ترکی کے صدر جناب رجب طیب اردوان عموماً اپنی لڑائیاں کھلے عام اور جم کر لڑنے کے قائل ہیں اور ایسا کرتے وقت وہ کسی بھی قسم کی سفارتی آڑ کے پیچھے چھپنے میں یقین نہیں رکھتے۔ گزشتہ مارچ میں کئی یورپی ممالک بشمول جرمنی اور ہالینڈ نے ترک نژاد سیاسی اجتماعات پر مختلف بہانوں سے پابندی عائد کی تا کہ ان ممالک میں دہری شہریت والے ترک آئینی اصلاحات کے لئے جاری اردوان حمایتی لہر کو روکا جا سکے۔ ان معاندانہ اقدامات کے جواب میں ترک صدر نے یورپ کو خوب لتاڑا۔ انہوں نے جرمن حکومت کی جانب سے ترک جرمن باشندوں پر عائد کی جانے والی قدغنوں کو ’’نازی دور‘‘کے تجربات سے تشبیہ دی۔
اسی طرح جب ہالینڈ کی حکومت نے تمام سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ترک وزیر خارجہ مولیت چاوُش اوغلو کے ہوائی جہاز کا لینڈنگ پرمٹ آخر وقت پر ردّ کرتے ہوئے ان کوہوائی اڈے پر اترے بغیر واپس جانے پر مجبور کر دیا تو اردوان نے ڈچ حکومت کو ’’فاشسٹ‘‘ قرار دیا۔ اردوان نے اپنے ملک کے قریب ترین حلیف امریکہ کو بھی کئی بار کرد اور داعش سے وابستہ دہشت گردوں کی امداد کرنے پر کھلے عام تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئی مواقع پر امریکیوں پر گزشتہ سال کی ناکام فوجی بغاوت کے ذمہ داروں کی بالواسطہ مدد کرنے کا بھی الزام لگایا۔ گزشتہ مہینےآئینی اصلاحات کے ریفرنڈم میں کامیابی کے ترک صدر کے رویےّ میں معنی خیز تبدیلی آئی ہے۔ وہ ملک کی سیاست اور سفارتی اقدار میں تبدیلی کے لئےکوشاں نظر آتے ہیں۔ کامیابی کے بعد ترک صدر نے اپنا پہلا بیرونی دورہ بھارت کا کیا۔
اس دورے میں وہ ایک نئے اعتماد کے ساتھ ملکی اکانومی کو مضبوط کرنے کیلئے اقتصادی اتحاد کیلئے کوشاں نظر آئے۔ دورے کے دوران جناب اردوان نے اپنے سیاسی داؤ بڑی مشاقی سے کھیلے اور سب کو کسی نہ کسی سطح پر خوش اور مطمئن رکھنے میں کامیاب ہو گئے۔ اپنی بھارت آمد سے دو دن قبل انہوں نےایک انٹرویو میں بھارتی ہٹ دھرمی کو چیلنج کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے کثیر جہتی مذاکرات کا مطالبہ کردیا۔ ان کے اس بیان سے بھارت میں کافی کھلبلی مچ گئی مگر چونکہ ان کے انٹرویو میں بھارت کے عالمی اور نیوکلیئر عزائم کے حق میں بھی کافی کچھ تھا اس لئےحکومتِ ہند نے عوامی سطح پر کسی قسم کی محاذ آرائی یا بیان بازی سے گریز کیا۔
صدر اردوان کے مسئلہ کشمیر کو کثیرالجہت مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے مطالبے کو مقبوضہ جموں کشمیر میں فوری پذیرائی ملی کیونکہ وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ بھارت پچھلی سات دہائیوں سے باہمی مذاکرات کی آڑ میں کشمیریوں، پاکستان اور عالمی برادری کو ٹرخا رہا ہے تا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اس کو آسانی سے دفن کیا جاسکے۔ تحریکِ آزادئ کشمیر کے نامور رہنما میرواعظ عمر فاروق نے جناب اردوان کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ’’ترک صدر پاک بھارت تعلقات میں مسئلہ کشمیر کی مرکزی نوعیت سے بخوبی واقف ہیں اور ترکی ہمیشہ کشمیریوں کے احساسات کو سمجھتے ہوئے اسلامی سربراہ کانفرنس میں ہمارے حق خود ارادیت کے مطالبے کا معاون رہا ہے‘‘۔
