سماجی رابطوں کی ویسب سائٹ فیس کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال
کے ابتدائی تین ماہ میں اس کے صارفین کی تعداد دو ارب تک پہنچ گئی ہے جبکہ اس کے منافع میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ فیس بک کا کہنا ہے کہ فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد میں ہر ماہ ایک ارب 94 کروڑ تک کا اضافہ ہوا ہے جن میں سے ایک ارب 30 کروڑ روانہ کی بنیادوں پر استعمال کرتے ہیں۔
امریکی کمپنی کے مطابق ابتدائی تین ماہ کے دوران کمپنی کو تین ارب ڈالر سے زائد کا منافع ہے۔ تاہم فیس بک کا کہنا ہے کہ اشتہارات سے ہونے والی آمدن میں کمی ہوئی ہے۔ فیس بک کو حال ہی میں نفرت انگیز مواد، بچوں کے ساتھ زیادتی اور سوشل نیٹ ورک پر خود کو نقصان پہنچانے جیسے واقعات کے باعث شدید دباؤ کا برداشت کرنا پڑا۔
فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے اعلان کیا کہ وہ ویب سائٹ پر موجود مواد میں تبدیلی کے لیے تین ہزار اضافی افراد کو ملازمت پر رکھ رہے ہیں۔ دنیا کی کل آبادی میں سے 25 فیصد ہر ماہ فیس بک کا استعمال کرتے ہیں، جبکہ زیادہ تر نئے صارفین یورپ اور شمالی امریکہ سے باہر کے ہیں۔ ان نتائج کے بعد مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ صارفین کی بڑھتی تعداد کے باعث فیس بک کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ اپنی ویب سائٹ کو مزید پھیلا کر ٹی وی، ہیلتھ اور سیاست کی جانب بڑھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس بنیاد کے بعد ہماری توجہ کمیونٹی بنانے پر ہو گی۔ بہت کچھ کرنے کو ہے۔‘
میری طارق فاطمی صاحب سے صرف ایک ملاقات ہے‘ وزیراعظم میاں نواز شریف 18 جنوری 2016ء کو سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے ریاض اور تہران کے دورے پر گئے‘ میں بھی اس وفد میں شامل تھا‘ روانگی سے قبل چک لالہ ائیر پورٹ کے لاؤنج میں طارق فاطمی صاحب سے ملاقات ہوئی‘ میں نے ان سے پوچھا ’’کیا وزیراعظم ایران اور سعودی عرب کو قریب لانے میں کامیاب ہو جائیں گے‘‘ طارق فاطمی مسکرائے اور نرم آواز میں بولے ’’ہاں ہو سکتا ہے لیکن 632ء سے آج تک کوئی شخص یہ کارنامہ سرانجام نہیں دے سکا‘‘ میں نے پوچھا ’’632ء سے کیوں؟‘‘ بولے ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے 8 جون 632ء کو انتقال فرمایا تھا‘ شیعہ اور سنی کی بنیاد اس دن پڑی‘ یہ دونوں آج تک اکٹھے نہیں ہو سکے‘ شاید ہم اس تاریخی کارنامے میں کامیاب ہو جائیں‘‘ لاؤنج میں موجود تمام لوگ قہقہہ لگانے پر مجبور ہو گئے۔
طارق فاطمی بے شمار خوبیوں کے مالک ہیں‘ ڈھاکا سے تعلق تھا‘ والد پروفیسر اور دانشور تھے‘ فاطمی صاحب نے ابتدائی سال علم‘ ادب اور کتابوں میں بسر کیے‘ جوانی میں فارن سروس جوائن کی اور کمال کر دیا‘ یہ دو بار ماسکو میں تعینات رہے‘ نیویارک‘ واشنگٹن اور بیجنگ میں ذمے داریاں نبھائیں‘ یہ زمبابوے میں سفیر رہے‘ یہ امریکا‘ اردن‘ بیلجیئم اور لکسمبرگ میں پاکستان کے سفیر رہے‘ یہ آخر میں یورپین یونین میں پاکستان کی نمایندگی کرتے رہے‘ یہ 2004ء میں ریٹائر ہو گئے‘ یہ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے دوران امریکا اور یورپ ڈویژن کے ایڈیشنل سیکریٹری تھے‘ یہ بنگالی‘ اردو‘ انگریزی اور روسی چار زبانوں کے ماہر ہیں‘ یہ روسی زبان اردو کی طرح بولتے ہیں‘ فرنچ اور جرمن بھی سمجھتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے انھیں کمال یادداشت سے نواز رکھا ہے‘ آپ کسی شخص یا واقعے کا نام لیں یہ تاریخ‘ لوگوں کے نام اور واقعے کا پورا پس منظر بیان کر دیں گے۔
ٹائم مینجمنٹ کے ماہر ہیں‘ یہ صبح پانچ بجے اٹھتے ہیں‘ جاگنگ اور واک کرتے ہیں اور ناشتہ کر کے سات بجے دفتر پہنچ جاتے ہیں‘ یہ اسٹاف کے آنے سے پہلے دنیا کے تمام بڑے نیوز پیپرز‘ پاکستان کے تمام اخبارات‘ نیوز سمریاں‘ پاکستانی سفارت خانوں کے پیغامات اور گزشتہ دن کی ساری فائلیں پڑھ لیتے ہیں‘ یہ دفتر کھلنے سے پہلے دنیا کے تمام اہم دارالحکومتوں میں اپنے سفیروں سے ٹیلی فون پر بات بھی کر چکے ہوتے ہیں اور یہ دن بھر کی اہم ترین معلومات بھی یاد کر چکے ہوتے ہیں‘ یہ اس کے بعد سارا دن دفتر اور پرائم منسٹر ہاؤس میں رہتے ہیں اور شام کو جب وزارت خارجہ کے تمام لوگ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں یہ اس وقت بھی دفتر میں کام کر رہے ہوتے ہیں‘ طارق فاطمی پر پوری زندگی کرپشن کا کوئی چارج نہیں لگا‘ پوری سروس ایمانداری کے ساتھ گزاری‘ فارن سروس میں غیر ملکی تحفے کرپشن کا آسان ذریعہ ہیں‘ پاکستان کا جو بھی وفد دور ے پر باہر جاتا ہے یا کوئی مہمان پاکستان آتا ہے تو تحفے دیے اور لیے جاتے ہیں‘ پاکستان کے قانون کے مطابق یہ تحائف ریاست کی امانت ہوتے ہیں۔
صدر اور وزیراعظم سے لے کر وزیر‘ مشیر اور سفیر تک تمام عہدیدار یہ تحائف ’’توشہ خانہ‘‘ میں جمع کرانے کے پابند ہوتے ہیں‘ یہ لوگ اگر یہ تحائف اپنے پاس رکھنا چاہیں تو یہ قیمت ادا کر کے یہ گفٹ توشہ خانہ سے خرید سکتے ہیں‘ طارق فاطمی ملک کے ان چند لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے نہایت ایمانداری سے اپنا ہر تحفہ توشہ خانہ میں جمع کرایا‘ یہ ہر گفٹ کی رنگین تصویر اتارتے ہیں‘ یہ تصویر اپنے ریکارڈ میں رکھتے ہیں اور تحفہ وزارت میں جمع کرا دیتے ہیں‘ فاطمی صاحب کے ریکارڈ میں ایسی سیکڑوں تصویریں موجود ہیں ‘ یہ تصویریں ان کی قانون پسندی اور ایمانداری کی دلیل ہیں۔
یہ شخص 1971ء کے بعد بنگلہ دیش جا سکتا تھا لیکن یہ پاکستان میں رہا‘ اس نے پوری زندگی پاکستان کی عزت اور حرمت پر حرف نہیں آنے دیا‘ یہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تشکیل اور دھماکوں کے دوران بہت اہم اور حساس پوزیشنوں پر کام کرتا رہا لیکن اس نے کوئی انفارمیشن ’’لیک‘‘ نہ ہونے دی‘ یہ ’’سرد جنگ‘‘ کے دوران بھی اہم عہدوں پر فائز رہا‘ پاکستان اس وقت امریکا کا بہت بڑا اتحادی تھا‘ یہ اس وقت عام معمولی سی معلومات ’’لیک‘‘ کر کے سوویت یونین کا ہیرو بن سکتا تھا‘ یہ افغان جنگ کے دوران بھی اہم ترین پوزیشنوں پر رہا‘ یہ اس جنگ کے دوران بھی ایک خبر ’’لیک‘‘ کر کے پوری دنیا میں مشہور ہو سکتا تھا اور یہ پچھلے چار برسوں میں بھی بہت حساس اور اہم ملاقاتوں کا حصہ رہا‘ یہ اس وقت بھی چند فقرے لیک کر کے دنیا کی توجہ حاصل کر سکتا تھا لیکن طارق فاطمی کے 47 سال کے کیریئر میں کوئی ایک واقعہ‘ کوئی ایک ایسا لمحہ نہیں آیا جب کوئی بیان‘ کوئی لیک ان سے منسوب ہوئی ہو‘ یہ پوری زندگی سچے پاکستانی‘ پروفیشنل ڈپلومیٹ اور ایماندار انسان رہے۔
