پاکستان کو ایران سے دھمکی ملی ہے، یہ دھمکی سرجیکل اسٹرئیک کی ہے، ایرانی افواج کے سربراہ نے یہ دھمکی دی ہے، پتہ نہیں ایرانی حکومت ا ور میڈیا نے اپنے کمانڈرا نچیف پر اعتراض کیا ہے کہ نہیں کہ آپ کون ہوتے ہیں ، ایک دوست اسلامی برادر ملک پاکستان کو دھمکانے والے اور ایسا خوفناک بیان جاری کرنے والے، یہ بیان ایران کی حکومت دیتی تو ہم سمجھتے کہ یہ ایران کی پالیسی کا حصہ ہے مگر کیا پتہ کہ ایرانی آرمی چیف نے اپنی طرف سے بڑ ہانک دی ہو اور اب انہیں اپنے فارن آفس یا پارلمنٹ یا میڈیا یا صدر ممکت کے سامنے پیش ہو کر وضاحتیں کرنا پڑ جائیں۔ پاکستان میں فوج نے ایک ٹویٹ کیا تو لوگ اسکی جان کو آ گئے کہ دیکھو حکم عدولی ہو گئی، چین آف کمانڈ خراب ہو گئی ، بلا تاخیر اسے زہر قاتل قرار دے ڈالا۔
مگر جب پاکستان کے خلاف بھارتی آرمی چیف کہتے ہیں کہ پاکستان پر فوج کشی نہیں کریں گے، انہی کے آدمی کرائے پر لے کر ان کا خون بہائیں گے۔ تو کیا بھارتی حکومت یا سول سوسائٹی نے اسے برا بھلا کہا۔ امریکی سی آئی اے کے سربراہ نے کہا کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ہوا تو ہم اس کے خلاف کاروائی کریں گے اور پھر چند برس بعد یہ دھمکی حقیقت میں بدل گئی، بش نے اور اوبامہ نے کہا کہ جہاں کہیں کسی امریکی کی جان کو خطرہ ہوا تو اس ملک کے خلاف ایکشن لیں گے اور امریکہ پچھلے پندرہ برس سے پوری دنیا کو نشانہ بنا رہا ہے، بھارتی حکومت نے اوڑی سانحے کے بعد دھمکی دی کہ وہ سرجیکل اسٹرائیک کریں گے اور پاکستان کے اند ر جہادی ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گے، اور پھر انہوں نے دعوی کر دیا کہ یہ سرجیکل اسٹرائیک ہو گئی، یہ اسٹرائیک ایک معمہ بن گئی کہ ہوئی یا نہ ہوئی مگر بھارتی حکومت دنیا کے سامنے سچی ہو گئی کہ اسنے اپنی دھمکی پر عمل کر دکھایا، اب وہی دھمکی، اسی ہی زبان میں ایرانی آرمی چیف نے پاکستان کو دی ہے، یہ سرجیکل اسٹرائیک کی دھمکی ہے، اس کے دو حصے ہیں کہ پاکستان ان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرے جو ایران میں کارروائیاں کرتے ہیں اور گر پاکستان نے خاموشی اختیار کی تو ایران ان ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گا۔
سرتاج عزیز نے رسمی طور پر کہہ دیا کہ ہمیں دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے مطلع کرو، ہم کاروائی کریں گے مگر ایران ا س پر مطمئن نہیں ہو گا، ہم نے ہمیشہ کہا کہ گڈا ور بیڈ طالبان کی تمیز کئے بغیر ضرب عضب کا آپریشن کر رہے ہیں مگر امریکہ ہماری بات پر یقین نہیں کرتا، امریکہ تو خیر اس معاملے میں حریف ہے، خود ہمارا میڈیا اور ہماری سول سوسائٹی نہیں مانتی اور اس کا الزام ہے کہ ہم حقانی گروپ کی پشت پناہی کر رہے ہیں ، ڈان لیکس کا سارا جھگڑا ہی اسی بنیاد پر ہے، ہم گھر پھونک تماشہ دیکھنے والی قوم بن گئے ہیں، آپس میں جو تم پیزار چلتی رہتی ہے اور باقی کسر بھارت، افغانستان اور ایران نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہمارے ہاں جھگڑا ہی یہ ہے کہ پاکستان کو خطے میں یا عالمی برادری میں کس نے تنہا کیا، مگر یہ تنہائی صاف نظر ا ٓ رہی ہے، مودی نے دھمکی دی تھی کہ وہ پاکستان کو تنہا کر کے رکھ دے گا، اندرا گاندھی نے بھی ستر اکہتر میں پہلے تو پاکستان کو یکہ و تنہا کیا، اسے عالمی تنہائی کا شکار کیا اور پھر پاکستان کو شکار کیا۔ کیا یہ ڈرامہ پھر دہرایا جانے والا ہے۔ خدا نخواستہ!! اور ا س کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ ایران کے آرمی چیف کو سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہئے تھی، انہیں ایک نظر پاک ایران تعلقات کی طویل تاریخ اور مشترکہ تہذیبی ا ور ثقافتی رشتوں پر بھی ڈال لینی چاہئے تھی، سارے مسئلے دھمکیوں اور سرجیکل اسٹرائیکوں سے حل نہیں ہوتے، اگر پاکستان پر ایران نے سرجیکل اسٹرائیک کی تو پاکستان نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں۔ ایران کو پاکستان کی دفاعی قوت کے بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ ایران اس بھول میں نہ رہے کہ پاکستان میں سیاسی سطح پر جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے مگر وہ یاد رکھے کہ ہماری دفاعی پالیسی ایک طے شدہ امر ہے ا ور ہم اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔
افغانستان نے دانت دکھانے کی کوشش کی تو منہ کی کھائی ، وہ طورخم بارڈر پر لڑا، اب چمن بارڈر پر لڑا، مگر وہ پاک فوج کے حملے کی تاب نہیں لا سکا ، اب ایہ الگ بات ہے کی امریکی ا ور نیٹو افواج ا س کی مد د کو میدان میں نکل آئیں ۔ یہ ایک تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہو گا ، پاکستان کے ساتھ چین ہو گا، روس ہو گا، واقعی سے پاکستان تنہا نہیں ہو گا اور یہی جو سیاسی جماعتیں چونچیں لڑا رہی ہیں، یہ اکٹھی نظر آئیں گی، کیا آرمی پبلک اسکول کے خلاف دہشت گردی کے بعد پاکستان میں اتحاد نہیں ہوا۔ بالکل ہوا۔ کیا کراچی آپریشن پر پورا ملک خوش نہیں، باکل خوش ہے اور مطمئن ہے اور ہر کسی نے سکون کا سانس لیا۔
ایران کی پاکستان سے لڑائی بنتی نہیں، اس سے ایک غلطی ہو گئی کہ کل بھوشن اس کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے لئے آتا جاتا رہا۔ تو کیا ایران اس غلطی پر اڑنا چاہتا ہے، کیا ملے گا یہ اڑی کر کے۔ ایران کے سورما تاریخ میں مشہور ہیں مگر پاکستان گیدڑوں کا ملک نہیں، پاک فوج کا ایک ایک سپاہی اور افسر سورما ہے۔ وہ داد شجاعت دینے میں کسی سے پیچھے نہیں، ایران نے بلا شبہہ عراق سے برسوں تک لڑائی کی مگر پاکستان کوعراق نہ سمجھ لیا جائے، پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، ایران کا دوست ملک ہے، ہمسایہ ہے اور اسلامی رشتوں میں بندھا ہوا ہے، پاکستان کوکوئی ضرورت نہیں کہ اپنے ہمسائے سے چھیڑ چھاڑ کرے، دشمن قوتیں ضرور پاکستان سے آپریٹ کرتی ہوں گی اور ایران کو نقصان پہنچا رہی ہوں گی مگر پاکستان کی د شمن قوت بھارت تو علانیہ طور پر ایران سے کاروائیاں کرتی ہے ا ور ایک طوطا کل بھوشن ساری کہانی اگل چکا ہے، ایران کو ا س پر ندامت کا اظہار کرنا چاہئے اور اگرا سے کوئی اور حقیقی مسئلہ درپیش ہے تو اچھے ہمسایوں کی طرح مل بیٹھ کر اس کا حل نکالنا چاہئے ۔