حکومت پاکستان کے خارجہ امور کے صلاح کار جناب سرتاج عزیز نے بھی ترک صدر کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے ہندوستان کے دو طرفہ مذاکرات کے الاپ کو ’’ناقابل اعتبار‘‘ قرار دیا۔ ترک صدر نے بھارت کے نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت کے دیرینہ مطالبے کوسپورٹ کرتے ہوئے اس کو پاکستان کی ممبر شپ کے ساتھ نتھی کرتے ہو ئے کہا کہ یہ بھارت اور پاکستان دونوں کا حق ہے کہ وہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی ممبرشپ کی خواہش کریں۔ ماضی میں ترکی نے جو کہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا ایک اہم رکن ہے نے بھارت کی کوششوں کو ناکام کرنے میں کلیدی رول ادا کیا تھا۔ بھارت ایک طرف تو اپنی ممبرشپ کیلئے سرتوڑ کوششیں کرتا آیا ہے مگر دوسری طرف وہ پاکستانی کوششوں کو سبوتاژ بھی کرتا آیا ہے۔
اردوان نے کھلے عام بھارت کو یہ صلاح دی کہ وہ پاکستان کے خلاف یہ معاندانہ روش ترک کرے۔ انہوں نے کہا:’’میں سمجھتا ہوں کہ بھارت کو ایسی روش سے احتراز کرنا چاہئے‘‘۔ ترک صدر نے مسئلہ کشمیر پر او آئی سی کے رول کا دفاع کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل میں اصلاحات کا بھی مطالبہ کر دیا۔ بھارت کشمیر کے او آئی سی کے کردار کی شدت سے مخالفت کرتا ہے لیکن سلامتی کونسل میں اصلاحات کی مانگ کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے تا کہ وہ عالمی سطح پر اپنے اثرورسوخ کو بڑھاوا دے کر اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کو آسان بنا سکے۔
صدر اردوان نے نئی دہلی کی مشہور یونیورسٹی جامعہ ملّیہ اسلامیہ میں اپنے خطاب کے دوران بھارت اور ترکی کے تاریخی اور گہرے روابط کا ذکر کرتے ہوئے مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان اشتراک اور تعاون کیلئے بے پناہ وسعتوں کی موجودگی کا ذکر کیا۔ انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ دونوں ممالک بدلتے حالات کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب آ گئے ہیں ۔ انہوں نے موجودہ ورلڈ آڈر کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ہدف تنقید بنایا۔ جناب اردوان نے کشمیر اور نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے معاملات میں نہ صرف یہ کہ مکمل طور پر پاکستانی مؤقف کی تائید کی بلکہ ذاتی طور پر وزیراعظم جناب نواز شریف کی کھل کر تعریفیں کی اور انہیں امن کا داعی قرار دیا۔ ’’میں نے اپنے دوست اور وزیراعظم پاکستان جناب نوازشریف سے ان معاملات پر سیر حاصل گفتگو کی ہے اور میں جانتا ہوں کہ وہ اچھی نیت کے حامل شخص ہیں۔