کام کیا‘ کتابیں پڑھیں‘ واک کی اور اپنی ذات میں مطمئن رہے لہٰذا میں دل سے یہ سمجھتا ہوں ایسے شخص کو ڈان لیکس میں پھنسانا‘ اسے قربانی کا بکرا بنانا اور اسے بغیر کسی چارج‘ بغیر کسی ثبوت اور بغیر کسی الزام کے فارغ کر دینا سراسر زیادتی ہے اور حکومت اس زیادتی کی ذمے دار ہے‘ میاں نواز شریف طارق فاطمی کو 20 سال سے جانتے ہیں‘ یہ چار سال وزیراعظم کے ہر سفر میں ان کے ساتھ بھی رہے‘ یہ وزیراعظم سے روزانہ ملاقات بھی کرتے تھے اور یہ انھیں بین الاقوامی امور پر گائیڈ بھی کرتے تھے چنانچہ وزیراعظم فاطمی صاحب کی ایمانداری ‘ پروفیشنل ازم اور دانش مندی تینوں کے بخوبی واقف ہیں‘ میاں صاحب جانتے ہیں یہ طارق فاطمی تھے جنہوں نے حکومت کو سمجھایا ہم نے امریکا کے سامنے لیٹ لیٹ کر اپنے ستر سال برباد کر دیے ہیں‘ ہمیں اب چین اور روس کی طرف بھی دیکھنا چاہیے۔
یہ طارق فاطمی تھے جن کی کوششوں سے روس اور پاکستان کے درمیان موجود پچاس سال پرانی برف پگھل گئی‘ دونوں ملکوں کے درمیان رابطے استوار ہو گئے اور فوجی مشقیں شروع ہو گئیں اور یہ طارق فاطمی تھے جو چین کو پاکستان کے اتنے قریب لے کر آئے کہ چین پاکستان میں 60 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری پر مجبور ہو گیا لہٰذا وزیراعظم بخوبی جانتے ہیں طارق فاطمی بے ایمان ہیں اور نہ ہی یہ ڈان لیکس کے ذمے دار ہیں‘ وزیراعظم یہ بھی جانتے ہیں یہ طارق فاطمی کے ساتھ زیادتی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے وزیراعظم نے پھر جانتے بوجھتے یہ زیادتی کیوں کی؟ شاید اقتدار واقعی بہت ظالم ہوتا ہے‘ بادشاہ تخت بچانے کے لیے اپنے بھائیوں‘ اپنے بچوں تک کی قربانی دے دیتے ہیں اور یہ تو صرف ایک مشیر تھے چنانچہ یہ قربان ہو گئے‘ یہ وزیراعظم کو پانچ سال پورے کرانے کے لیے بکرا بن گئے۔
ڈان لیکس کی رپورٹ ابھی جاری نہیں ہوئی‘ یہ عوام کے سامنے نہیں آئی لیکن جہاں تک غیر مصدقہ معلومات کا تعلق ہے کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کسی شخص کو ڈان لیکس کا ذمے دار قرار نہیں دیا‘ کمیشن کو طارق فاطمی کے خلاف بھی کوئی ثبوت نہیں ملا اور یہ بھی حقیقت ہے طارق فاطمی کے ڈان اور ڈان کے ایڈیٹر ظفر عباس کے ساتھ تعلقات کشیدہ تھے‘ یہ ڈان میں کالم لکھتے تھے لیکن یہ جب پاکستان مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے تو ظفر عباس نے ان کا کالم بند کر دیا اور یوں دونوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی چنانچہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے یہ اس کشیدگی کی صورت میں ڈان کو خبر کیوں لیک کریں گے؟ کمیشن کو ڈان‘ ظفر عباس‘ سرل المیڈا اور طارق فاطمی کے درمیان کسی قسم کے رابطے کے ثبوت بھی نہیں ملے۔ ’’ملزمان‘‘ میں سے بھی کسی نے طارق فاطمی کا نام نہیں لیا اور یہ بھی ثابت نہیں ہو سکا کیا یہ خبر واقعی ’’سیکیورٹی بریچ‘‘ تھی‘ یہ سچی تھی اورکیا یہ واقعی ’’لیک‘‘ تھی لہٰذا اس عالم میں طارق فاطمی صاحب کو سزا دینا پاکستان سے محبت کرنے والوں کے ساتھ زیادتی ہے۔