2016 کے سینٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) کے امتحانات کا حصہ بننے والے صرف 2 فیصد امیدوار کامیاب جبکہ نتائج میں تینوں ٹاپ پوزیشن خواتین امیدواروں کے نام رہیں۔ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کی جانب سے جاری ہونے والے نتائج کے مطابق صرف 2.06 فیصد طالب علم پاس ہونے کے لیے درکار کم سے کم مارکس حاصل کر سکے۔ نتائج پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ایف پی ایس سی کے رکن احمد فاروق کا کہنا تھا کہ ‘اس قدر برا نتیجہ تشویش کی بات ہے جبکہ ملک کے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بہتری لانے کی ضرورت ہے’۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ چند سال سے سی ایس ایس کے امتحان کا نتیجہ مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے، تاہم ایف پی ایس سی اس بات کا تہیہ کیے ہوئے ہے کہ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ احمد فاروق کے مطابق نجی تعلیمی اداروں میں ہونے والا اچانک اضافہ نتائج میں کمی کا اہم سبب ہے۔ ایف پی ایس سی کے جاری کردہ نتائج کے مطابق سال 2016 میں 9643 امیدوار تحریری امتحان کا حصہ بنے اور ان میں سے صرف 202 امیدواروں نے امتحان پاس کیا۔ زبانی امتحان کے بعد 114 مرد امیدواروں اور 85 خواتین امیدواروں کے ساتھ کُل 199 امیدوار کامیاب ہوسکے۔
اس حوالے سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق صرف 193 امیدواروں کی تقرری کی سفارش کی گئی جس میں 109 مرد اور 84 خواتین شامل ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ان امیدواروں کو اسلام آبد کے سیکشن آفیسر اسٹیبلشمنٹ ڈیویژن سے رابطے کی ہدایت دی گئی ہے۔ نتائج کے مطابق تینوں ٹاپ پوزیشنز خواتین امیدواروں نے حاصل کیں جن میں ملیحہ ایثار پہلے، قرۃ العین ظفر دوسرے اور ماریہ جاوید تیسرے نمبر پر رہیں، ان تینوں امیدواروں کا ڈومیسائل پنجاب کا تھا۔
واضح رہے کہ سی ایس اسی کے امتحانات کے نتائج میں گذشتہ چند سال سے تنزلی دیکھنے میں آرہی ہے، 2014 میں 3.33 فیصد طالب علم پاس ہوئے، 2015 میں یہ تعداد 3.11 فیصد تک پہنچی جبکہ 2016 میں صرف 2.09 فیصد امیدوار کامیاب ہوسکے۔ اس حوالے سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد کا کہنا تھا کہ ادارہ، ایف پی ایس سی کے ساتھ مل کر سی ایس ایس کے نتائج میں ہونے والی کمی کی وجوہات تلاش کررہا ہے۔ انہوں نے کہا ‘میں مانتا ہوں کہ کئی تعلیمی مسائل موجود ہیں اور ہم جامعات کے آڈٹ میں مصروف ہیں، علاوہ ازیں میرے خیال سے طلبہ کی کارکردگی کی جانچ اور جامعات میں ان کو پڑھائے جانے والے مضامین میں بھی فرق موجود ہے’۔ ڈاکٹر مختار احمد کے مطابق ایف پی ایس سی اور ان کا ادارہ ہائیر ایجوکیشن سیکٹر کی بہتری کے لیے مل کر کام کررہا ہے
10 مئی کو برصغیر میں جنگ آزادی 1857ء کا آغاز ہوا، اس دن میرٹھ کی رجمنٹ
