ہمارے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار فرماتے ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی منظر عام پر آنے والے اختلافی فیصلوں پر شور نہیں مچتا۔ سپریم کورٹ پر بداعتمادی کے اظہار کا اندیشہ نہیں ہونا چاہیے۔ دیکھنے میں آتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں شور مچانے والوں کی تعداد دنیا کے باقی ممالک کے شور مچانے والوں سے زیادہ ہے چنانچہ یہاں شور کچھ زیادہ ہی سنائی دیتا ہے۔ بعض اوقات تو یہ شبہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارے پاس شور مچانے کےعلاوہ کوئی کام نہیں جہاں اور جب بھی موقع ملتا اور موقع نہیں بھی ملتا تو ہم شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارے ضرورت سے زیادہ شور مچانے کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہو گی کہ ہم کوئی فیصلہ سننے کے بعد اس فیصلے کو سمجھنے سے پہلے اپنے اندر کے فیصلے سامنے رکھ دیتے ہیں اور دیکھتے ہی ہمارے اندر سے شور نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔
ہماری طرح دوسرے فیصلے کو سننےوالے بھی یہی کرتے ہیں اور ان کا بھی شور نکل جاتا ہے۔ ان تجربوں سے گزرنے کی وجہ سے ہم شور مچانے کے عادی ہو گئے ہیں اور جو شور مچانے کے عادی ہو جاتے ہیں وہ شور ہنگامے کے اندر سانس لینے کو زندگی کا عمل سمجھتے ہیں۔ شور ہنگامے کی زندگی کے عادی ہونے کی وجہ سے ہمیں امن، سکون، آرام اور عافیت کی گھڑیوں سے بھی کچھ دلچسپی نہیں رہی۔ شاعر نے کہا تھا اور صحیح کہا تھا کہ :
کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکو
تجس میں جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے
نمایاں، اعلیٰ، قابل قدر اور لائق ستائش کارنامے سرانجام دینے والے ہمارے بزرگوں نے یقینی طور پر شور شرابے اور ہنگامے کی زندگیوں سے گریز کیا ہو گا۔ خاموشی، سکون اور سکوت انسان کو حوصلہ اور عزت بھی فراہم کرتا ہے اچھی اچھی باتیں سوچنے کا موقع بھی دیتا ہے۔
دوسروں کی بہتری اور مدد کے طریقوں پر غور کرنا اور ان طریقوں کو بروئے کار لانے کی کوشش کرنا ہی زندگی ہے اور خدا وند کریم نے بھی انسانوں کو انسانوں کی مدد کرنے اور ایک دوسرے کی بہتری کی راہیں تلاش کرنے کے لئے ہی پیدا کیا ہے اور یہ انسانی عمل عبادت کی ذیل میں آتا ہے۔ انسان کو اگر حیوان ناطق کہا جاتا ہے تو یہ بھی ضروری نہیں ہو گا کہ وہ حیوان ناطق اپنے نطق کو آرام، سکون اور خاموشی کا موقع ہی نہ دے۔ قدرت نے انسان کو نطق یا اظہار کی قدرت عطا فرمائی ہے تو یہ قدرت اسے اپنے مافی الضمیر کو بیان کرنے کے لئے ودیعت ہوئی ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگوں کو اظہار بیان کی قدرت اپنا مافی الضمیر چھپانے کے لئے بھی دی گئی ہو مگر خاموشی، سکون، آرام اور امن بھی دنیا کی اعلیٰ ترین نعمتوں میں شمار کئے جاتے ہیں جن سے انسان سب سے زیادہ فائدے اٹھاتا ہے۔
ترکی میں سولہ اپریل بروز اتوار سیاسی نظام کی تبدیلی کے بارے میں ریفرنڈم کروایا گیا۔ اس ریفرنڈم میں ساڑھے پانچ کروڑ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل تھے جن میں سے چھیاسی فیصد ووٹروں نے ایک لاکھ سڑسٹھ ہزار پولنگ اسٹیشنز پر اپنا اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ ترکی دنیا کے ان گنے چنے ممالک میں سے ایک ہے جہاں ووٹروں کی بہت بڑ ی تعداد اپنے اور ملک کے مستقبل کےلئے باقاعدگی اور بڑی تعداد میں ووٹ ڈالتی ہے۔ صدارتی ریفرنڈم کے بعد پاکستان اور عالمی میڈیا میں صدر ایردوان کے 2029ء تک صدر منتخب ہونے کے بارے میں تبصرے کئے گئے ہیں حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔
اس ریفرنڈم میں صرف ملک میں آئینی ترامیم کی منظوری یعنی صدارتی نظام کی منظوری دی گئی ہے جس پر تین نومبر 2019 کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد ہی عمل درآمد کیا جائے گا اور اس وقت تک ملک میں موجودہ پارلیمانی نظام ہی چلتا رہے گا یعنی بن علی یلدرم وزیراعظم کے طور پر فرائض ادا کرتے رہیں گے تو ایردوان صدر کے طور پر(پرانے آئین کے تحت تفویض کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے) اپنے فرائض ادا کرتے رہیں گے البتہ اس دوران پارٹی کی رکنیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ پارٹی کے چیئر مین کے طور پر بھی فرائض ادا کر سکیں گے تاہم ریفرنڈم کے بعد اپنے نئے اختیارات کو وہ تین نومبر 2019 کے صدارتی انتخابات کے بعد کامیاب ہونے کی صورت میں ہی استعمال کر سکیں گے یعنی ان کو 2019ء تک صدر منتخب نہیں کیا گیا ہے بلکہ ان کو دوبارہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔
یہ ریفرنڈم ترکی کی تاریخ کے لحاظ سے اس لئے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ ترکی میں پہلی بار ریفرنڈم کے ذریعے سیاسی نظام میں تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا ہے اور آئینی ترامیم کی منظوری دی گئی ہے جبکہ اس سے قبل ترکی میں سیاسی نظام کی تبدیل کبھی پارلیمنٹ یا عوام کے ذریعے نہیں آئی ہے بلکہ تبدیلی فوج ہی مارشل لاء لگاتے ہوئے لاتی رہی ہے۔ اگرچہ ان انتخابات میں آئینی ترامیم کے حق میں صرف اکیاون اعشاریہ چار فیصد ووٹ پڑے ہیں لیکن صدر ایردوان کا کہنا ہے کہ میچ چاہے صفر کے مقابلے میں ایک گول سے یا صفر کے مقابلے میں پانچ گول سے جیتا جائے۔ اس میں جیت ہی اہمیت رکھتی ہے لوگو ں کی تعداد کو ثانوی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ اس ریفرنڈم میں عوام کو آئینی ترامیم کے بارے میں قائل کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی ( آق پارٹی) کے بلاک کو سب سے پہلے پارٹی کارکنوں اور پھر عوام کو اس نئے نظام کے بارے میں قائل کرنے کے لئے بڑی جدو جہد کرنا پڑی اور ابتدا میں پارٹی کے اندر سے بھی مزاحمت دیکھی گئی تھی جسے وقت کے ساتھ ساتھ ختم کر دیا گیا اور عوام کو قائل کرنے کی کوششوں کو تیز تر کر دیا گیا۔
اس ریفرنڈم میں نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (MHP) کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے اور اس کے رہنماؤں، کارکنوں اور حامیوں کے درمیان بڑی خلیج سامنے آگئی ہے کیونکہ اس جماعت کے اسی فیصد ووٹروں نے اپنے رہنماؤں کے حق میں نہیں بلکہ مخالفت میں ووٹ دیا ہے جس سے پارٹی تقسیم ہو کر رہ گئی ہے اور جلد ہی اس پارٹی کی قیادت بدلتی ہوئی دکھائی دے گی یا پھر رہنماؤں کے خلاف دھڑا ایک نئی جماعت تشکیل دینے کی کوشش کرے گا اور یوں پارٹی کے چیئرمین دولت باہچے لی کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔
اس آئینی ریفرنڈم میں جنوبی مشرقی اناطولیہ،تھریس، بحیرہ ایجین اور بحیرہ روم کے علاقوں میں بڑی تعداد میں آئینی ترامیم کے خلاف ووٹ پڑے ہیں جبکہ بحیرہ اسود اور وسطی اناطولیہ میں آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ پڑے ہیں۔ علاوہ ازیں ترکی کے تینوں بڑے شہروں استنبول، انقرہ اور ازمیر میں صدارتی نظام کے خلاف ووٹوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اس سخت مقابلے کے بعد صدر ایردوان کو اپنے آئندہ ڈھائی سال نئی اسٹرٹیجی وضع کرتے ہوئے گزارنے پڑیں گے۔ صدر ایردوان دنیا کے عظیم ترین سیاسی اسٹرٹیجسٹ سمجھے جاتے ہیں اور انہوں نے جب سے سیاست میں قدم رکھا ہے اس وقت سے اب تک اس میدان میں کامیابی حاصل کرتے چلے آرہے ہیں.