طارق فاطمی ریاست اور حکومت سے اپنا قصور پوچھ رہے ہیں‘ یہ اپنی صفائی بھی دینا چاہتے ہیں‘ یہ ریاست سے ’’فیئر ٹرائل‘‘ بھی مانگ رہے ہیں اور یہ اس داغ‘ اس دھبے کے ساتھ گھر بھی نہیں جانا چاہتے لہٰذا میری درخواست ہے ریاست کو انھیں صفائی کا موقع دینا چاہیے‘ حکومت کو انھیں باقاعدہ چارج شیٹ کرنا چاہیے تا کہ یہ اپنی صفائی دے سکیں‘ یہ اپنے خلاف ثبوتوں کا سامنا کر سکیں‘ یہ ان کا مقابلہ کریں اور یہ اگر ٹرائل میں واقعی مجرم پائے جائیں تو آپ انھیں بے شک غدار قرار دے دیں‘ آپ انھیں بے شک الٹا لٹکا دیں لیکن یہ اگر بے گناہ اور معصوم ثابت ہوں تو آپ ان سے معذرت کریں‘ انھیں پوزیشن پر بحال کریں‘ ان کی عزت انھیں واپس کریں اور یہ اس کے بعد بے شک مستعفی ہو کر ایوان اقتدار کو سلام کر جائیں لیکن موجودہ فیصلہ بہرحال ظلم ہے‘ یہ زیادتی ہے۔
ہمیں اب یہ سکھا شاہی بھی ختم کرنا ہوگی اور ہمیں ’’سزا پہلے دے دیں اور ایف آئی آر بعد میں درج کریں‘‘ جیسی روایات بھی ترک کرنا ہوں گی‘ ہم آخر کتنے لوگوں کو غدار‘ بے ایمان اور کافر قرار دیں گے‘ ہمیں کہیں نہ کہیں تو ٹھہرنا ہو گا‘ ہمیں کہیں نہ کہیں تو فل اسٹاپ لگانا ہو گا‘ ہم طارق فاطمی جیسے کتنے بے گناہوں کو عبرت کی نشانی بنائیں گے اور ہم کتنے محب وطن لوگوں کو ذلیل کریں گے‘ ہم نے کبھی سوچا‘ ہم نے کبھی غور کیا؟ شاید نہیں اور شاید ہم کبھی یہ سوچیں گے بھی نہیں‘ کیوں؟ کیونکہ قومیں جب اچھے اور برے کی تمیز کھو بیٹھتی ہیں تو پھر ان کے پاس غور کرنے کے لیے وقت نہیں ہوتا‘ یہ سوچا نہیں کرتیں اور ہم بڑی مدت سے اچھے اور برے کی تمیز کھو چکے ہیں۔
صدر ایردوان نے اکتیس مارچ تا یکم مئی 2017ء بھارت کا سرکاری دورہ کیا۔ یہ
کسی بھی ترک صدر کا سات سال بعد دورۂ بھارت تھا اس سے قبل صدر عبداللہ گل بھارت کا دورہ کر چکے ہیں جبکہ ایردوان نے اس سے قبل وزیراعظم کی حیثیت سے بھارت کا سرکاری دورہ کیا تھا۔ یہ صدر ایردوان کا 16 اپریل کے صدارتی ریفرنڈم کے بعد پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔ بھارت روانگی سے قبل استنبول کے اتاترک ہوائی اڈے پر صدر ایردوان نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اور ترکی کے درمیان خاص طور پر تجارتی شعبے میں تعلقات کو فروغ دینے کے لئے دونوں ممالک بڑی صلاحیتوں اور وسائل کے مالک ہیں جن سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ترکی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے لئے تیار ہے۔ اس وقت ترکی کے لئے بھارت مشرقِ بعید کے ممالک کو کھلنے والے دروازے کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ بھارت کے لئے ترکی یورپ تک رسائی حاصل کرنے کا ایک اہم وسیلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے دورہ بھارت کے دوران ان تعلقات کو فروغ دینے کے لئے اعلیٰ بھارتی حکام سے بات چیت کریں گے اور پھر اس کے بعد ہی کسی روڈ میپ کو واضح کیا جائے گا۔
