والدین توجہ فرمائیں …!

کرسمس کے دنوں میں امریکہ بھر میں مشہور و مقبول نظم Jingle bells, jingle bells, Jingle all the way

(جِنگل بیلز جِنگل بیلز،جِنگل آل دا وے) کی گونج سنائی دیتی ہے۔ سکولوں میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو یہ نظم زبانی یاد کرائی جاتی ہے بلکہ بچہ جب ہوش سنبھالتا ہے تو کرسمس کے سیزن میں اس نظم کی دھن کے ساتھ جھومنے لگتا ہے اور وہ جب بولنا سیکھتا ہے تو اسے یہ دھن از بر ہو چکی ہوتی ہے۔ یہ مشہورو معصوم نظم جیمز لارڈ نامی رائٹر نے 1857ء میں لکھی تھی اور اس نے یہ نظم کرسمس کے موقع پر ایک چرچ میں گائی تو اسے بے حد پذیرائی ملی کہ اس نظم کو کرسمس کی علامت بنا دیا گیا۔ امریکہ میں مذہبی و ثقافتی تہواروں کے موقع پر مختلف نظمیں اور گیت لکھے گئے جو ان تہواروں کی پہچان بن چکے ہیں ۔انسانی نفسیات ہے کہ جب وہ کوئی گیت سنتاہے تو لا شعوری طور پر گنگنانے لگتا ہے۔بچے بھی موسیقی کے ساتھ جھومنے لگتے ہیں۔ انسان مو سیقی کا مثبت استعمال کرسکتا ہے۔بچے دھن میں بنی نظمیں جلدی یاد کر لیتے ہیں ۔ہم نے ان باتوں کی طرف اس وقت دھیان دینا شروع کیا جب ہماری بیٹی مومنہ تین سال کی تھی اور اس نے سکول جانا شروع کیا تھا۔ اولاد کی دینی و اخلاقی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ماں پر عائد ہوتی ہے ۔ایک غیر مسلم معاشرے میں ایک مسلمان کے لئے اپنے بچے کو عقائد اقدار کی تعلیم و تربیت دینا ایک کٹھن آزمائش ہے بلکہ اس منزل سے کامیاب گزرنا ایک پل صراط ہے۔ بچے کی نفسیات چار سال کی عمر میں مکمل ہو جاتی ہے اور ان چار سالوں میں وہ جو کچھ اپنے ماحول میں دیکھتا اور محسوس کرتا ہے اسے اپنے دل و دماغ کے کمپیوٹر میں محفوظ کر لیتا ہے۔ تیس سال پہلے امریکہ آئے تو بچوں کے لئے پڑھائی کی جدید سہولیات اور مواد میسر نہ تھا۔کتابیں اور آڈیو کیسٹس کا زمانہ تھا جبکہ آج انٹر نیٹ نے تعلیم کو سہل بنا دیا ہے بلکہ انٹر نیٹ کو ہی بچوں کی اصل ماں سمجھا جاتا ہے۔ مغرب میں انگریزی میں تعلیم وزبان یہاں کے ماحول میں مل جاتی ہے جبکہ مشکل مرحلہ بچوں کو اسلامی تعلیم اور اردو زبان سکھانا ہے اور دینی و اخلاقی تعلیم و تربیت ماں کی ذمہ داری ہے۔ نادان ہیں وہ ماں باپ جو مغرب میں رہتے ہوئے اپنے بچوں کے ساتھ انگریزی زبان میں بات کرتے ہیں ، شاید بچوں کے بہانے خود انگریزی سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ انگریزوں میں رہ کران کی زبان سکھانے کی ضرورت نہیں بلکہ مادری ، عربی اردو جیسی اہم زبانیں سکھانے کے لئے محنت کرنی چاہئے۔ اسلامی کلمات اور دعائیں صرف ماں اور دینی ماحول سکھا سکتا ہے۔ بیٹی نے جب سکول جانا شروع کیا تو کرسمس کے دنوں میں ’’جنگل بیلز جنگل بیلز‘‘ نظم گنگناتی رہتی۔ اس معصوم نظم سے ہمیں کوئی مخالفت نہیں بلکہ اس سے ہمیں یہ سوچنے میں مدد ملی کہ کیوں نہ ننھی مومنہ کو اسلامی نظمیں یاد کرادی جائیں تا کہ دین و دنیا کی تعلیم میں توازن رہے لہذاہم نے برطانوی نژاد نومسلم یوسف اسلام المعروف مشہور پاپ سنگر کیٹ سٹیون کی کیسٹس خریدیں۔ یوسف اسلام نے بچوں کے لئے بہت خوبصورت نظمیں لکھی ہیں جن کی دھنوں کے ساتھ بچے جھومنے لگتے تھے اور یوں اٹھتے بیٹھتے انہیں اسلامی نظمیں یاد ہو جاتی ہیں۔ نبی کریمؐ کی مدینہ منورہ میں ہجرت کے موقع پر مدینہ کے لوگوں نے دف کے ساتھ حضور ؐ کے لئے ایک استقبالیہ نظم گائی۔ ’’ طلع البدر علینا، من ثنیات الوداع‘‘ عربی کی یہ وہ مشہور و مقبول نظم ہے جو پندرہ صدیاں گزر جانے کے باوجود اپنی مقبولیت میں ایک بلند مقام رکھتی ہے۔ہم یہ عربی نظمیں کیسٹس پر لگا دیتے، ہمارے بچے انگریزی نظموں کی طرح عربی نظمیں بھی یاد کرنے لگے اور اٹھتے بیٹھتے گنگنانے لگے۔ ’’طلع البدر علینا‘‘ مدینہ طیبہ کی اس استقبالیہ نظم کا پس منظر بچوں کوبتایا تو ان میںحضورؐ کی حیات طیبہ کی کہانیاں سننے کا شوق پیدا ہو گیا۔ برطانوی سنگر اور نو مسلم کیٹ سٹیون یوسف اسلام کی لکھی ایک مشہور اسلامی نظم

Alif is for Allah, nothing but Allah;

Ba is the beginning of Bismillah;

Ta is for Taqwa, bewaring of Allah;

and Tha is for Thawab, a reward;

(الف سے اللہ، با سے بسم اللہ، تا سے تقویٰ اور ث سے ثواب) نظم کو عربی کے مکمل حروف تہجی کے ساتھ انتہائی خوبصورت انداز میں لکھا اور گایا کہ بچوں کو ازبر ہو گیا اور اردو قاعدہ (الف انار، ب بکری، ت تختی) یاد کرنے میں بھی مشکل پیش نہیں آئی۔ دین و دنیا کی تعلیم ایک ساتھ جاری رہی، ذہانت و قابلیت میں مددگار ثابت ہوئی اور ہماری بیٹی اردو،پنجابی،عربی،فارسی،جرمن زبانیں پڑھنے لگی حتیٰ کہ فلسفہ اقبال پڑھنے کے لئے جرمنی گئی۔ پنجابی صوفیانہ کلام کا انگریزی میں ترجمہ کر کے اپنے امریکی دوستوں کو شیئر کرتی۔ امریکی یونیورسٹی میںفلسفہ اقبال ؒ پر ایک پیپر لکھا جس کو اس قدر پذیرائی ملی کہ بیس سال کی عمر میں ہماری بیٹی کو ڈیوک یونیورسٹی کی ایک اسلامی کانفرنس میں بحیثیت گیسٹ سپیکر مدعو کیا گیا ۔ مغربی تعلیم و ثقافت اور تہوار مسئلہ نہیں بلکہ تشویش دینی تعلیم و تربیت سے دوری ہے۔ تعلیم کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا بلکہ مسلمان بچوں کے ساتھ ان کے اپنے والدین انصاف نہیں کر رہے۔ انسان خواہ کسی ملک میں رہتا ہو ، انہیں اپنا کھویا ہوا وقار، اعتماد، نظریات، اخلاقیات اور عقائد اسی صورت میں واپس مل سکتے ہیں کہ وہ دین اور دنیا کی تعلیم میں توازن رکھیں ورنہ فرنگی کی اترن کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

   طیبہ ضیاءچیمہ ….(نیویارک)

Enhanced by Zemanta

Haji Abdul Razzak

Abdul Razzak Yaqoob (ARY) was a wealthy Pakistani businessman based in Dubai. He was the owner of ARY Group of Companies.[2]His parents migrated from Surat, India to Karachi in 1944. He came to Dubai from Pakistan in 1969. In 1972 Yakoob established ARY and opened its first outlet in Fikri market Deira. He also started importing watches, perfumes and cigarettes. Two years later, when his brother, Mohammed Iqbal, joined him, the group branched out into dealing with food and Textiles. Besides catering to the local market, they also began exporting food-stuff to Iran. Yaqoob’s current business includes a Gold and Silver trading segment. Yaqoob is known to provide financial assistance to the Pakistani government in times of need.[3]Abdul Razzak Yaqoob is head of the World Memon Organization.[4]He died on 21st of February 2014.[1] He was ill since many days.

