک اور قطر کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی کی کوئی کوشش ہوسکتی ہے۔

اگر یہ بات درست ہے تو اس بابت لوگوں کو یہاں اعتماد میں لینے میں کیا قباحت ہے؟ عوام کے سامنے تمام صورتحال رکھنے میں کیا مزائقہ ہے۔ آخر جس طیارے پر سفر کیا اور تیل جلایا وہ تو اسی عوام کے خون پسینے کی کمائی سے دیے ہوئے ٹیکس سے آیا ہے۔ اتنا تو ان کا حق بنتا ہے کہ نہیں؟ جس ملک کو کل وقتی وزیر خارجہ نہ مل سکتا ہو وہاں خارجہ پالیسی کی فیکٹری ڈھونڈنے کی ضرورت کیا ہے۔

ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد