انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کے قیام کے بعد جن عرب ممالک نے فلسطینیوں کے حق میں نئی ریاست پر لشکر کشی کی ان میں سے چار ممالک ( شام ، لبنان ، اردن ، مصر) کی سرحدیں براہ راست اسرائیل سے ملتی تھیں۔ جب کہ متعدد مسلمان ممالک کی جانب سے فلسطینیوں کی حمایت علامتی نوعیت کی تھی۔ علامتی تو محض تکلفاً کہہ رہا ہوں۔ دراصل ان مسلمان ممالک کی فلسطین نواز پالیسی ’’ حسین سے بھی مراسم یزید کو بھی سلام ‘‘ کے اصول پر استوار تھی۔ یہاں میں غیر عرب مسلم ممالک ترکی اور ایران کا تذکرہ نہیں کر رہا جنھوں نے اسرائیل کو وجود میں آنے کے ایک برس کے اندر ہی باضابطہ تسلیم کر لیا (انیس سو اناسی میں ایران نے اسرائیل سے تعلقات توڑ لیے) آج میرا موضوع غیر خلیجی عرب ممالک اور شمالی افریقہ ہے۔ اردن جیسی فرنٹ لائن اسٹیٹ بھی نومولود اسرائیلی ریاست سے روزِ اول سے رابطہ میں تھی۔ مثلاً انیس سو اڑتالیس انچاس میں جن عرب ممالک نے اسرائیل کے خلاف اعلانِ جنگ کیا ان میں سب سے مضبوط اردن کی فوج المعروف عرب لیجن تھی۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ جس برطانیہ نے اسرائیل کی پیدائش میں دائی کا کردار ادا کیا۔اسی برطانیہ کا ایک جنرل سر جان بیگٹ گلب عرف گلب پاشا انیس سو چھپن تک عرب لیجن کا کمانڈر رہا۔ اسی کی قیادت میں عرب لیجن نے انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کے قیام کے اعلان کے بعد مغربی کنارے پر اسرائیل کو روکا (مغربی کنارہ بشمول بیت المقدس بالاخر انیس سو سڑسٹھ میں اسرائیل نے چھین لیا )۔ مگر گلب پاشا اپنے بادشاہ اور اس کے سرپرست برطانیہ کی مرضی کے برعکس نومولود ریاست پر فیصلہ کن وار کیسے کر سکتا تھا؟ چنانچہ اسرائیل نے متحدہ عرب فوج کو راستے میں ہی روک دیا۔ یہ فوج خود ہی رک گئی یا پھر سامراجی اسکرپٹ میں اس فوج کا بس اتنا ہی کردار تھا ؟ یہ آپ کی سوچ پر چھوڑتا ہوں۔ بس یوں سمجھ لیں کہ صرف گلب پاشا ہی اسکرپٹ کا حصہ نہیں تھا بلکہ موجودہ اردنی بادشاہ کے دادا شاہ عبداللہ کے بھی اسرائیل کے پہلے وزیرِ اعظم ڈیوڈ بن گوریان سے مراسم تھے۔
اسی لیے شاہ عبداللہ پر کسی سرپھرے نے مسجدِ اقصی کی سیڑھیوں پر قاتلانہ حملہ کیا مگر گولی خوش قسمتی سے سینے پر لگے تمغوں سے ٹکرا کر پھسل گئی۔ شاہ عبداللہ کے بعد آپ کے صاحبزادے شاہ حسین تخت پر بیٹھے تو انھوں نے والد کی پالیسی کو آگے بڑھایا۔ انیس سو تریسٹھ کے بعد سے شاہ حسین اور اسرائیلی حکام کی لندن کے اس کلینک میں ملاقاتیں ہوتی تھیں جہاں شاہ طبی معائنے کی غرض سے آتے جاتے تھے۔ جون انیس سو سڑسٹھ میں اگرچہ اسرائیل نے شام سے گولان کی پہاڑیاں اور مصر سے جزیرہ نما سینا اور اردن سے بیت المقدس سمیت پورا غربِ اردن چھین لیا مگر اردن اور اسرائیل کے خاموش روابط پر کوئی خاص فرق نہ پڑا۔ انیس سو ستر میں اردنی ٹینکوں نے اسرائیل سے انیس سو اڑتالیس میں نکالے گئے فلسطینوں کے کیمپ یہ کہہ کر کھدیڑ دیے کہ فلسطینی اردن میں ریاست کے اندر ریاست بنا رہے ہیں۔ سیکڑوں ہلاکتیں ہوئیں۔ چنانچہ فلسطینیوں کی اکثریت لبنان منتقل ہو گئی۔
انیس سو تہتر میں جب مصری صدر انور سادات اور شامی صدر حافظ الاسد نے اپنے اپنے مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل سے آزاد کروانے کا منصوبہ بنایا تو اس منصوبے میں اردن کو بھی شامل کیا گیا۔ سادات اور اسد نے حملے کی اصل تاریخ یعنی چھ اکتوبر خود تک محدود رکھی مگر شاہ حسین کو ایک ہفتے بعد کی تاریخ بتائی گئی۔ شاہ حسین نے اگلے ہی دن اسرائیل کا خفیہ دورہ کر کے وزیرِ اعظم گولڈا میر کو بتا دیا کہ دس اکتوبر کے بعد کسی بھی دن سرپرائز کے لیے تیار رہیں۔ اس سے پہلے کہ اسرائیلی ریزرو فوجیوں کو طلب کیا جاتا مصر اور شام نے چھ اکتوبر کو دو طرفہ حملہ کر دیا اور پھر شاہ حسین کو باضابطہ مطلع کیا گیا۔ جب نومبر انیس سو ستتر میں انور سادات پہلے عرب رہنما بن گئے جنھوں نے کھلم کھلا اسرائیل کا دورہ کیا اور اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کیا تو پوری مسلمان دنیا سوگ میں تھی۔ مصر کا سیاسی و سماجی بائیکاٹ ہو گیا اور اسے عرب لیگ اور اسلامی کانفرنس کی تنظیم سے نکال دیا گیا۔
لیکن جب انیس سو چورانوے میں دوسرے عرب ملک اردن نے اسرائیل کو باضابطہ تسلیم کیا تب تک اسرائیل کو کسی مسلمان بالخصوص عرب ملک کی جانب سے تسلیم کرنا نہ کرنا کوئی اچنبھے کی یا چیخنے چلانے والی خبر نہیں رہی۔ اس سے دو برس پہلے انیس سو بانوے میں خود پی ایل او اوسلو سمجھوتے کے تحت اپنوں کی بے اعتنائی اور امریکی دباؤ کی تاب نہ لا کر اسرائیل کو تسلیم کر چکی تھی۔ مگر پی ایل او کا یہ قدم اختیار سے زیادہ اس کی بے بسی کا غماز تھا۔ لہذا اس کے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور کسی مقتدر مسلمان عرب ریاست کی جانب سے تسلیم کرنے کی نوعیت میں فرق کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔ صرف اردن ہی کیا۔ خود مراکش کے پچاس کی دہائی سے اسرائیل سے غیر اعلانیہ تعلقات ہیں۔ شمالی افریقہ میں مراکشی یہودی برادری عددی اعتبار سے سب سے بڑی تھی اور اب بھی ہے۔حالانکہ اکثریت پچھلے ستر برس میں اسرائیل منتقل ہو چکی ہے۔ اسرائیل نے مراکش کی انٹیلی جینس ایجنسی کو تربیت دی۔ دو اسرائیلی وزرائے اعظم مختلف مواقعے پر رباط جا چکے ہیں۔
تیونس اور اسرائیل کے غیر رسمی تعلقات حبیب بورقیبہ کے دور سے ہی قائم ہیں۔اسرائیل زرعی ٹیکنالوجی سے تیونس نے بھی خاصا استفادہ کیا۔ جب انیس سو بیاسی میں شدید اسرائیلی فوجی دباؤ کے سبب یاسر عرفات کی قیادت میں پی ایل او کو بیروت چھوڑنا پڑا تو فلسطینی قیادت کو تیونس نے ہی سرچھپانے کی جگہ دی۔مگر پھر اسی تیونس کے صدر زین العابدین بن علی نے انیس سو چھیانوے میں اسرائیل کو رابط دفتر کھولنے کی اجازت دی اور اپنا بھی ایک دفتر تل ابیب میں کھولا۔ عرب لیگ اور اسلامی کانفرنس کے ایک اور اہم افریقی عرب رکن سوڈان کے بھی اسرائیل سے تعلقات بگڑتے بنتے رہے۔ انیس سو ستاون میں سوڈانی وزیرِ اعظم عبداللہ خلیل کی اسرائیلی رکن ِ پارلیمان گولڈا میر سے پیرس میں ملاقات ہوئی۔ مگر بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی۔ اگرچہ انیس سو انہتر میں تختہ الٹنے والے جنرل جعفر النمیری کے دورِ صدارت میں اسرائیل سے روایتی فاصلہ برقرار رہا۔ البتہ جب انیس سو چوراسی پچاسی میں اسرائیل نے ایتھوپیا کے آٹھ ہزار فلاشا یہودیوں کو فضائی راستے سے براستہ سوڈان اسرائیل منتقل کرنے کا آپریشن شروع کیا تو نمیری حکومت انجان بن کے دوسری جانب دیکھتی رہی۔
