اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

دورِ حیات آئے گا قاتل، قضا کے بعد
ہے ابتدا ہماری تری انتہا کے بعد

جینا وہ کیا کہ دل میں نہ ہو تیری آرزو
باقی ہے موت ہی دلِ بے مدّعا کے بعد

تجھ سے مقابلے کی کسے تاب ہے ولے
میرا لہو بھی خوب ہے تیری حنا کے بعد

لذّت ہنوز مائدہٴ عشق میں نہیں
آتا ہے لطفِ جرمِ تمنّا، سزا کے بعد

قتلِ حُسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

Happy Independence Pakistan Celebrations

 Happy Independence Pakistan  Celebration

Enhanced by Zemanta

اب کس کا جشن مناتے ہو

 

اب کس کا جشن مناتے ہو
اب کس کا جشن مناتے ہو
او دیس کا جو تقسیم ہوا
اس خواب کا جو ریزہ ریزہ
ان آنکھوں کی تقدیر ہوا

ان معصوموں کا جن کے لہو
سے تم نے فروزاں راتیں کیں
یا ان مظلوموں کا جن سے
خنجر کی زباں میں باتیں کیں
اس مریم کا جس کی عفت
لٹتی ہے بہرے بازاروں میں
اس عیسا کا جو قاتل ہے
اور شامل ہے غمخواروں میں
ان نوحہ گروں کا جن نے ہمیں
خود قتل کیا خود روتے رہے
یا ان جھوٹے اقراروں کا
جو آج تلک ایفا نہ ہوۓ
اس شاہی کا جو دست بدست
آئ ہے تمہارے حصے میں
کیوں ننگ وطن کی بات کرو
کیا رکہا ہے اس قصے میں
آنکہوں میں چھپاۓ اشکوں کو
ہونٹوں پہ وفا کے بول لۓ
اس جشن میں بہی شامل ہوں
نوحوں سے بہرا کشکول لۓ

Enhanced by Zemanta

مرے شہر جل رہے ہیں مرے لوگ مر رہے ہیں

 

میں یہ کس کے نام لکھّوں جو الم گزر رہے ہیں
مرے شہر جل رہے ہیں مرے لوگ مر رہے ہیں

کوئی غنچہ ہو کہ گُل ہو کوئی شاخ ہو شجر ہو
وہ ہوائے گُلستاں ہے کہ سبھی بکھر رہے ہیں

کبھی رحمتیں تھیں نازل اسی خطّہء زمیں پر
وہی خطہء زمیں ہے کہ عذاب اتر رہے ہیں

وہی طائروں کے جھرمٹ جو ہَوا میں جھولتے تھے
وہ فضا کو دیکھتے ہیں تو اب آہ بھر رہے ہیں

بڑی آرزو تھی ہم کو نئے خواب دیکھنے کی
سو اب اپنی زندگی میں نئے خواب بھر رہے ہیں

کوئی اور تو نہیں ہے پس ِ خنجر آزمائی
ہمیں قتل ہو رہے ہیں، ہمیں قتل کر رہے ہیں