کے سپاہیوں نے چربی والے کارتوس استعمال کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ کارتوسوں میں سوراور گائے کی چربی شامل کی جاتی تھی جو مسلمان اور ہندو فوجیوں دونوں کے لئے قابل قبول نہ تھی۔ کارتوسوں کے استعمال سے انکار اور بغاوت کے جرم میں ان سپاہیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاری کی خبر پھیلتے ہی دیگر سپاہیوں میں بھی اشتعال پھیل گیا اور وہ آزادی کا پرچم لے کر دہلی پہنچ گئے جہاں بہادر شاہ ظفر برائے نام شہنشاہ ہند تھا۔ اصل حکم ایسٹ انڈیا کمپنی کا چلتا تھا۔ دہلی پہنچ کر سپاہیوں نے مقامی لوگوں کو ساتھ ملا کر بہادر شاہ ظفرکی شہنشاہیت کا اعلان کر دیا۔
ملتان میں فوج کی پلٹن نمبر 62، 69 نے بھی آزادی کا اعلان کر دیا ۔ جنرل بخت خان بھی اپنے ساتھیوں کے ہمرا ہ دہلی پہنچ گیا ۔ بخت خان ایسٹ انڈیا کمپنی میں صوبیدا ر کے عہدے پر رہ چکا تھا اور اسے اینگلو افغان جنگ اور بنگال آرٹیلری کا بھی چالیس سالہ تجربہ تھا۔ ادھر لکھنئو کے والی واجد علی شاہ کی معزولی کے بعد ان کی بیگم حضرت محل میدان میں نکل آئیں۔ زمیندار طبقہ پہلے ہی لگان سے پریشان تھا اور عام لوگ واجد علی شاہ کی بحالی چاہتے تھے، اس طرح لکھنئو بھی جنگ آزادی میں شامل ہو گیا۔ اودھ اور بریلی کو تو ویسے ہی مرکزی حیثیت حاصل تھی ۔ دہلی ، گوالیار، پشاور ، مردان ، حیدر آباد، سکھر ، شکار پور ، جیک آباد کے علاوہ دیگر شہروں میں لوگ باہر نکل آئے جس پر انگریزوں کو تشویش لاحق ہوئی۔ جھانسی کی رانی ، حضرت محل، جنرل بخت خان، تانتیا ٹوپے، کنور سنگھ، فیروز شاہ، خان بہادر خان، نانا صاحب ، مولوی حمد اللہ سمیت بہت سے ایسے گمشدہ آزادی کے متوالے تھے جنہوں نے خلوص دل سے اس جدوجہد کا ساتھ دیا اورآزادی کی خاطر جان قربان کر دی۔
اس تحریک آزادی میں ہندومسلم، سکھ سب ایک تھے۔ گورنر جنرل کے نام کورٹ آف ڈائرکٹرس کی خفیہ کمیٹی کے خط کے مطابق ’’جنگ اودھ کے عوامی رنگ اختیار کرنے کی وجہ بادشاہ کی معزولی اور لگان ہے۔ لگان نے زمینداروں کی بڑی تعداد کو ان کی زمینوں سے محروم کر دیا ہے‘‘۔ دوسری طرف برطانوی مورخ میکلوڈ ڈانس کے مطابق ’’ اودھ کی جدوجہد کو جنگ آزادی قرار دیا جا سکتا ہے ‘‘۔ مرکزی یا قابل ذکر رہنما شامل نہ ہونے کی وجہ سے یہ تحریک کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ چونکہ یہ تحریک منظم نہیں تھی اور پیسے کی کمی کے ساتھ جدید سامان جنگ کی بھی کمی تھی، تلواروں کا مقابلہ بندوقوں سے تھا مختلف والیان ریاست اور صاحب جائیداد لوگوں کی غداری کی وجہ سے جنگ آزادی کو کامیابی نہ مل سکی۔
والیان ریاست سمجھتے تھے کہ مستقبل انگریزوں کا ہے، اس جدوجہد سے کچھ حاصل نہیں ہو گا اس لئے اپنی شان و شوکت اور جان کو دائو پر کیوں لگائیں۔ وہ اس میں شامل ہونے کی بجائے انگریزوں کے وظیفہ خوار بن گئے۔ سر جان لارنس کہتا ہے کہ اگر آزادی کے متوالوں کے ساتھ بڑے رہنما بھی کھڑے ہو جاتے تو ان کی نجات کی کوئی امید نہ تھی۔ چارلس بال کا کہنا تھا کہ ’’اگر بنگال آزادی کے متوالوں کے پاس زمینی رائفل ہوتی تو دہلی اب بھی مغلوں کی ملکیت ہوتا‘‘۔ انگریزوں نے پہلے دہلی کو آزادی پسند متوالوں سے آزاد کرانے کا منصوبہ بنایا، وہ جانتے تھے کہ جب تک بہادر شاہ ظفر دارالحکومت میں موجود ہیں یہ تحریک دبائی نہیں جا سکتی ۔ اس لئے انگریز فوج نے سارا زور پہلے دہلی کو آزاد کرنے میں لگایا۔
لال قلعہ کا محاصرہ کرتے ہی اپنے جاسوسوں اور غداروں کی مدد سے اس پر قبضہ کر لیا۔ جنرل بخت خان وہاں سے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ لکھنو پہنچا تا کہ آزادی کے متوالوں کی مدد کر سکے لیکن تحریک منظم نہ ہونے کی وجہ سے حضرت محل اور جنرل بخت خان کو شکست ہوئی ۔ جضرت محل کو کھٹمنڈو جلاوطن کردیا گیا جب کہ بخت خان چھپتا چھپاتا سوات پہنچا جہاں دیر میں روپوش رہنے کے بعد انتقال کر گیا۔ دہلی کی جدوجہد میں ایک خاتون کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا لیکن اس کا نام آج تک کسی کو معلوم نہیں ہو سکا، بس لوگ بہادری سے لڑنے کی وجہ سے اسے ’’سبز پوش‘‘ کے نام سے یاد رکھتے ہیں کیونکہ وہ سبز لباس پہن کر انگریزوں سے لڑتی رہی۔ انگریز مورخین نے اسے ہندوستان کی ’’جون آف آرک ‘‘کا نام دیا۔
انقلا ب فرانس میں اس کا کردار یادگار رہا۔ سبز پوش خاتون کو انگریز فوج نے گرفتاری کے بعد پھانسی کی سزا سنائی گئی لیکن خاتون ہونے کے ناطے سزا کوعمر قید میں بدل دیا گیا ۔ وہ جیل ہی میں چل بسی یا کیا ہوا ، کسی کو کوئی خبر نہیں۔ جھانسی کی رانی کو بھی انگریزوں نے غداروں کے ذریعے گھیر کر شکست دیدی، اس طرح گوالیار میں تحریک کو دبا دیا گیا۔ ٹیپو سلطان کی 1799 ء میں شہادت کے بعد برصغیر پر انگریزوں کی گرفت مضبوط ہو گئی۔ بہادر شاہ ظفر کو رنگون جلا وطن کردیا گیا اور شہنشاہ ہند کا خطاب بھی ختم کر دیا گیا ۔ اس طرح انگریزوں نے مجاہدین آزادی کو اپنے ہتھکنڈوں سے الگ الگ شکست دے کر تحریک کو دبا دیا ۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ دس ماہ سے حالات انتہائی نازک ہیں جہاں
مظاہرے، سنگ باری، فائرنگ اور عام لوگوں کی ہلاکتیں اب معمول کی بات ہے۔ انڈیا کے خلاف مظاہرہ کرنے والے کشمیری نوجوان ایک جانب ہاتھ میں پتھر لیے کھڑے ہیں تو دوسری طرف انڈین سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں میں بندوقیں ہیں۔ دونوں کا آمنا سامنا ہوتا ہے اور خبریں بنتی رہتی ہیں۔ لیکن ان حالات میں کشمیر کی مائیں کیا سوچتی ہیں؟ اور اپنے بچوں کو وہ کس طرح کا مشورہ دیتی ہیں؟ کشمیر کی کچھ ماؤں سے اسی تعلق سے بات چیت کی اور ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی گئی۔
سری نگر میں رہنے والی 40 سالہ فرزانہ ممتاز پیشے سے ایک صحافی ہیں اور دو بچوں کی ماں بھی۔ وہ بتاتی ہیں کہ کوئی ماں یہ نہیں چاہتی کہ اس کا بچہ غلط راستے پر چلے۔ فرزانہ کہتی ہیں: ‘کشمیر میں ہر دن، کہیں نہ کہیں کوئی زخمی ہوتا ہے۔ کہیں کوئی نہ کوئی مارا جاتا ہے۔ اب یہ عام بات ہو گئی ہے۔ ان حالات میں ایک ماں بہت پریشان رہتی ہے۔‘ ان کا کہنا ہے: ’میں بھی ایک ماں ہوں اور چاہتی ہوں کہ میرا بیٹا سکول اور کالج صحیح سلامت آئے اور جائے۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔ یہاں بچے جب کام پر یا پھر سکول جاتے ہیں تو دن بھر ایک ماں کو پریشان ہونا پڑتا ہے کہ اس کا بچہ محفوظ واپس آ جائے۔ ایسے ماحول میں بہت سی مائیں تو ذہنی مریض بن گئی ہیں۔ ان کا خوف ان پر حاوی ہو گیا ہے۔’ فرزانہ کہتی ہیں کہ اگر مظاہروں کی ضرورت ہے تو وہ ہونے چاہیں لیکن تشدد آمیز احتجاج سے گریز کرنا چاہیے۔
حمیدہ نعیم کشمیر یونیورسٹی میں انگریزی کی پروفیسر ہیں۔ کشمیر میں آئے دن ہونے والے مظاہروں کے درمیان اپنے بچوں کی حفاظت کے تعلق سے حمیدہ نعیم فکر مند رہتی ہیں اور اس کے لیے کشمیر میں وہ فوج کے اجتماع کو پریشانی کا بڑا سبب مانتی ہیں۔ حمیدہ کہتی ہیں کہ ’کشمیر کی ہر ماں کی زندگی فوج کی بھیڑ نے تار تار کر کے رکھ دی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا: ‘کشمیر کے حالات نے سینکڑوں بچوں کو گذشتہ سال اندھا بنا دیا۔ میں نہیں مان سکتی کہ کسی ماں نے اپنے بچوں کو سڑکوں پر فوج کے سامنے جانے کو کہا ہو گا۔’ حمیدہ فوج کے رویے پر بھی سوال اٹھاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ’نوجوانوں کو روکنا اس وقت زیادہ مشکل ہوتا ہے جب انھیں کسی واقعے کے بعد اشتعال دلایا گیا ہو۔‘
سری نگر کے بیمنا علاقے میں رہنے والی 58 سالہ دلشاده سرکاری ملازم اور تین بچوں کی ماں ہیں۔ دلشاده کہتی ہیں: ‘بچہ اپنے والدین کے باغ کا پھول ہوتا ہے۔ کوئی ماں باپ نہیں چاہتا کہ یہ پھول مرجھا جائے۔ ماں باپ کے لیے تو یہی بچہ ان کے بڑھاپے کا سہارا ہوتا ہے۔ لیکن جب حالات خراب ہو جاتے ہیں تو ان بچوں کو یہ برداشت نہیں ہوتا۔‘ ان کے مطابق: ’ماں تو انھیں تشدد سے روکتی ہے لیکن بچے اپنے جذبات میں ہوتے ہیں۔ سکول سے آتے جاتے پتہ نہیں چل پاتا کہ وہ کہاں جاتے ہیں اور کیا کرتے ہیں۔’ سری نگر کے ہی کرن نگر میں رہنے والی 65 سال سنتوش موٹو کشمیری پنڈت ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بچوں کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر بچہ پڑھنے یا کام کرنے کے لیے گھر سے نکلا ہے، تو اسے اپنے کام پر ہی توجہ دینا چاہیے اور گھر واپس آنا چاہیے۔
‘بچے ایسا کرنے لگیں تو ماؤں کی فکر بھی تھوڑی کم ہو جائے۔ ورنہ تو ہر ماں کے دماغ میں برے خیال ہی آتے رہتے ہیں۔ زیادہ تر خواتین اسی فکر و خیال میں جی رہی ہیں، اور پھر بچہ ہندو ہو، مسلمان کا یا پھر سکھ کا، بچہ تو بچہ ہی ہے۔’
پانچ بچوں کی ماں 60 سال کی پروينہ آہنگر، جو طویل وقت سے کشمیر میں انسانی حقوق کی کارکن کے طور پرکام کر رہی ہیں، آن لائن میڈیا کو بھی اس بڑھتی مشکل کا ذمہ دار مانتی ہیں۔
پروينہ کہتی ہیں: ‘آج بچے سب کچھ آن لائن تلاش کر رہے ہیں۔ ہر قسم کی ویڈیو وہاں مہیا ہوتی ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ کس طرح انڈیا نے ہم پر ظلم کیا۔ پھر وہ اپنا دل بناتے ہیں اور کئی بار خاندان والوں کی بھی نہیں سنتے۔‘ ’عالم یہ ہے کہ کشمیر میں اب لڑکیوں نے بھی پتھر اٹھا لیے ہیں۔ فوج ان پر شیلنگ کرتی ہے اور جواب میں نوجوان پتھر پھینکتے ہیں۔ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو جاتا، تب تک کوئی ماں چین سے نہیں بیٹھ سکتی۔’ پروينہ کا الزام ہے کہ ان کے 27 سالہ بیٹے کو ایک برس قبل فوج اٹھا کر لے گئی تھی اور آج تک اسے واپس نہیں کیا گیا۔
کچھ ایسا ہی الزام ہے ضلع بڈگام میں رہنے والی رهتی بیگم کا۔ وہ 59 سال کی ہیں اور سات بچوں کی ماں ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہم سچائی کا ساتھ دے سکتے ہیں. ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، جب تک کشمیر کی ہر ماں کا بیٹا واپس نہیں آ جاتا۔‘