Violence against women in Pakistan

 

بلوچستان کے دور افتادہ شہر لورالائی کے ایک گاؤں میں مولوی کے فتویٰ کے بعد گاؤں کے لوگوں نے ایک عورت اور مرد کو پتھراؤ کر کے ہلاک کر دیا۔ لورالائی کے گاؤں منزکی سے آنے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مرد اور عورت پر مبینہ طور پر غیر قانونی تعلقات رکھنے کا شبہ تھا۔ اس عورت اور مرد کو غسل اور کفن پہنائے بغیر اور نماز جنازہ کی ادائیگی کے بغیر دفن کر دیا گیا۔ حکام نے کچھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے مگر مولوی مفرور ہے۔ لورالائی میں ہونے والا یہ واقعہ انسانوں کے رونگٹے کھڑے کرنے کے لیے کافی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہر طرف جنون اور جنون کی فضا ہے اور ہر روز رونما ہونے والا کوئی واقعہ عورتوں پر تشدد کی تاریخ یاد دلاتا ہے۔ گزشتہ ماہ مظفرگڑھ میں چند لوگوں نے پنچایت کے حکم پر ایک عورت کے بازار میں کپڑے تار تار کر دیے۔ جب اس واقعے کا علم ذرایع ابلاغ کو ہوا اور حکام نے اس واقعے کے ذمے دار افراد کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تو متاثرہ عورت نے دباؤ کی بنیاد پر اپنی شکایت واپس لے لی۔ اور حکام نے بغیر کسی مزید تحقیقات کے معاملہ داخل دفتر کر دیا۔ پنجاب، پختونخوا اور بلوچستان میں کمسن لڑکیوں کو وِنی کرنے کی خبریں روز اخبارات میں شایع ہوتی ہیں۔

باپ، دادا، چچا، ماموں اور بھائی کے جرم کی سزا کے بدلے بچیوں کو کمسنی میں متعلقہ دشمن کو ونی کر دیا جاتا ہے تا کہ دو خاندانوں کے درمیان جنگ و جدل کا ماحول ختم ہو سکے مگر اس جنگ و جدل کو ختم کرنے کی قیمت کمسن لڑکیوں کو ساری عمر دشمن خاندان میں سسک سسک کر زندگی گزارنے کے لیے زندہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔ تحقیق کار سعدیہ بلوچ نے عورتوں پر تشدد اور کاروکاری کے موضوع پر کتاب تحریر کی ہے جسے انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (HRCP) نے شایع کیا ہے۔ سعدیہ بلوچ خواتین پر تشدد کے پس منظر کو بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ انسانی سماج کے آغاز پر پدر سری نظام کے آغاز سے جب زر اور زمین کے ساتھ یعنی زن کو ملایا گیا تب سے عورت کو جنسی تجارت سمجھا گیا اور تب ہی سے اپنی حاکمیت اور برتری قائم رکھنے کے لیے لازم تھا کہ مردوں کا طبقہ عورتوں پر تشدد کرے۔ اس طرح پدر سری نظام میں معاشرتی بالادستی کے لیے خود سماج، خاندان، سیاست، معیشت، مذہب پر ہی مرد کی اجارہ داری ضروری سمجھی گئی۔ عورتوں پر تشدد محض کسی مقامی خاندان یا برادری کا مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر عورت پر تشدد کا معاملہ اہمیت اختیار کر گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ نے عورتوں پر تشدد کے مسئلے کو اپنے ایجنڈے میں شامل کیا۔