اس برس پھر کسی حیرت انگیز خبر کے لیے قیاس آرائی شروع ہو گئی جب فروری میں سوڈان کی عبوری حکمران کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتح برہان نے یوگنڈا میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے کیمروں کے سامنے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد نیتن یاہو نے دو طرفہ تعلقات میں اہم پیش رفت کی امید ظاہر کی۔ مگر فوراً ہی سوڈانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے تردید آ گئی۔ سوڈان دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے ممالک کی امریکی فہرست میں شامل ہے۔ لہذا اسے بین الاقوامی بالخصوص امریکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور عالمی مالیاتی اداروں سے مدد کے حصول میں سیاسی دشواریوں کا سامنا ہے۔ سوڈانی فوجی قیادت کا خیال ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے میں امریکی پابندیاں ختم ہو سکتی ہیں۔ البتہ حکومت میں شامل سویلین رہنما فلسطینیوں سے سمجھوتے پر تسلی بخش عمل درآمد سے قبل اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مخالف ہیں۔ حال ہی میں امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے بھی سوڈان کو رجھانے کے لیے خرطوم کا دورہ کیا مگر کچھ زیادہ پیش رفت نہ ہو سکی۔
اس وقت عربوں اور شمالی افریقی ممالک سے دوطرفہ اسرائیلی تجارت کا حجم بظاہر بہت کم یعنی سات ارب ڈالر سالانہ کے لگ بھگ ہے۔ مگر اگلے برس یہ حجم اگر تگنا نہیں تو دوگنا ہونے کی امید ضرور ہے۔ اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی پوری کوشش ہے کہ وہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے جتنی ٹرافیاں جمع کر سکتے ہیں کر لیں۔ جب کہ کئی ممالک اور ان کے حکمران ٹرمپ کے احسانات کا بدلہ چکانے کے لیے بھی بے چین ہے۔ لہذا اگلے چند ہفتے میں ایک آدھ مزید مسلمان ملک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ البتہ قطار میں لگے زیادہ تر ممالک شائد امریکی صدارتی نتائج کا انتظار کریں۔ مگر بالخصوص خلیجی ممالک اسرائیلی قربت کے لیے اتنے اتاؤلے کیوں ہو رہے ہیں۔ اس بابت اگلے کالم میں کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کریں گے۔
دو عرب رياستوں نے اسرائيل کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کر ليے ہيں۔ مشرق وسطی ميں نئے اتحاد سامنے آ رہے ہيں اور ماہرين کا کہنا ہے کہ اس بدلتی ہوئی صورت حال ميں فلسطين تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ 11 ستمبر کی شب بحرين اور اسرائيل کے درميان سفارتی تعلقات قائم کرنے کے فیصلے کا اعلان کيا۔ امريکی صدر نے اسرائيلی وزير اعظم بينجمن نيتن ياہو اور بحرين کے شاہ حماد بن عيسی الخليفہ کے ساتھ جاری کردہ مشترکہ بيان ميں کہا کہ يہ تاريخی معاہدہ مشرق وسطی ميں قيام امن کی راہ ہموار کرے گا۔ متحدہ عرب امارات کی طرح اب بحرین بھی اسرائيل کے ساتھ سفارتی، سلامتی، تجارتی اور ديگر تمام شعبوں ميں تعلقات قائم کر سکے گا۔ متحدہ عرب امارات کے بعد بحرين اسرائيل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے والی دوسری عرب رياست بن گئی ہے جب کہ مصر اور اردن کے پہلے ہی سے تعلقات تھے۔ دوسری جانب اعلیٰ فلسطينی قيادت نے بحرين کے فيصلے کو رياست فلسطين کی پيٹھ ميں خنجر گھونپنے سے تعبير کيا ہے۔ ايران نے بحرين پر تنقيد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب بحرين بھی اسرائيلی جرائم ميں حصہ دار ہے۔ ترکی نے بھی اپنے رد عمل ميں بحرين پر تنقيد کی ہے۔
فلسطين سفارتی سطح پر تنہا
اس ہفتے بائيس رکنی عرب ليگ کا اجلاس ہوا، جس ميں فلسطين کی کوشش تھی کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائيل کے مابين پچھلے ماہ طے ہونے والی ڈيل کی مخالفت کی جائے مگر ايسا نہ ہو سکا۔ فلسطين لبريشن آرگنائزيشن کے ايک سابق اعلیٰ اہلکار ساری نصيبہ نے کہا ہے کہ حاليہ پيش رفت سے فلسطينی قيادت کافی نالاں ہے، ”ليکن وہ عرب ممالک سے پہلے کے مقابلے ميں زيادہ نالاں نہيں۔ فلسطينی ہميشہ ہی سے يہ کہتا آيا ہے کہ عرب ممالک نے ان کا ساتھ اس طرح نہيں ديا جس طرح انہيں دينا چاہيے تھا۔‘‘ سياسی تجزيہ کار غسان خاطب کہتے ہيں، ”اس وقت عرب دنيا ہر قسم کے مسائل سے دوچار ہے۔ خطے کے کئی ملکوں کو مسلح تنازعات، سياسی انقلاب، خانہ جنگی اور کشيدگی کا سامنا ہے۔ فلسطينی شہری عرب ممالک ميں تقسيم کی قيمت چکا رہے ہيں۔
ايک مغربی سفارتی ذريعے نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر کہا، ”فلسطينيوں کے پاس اور کوئی راستہ ہے بھی نہيں۔ وہ اس ليے بھی پھنس گئے ہيں کيونکہ ان کے حقوق کی بات ترکی اور ايران کر رہے ہيں۔‘‘ ايران کے غزہ پٹی ميں متحرک ايسے گروپوں کے ساتھ تعلقات ہيں، جنہيں مغربی ممالک اور اسرائيل جنگجو گروپ قرار ديتے ہيں مثلاً اسلامک جہاد اور حماس۔ ترکی فلسطين کی حمايت کرتا ہے اور ترک افواج ليبيا ميں مصر اور متحدہ عرب امارات کی حمايت يافتہ قوتوں کے خلاف برسرپيکار ہيں۔ سياسی تجزيہ کار غسان خاطب کے مطابق فلسطينیوں کو ايران، ترکی اور قطر سے دور رہنا چاہيے کيونکہ ان کے عرب خليجی رياستوں کے ساتھ بڑے مسائل چل رہے ہيں: ”علاقائی سپر پاورز کے جھگڑوں ميں پڑنا فلسطين کے مفاد ميں نہيں۔ اگر ايران کا ساتھ ديا، تو سعودی عرب کی حمايت ختم۔ اور اگر ترکی کے ساتھ چلے تو اور کوئی ساتھ چھوڑ دے گا۔
’’انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹرٹیجک اسٹڈیز‘‘ لندن میں مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی اور دیگر معاملات کے ماہر ایمل ہوکاٹیم نے ’’یو اے ای‘‘ اور اسرائیل کے مابین ہونے والے حالیہ امن معاہدے پر اپنے تبصرہ میں کہا ہے کہ اس معاہدہ میں فلسطینیوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ مذکورہ معاہدے میں جو بڑا خطرہ ہے وہ یہ کہ متحدہ عرب امارات، دنیا کے مسلمان ممالک خصوصاً خطے کے عرب ممالک میں بڑی حد تک غیر مقبول ، غیر اہم اور تنقید کی زد میں ہو گا اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس مسئلہ کے سب سے بڑے فریق فلسطین کی قیادت کو اس معاملے میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔ لیکن ایسا ضرور ہو گا کہ امریکہ، سعودی عرب اور دیگر امریکی اتحادی ممالک ’’یو اے ای‘‘ کی انتہائی ستائش کریں گے۔ ایمل ہوکاٹیم نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ اس معاہدے کےمحرکات کیا ہیں اور ’’یو اے ای‘‘ جو خود 1971ء میں قائم ہوا اس کا اس میں کیا فائدہ ہے۔
ادھر ایران اور ترکی نے اس معاہدے پر شدید ترین اور واضح تنقید کی ہے اور ترکی نے تو اس کو ’’یو اے ای‘‘ کا منافقانہ طرز عمل قرار دیا ہے کیونکہ ترکی سمجھتا ہے کہ ’’متحدہ عرب امارات‘‘ نے یہ معاہدہ خطے میں امن کے قیام یا فلسطینیوں کے مفاد کے لئے نہیں بلکہ صرف اپنے مفاد کے لئے کیا ہے۔ مذکورہ معاہدے پر پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ’’اقوام متحدہ‘‘ اور ’’او آئی سی‘‘ کی قراردادوں کے مطابق دونوں ریاستوں (اسرائیل، فلسطین) کے مابین امن معاہدے کا حامی ہے۔ بظاہر یہ معاہدہ اسرائیل اور ’’یو اے ای‘‘ کے درمیان ہوا ہے لیکن اصل میں یہ معاہدہ امریکہ اور اسرائیل کی منصوبہ بندی اور خواہش کی تکمیل کے طور کیا گیا ہے۔ تاریخی حوالے کچھ بھی ہوں اور سیاسی موشگافیاں خواہ کوئی بھی تصویر دکھا رہی ہوں لیکن آنکھوں دیکھے حقائق بہر حال معتبر ترین ہوتے ہیں کیونکہ 2019ء میں ’’المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ (اے ایم ڈبلیو ٹی) کے چیئرمین عبدالرزاق ساجد کے ہمراہ میں خود فلسطین اور اسرائیل کا تفصیلی دورہ کر چکا ہوں اور اس دورے کا لب لباب یہ ہے کہ بیت المقدس مسجد اقصیٰ، انبیاء کرام کے مزارات سمیت سب کچھ اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہے حتیٰ کہ وہ فلسطینی علاقے بھی جہاں فلسطینیوں کی اکثریت ہے وہاں بھی اسرائیل کا ’سکہ‘ ہی چلتا ہے۔
فلسطینیوں کے پاس نہ تو ان کا ریاستی پاسپورٹ ہے اور نہ ہی اپنی کرنسی، زیادہ تر فلسطینیوں کے پاس اردن یا مصر کا پاسپورٹ ہوتا ہے۔ فلسطینی نبیوں کے مزارات اور مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی کے لئے بھی خاصی شرائط کے ساتھ آ جا سکتے ہیں اور وہ بھی روزانہ نہیں۔ فلسطینیوں کے لئےان کا اپنا وطن ہی ایک کھلی جیل کے مترادف ہے۔ ابھی چند ہفتے پہلے ہی اسرائیل نے دو طرفہ ریاستی حدود کا ایک نیا نقشہ جاری کیا تھا جس میں اپنے اور فلسطینیوں کے علاقے دکھائے گئے تھے اس نقشے میں وہ علاقے بھی اسرائیل میں شامل کئے گئے جو پچھلے سال ہمارے دورے کے دوران فلسطینی علاقے تھے۔ اسرائیل نے ازخود یہ علاقے اپنے ظاہر کر کے یہ نیا نقشہ بنایا اور اب ایک ایسے ملک کے ساتھ ایک نام نہاد قسم کا ’امن معاہدہ‘ کر لیا جو نہ تو اس جھگڑے کا فریق ہے اور نہ ہی اس تنازع کے کلیدی فریق فلسطین نے ’’یو اے ای‘‘ سے فریق بننے یا معاہدہ کرنے کی کوئی درخواست کی ہے۔
یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ سینکڑوں سال پہلے بھی اور آج بھی اسلامی یا مسلمانوں کی تاریخ بھری پڑی ہے کہ جب بھی سیاسی دھوکہ بازی ہوئی اور دوسری قوموں نے اسلامی سلطنتوں کو تاراج کیا تو اس میں غیر نہیں اپنے ہی ہم مذہب ملوث تھے، آج بھی یہی کچھ ہو رہا ہے چنانچہ اس حقیقت میں کوئی دو آرا نہیں ہیں کہ فلسطینی زمین پر یہودی بستیوں کی تعمیر اور قبضے کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں ہے۔ امریکی محققین پروفیسر اسٹیفن والٹ اور پروفیسر جان میئر شمیر نے اپنی کتاب ’’دی اسرائیل لابی اینڈ یو ایس فارن پالیسی‘‘ میں ایک خط نقل کیا ہے جس کے مطابق اسرائیل کے پہلے وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریان نے عالمی یہودی کانگریس کے صدر ناہم گولڈ مین کو لکھے گئے اپنے تاریخی اہمیت کے حامل خط میں برملا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اگر میں کوئی عرب لیڈر ہوتا تو اسرائیل سے کبھی سمجھوتہ نہ کرتا، یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم نے فلسطینیوں سے ان کا ملک چھینا ہے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ ہمارا تعلق اسرائیل سے ہے لیکن یہ دو ہزار سال پہلے کی بات ہے!! لیکن افسوس کہ وہ بات جو ایک یہودی جو وزارت عظمیٰ جیسے کلیدی عہدے پر رہ چکا ہو جب یہ بات کر رہا ہے تو پھر دوسرے کسی حوالے کی تو ضرورت ہی نہیں رہ جاتی۔ یہ اصل بات اب مسلمان دنیا خصوصاً عرب ملکوں کے درمیان نفاق، کشیدگی، ہٹ دھرمی اور اختلافات کے ملبے تلے دب چکی ہے اور برائے نام امت مسلمہ کے لئے ایک کہانی بن کر رہ گئی ہے۔
سنہ2002 ء کے عرب امن معاہدے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ 1967 کی جنگ کے بعد فلسطینیوں کے قبضے کئے گئے علاقوں سے دستبردار ہو جائے تو قیام امن کے اس اقدام کے بدلے وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات مکمل طور پر بحال کر سکتے ہیں لیکن ایسا آج تک ممکن نہیں ہو سکا۔ لیکن اس کے برعکس اسرائیل بےوجہ فلسطینیوں پر بمباری بھی کر رہا ہے اور اپنی مرضی سے نئے نقشے بھی بنا رہا ہے اور ستم بالائے ستم کہ ایسی صورتحال کے باوجود عرب دنیا کی سب سے بڑی معیشت سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنی پالیسیاں تبدیل کیں اور چند ہی برسوں میں اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کرنے میں ہی بہتری سمجھی اور نتیجتاً ’’متحدہ عرب امارات‘‘ اور اسرائیل نے فلسطینیوں کی مرضی و منشا کے خلاف ایک کھوکھلا معاہدہ کر کے اپنے مفادات کی ترویج کو مقدم رکھا ہے۔
عالمِ اسلام اور اُمتِ مسلمہ کا اجتماعی ضمیر اسرائیل کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہے۔ ارضِ فلسطین اور فلسطینی مسلمانوں کے خلاف اسرائیلی مظالم اور استحصالی ہتھکنڈے اس قدر شدید اور اتنے زیادہ ہیں کہ ایک ارب سے زائد مسلمانوں کی اکثریت اسرائیل کو بطورِ ایک جائز مملکت ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس کے باوجود کسی کو چاہے کتنا ہی بُرا کیوں نہ لگے، عالمِ عرب کے ایک معروف مسلم ملک، متحدہ عرب امارات، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔ کوئی دن جاتا ہے جب یو اے ای اور اسرائیل ایک دوسرے کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات کے بندھن میں بندھ جائیں گے ۔ کورونا (کووِڈ19) پر مشترکہ تحقیقی کاوشیں کرنے کے لیے تو یہ دونوں ملک اکٹھے بیٹھ چکے ہیں۔ مبینہ طور پراسرائیل کی مشہور خفیہ ایجنسی ’’موساد‘‘ کا سربراہ متحدہ عرب امارات کا پہلا دَورہ بھی کر چکا ہے ۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے عالمِ عرب کے ایک اور مسلم ملک ، عمان، سے بھی رابطہ کیا ہے اور بحرین ایسے چھوٹے مگر دولتمند عرب مسلمان ملک سے بھی نامہ و پیام جاری ہے۔
