افتخار چوہدری،جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور ہم………سلیم صافی.

 

 خلاقی انحطاط ہی ہماری تباہی اور رسوائی کی اصل علت ہے ۔ ہم بحیثیت قوم بدترین اخلاقی انحطاط سے دوچار ہیں لیکن اپنے گریبان میں جھانکنے کی بجائے ہم خارج کی طرف انگلی اٹھاتے رہتے ہیں ۔ کردار امریکہ کا بھی ہوگا ‘ ہندوستان کا بھی ‘ افغانستان کا بھی ‘ سعودی عرب کا بھی اور ایران وغیرہ کا بھی لیکن اصل خرابی ہمارے اندر ہے اور اپنے راستے میں گڑھےہم خود کھود رہے ہیں۔

ہم بحیثیت قوم ‘اعلیٰ انسانی اور قومی اوصاف سے محروم ہوچکے ہیں۔ اس قوم کی اصل ذہنیت جاننی ہو تو کسی وقت کسی پبلک ٹائلٹ کے اندر دیواروں پر لکھی تحریروں کو پڑھ لیجئے۔ لیڈر نہیں تو کیا صحافی ٹھیک ہے؟ ‘ کیا استاد کا قبلہ درست ہے؟ ‘ کیا دانشور ‘ دانش فروش نہیں؟‘ کیا سرکاری ملازم کام چور اور رشوت خورنہیں؟کیا جج انصاف فروش اور وکیل قانون شکن نہیں ؟۔ کیا ہم بحیثیت قوم سب سے بڑی جھوٹی قوم کا ’’اعزاز‘‘نہیں رکھتے؟ ۔ کیا منافقت کی بیماری اس قوم کی رگوں میں رچ بس نہیں گئی ہے ؟۔ مجھ سمیت کون ہے جو سچ بول سکتا ‘ سچ لکھ سکتا اور سچ کے ساتھ زندگی گزار رہا ہو؟۔مستثنیات ہر جگہ موجود رہتی ہیں ۔ یقیناً پاکستان میں بھی ایک بڑی تعدادمیں صاحبان عزیمت موجود ہے ۔میں اگر گناہوں میں لت پت ہوں تو میرے گھر کے اندر بھی میری ماں کی صورت میں ایک عظیم انسان موجود ہے۔ اچھے لوگ ہر طبقے میں کہیں کہیں نظر آتے ہیں اور شاید انہی لوگوں کی برکت سے ابھی تک یہ ملک قائم اور ہم بنی اسرائیل کی طرح کسی بڑے عذاب سے بچے ہوئے ہیں لیکن بحیثیت مجموعی ہم اخلاقی انحطاط کی آخری حدوں کو چھونے لگے ہیں۔ وجہ شاید یہی ہے کہ مصلحین سیاست میں لگ گئے ہیں ۔ فلاحی کاموں کی استعداد رکھنے والے لیڈر بننے کی کوشش کررہے ہیں۔

استاد ‘ معلم نہیں رہا نوکر بن گیا جبکہ صحافی جج اور مفتی بننے کی ناکام کوشش کررہا ہے ۔ فوجی سیاست کرتے رہے اور خفیہ ایجنسیوں والے دشمنوں کی بجائے اپنوں کے بیڈروموں کی نگرانی کرنے لگے ۔ علاج تو ایک ہی ہے کہ جس کا جو کام ہے ‘ وہ اسی کو کرنے میں لگ جائے ۔ دوسرے اداروں کی اصلاح کی بجائے ہر ادارہ اپنے آپ سے اصلاح کی کوشش کرے۔ پڑوسی اور ساتھی پر انگلی اٹھانے کی بجائے ہم میں سے ہر کوئی اپنے گریبان میں جھانک لے ۔ ہم ایسا کرنے کو تیار نہیں تبھی توہم ایک دوسرے کی قدر کرنا بھول گئے ۔ محبت کی بجائے نفرت ہماری پہچان بنتی جارہی ہے ۔ اذیت دینا ہماری عادت اور سہنا ہماری مجبوری بنتی جارہی ہے ۔ لطیف احساسات رخصت رہے اور سازشی نفسیات غلبہ پارہی ہے ۔ سب سے بڑا المیہ یہ رونما ہوا کہ ہم گناہ اور جرم کے فرق کو بھول گئے۔ گناہ