میں نے ذاتی طور پر ان سے سنا ہے کہ وہ اس مسئلے کو جامع طورپر حل کرنے کے خواہاں ہیں اور اسمیں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں‘‘۔ جناب اردوان کی جانب سے اس طرح کھل کر پذیرائی یقیناً نواز شریف صاحب کیلئے نفسیاتی طور پر طمانیت کا باعث ہو گی خاص کر ایک ایسے وقت میں جب چند دن پہلے ہی ڈان لیکس کے معاملے میں ان کو اس وقت خاصی سبکی اٹھانی پڑی جب ان کی حاکمیت کو کھلے عام چیلنج کرتے ہوئے اس معاملے میں جاری سرکاری نوٹیفکیشن کو نامکمل گردان کر مسترد کر دیا گیا۔ ترکی کے ایک اہم انگریزی روزنامے ’’صباح‘‘ کے مطابق صدر کی بھارت یاترا سے ’’ترکی کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ارتعاش پیدا ہو گیا‘‘ کیونکہ وہاں کی کنسٹرکشن انڈسٹری کو بھارت سے بڑابزنس ملنے کی امید بندھ گئی۔
پرامیدی کے اس ماحول کی وجہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کا یہ بیان بنا جس میں انہوں نے ترک کنسٹرکشن کمپنیوں کے ساتھ ملکر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا تاکہ بھارتی حکومت کے 2022 عیسوی تک پچاس ملین گھروں کی تعمیر کا طے شدہ منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ صدراردوان ملک میں مزید اقتصادی ترقی کیلئے ازحد کوشاں نظر آرہے ہیں کیونکہ ان کی نگاہیں 2019 کے صدارتی انتخابات پر جمی ہوئیں ہیں۔ اپنے ملک کے اقتصادی اہداف کیلئے بھارت کے ساتھ ان کا اشتراک معاون اور نفع بخش ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے دورے کے اختتام پر جاری اعلامیہ میں دونوں ممالک نے 2020 تک باہمی تجارتی حجم کو دس بلین تک لے جانے کا اعادہ کیا۔ مشترکہ اعلامیے میں دونوں ممالک نے دہشت گردی کے بارے میں ’’دہرے معیار‘‘ کی مذمت کی جو کہ کافی عجیب و غریب دکھائی دیا کیوں کہ دونوں ممالک کی اس حوالے سے فکر میں یکسراختلاف ہے۔ دونوں ملک دہشت گردی کی تعریف اور تشریح کے حوالے سے مختلف الخیال ہیں۔
ان دنوں زندگی عذاب میں ہے۔ کیونکہ لندن میں میرے پڑوس میں رہنے والے میلکم کی اتفاقاً کراچی میں چند ماہ کے لیے پوسٹنگ ہوئی ہے۔ شام کے بعد وہ بالکل ویہلا ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ کراچی اب محفوظ ہے۔ مگر میلکم کے باس نے اسے اتنا ڈرایا ہوا ہے کہ مجھے مجبوراً اسے ہوا خوری کے لیے ہر تیسرے چوتھے دن نکالنا پڑتا ہے مگر وہ ہوا خوری بھی کار سے اترے بغیر کرتا ہے۔
مجھے معلوم ہے کہ میلکم کا پرابلم کیا ہے؟ وہ سارا انگریزی اخبار چاٹ جاتا ہے اور پھر پگلا جاتا ہے اور ایسے ایسے سوالات کرتا ہے کہ میں چریا جاتا ہوں۔ مثلاً کل اس نے یہ خبر پڑھ لی کہ پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کو اپنے وکیل کے ذریعے خط بھیجا ہے کہ میں تب عدالت میں پیش ہونے پاکستان آؤں گا جب فوج میری حفاظت کرے اور پیشی کے بعد میری بیرونِ ملک واپسی کو بھی یقینی بنایا جائے۔