دنیا میں کوئی بھی رہنما مسلسل اقتدار میں رہتے ہوئے اتنی بڑی کامیابیاں حاصل نہیں کر سکا ہے جتنی صدر ایردوان کے حصے میں آئی ہیں۔ اس ریفرنڈم کے بعد ری پبلکن بلاک نے ریفرنڈم میں دھاندلی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اس ریفرنڈم کو منسوخ کروانے اور نئے سرے سے ریفرنڈم کروانے کے لئے ترکی کے سپریم الیکشن کمیشن کو درخواست دی جسے سپریم الیکشن کمیشن کے سربراہ سعدی گووین نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ غیر مہر شدہ لفافوں والی بے ضابطگیاں اس سے پہلے بھی ہوتی رہی ہیں تاہم ری پبلکن پیپلز پارٹی نے اسٹیٹ کونسل اور اس کے بعد یورپی یونین کی عدلیہ سے بھی رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس ریفرنڈم کے نتیجے میں ملکی آئین میں تبدیلی آئے گی اور وہاں پارلیمانی کی بجائے صدارتی نظام رائج ہو جائے گا۔ وزیر اعظم کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا اور صدر کا انتخاب براہِ راست ووٹنگ کے ذریعے ہو گا۔ سربراہِ مملکت کے طور پر وہی حکومتی انتظامیہ کا سربراہ ہوا کرے گا۔ صدر کو متعدد اختیارات مل جائیں گے، جن میں بجٹ کے مسودے کی تیاری کے ساتھ ساتھ حکومتی وزرا اور ججوں کی تقرری اور اُن کی سبکدوشی کے اختیارات بھی شامل ہیں۔ صدر کی مدت اقتدار پانچ سال ہو گی اور اس کا انتخاب زیادہ سے زیادہ دو بار کیا جا سکتا ہے۔صدر براہ راست اعلیٰ حکام جن میں وزرا بھی شامل ہیں کو تعینات کر سکتا ہے۔صدر کے پاس ایک یا کئی نائب صدر متعین کرنے کا اختیار بھی ہوگا۔ ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ بھی صدر کرے گا۔
ترکی میں ریفرنڈم کی شفافیت کی نگرانی کے لئے کونسل آف یورپ کی پارلیمانی اسمبلی (PACE)، یورپی سلامتی اور تعاون کی تنظیم (OSCE) کے انسانی حقوق اور جمہوری اداروں کے دفتر (ODIHR) کے مبصرین کے مشترکہ مشن کی سربراہی کرنے والی شخصیت سیزار فلورین پریدا نےانقرہ میں ایک بیان دیتے ہوئے ریفرنڈم کے لئے چلائی جانے والی سیاسی مہم کو مساوی مواقع نہ دیتے ہوئے شدید تنقید کی تھی جس پر صدر ایردوان نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ “ہم آپ کی جانب سے سیاسی بنیادوں پر تیار کردہ رپورٹوں کو نہ تو دیکھتے ہیں نا ہی ان کی پروا کرتے ہیں۔ ہم اپنی راہ پر گامزن رہیں گے۔ ” ا س ریفرنڈم میں صدر ایردوان کی کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ اب جدید ترکی کے سیاسی ڈھانچے میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں عمل میں لائی جائیں گی اور صدر ایردوان کو وسیع تر اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔ صدر ایردوان نےاس کامیابی کے بعد بیان دیتے ہوئے کہا کہ پچیس ملین ترکوں نے اُن کی اُس تجویز کی حمایت کی ہے، جس کے تحت ترکی کے پارلیمانی نظام کی جگہ ایک ایسا صدارتی نظام رائج ہو جائے گا جو ملک میں سیاسی استحکام کا باعث ہوگا جس کے نتیجے میں ترکی ایک بار پھر تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