اقوام متحدہ کی مختلف قراردادوں میں صنفی بنیادوں پر ہونے والا کوئی بھی پرتشدد عمل جس کے نتیجے میں انسان کو جسمانی، ذہنی یا جنسی نقصان پہنچے عورتوں پر تشدد کہلاتا ہے۔ کتاب میں تشدد کی اقسام بیان کرتے ہوئے تحریر کیا گیا ہے کہ عورت جسمانی تشدد، جنسی تشدد، نفسیاتی تشدد، معاشی استحصال، سماجی استحصال، روحانی تشدد، ثقافتی تشدد، زبانی یا اخلاقی تشدد، نظر انداز کیے جانے والے تشدد کا شکار ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب عورت تخلیق کے عمل سے گزرتی ہے تو بھی اس کو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح گھریلو تشدد کے بہت سے واقعات سامنے آتے ہیں جن میں آگ، مٹی کے تیل، تیزاب سے جلنے والے اعضا کے واقعات شامل ہیں۔ اس کتاب میں تحریر کیا گیا ہے کہ عمومی طور پر ایک عورت پر کیے جانے والے ظلم کی سزا دوسری عورت کو دی جاتی ہے۔ گزشتہ سال مئی میں ڈیرہ غازی خان میں ایک پنچایت نے فیصلہ دیا کہ غلام حسین کے بیٹے عبدالحمید نے سمیرا نامی لڑکی سے ناجائز تعلقات استوار کر رکھے تھے، اس بنا پر غلام حسین کو حکم دیا گیا کہ اپنی بیٹی کی شادی سمیرا کے بھائی سے کر دے۔ سمیرا کے بھائی مجاہد نے غلام حسین کی بیٹی سے نکاح کیا اور اپنی بیوی یعنی عبدالحمید کی بہن کو اپنے دوستوں کے حوالے کر دیا جنھوں نے اسے اجتماعی درندگی کا نشانہ بنایا۔ اس طرح عورتوں کو برہنہ کر کے سر عام رسوا کرنے، گنجا کرنے یا بدہیت کرنے کے کئی واقعات بھی اخبارات کے ذریعے منظر عام پر آتے رہے ہیں۔

عزت یا عزت کے نام پر قتل اور اس بنیاد پر بننے والی رسوم و روایات جیسے کاروکاری کی رسم عمومی طور پر قبائل میں پائی جاتی ہیں، یہ قبائل بلوچستان کے علاوہ جیکب آباد، لاڑکانہ، خیرپور، شکارپور،دادو اور سکھر کے علاوہ جنوبی پنجاب میں ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفر گڑھ میں آباد ہیں، مگر دیگر قبائل اور برادریوں میں بھی قتل، کاروکاری اور ونی جیسی رسوم پائی جاتی ہیں۔ مذکورہ کتاب میں انکشاف کیا گیا کہ کاروکاری کے فیصلے جرگہ، پنچایت میہڑ وغیرہ میں طے پاتے ہیں، عمومی طور پر کسی بھی خاندان یا برادری کے معززین بیٹھ کر تنازعات کا فیصلہ کرتے ہیں۔ پنچایت میں شریک افراد پنچ کہلاتے ہیں، پنچایت کے فیصلے مانے جاتے ہیں، اس طرح قبائلی نظام میں قبائلی مرد مل کر فیصلہ کرتے ہیں تو وہ جرگہ کہلاتا ہے۔ بعض اوقات دو یا زیادہ قبائل کے درمیان تنازعے کے حل کے لیے مختلف قبیلوں کے سرداروں اور عمائدین پر مشتمل جرگے منعقد ہوتے ہیں۔ پنچایت اور جرگے میں عورتوں سے متعلق مقدمات پر فیصلے ہوتے ہیں مگر عورتوں کا پنچایت اور جرگوں میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔ سندھ ہائی کورٹ نے چند سال قبل انسانی حقوق کے کارکن اختر بلوچ کی عرضداشت پر جرگوں کے انعقاد کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا مگر اب بھی جرگے منعقد ہوتے ہیں۔ وزرا، اراکین اسمبلی ان جرگوں میں شرکت کرتے ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ جب چاول کی فصل کٹتی ہے تو یہ وقت کاروکاری کو عملی جامہ پہنانے کا بھی بہترین وقت ہوتا ہے چونکہ لوگوں کے پاس پیسہ آتا ہے، اس پیسے کے بل بوتے پر دوسرے سے پیسہ ہتھیانا آسان ہوتا ہے، اپنے دفاع کے لیے پولیس کو رشوت دینے کے لیے پیسہ موجود ہوتا ہے، یہ موسم صرف دھان کی کٹائی کا ہی نہیں عورتوں کی گردنیں کٹنے کا ہوتا ہے۔ اگر مرد خواب میں بھی اپنی بیوی کی بے وفائی دیکھے تو اسے قتل کر دیتا ہے اور پھر کسی دشمن کو قتل کر کے غیرت کا معاملہ بنا لیتا ہے۔