مصدقہ خبریں ہیں کہ اسرائیلی وزیر خارجہ (گابی اشکنیزی) نے عمان کے وزیر خارجہ ( یوسف بن علاوی بن عبداللہ) سے مفصل ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل سے سفارتی مصافحے کے بعد پورے عالمِ اسلام میں ایک ہیجان کی سی کیفیت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ہر مسلمان مضطرب ہے، حالانکہ اس سے قبل مصر، اردن اور ترکی بھی اسرائیل سے سفارتی ، سیاحتی ، دفاعی اور تجارتی تعلقات استوار کر چکے ہیں۔ پھر ابوظہبی اور تل ابیب کے سفارتی مصافحے اور معانقے پر یہ اضطراب و ہیجان کیوں؟۔ ہمارے امیرِ جماعتِ اسلامی ، محترم سراج الحق، اور امیرِ جے یو آئی ایف، حضرت مولانا فضل الرحمن، تو شبہات کا اظہار کر چکے ہیں کہ نئے حالات میں شائد ہمارے ہاں بھی کچھ لوگ اسرائیل بارے نرم گوشہ رکھ رہے ہیں۔ ایسے پُر شور اور پُر شبہ ماحول میں وزیر اعظم عمران خان نے غیر مبہم الفاظ میں کہا ہے: ’’پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے۔
ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتے، جب تک فلسطینیوں کو اُن کا حق نہیں ملتا۔‘‘ وزیر اعظم مزید مستحکم لہجے میں کہتے ہیں: ’’ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے کہا تھا کہ فلسطینیوں کو حق ملے گا تو اسرائیل کو تسلیم کریں گے۔ اگر ہم اسرائیل کو تسلیم کر لیں تو مقبوضہ کشمیر کو بھی چھوڑ دینا ہو گا کیونکہ دونوں کا معاملہ یکساں ہے۔ فلسطین کے بارے میں ہم نے اللہ کو جواب دینا ہے ۔ میرا ضمیر کبھی بھی فلسطین کو تنہا چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہو گا۔‘‘ فلسطین نے اس پر خان صاحب کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ہمارے وزیر اعظم صاحب کے اس بیان سے یہ تو واضح ہو جاتا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے بارے میں اُن کا ذہن صاف اور ابہام سے پاک ہے۔ پاکستان سمیت عالمِ اسلام کی اکثریت اسرائیل کو اُسی طرح ایک غاصب ملک سمجھتی ہے جس طرح مقبوضہ کشمیر بارے بھارت کو ایک غاصب مملکت سمجھا جاتا ہے۔
یہ دونوں حل طلب تنازعات اسلامیانِ عالم کے لیے نہایت حساس موضوعات ہیں۔اپنی کئی کمزوریوں کے باوجود یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ہمارے حکمران کشمیر و فلسطین سے دستکش ہو جائیں ۔ یہ تنازعات حل ہوں گے تو ہی جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کی فضاؤں کا راج ہو گا۔ اسرائیل مگر بضد اور مُصر ہے کہ وہ امریکی آشیرواد اور پشت پناہی سے عالمِ عرب کو مجبور کر دے گا کہ وہ اُسے ایک جائز مملکت تسلیم کر لیں ۔ امریکی صدر اپنے داماد و مشیر جیرڈ کشنر، جو ایک معروف امریکی یہودی خاندان کا فرد ہے ، کی وساطت سے اسرائیلی لابنگ کر رہے ہیں کہ جانتے ہیں کہ یوں اگر امریکی و اسرائیلی یہودی خوش ہو جائیں تو دوسری بار کی امریکی صدارت اُن کی جھولی میں آگرے گی۔
اسرائیل کا یہ دعویٰ محض کھوکھلی بَڑ نہیں ہے کہ ’’متحدہ عرب امارات کے بعد بحرین اور عمان بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔‘‘ حیرت خیز بات یہ ہے کہ اس بیان پر بحرین اور عمان کی طرف سے تردید یا تصدیق میں کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔ اس خاموشی کا دراصل مطلب کیا ہے ؟ نوبت ایں جا رسید کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور وہائٹ ہاؤس کے ترجمان ، جیرڈ کشنر، نے 19 اگست 2020 کو امریکی صحافیوں کو دی گئی ایک بریفنگ میں تحکم سے کہا: ’’ یہ سعودی عرب کے مفاد میں ہو گا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات نے کیا ہے۔ یہ اقدام سعودی عرب کے دفاع اور کاروبار کے لیے بہت اچھا ہو گا۔‘‘ یہ تو نہایت اچھا ہُوا ہے کہ سعودی وزیر خارجہ ( شہزادہ فیصل بن فرحان) نے ترنت جواب دیا ہے: ’’جب تک یہودی ریاست ، اسرائیل، فلسطینیوں سے امن معاہدے پر دستخط نہیں کرتی، اسرائیل سے تعلقات ممکن نہیں۔
واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے باہمی معاہدے پر عربوں کی ایک بڑی تنظیم (جی سی سی) میں سے بحرین اور عمان نے تو اس کا خیر مقدم کیا ہے لیکن کویت اور قطر ابھی تک خاموشی کی چادر اوڑھے ہُوئے ہیں ۔ عالمِ عرب کے کنٹرولڈ میڈیا میں یو اے ای اور اسرائیل کے ’’ امن معاہدے‘‘ بارے کم کم اختلافی آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔ اس کے برعکس ایرانی اور ترک میڈیا اس معاہدے بارے خاصا مشتعل محسوس ہو رہا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اسرائیل کی عسکری طاقت کے سامنے عالمِ عرب پورے قد کے ساتھ کھڑا ہونے کی سکت ہی نہیں رکھتا ۔ ترپن سال قبل عالمِ عرب کے تین ممالک ( مصر، اردن ، شام) نے ہمت اور اتحاد سے اسرائیل پر بیک وقت حملہ کیا تھا لیکن اسرائیل نے پلٹ کو ان تینوں کو نہ صرف عبرتناک شکست دی بلکہ تینوں اسلامی ممالک کے کئی علاقوں پر فوجی قبضہ بھی کر لیا۔ مصر اور اُردن کے کئی زیر قبضہ علاقے تو اسرائیل نے ’’مہربانی‘‘ سے چھوڑ دیے لیکن شام کے پہاڑی علاقے (گولان ہائٹس) ابھی تک اُس کی گرفت میں ہیں ۔
کہا جاتا ہے کہ اگر شام، اردن اور مصر میں آمریتیں نہ ہوتیں تو شائد جمہوریت اور عوامی طاقت سے تینوں ممالک کے عوام غاصب اسرائیل کے سامنے ڈٹے رہتے۔ بد قسمتی سے یہ تینوں ملک اب بھی جمہوریت کی نعمت سے محروم ہیں؛ چنانچہ ان کی طاقت اور مزاحمتی قوت بھی ہمارے سامنے ہے۔ پھر جمہوری اور جوہری اسرائیل کے سامنے عالمِ عرب کے حکمران کس طرح ہمت و قوت سے ڈٹ سکتے ہیں ؟ سچ یہ ہے کہ عراق و شام کے ڈکٹیٹروں نے اسرائیل کے مقابل اپنے عوام کو مایوس کیا ہے ۔ جمال عبدالناصر، صدام حسین اور حافظ الاسد اسرائیل کے سامنے ریت کے ٹیلے ثابت ہُوئے۔ بس ڈینگیں اور بڑھکیں مارتے رہے ۔ جب وقتِ قیام آیا تو عشروں تک عوام کی گردنوں پر سوار یہ آمر مسلمان حکمران اسرائیل کے سامنے ’’سجدے ‘‘میں چلے گئے۔
اسرائیل کے خلاف نہ جمال ناصر کی ’’طاقتور ایئر فورس‘‘ بروئے کار آئی، نہ صدام حسین کے سکڈ میزائل کام آ سکے ، نہ حافظ الاسد کی ’’ بعث پارٹی ‘‘ نے وطن پر قربان ہونے کی ہمت کی اور نہ اردن کے شاہ حسین کی ہاشمی بادشاہت اسرائیل کے سامنے دَ م مار سکی ۔ سب بھوسہ ثابت ہُوئے۔ اسرائیل نے عراقی ایٹمی پلانٹ تباہ کر ڈالا لیکن صدام کچھ بھی نہ کر سکا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسرائیل سے شکست کے بعد بھی یہ چاروں آمر حکمران مدتوں اقتدار سے چپکے رہے۔ تو کیا اس پس منظر میں متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی راہ اپنائی ہے؟ اگرچہ متحدہ عرب امارات میں 15 لاکھ سے زائد پاکستانی مزدوری کر رہے ہیں لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان فلسطینیوں کی طرف پشت کر کے فی الحال اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا۔