یہ تین رکنی خصوصی عدالت پشاور، لاہور اور بلوچستان ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل ہے اور اس میں پرویز مشرف کے خلاف آئین سے غداری کا مقدمہ زیرِ سماعت ہے اور عدالت نے ملزم کو اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔ میلکم کہتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی اشتہاری ملزم اپنی شرائط پر عدالت میں پیش ہونے کا مطالبہ کرے؟ ہمارے برطانیہ میں تو کسی ملزم کو ایسا کرنے کی جرات نہیں ہو سکتی۔ عدالت فوراً اس کا ذہنی معائنہ کروانے کا حکم دے گی۔ میلکم کو اتنی سامنے کی بات بھی ہمالیہ لگ رہی ہے کہ دنیا کی کسی بھی فوج کا ترجمان اپنے ہی ملک کے وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے حکم نامے کو کیسے ایک ٹویٹ کی نوک پر مسترد کر سکتا ہے، بھلے وہ حکم نامہ کسی کو پسند آئے یا نہ آئے۔
اور میڈیا اپنے ہی ملک کے آرمی چیف کی اپنے ہی باس وزیرِ اعظم سے ملاقات کی ایسے تشہیر کیوں کرتا ہے جیسے دو سربراہانِ مملکت کی ملاقات ہو رہی ہو؟ ہمارے برطانیہ میں تو عام آدمی چیف آف سٹاف کا نام تک نہیں جانتا۔ اور یہ کیسے ممکن ہے کہ ڈان لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ ابھی جاری ہوئی نہیں مگر اس کی بنیاد پر پرویز رشید، طارق فاطمی اور راؤ تحسین کو باقاعدہ چارج شیٹ کیے بغیر برطرف کر دیا گیا؟ ہمارے برطانیہ میں تو اس معاملے کو لے کر پارلیمنٹ میں کھٹیا کھڑی ہو جاتی۔ کیسے ممکن ہے کہ کوئی اشتہاری ملزم اپنی شرائط پر عدالت میں پیش ہونے کا مطالبہ کرے؟
اور پاناما لیکس کا عدالتی فیصلہ آنے کے بعد وزیرِ اعظم کی بیٹی نے کس حیثیت میں یہ کہا کہ پاناما پیپرز کچرا ہیں اور ان کا بنیادی موضوع کرپشن نہیں۔ اگر ایسا ہے تو سپریم کورٹ نے کیا چار ماہ تک کچرا چھانا؟ کیا وزیرِ اعظم کی بیٹی کا بیان توہینِ عدالت نہیں اور عدالت نے جو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی ہے وہ وزیرِ اعظم اور ان کے دو بیٹوں سے کیا پوچھے گی جب سب ہی کچھ کچرا ہے؟ ہمارے برطانیہ میں تو وزیرِ اعظم کے اہلِ خانہ اس دھڑلے سے بات نہیں کرتے۔ اور عمران خان کو سپریم کورٹ کی جانب سے ڈانٹ کیوں پڑی اور سپریم کورٹ نے بس یہ تنبیہہ کر کے کیوں چھوڑ دیا کہ آپ جیسے لیڈر کو پاناما کیس کے بارے میں ججوں کے فیصلے کی من مانی تشریح زیب نہیں دیتی۔ ہمارے برطانیہ میں تو یہ سیدھا سیدھا توہینِ عدالت کا کیس ہوتا۔
اور ایسا کیوں ہے کہ جب پیمرا نے ایک ٹی وی چینل بول کا لائسنس منسوخ کر دیا ہے تو عدالت نے اسے اپنی نشریات جاری رکھنے کی اجازت کیوں دے دی؟ کیا کوئی بھی چینل اس طرح سے اپنی نشریات جاری رکھ سکتا ہے اور وہ بھی منسوخ شدہ لائسنس کے ساتھ؟ ہمارے برطانیہ میں تو۔ ابے تیرا برطانیہ گیا بھاڑ میں۔ کچھ دنوں کے لیے تو یہاں آیا ہے۔ جب ہضم نہیں کر سکتا تو اخبار کیوں پڑھتا ہے۔ یہ تیرا برطانیہ نہیں ہے یہ پاکستان ہے پاکستان۔ یہاں کا اپنا کلچر اور روایات ہیں۔ آخر تم انگریز کب تک دوسروں کو وہ روایتیں سکھاتے رہو گے جو ہمارے کسی کام کی نہیں۔ اچھا ہوا تم سے 70 سال پہلے ہماری جان چھوٹ گئی۔