اس سے قبل صدر ایردوان نے بھارتی ٹی وی چینل ’’رلڈ ایز ون نیوز‘‘(ڈبلیو آئی او این ) کو انٹرویو دیتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ثالث کا کردار ادا کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ضروری ہوا تو ترکی کی حیثیت سے ہم معاملے میں شامل ہو سکتے ہیں، مسئلہ کشمیر کا مذاکراتی حل پاکستان اور بھارت دونوں کے مفاد میں ہے۔ ترکی کے صدر ایردوان نے 15 اپریل 2016 کو استنبول میں 13ویں تنظیم اسلامی کانفرنس کے سربراہی اجلاس کے موقع پر تنظیم اسلامی کانفرنس کے سیکرٹری جنرل عیاد مدنی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے موقع پر بڑے واضح انداز میں کہا تھا کہ ’’ہمیں یقین ہے کہ مسئلہ جموں کشمیر کو بہترین طریقے سے حل کرنے کا راستہ کشمیری عوام کی خواہشات کا احترام کرنے ہی سے گزرتا ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود کیوں کر مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کیا جا سکا ہے۔ میرے خیال میں علاقے کے عوام کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کیے بغیر اس مسئلے کو حل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس طرح ترکی ابتدا ہی سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف کی کھل کر حمایت کرنے والا پاکستان کا سب سے قریبی اور دوست ملک ہے۔
ترک صدر ایردوان نے اپنے دورۂ بھارت کے دوران ترک۔ انڈیا بزنس کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’بھارت کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے لئے ہم پُرعزم ہیں۔ ہم بھارت کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے خواہاں ہیں اور دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کو ایک دوسرے کے ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاسوں کو جاری رکھنے اور آزاد تجارتی سمجھوتے سے متعلق مذاکرات شروع کرنے اور اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ اس وقت موجود تجارتی حجم کے ساڑھے چھ بلین ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ اس تجارتی حجم کو وقت کے ساتھ ساتھ مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا کی عظیم ترین 250 کنسٹرکشن فرموں میں42 ترک فرمیں شامل ہیں جن سے بھارت کو بھی استفادہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اپنی کرنسی ہی میں تجارت کو جاری رکھنے کی بھی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ترکی میں بھارتی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کرنے کی ہر ممکنہ سہولت کی بھی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ ترکی، بھارت کے لئے بحیرہ اسود، یورپ، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطی کے علاقے تک رسائی حاصل کرنے کے لئے ایک اڈہ بننے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے اس موقع پر بھارتی سیاحوں کو جن کی تعداد انہتر ہزار سالانہ ہے میں مزید اضافہ کرنے اور بھارت میں شادی کرنے والوں جوڑوں کو ترکی میں شادی کا اہتمام کرنے اور ہنی مون منانے کے بارے میں بھی اپنی خواہش سے آگاہ کیا۔