مصنفہ کے مطابق یہ پدر سرانہ قبائلی نظام معاشی و اقتصادی فوائد کا حصول، افلاس، بے روزگاری، زمین کی پیداوار کم اور اخراجات زیادہ ہونا، مذہب کی غلط ترویج، ناخواندگی، تعلیمی نصاب میں صنفی بنیادوں پر تفریق پر مبنی مواد، تشدد کا کلچر، عدالتوں کے فیصلوں میں عزت کی بنیاد پر قتل کی سزائیں کم کرنا، راضی نامے، صلح معافی اور قانون دیت کا قانون وغیرہ کاروکاری کی بنیادی وجوہات میں شامل ہے۔ سعدیہ بلوچ نے ایسے وقت میں یہ کتاب تحریر کی ہے جب عورتوں پر تشدد کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ لورالائی کے گاؤں میں عورت اور مرد کو سنگسار کی سزا خطرناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ حکومت بلوچستا ن نے سنگسار کے واقعے میں ملوث 9 کے قریب افراد کو گرفتار کیا ہے مگر معاملہ محض گرفتاری سے حل نہیں ہو گا، یہ لوگ عینی شاہدوں کی عدم موجودگی کی بنا پر رہا ہو جائیں گے اور پھر سرخرو ہوں گے۔ بنیادی معاملہ یہ ہے کہ عورت پر ہونے والے تشدد کے اسباب کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ عورتوں پر تشدد کے حوالے سے کی جانے والی مختلف نوعیت کی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ مرد کی بالادستی پر مبنی معاشرہ مردوں کے ذہن کو اس طرح ترتیب دیتا ہے کہ وہ عورت کو کمتر جانتے ہیں اور عورت کو زبانی تشدد سے لے کر جسمانی تشدد کے ذریعے اپنے زیر نگرانی رکھا جاتا ہے۔ مردوں کی عورتوں کو زیر تسلط رکھنے کی سوچ کی بنا پر عورتوں اور ان کے ساتھی مردوں کو سنگسار، انھیں کاری قرار دے کر قتل، دشمن سے صلح کے لیے لڑکیوں کو ونی کیا ہے۔ پسند کی شادی کے حق کے استعمال پر موت کی سزا دینے کے طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ عورت کے پسماندہ رہنے سے غربت و افلاس کی سطح بلند ہو رہی ہے، یوں ترقی کا خواب محض خواب رہتا ہے۔ عورتوں کے سماجی، معاشی، سیاسی حقوق کے تحفظ سے انھیں بہیمانہ سزاؤں سے بچایا جا سکتا ہے۔

Declining Trends of Foreign Direct Investment in Pakistan

پاکستان کو جی ایس پی اسٹیٹس ملنے کے آغاز پر یہ توقع کی جا رہی تھی کہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہوجائے گا۔ لیکن اسی دوران ملک میں امن منافی واقعات میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔ توانائی بحران ابھی تک ناقابل حل دکھائی دے رہا ہے بلکہ اس کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ چند دن قبل ہی پنجاب کی صنعتوں کے لیے گیس کی فراہمی معطل کردی گئی۔ اس کے ساتھ ہی حکومتی وزرا یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ حکومت ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ اور موجودہ حجم میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو توانائی، بنیادی ڈھانچوں کی فراہمی معیشت کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے ہر ممکن سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

چند ہفتے قبل وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ کی زیر صدارت دبئی میں پاکستان بزنس فورم کے اجلاس کے دوران انٹرنیشنل بزنس اینڈ انویسٹمنٹ کونسل قائم کردی گئی۔ جس کا مقصد بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور فروغ کے لیے تاجروں، صنعتکاروں، سرمایہ کاروں اور پروفیشنلز کو مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ کونسل کے زیر اہتمام ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ملک کو معاشی خود انحصاری کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر انھوں نے پاکستان کی اقتصادی و معاشی صورت حال پر بھی روشنی ڈالی اور شرکا کو پاکستان کے اقتصادی ایجنڈے اور معاشی وژن سے بھی آگاہ کیا۔