جو اللہ اور انسان کے بیچ کا معاملہ ہوتا ہے ‘ کا ہم ذکر بھی کرتے ہیں اوراس پر لوگوں کو مطعون بھی کرتے ہیں لیکن جرم ہمارے لئے قابل توجہ نہیں رہا ۔ جرم وہ ہے جس سے دوسرے انسان متاثر اور حقوق العباد مجروح ہوتے ہیں ۔ ہم چڑھتے سورج کے پجاری بنتے جارہے ہیں ۔ جانے والے کو گالی دینا او رآنے والے کے سامنے سجدہ ریز ہونا ‘ ہمارا قومی وصف بنتا جارہا ہے ۔ تازہ ترین مثال جسٹس ریٹائرڈ افتخار محمد چوہدری کی ملاحظہ کرلیجئے ۔ وہ لوگ جنہوں نے نعوذ بااللہ انہیں مسیحا بنائے رکھا‘ جو دن رات ان کے گن گاتے رہے ‘ جو ان سے کسی غلطی کے صدور کے امکان کو ماننے پر آمادہ نہ تھے ‘ وہ لوگ بھی آج شیر بن کر ان کو گالیاں دینے پر اتر آئے ۔ اخلاقی پیمانوں پر دیکھا جائے توبابر ستار ‘ ڈاکٹر بابراعوان‘ جسٹس طارق محمود ‘ عاصمہ جہانگیر‘ فواد چوہدری ‘ بیرسٹر محمد علی سیف اور ان جیسے چند لوگوں کو ہی زیب دیتا ہے کہ افتخار چوہدری پر تنقید کریں ۔ درست یا غلط لیکن یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اس وقت ان پر تنقید کی جرأت کی جب افتخار چوہدری صاحب کی طاقت کا طوطی بول رہا تھا لیکن وہ لوگ کس اخلاقی جواز کے تحت ان کے خلاف گلے پھاڑ رہے ہیں جو کل تک ان کے مدح خواں تھے۔ ہم اس اخلاقی دورنگی کے صرف افتخار چوہدری کے معاملے میں نہیں بلکہ کم و بیش ہر حوالے سے شکار ہیں ۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنما ملا عبدالقادر کی پھانسی پر ہماری خاموشی اور بے حسی ملاحظہ کر لیجئے۔

ایک وقت تھا جب بنگلہ دیش میں پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے والوں کو خراج تحسین پیش کرنا فیشن تھا تو اس وقت اس قوم کے سیاستدانوں اور دانشوروں کی اکثریت جماعت اسلامی بنگلہ دیش یا پھر البدر اور الشمس کے حق میں رطب اللسان تھی لیکن آج جب مذہبی عسکریت پسندوں کے بارے میں سوچ بدل گئی ہے تو یہاں جماعت اسلامی کے سوا پوری قوم جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے ساتھ روا رکھے گئے ظلم پر خاموش ہے ۔ یہاں کی حکومت کو تھائی لینڈ میں سیاسی تبدیلیوں پر تو تشویش ہے اور فاطمی صاحب کی دفتر خارجہ نے اس پر بیان جاری کرنا ضروری سمجھا لیکن بنگلہ دیش میں پاکستان کی خاطر جان قربان کرنے والے عبدالقادر ملا کی پھانسی پر مذمتی نہ سہی تعزیتی بیان بھی جاری نہ کرسکی۔ ایک زمانہ میں سوچ اور تھی لیکن اس وقت میں جماعت اسلامی کی پالیسیوں کا شدید ناقد ہوں۔

