پاکستان ایک وحدت ہے اور اس وحدت میں صوبوں کی حیثیت کثرت اور تنوع کی ہے۔ جس طرح زندگی کا اصول وحدت ہے، اسی طرح کثرت اور تنوع بھی زندگی کی حقیقت ہے۔ قرآن مجید نے صاف کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو قبیلوں میں پیدا کیا لیکن اس کی وجہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ امتیاز سے قبیلوں کی شناخت اور تشخص متعین ہوتا ہے اور وہ فرق سے ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں۔ لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے تنوع کو تضاد بنادیا ہے، چنانچہ ہماری قوت کمزوری میں ڈھل گئی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اہلِ ایمان کو ہدایت کی ہے کہ اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ قبیلوں کا امتیاز شناخت کے لیے ہے۔ تعصب اور جھگڑے کے لیے نہیں۔ اسی لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو عصبیت پر مرا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ لیکن وطن عزیز میں صوبائیت ہر طرف بنکارتی پھر رہی ہے۔ اس کا ایک ثبوت گزشتہ انتخابات کے نتائج ہیں۔