ورنہ اب تک اپنے اصولوں کی مونگ ہمارے سینوں پر دلتے رہتے۔ تم کیوں چاہتے ہو کہ ہم تمہارے جیسے بن جائیں۔ جہنم میں جائے تمہاری جمہوریت، تمہارے اصول اور تمہارے اداروں کے مخصوص دائرے میں رہنے کی عادتیں۔ سیدھے سیدھے وقت گزارو اور خیریت سے نکل لو۔ ہم جانیں اور ہمارا ملک۔ تمہارے ہی ایک رڈ یارڈ کپلنگ نے کہا تھا کہ ایسٹ از ایسٹ۔ چوبیس گھنٹے سے کافی سکون ہے۔ میلکم کا کوئی فون نہیں آیا۔ لگتا ہے خود جا کے منانا پڑے گا۔ آخر کو پرانی محلے داری کا معاملہ ہے۔ لندن میں میرا بہت خیال رکھتا تھا۔ مگر اسے بھی تو اپنی حد میں رہنا چاہیے۔ بھلا یہ کوئی بات ہوئی ہمارے برطانیہ میں یہ ہمارے برطانیہ میں وہ ۔
چند روز قبل پیمرا نے ٹی وی چینلز کو تین اہم معاملات میں پالیسی گائیڈ لائنز جاری کیں۔ سب سے اہم معاملہ ٹی وی چینلز کی رمضان ٹرانسمیشنز کا ہے۔ پیمرا نوٹس کے مطابق گزشتہ چند سالوں سے ریٹنگ کی دوڑ میں شامل ٹی وی چینلز نے اچھوتے انداز اپنائے اور غیر مہذب حرکتیں اپناتے ہوئے نہ صرف رمضان المبارک کے تقدس کو پامال کیا بلکہ ہماری سماجی، اخلاقی اور مذہبی اقدار کی دھجیاں اڑائیں بلکہ بعض اوقعات فرقہ واریت کو بھی فروغ دینے کی کوشش کی جاتی رہی جو معاشرہ میں انتشار اور فساد کو ہوا دینے کا سبب بنتا ہے۔ پیمرا نے ماردر پدر آزاد ٹی وی چینلز کو یاد دلایا کہ رمضان المبارک بنیادی طور پر پاکیزہ خیالات اور اجتماعی و انفرادی عبادات کا ماحول فراہم کرتا ہے۔
رمضان کی ہر شب کی بے پناہ فضیلت ہے اور عبادات کے اجر میں اضافہ کی ضمانت ہے اس لیے ایسے قیمتی لمحات کو کھیل تماشا، ذہنی عیاشی اور سجاوٹ میں ضائع نہ کیا جائے۔ مخصوص اوقات کار کے لیے معلوماتی، فہم و دین اور اخوت و بھائی چارہ کو فروغ دینے کی سعی کی جائے۔ پیمرا نے ٹی وی چینلز کو اپنے ہدایت نامہ میں یہ بھی لکھا کہ اس میں دو رائے نہیں ہے کہ فحش، بیہودہ، غیر مہذب اور اخلاق سے گرے ہوئے پروگرام اللہ کی خوشنودی کی بجائے اُس کے قہر و غضب کا سبب بنتے ہیں۔ پیمرا نے چینلز کو یہ بھی یاد دلایا کہ رمضان میں نشر کیے جانے والے پروگرام بنا کسی اسکرپٹ کے یا ادارہ جاتی نگرانی کے محض زیادہ ریٹنگ یا مالی فوائد کے حصول کے لیے تشکیل دیے جاتے ہیں۔
پیمرا نے واضح کیا کہ اب ایسی کسی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی الیکٹرنک میڈیا ریگولیٹر نے چینلز کو ہدایت کی کہ آنے والی رمضان ٹرانسمیشن میں گزشتہ سالوں کے برعکس مکمل طور پر کوڈ آف کنڈکٹ پر عمل کیا جائے اور ایسے پروگرام مرتب کیے جائیں جو ریٹنگ کی بجائے مذہبی ہم آہنگی کو بڑھانے کے لیے بنیادی معلومات فراہم کریں، رمضان المبارک کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھیں، دوران پروگرام شرکاء کو مختلف قسم کے کام مثلاً ڈانس، گانے سنانے اور اُلٹے سیدھے کام کرنے پر نہ اُکسائیں، غیر اخلاقی، غیر معیاری گفتگو سے پرہیز کیا جائے، ایسے افراد کو دین سے متعلق گفتگو کے لیے مدعو کیا جائے جو دین سے واقف ہوں اور مستند علم رکھتے ہوں، اشتہارات کی ترتیب دیتے اور نشر کرتے وقت رمضان المبارک کے تقدس کا خیال رکھا جائے۔