مجھے اعتراف ہے کہ جماعت اسلامی کی قیادت نے بنگلہ دیش کے المیے سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اس کے بعد بھی پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے مہرے کا کردار ادا کرتی رہی ۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش یا پھر البدر و الشمس کے اس وقت کے فیصلے اور کردار سے متعلق بھی اکثر اعتراضات کو میں درست سمجھتا ہوں لیکن وہ ایک اجتہادی غلطی تھی ۔ عبدالقادر ملا جیسے لوگ بنگلہ دیش کے غدار لیکن پاکستان کے تومحسن ہیں ۔ وہ پاکستان کا ساتھ دینے کی وجہ سے وہاں غدار قرار ٹھہرے ۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا کردار قابل اعتراض ہوسکتا ہے لیکن مشرقی پاکستان کو الگ کرنے کا آغاز اس نے نہیں کیا تھا۔ اردو کو قومی زبان بنانے کا فیصلہ جماعت اسلامی نے نہیں بلکہ کچھ اور لوگوں نے کیا تھا ۔ بنگالیوں کے حقوق جماعت اسلامی نے نہیں بلکہ مغربی پاکستان کی اشرافیہ نے ہڑپ کررکھے تھے ۔ اکثریت حاصل کرنے کے باوجود عوامی لیگ کو اقتدار دینے کی راہ میں جماعت اسلامی نہیں بلکہ پیپلز پارٹی رکاوٹ ڈال رہی تھی جبکہ فوج کشی کا فیصلہ جماعت اسلامی نے نہیں بلکہ جنرل یحیٰ خان نے کیا تھا۔ اس سے بھی بڑی اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہتھیار البدر اور الشمس نے نہیں جنرل نیازی نے ڈالے تھے ۔ نتیجہ تو 65 اور کارگل کی جنگوں کا بھی پاکستان کے حق میں اچھا نہیں نکلا تو کیا ان جنگوں میں فوج کا ساتھ دینے والے بھی ہمارے ہیرو نہیں۔

آخر ہم اپنی قوم کو کیا پیغام دے رہے ہیں ؟۔ درست یا غلط لیکن اگر ماضی میں ریاست پاکستان اور افواج پاکستان کا ساتھ دینے والوں کو ہم بھی غدار سمجھیں گے تو ہم مستقبل کے لئے بلوچ ‘ سندھی اور پختون عوام کو کیا پیغام دے رہے ہیں ۔ مدعا ہر گز یہ نہیں کہ پاکستانی قوم سڑکوں پر نکل آئے اور بنگلہ دیشی حکمرانوں کی بجائے اپنا نقصان کرلے ۔ عرض صرف یہ کرنا ہے کہ حکومت اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے خلاف مظالم کو اٹھائے ۔ یہ جماعت اسلامی کا نہیں پاکستان کا مسئلہ ہے ۔ ان لوگوں کا جرم اس کے سوا کچھ نہیں کہ کسی وقت انہوں نے پاکستان اور افواج پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔ بنگلہ دیشیوں کے لئے یہ جرم ہے لیکن کیا پاکستان میں بھی یہ کام جرم بن گیا ہے ؟ اگر نہیں تو پھر حکومت پاکستان کی اس خاموشی کا کیا جواز ؟۔

ایک وضاحت: میرے گزشتہ کالم کے جواب میں تحریک انصاف کے نئے نامزد کردہ (منتخب وہ نہیں) صوبائی صدر اعظم خان سواتی صاحب کا جوابی کالم 12 دسمبر کے جنگ میں شائع ہوا ہے ۔ میں اپنے کالم کے مندرجہ جات کی صحت پر قائم ہوں ۔ انہوں نے اپنے جوابی کالم میں میرے ساتھ بالمشافہ مکالمے کی پیشکش کی تھی ۔ کالم پڑھتے ہی میرے ٹی وی پروگرام کے پروڈیوسروں چوہدری خالد عمر اور عادل اعوان نے ان سے نہ صرف رابطہ کیا بلکہ التجائیں بھی کیں کہ وہ اگلے پروگرام میں آکر ون ٹوون انٹرویو کے دوران اپنا موقف پیش کردیں ۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ اس وقت ڈی آئی خان میں ہیں اور اگلے دو ہفتوں تک فارغ نہیں ہیں ۔ ان کا ایس ایم ایس میرے پاس اور میری ٹیم کے پاس موجود ہے ۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اسی شام وہ خیبرپختونخوا ہائوس اسلام آباد میں عمران خان صاحب کی قیادت میں تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کی میٹنگ میں نظر آئے ۔ جہاں ان کی نامزدگی کے خلاف تحریک انصاف کے نظریاتی اراکین نے خوب احتجاج کیا۔