ترکی جس کے اس وقت یورپی یونین کے رکن ممالک کے ساتھ تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں حالات کو سازگار بنانے کے لئے بھارت، چین اور روس کی جانب اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اسی لئے ترکی کے صدر ایردوان نے یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات کے کھٹائی میں پڑ جانے کے بعد بھارت کا دورہ کیا۔ ترکی خاص طور پر اپنی کنسٹرکشن فرموں کے ذریعے بھارت کے دور دراز علاقوں تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے اور بھارت کے کنسٹرکشن فیلڈ میں بہت کمزور ہونے کے باعث استفادہ کرتے ہوئے علاقے میں کنسٹرکشن کے میدان میں اپنی مہر ثبت کرنا چاہتا ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان جب نئی دہلی پہنچے تو ان کا استقبال بھارت کی وزیر اسپورٹس اور یوتھ نے کیا اور بعد میں صدر ایردوان نے بھارت کے صدر مکھر جی پرناب اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ اس کے بعد صدر ایردوان نے بھارت کے بانی مہاتما گاندھی کی سمادی پر پھول چڑھائے اور وزٹنگ بک میں اپنے تاثرات کو قلمبند کیا۔ بعد میں ترک صدر ایردوان نے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی سے ون ٹو ون ملاقات کی جس کے بعد دونوں ممالک کے وفود کے درمیان مذاکرات منعقد ہوئے اور جس میں مختلف سمجھوتوں پر دستخط بھی کیے گئے۔ اس کے بعد دونوں رہنمائوں نے مشترکہ طور پر پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پربھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ترکی میں جی 20 اجلاس میں شرکت اور پھر ترکی کے ساتھ فروغ پانے والے تعلقات کا ذکر کیا۔
ترک صدر ایردوان نے بعد میں دہلی کی جامع ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کی جانب سے ان کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری دینے کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے اقوام متحدہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے دنیا کے مستقبل کے اقوام متحدہ کے پانچ مستقل رکن ممالک کے ہاتھوں میں ہونے کی شکایت کی اور کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پانچ مستقل رکن ممالک کے علاوہ دیگر عبوری دس رکن ممالک کی کوئی اہمیت نہیں ہے وہ عبوری رکن ممالک ان پانچ مستقل رکن ممالک کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں اقوام متحدہ میں بھارت جس کی آبادی ڈیڑھ بلین کے لگ بھگ ہے اور عالم ِ اسلام جس کی آبادی 7.1 بلین ہے، کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ اس سلسلے میں بھارت، اسلامی ممالک اور جاپان کو بھی آواز بلند کرنے اور اقوام متحدہ کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کیلئے اپنے اوپر عائد ہونیوالے فرائض کو ادا کرنے کی ضرورت ہے تا کہ دنیا کو پانچ ممالک کے ہاتھوں یرغمال بننے سےروکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارا نظریہ ہے۔ حق پر مبنی ملک ہی کو طاقتور ہونا چاہئے۔‘‘