کچھ دوسری ہدایات کے علاوہ، پیمرا نے چینلز پر یہ بھی لازم کیا کہ رمضان کے دوران تفریحی اور کوئز پروگرام نشریات کی اجازت رات نو بجے کے بعد ہو گی جبکہ رمضان کے آخری عشرہ میں ایسے پروگراموں کو نشر کرنے پر مکمل طور پر پابندی ہو گی۔ ایک اور پالیسی نوٹس میں پیمرا نے مارننگ شوز کے نام پر بے ہودگی پھیلانے کی روک تھام کے لیے چینلز کو ہدایات جاری کیں۔ چینلز کو پابند کیا گیا کہ مارننگ شور ترتیب دیتے وقت اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان پروگرام کے ذریعے فحاشی و عریانیت کو نہ پھیلایا جائے، دوران پروگرام شرکاء کو ڈانس، گانے اور تضحیک آمیز حرکات پر نہ اکسایا جائے، غیر اخلاقی، غیر معیاری، ذومعنی جملہ بازی اور پھکڑپن سے پرہیز کیا جائے، پروگراموں میں ملبوسات کا خاص خیال رکھا جائے اور ایسے ملبوسات پہنے جائیں جو ہماری روایات کے عین مطابق ہوں، پروگرامز کے دوران مہذب اور شائستہ زبان استعمال کی جائے، اسراف و نمود سے اجتناب کیا جائے، ناشائستہ اور نازیبا مناظر نشر کرنے سے پرہیز کیا جائے۔
دوسری کئی ہدایات کے ساتھ، ٹی وی چینلز کو کہا گیا کہ مارننگ شوز میں ہر شعبہ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالے افراد کو مہمان کے طور پر بلوایا جائے تا کہ نئی نسل اُن سے علم و ترغیب حاصل کر سکے، محض شوبز سے مہمان بلانا، ایک خاص سوچ کی غمازی اور ان شوز میں غیر مرد و خواتین کو گلے ملوانا، بوس و کنار اور بانہوں میں بانہیں ڈال کر ڈانس کرانا ہماری تہذیب اور اقدار کے منافی ہے۔ اس لئے تمام چینلز اس بات کو یقینی بنائیں کہ پاکستان کے سوادِ اعظم (اکثریت) کی پسند اور ناپسند پر چند مخصوص افراد کی سوچ و فکر کو نافذ نہ کیا جائے۔ اپنے تیسرے پالیسی نوٹس میں پیمرا نے ٹی وی چینلز میں دکھائے جانے والے ڈراموں کو قابل اعتراض مواد سے پاک کرنے کے لیے ہدایات جاری کیں۔
پیمرا کے مطابق ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں ٹی وی چینلز ایسے ڈرامے بنا رہے ہیں جو نہ صرف سماجی و اخلاقی اقدار کے منافی ہیں بلکہ بعض اوقات معاشرتی بگاڑ کو بھی فروغ دینے کا باعث بنتے ہیں۔ پیمرا نوٹس کے مطابق ایسے ڈرامے پیش کیے جا رہے ہیں جن سے ہمسایہ ملک (بھارت) کی ثقافت کی عکاسی ہوتی ہے۔ مزید براں اسلامی اور سماجی روایات سے منافی موضوعات پر ڈرامہ نگاری ایک معمول بن گیا ہے جس کا بادی النظر میں مقصد معاشرے میں بے یقینی اور انتشار کو فروغ دینا ہے اور مذہبی اقدار کو کمزور کرنا ہے۔
اس تناظر میں چینلز کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ ڈرامے کے موضوع کا انتخاب کرتے وقت انتہائی احتیاط برتیں، حساس موضوعات جو مذہب، فرقہ وارانہ امور، صوبائیت، ذاتی معاملات، ازدواجی زندگی اور منفی رجحانات کو نشر کرنے سے اجتناب کیا جائے، موضوعات کے چُناو اور کہانی کی تشکیل میں تمام معاشرتی طبقات اور اُن پر ڈراموں کے اثرات کو مدنظر رکھا جائے، کسی مذہب، فرقہ یا برادری کے خلاف توہین آمیز کلمات یا ایسے الفاظ جو مذہبی فرقوں اور لسانی گروپوں میں عدم ہم آہنگی کا باعث بنیں، نشر کرنے سے اجتناب کیا جائے، کوئی ایسی چیز جو نازیبا، اخلاق باختہ یا فحش ہو اسکو نشر نہ کیا جائے، ڈراموں میں اپنی روایات کے مطابق ملبوسات کا خیال رکھا جائے.