اس مجلس میں ایک رکن اسمبلی نے عمران خان کی موجودگی میں گواہی دی کہ پارٹی کے صدارتی انتخابات کے موقع پر اعظم سواتی نے انہیں رقم کی پیشکش کرکے خریدنے کی کوشش کی ۔ میرے دونوں پروڈیوسر اعظم سواتی صاحب کو شو میں شرکت کے لئے منانے کی خاطر اسی وقت خود پختونخوا ہائوس چلے گئے لیکن اعظم سواتی صاحب نے ان سے ملاقات کی اور نہ شو میں آنے پر آمادہ ہوئے ۔ بہرحال ان کی پیشکش کے جواب میں ہماری آمادگی برقرارہے ۔ وہ جس وقت چاہیں میرے پروگرام میں اپنا موقف بیان کرسکتے ہیں ۔ اعظم سواتی صاحب نے اپنے جوابی کالم میں بتایا ہے کہ وہ عرصہ دراز سے میرے ساتھ بیٹھنا چاہتے ہیں لیکن میں گریز کررہا ہوں ۔ ان کی یہ بات اپنی جگہ درست ہے لیکن اللہ گواہ ہے کہ میرا ان کے ساتھ کوئی ذاتی تنازع نہیں ۔ وہ ملنے جلنے میں ایک ملنسار انسان ہیں ۔ میری بے انتہاقدر کرتے ہیں اور بحیثیت انسان میں بھی ان کی بے حد قدر کرتا ہوں ۔ مجھے بس ان کی پیسے کے زور پر سیاست کرنے کی روش سے اختلاف ہے ۔ جب وہ ایم ایم اے میں تھے تب بھی ان پر اسی بنیاد پر تنقید کرتا رہا اور اسی وجہ سے ان کے ساتھ کبھی خلوت میں نہیں بیٹھا اور اب جبکہ وہ تحریک انصاف میں بھی اسی ہتھیار کو استعمال کررہے ہیں تو مجھے اچھا نہیں لگتا ۔ تحریک انصاف سے اختلاف اپنی جگہ لیکن میرے نزدیک اس ملک کے مخلص اور انقلابی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے اس جماعت کو اپنی امیدوں کا مرکز بنالیا ہے ۔ وہ میرے صوبے کی حکمران ہے اور اس کی ناکامی اب میری بھی ناکامی ہے ۔ میں اعظم سواتی ‘ جہانگیر ترین اور شیریں مزاری جیسے لوگوں کے ہاتھوں تحریک انصاف کے اس نظریاتی اور مخلص لاٹ کے جذبات کا خون ہوتا دیکھ رہا ہوں ‘ اس لئے تنقید میں سختی اور شدت آجاتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ “جنگ

Enhanced by Zemanta

پولیو کی مہم پر اعلیٰ قیادت کا مظاہرہ……..طلعت حسین

احتجاج کا کبھی کبھی فائدہ بھی ہوتا ہے۔ اپنے ساتھیوں کے مسلسل قتل کے بعد خیبرپختونخوا کے پولیو کارکنان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ انھوں نے مزید کام کرنے سے انکار کر دیا۔ اِس انکار نے پرویز خٹک کی حکومت میں بھی تحریک پیدا کر دی جس نے بالآخر نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا وعدہ کیا۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر نشانہ بننے کے باوجود پولیو کے کارکنان آواز بلند نہ کرتے تو ہر طرف خاموشی ہی چھائی رہتی۔ دوسری حکومتوں کی طرح خیبرپختونخوا کی حکومت بھی اپنی کمزوریوں کو نہ ماننے اور آنے والے انقلاب کا ڈھنڈورا پیٹنے میں ماہر ہے۔ حال کے اوپر توجہ دلانے کے لیے چیخ و پکار کرنی پڑتی ہے۔ اس تمام معاملے میں سے جو نیا حل نکالا گیا ہے وہ بھی حیرت انگیز طور پر تجرباتی ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پولیو کی مہم خود چلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ چونکہ ہم سب کو بڑھک بہت پسند ہے لہذا ہر طرف سے خوشی کے شادیانے بجنے کی آواز آنا شروع ہو گئی۔ اور تو اور آصفہ بھٹو کے دل میں بھی تحریک انصاف کی محبت جاگ پڑی۔ اُن سے منسوب کیے ہوئے بیان کے مطابق وہ عمران خان کی اس پولیو مہم میں اپنا بھرپور حصہ ڈالیں گی۔