دوسری طرف حکومتی حلقوں اور بعض ماہرین کی جانب سے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں مسلسل کمی واقع ہوتی چلی جا رہی ہے۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ اتنی کم سرمایہ کاری ماضی میں کبھی نہ تھی، کہ مسلسل گراوٹ دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق جولائی 2013 تا جنوری 2014 ان سات ماہ کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم ایک ارب گیارہ کروڑ 61 لاکھ ڈالر رہا۔ جب کہ اسی دوران براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا انخلا 59 کروڑ 31 لاکھ ڈالر رہا۔ غیر ملکی سرمایہ کاری میں مسلسل کمی کو دیکھ کر ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا دنیا پاکستان کو ناکام ریاست سمجھ رہی ہے۔ پاکستان کے بارے میں صنعتی ممالک اپنے شہریوں کو وقتا ًفوقتا ًآگاہ کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان کا سفر کرنے سے گریز کی کوشش کی جائے۔ لہٰذا پاکستان کو اپنا امیج بہتر بنانے کی بھی فوری ضرورت ہے تاکہ بیرون ممالک سے تاجر صنعتکار پاکستان کا رخ کریں۔

اس وقت دنیا بھر کی حکومتوں کی کوشش ہے کہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری لے کر آئیں۔ امریکا جوکہ خود کو ایک سپر طاقت کہلواتا ہے اب اپنے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے مہم چلا رہا ہے۔ امریکا کی کوشش ہے کہ امریکا میں غیر ملکی سرمایہ کار ان شعبوں میں سرمایہ کاری کریں جس سے پیداوار میں بھی اضافہ ہو، اس کے ساتھ ہی لوگوں کے روزگار میں بھی اضافہ ہو۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر غیرملکی سرمایہ کاروں کو 32 اہم منڈیوں میں سرمایہ کاری کرنے کی جانب راغب کیا جائے گا۔ کیونکہ اس وقت امریکا کی سالانہ شرح نمو 2 فیصد کے لگ بھگ ہے جوکہ دیگر ترقی یافتہ ملکوں کی نسبت کم ہے۔ شرح نمو میں اضافے کے لیے اب ماضی کی نسبت تمام کوششوں کو باہم مربوط کیا جائے گا تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو۔ امریکا میں ہی پچھلے دنوں سرمایہ کاروں کا کنونشن منعقد کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ 2000 تک دنیا بھر میں ہونے والی کل سرمایہ کاری کا 37 فیصد امریکا میں ہوا کرتا تھا لیکن اب کل بیرونی سرمایہ کاری کا حصہ سکڑ کر 17 فیصد ہوگیا ہے۔

یورپ بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں کی تلاش میں پیچھے نہیں ہے۔ اب ان کی نظریں عرب امرا پر لگی ہوئی ہیں۔ یورپی یونین کے رکن ملک مالٹا نے تو یہاں تک آفر کردی ہے کہ کوئی بھی غیر ملکی ساڑھے 6 لاکھ یورو کی سرمایہ کاری کرنے کے ساتھ ہی اس ملک کی شہریت بھی حاصل کرسکتا ہے۔ پہلے شہریت کے حصول کے لیے طویل عرصے تک مالٹا میں قیام کرنا ضروری تھا۔ اس طرح شہریت حاصل کرنے والوں کے لیے یورپ بھر میں سفر کرنا آسان ہوجائے گا اور سرمایہ کاری کرنا نیز قیام کرنا بھی آسان ہوجائے گا۔ اسپین نے بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے زمین اور جائیداد کا حصول آسان بنادیا ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ نے بھی غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے ویزے کی شرائط کو انتہائی آسان کردیا ہے۔

موجودہ حکومت غیرملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ وزیراعظم پاکستان چین اور ترکی کا دورہ کرچکے ہیں۔ ترک سرمایہ کاروں کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کا عندیہ دے چکے ہیں۔ لیکن بعض غیر ملکی سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہاں پر کرپشن سرخ فیتہ، توانائی بحران اور امن و امان وغیرہ کے مسائل بہت بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ورنہ پاکستان خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے انتہائی موزوں ترین ملک ہے۔ لیکن جہاں ایسے فیصلے صادر کردیے جائیں کہ صنعتوں کو گیس کی سپلائی فوری معطل کی جا رہی ہے تو ایسے میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی سی ہوگی لہٰذا حکومت کو توانائی کی تقسیم اور پیداوار میں اضافے پر بھرپور توجہ دینا ہوگی تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ممکن ہوسکے۔