ڈراموں میں مرد وزن کا آپس میں گلے ملنا، بوس و کنار کرنا اور بیڈ روم مناظر کی عکس بندی سے اجتناب کیا جائے، منشیات اور شراب کے استعمال کے مناظر نشر نہ کیے جائیں، ڈراموں میں ایسی کہانیاں نہ پیش کی جائیں جن سے بچوں خصوصاً بچیوں کے ناپختہ ذہن اور دماغ پر غلط اثر ہو اور والدین سے بدتمیزی یا نافرمانی کے رویے کی طرف راغب ہوں یا بے راہ روی کی طرف اکساتی ہوں، حساس موضوعات پر ڈرامہ نگاری کرتے ہوئے تمام مذہبی، سماجی اور معاشرتی امور کا خاص خیال رکھا جائے اور اُن کی عکس بندی اسی انداز سے کی جائے جس سے ناظرین کو آگاہی بھی کی جائے اور اُن کی اصلاح بھی ہو۔
پیمرا کی طرف سے درج بالا اقدامات اگر بہت پہلے اٹھا لیے جاتے تو حالات اتنے خراب نہ ہوتے۔ لیکن چلیں شکر ہے کہ اب بھی پیمرا کو ٹی وی چینلز کی طرف سے معاشرہ میں انڈین کلچر اور بے راہ روی پھیلانے اور ہمارے مذہبی اور معاشرتی اقدار کو تباہ کرنے سے روکنے کا خیال آ گیا۔ دیر آید درست آید۔ ان اقدامات پر پیمرا خراج تحسین کا مستحق ہے اور امید کی جاتی ہے کہ وہ جاری کی گئی ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کروائے گا اور ٹی وی چینلز کو کسی بھی طور پر یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ اپنی ریٹنگ اور پیسہ کے لیے ہماری دینی اور معاشرتی اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہماری نسلوں کو تباہی کے راستے پر دھکیل دے۔
پیمرا نے خوب کہا کہ چند مخصوص افراد کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ پاکستان کی اکثریت پر اپنی سوچ و فکر مسلط کریں۔ ٹی وی چینلز کو سدھارنے کے لیے پیمرا نے ایک اہم قدم اٹھا لیا ہے، اب یہ حکومت، پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں، عدلیہ اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ اس معاملہ میں پیمرا کا ساتھ دیں۔ اس معاملہ میں عوام سے میری درخواست ہے کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں وہ پیمرا کو فوری شکایت کریں۔ عوامی شکایات خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ ٹی وی چینل کے خلاف کارروائی کا اہم ذریعہ بنتے ہیں اس لیے ہم میں سے ہر ایک کو اپنی اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہو گی۔ یہاں عدلیہ سے میری درخواست ہے کہ وہ ٹی وی چینلز کی خلاف ورزیوں سے متعلق معاملات میں اسٹے آرڈر کی موجودہ پالیسی پر غور کرے کیوں کہ کئی ٹی وی چینلز اسٹے آرڈر کے پیچھے چھپ کر وہ خلاف ورزیاں کرتے جاتے ہیں جو معاشرہ میں بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