یاد رہے کہ پچھلی مرتبہ اُن کا بھرپور حصہ اُن جاذب نظر تصاویر تک محدود تھا کہ جس میں محترمہ کو بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اور جو اُن کے والد محترم کی شدید خواہش کے نتیجے میں دیوقامت بینرز کی صورت میں پاکستان کے ہر کونے میں ہزاروں کی تعداد میں لگا دی گئی تھیں۔ تصویریں کھنچوانے کے بعد آصفہ بھٹو ہمار ے ملک کی قیادت کے بہترین طور طریقوں کے مطابق آرام سے برطانیہ تشریف لے گئیں جہاں سے انھوں نے یقنیاً پاکستان میں پولیو کے معاملے کو دوری کے باوجود انتہائی قریب سے دیکھا ہو گا۔ ظاہر ہے عمران خان اس قسم کی مدد کے بغیر بھی کام کر سکتے ہیں۔ اُن کے پاس پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت کا ڈھانچہ موجود ہے۔ جس کو متحرک کر کے وہ پولیو سے بچائو کی مہم کو مزید تیز کر سکتے ہیں۔ مگر اصل مسئلہ مہم کو تیز یا سست کرنے کا نہیں ہے۔ چیلنج اِن علاقوں میں میں اُن عناصر سے نپٹنے کا ہے جو حکومتی اراکین بشمول پولیس اور رضا کارانہ طور پر کام کرنے والے افراد کو دن دیہاڑ ے گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں۔ اور پھر اُن ہی محلوں میں گم ہو جاتے ہیں جہاں پولیو کی ٹیموں کی کاروائیوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں بچے اپاہج ہونے سے بچ سکتے ہیں۔

پچھلے چند ماہ میں خیبرپختونخوا میں پولیو ٹیموں پر حملے ایک ریکارڈ ہے۔ پرویز خٹک حکومت کی بے اعتنائی اور اس معاملے سے چشم پوشی اسی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اس معاملے کو یا تو سات پردوں میں چھپایا جاتا رہا اور یا پھر یہ توجیہہ دی جاتی رہی کہ یہ حملے اُس دہشت گردی کا حصہ ہیں جو امریکا کے ڈرونز کی وجہ سے پاکستان میں پھیلی ہوئی ہے۔ عملی طور پر کہا یہ جا رہا ہے کہ شاید پولیو ٹیموں پر حملہ آور عناصر بھی کسی نہ کسی طرح ڈرونز کے خلاف اپنے احتجاج کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پچھلے ہفتے ایک مباحثے میں مردان سے پاکستان تحریک انصاف کے جواں سال قومی اسمبلی کے ممبر محمد علی بار بار اِن حملوں کو نظریاتی سوچ کا نام دیتے رہے۔ ٹوکنے اور یہ باور کروانے کے باوجود کہ یہ ایک گھناونا جرم ہے نظریہ نہیں وہ ان کارروائیوں کو ’’خا ص سوچ‘‘ ہی قرار دیتے رہے۔ بدقسمتی سے حکومت کی ذمے داریاں پوری کرنے کی جستجو اور ڈرونز کی بحث نے ایسا غلبہ پا لیا ہے کہ اُس کو ہر جگہ ہر ناکامی کی وضاحت کے طور پر بے دریغ استعمال کر دیا جاتا ہے۔ اِس کوتاہی کی نشاندہی کرنے والے کو ڈرون کا حمایتی اور امریکا کا حواری قرار دے کر منہ پھیر لیا جاتا ہے ( کیا ہی اچھا ہو کہ کسی روز کوئی تمام جماعتوں کے مرکزی قائدین کی امریکا اور اُس کے اردگرد پھیلے ہوئے اثاثوں کی تفصیل جاری کر دے سب کو معلوم ہو جائے گا کہ مغرب زدہ کون ہے۔ تحریک انصاف کی طرف سے محترم اعظم سواتی، جو آج کل صوبے میں جماعت کی قیادت سنبھالے ہوئے ہیں، اگر اس نیک کام میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیں تو حقائق کی مزید واضح انداز سے سمجھ آ جائے گی)۔

جب تک یہ سوچ برقرار رہے گی اور اِن عناصر کو عام مجرموں کی طرح پکڑ کر قرار واقعی سزا نہیں دی جائے گی جو اِن حملوں کو منظم انداز سے جاری رکھے ہوئے ہیں تب تک اس مہم کو کامیاب کروانا ممکن نہیں ہو گا۔ عمران خان کے میدان میں اُترنے سے فرق یہ پڑے گا کہ پولیس مزید چست ہو جائے گی اور پولیو کارکنان کا تحفظ صوبے کی حکومت کے لیے ترجیحات میں اُوپر آ جائے گا۔ مگر عمران خان سے ایک سوال ہے اور صوبہ بہت بڑا ہے۔ کہاں کہاں جائیں گے کتنے قطرے پلائیں گے۔ اور اگر یہی کرتے رہے تو دھرنا کون دے گا۔ پارٹی کے دوسرے معاملات کون دیکھے گا۔ بلدیاتی انتخابات کی تیاری کون کرے گا۔ ویسے بھی یہ قطرے ایک بار نہیں بار بار پلوانے ہوتے ہیں۔ اور پاکستان جیسے ملک میں جہاں خوراک کی کمی کے شکار بچوں کی قوت مدافعت انتہائی کمزور ہے وہاں پر اس ویکسین کو موثر کرنے کے لیے اوسط سے زیادہ استعمال کرنا ہوتا ہے۔ اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ عمران خان کی طرف سے پولیو کمپین چلانے کی خبر کو پڑھ کے صوبے کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے اسلحہ بردار نشانہ باز اپنا ہاتھ روک لیں گے تو یہ امن عارضی ہو گا۔ خیبر پختونخوا کے ایک پولیس افسر نے مجھے پولیو ٹیموں پر حملے کے اصل محرکات سے متعلق بتایا کہ دراصل صوابی، مردان، چارسدہ، پشاور، نوشہرہ اور ان سے جڑے ہوئے دوسرے اضلاع میں پولیو ٹیمیں اس وجہ سے خطرہ سمجھی جاتی ہیں وہ ہر گھر تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مگر ہر گھر کے دروازے کے پیچھے بچوں والے خاندان نہیں بستے۔

دہشت گردوں نے محلے اپنے قبضے میں کیے ہوئے ہیں۔ وہ ان محلوں سے پولیس کو ہر صورت دور رکھنا چاہتے ہیں۔ لہذا جب بھی کوئی ٹیم اِن علاقوں کا رخ کرتی ہے اُس کو مار دیا جاتا ہے۔ اس جرم کا تعلق نہ کسی نظریہ سے ہے اور نہ ذاتی دشمنی سے۔ معاملہ دہشت گردی کے اڈوں کو محفوظ رکھنے کا ہے۔ میں نے اس پولیس افسر کو مشورہ دیا کہ یہ بات اپنے اعلی افسران اور سیاسی مشران تک پہنچائے میں تو محض لکھنے والا ہوں جس کو پڑھنے والے طرح طرح کی عینکیں لگائے بیٹھے ہیں۔ لکھتا کیا ہوں پڑھا کیا جاتاہے۔ کہتا کیا ہوں سنا کیا جاتا ہے۔ لہذا بہتر ہو گا کہ یہ معلومات اُن حکام تک پہنچائیں جو پشاور زیریں اور بنی گالہ بالا میں بستے ہیں۔ اُنہوں نے مسکراتے ہوئے کہا سب کو سب کچھ معلوم ہے مگر فی الحال کام پولیو مہم کو تیز کرنے کا ہے۔ ہمار ے صوبے میں سرکاری اطلاعات کے مطابق کوئی دہشت گرد نہیں ہے۔ چند ایک ناراض بھائی اور بہنیں ہیں جو بات چیت کے بعد غصہ تھوک دیں گے۔ اور ایک دن عمران خان کے ساتھ مل کر خیبرپختونخوا کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلا رہے ہونگے۔ میں یہ سن کر خاموش ہو گیا۔ دل میں اُمید کی شمع روشن ہو گئی ہے۔ اب اُس دن کا انتظار ہے جب یہ کر شمہ سامنے آئے گا اور ہم قیادت کے اِس کمال پر مل کر خوشیاں منائیں گے۔ اور ہاں ان خوشیوں میں آصفہ بھٹو کی طرف سے ڈالا ہوا حصہ بھی یاد رکھیئے گا۔

بشکریہ روزنامہ “ایکسپریس

Enhanced by Zemanta