چین روس تعلقات میں کمان کس کے ہاتھ میں ہے؟

ٹونی بلیئر کے دور سے تعلق رکھنے والے برطانوی خارجہ پالیسی کے آرکائیوز کی ریلیز اس وقت کی یاد دہانی کرواتی ہے جب دنیا کو امید تھی کہ روس کے اس وقت کے نوجوان نئے رہنما ولادی میر پوتن اپنی قوم کو پورے دل سے جمہوریت پسند بین الاقوامی برادری کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ سال 2001 میں ٹونی بلیئر نے دوسرے یورپی رہنماؤں اور واشنگٹن میں جارج ڈبلیو بش کی طرح روس کے ساتھ سفارتی طور پر بہت زیادہ توانائی خرچ کی۔ جارج بش نے اس وقت عوامی طور پر پوتن کے بارے میں کہا تھا کہ ’میں نے اس شخص کی آنکھوں میں دیکھا۔ میں نے انہیں بہت کھرا اور قابل بھروسہ پایا۔ میں نے ان کے اندر کے احساس کو جان لیا تھا۔‘ ادھر ٹونی بلیئر نے صدر پوتن کو چاندی کے کفلنک کا ایک سیٹ سالگرہ کے تحفے کے طور پر بھیجا تھا۔ لیکن اب ہم یہ بھی جان چکے ہیں کہ مغرب کے صلاح کار اس وقت بھی زیادہ محتاط رویہ اختیار کرنے پر زور دے رہے تھے، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ جب (یورپ اور امریکہ) ان سے پرامید تھے، اس وقت بھی روس مغربی مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے انٹیلی جنس ایجنٹس تعینات کر رہا تھا۔

اب ہم یہ بھی جان چکے ہیں کہ پوتن کی اصلاح پسندانہ جبلت اسی وقت سے حاوی تھی، جب انہیں مشرقی جرمنی کے سویت انٹیلی جنس ’کے جی بی‘ کے سٹیشن سے واپس بلایا گیا تھا۔ یہاں تک کہ 20 سال پہلے انہوں نے سوویت یونین کے زوال اور مشرقی یورپ میں اس پر انحصار کرنے والی ریاستوں کے بلاک کو تاریخی تناسب کے سانحے کے طور پر دیکھا اور اس وقت بھی انہیں یوکرین ایک دکھاوے کا ملک ہی لگتا تھا۔ ایسٹونیا کی طرح کے نقصان سے کہیں زیادہ 1990 میں یوکرین کی آزادی یو ایس ایس آر کے خاتمے کی علامت ہے۔ اگر یوکرین روس کے ساتھ اپنی شراکت داری برقرار رکھتا تو شاید یو ایس ایس آر ٹوٹنے سے بچ جاتا، لیکن ایسا نہیں ہوا اور پوتن تب سے ہی اس حقیقت سے نالاں تھے اور جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں، انہوں نے اسے پلٹنے کی کوشش کی۔ اس وقت ٹونی بلیئر اور جارج بش پوتن کی حقیقی فطرت کے بارے میں بے وقوف بنے رہے کیوں کہ بعد میں انہیں حقیقت سمجھ میں آئی۔

لیکن پوتن کے نئے دوست اور حلیف شی جن پنگ کے ساتھ ایسا نہیں ہے، جنہوں نے ایک ویڈیو کانفرنس میں ان کے ساتھ بات چیت کی۔ جب صدر شی نے گذشتہ سال فروری میں یوکرین پر روسی حملے سے قبل اعلان کیا تھا کہ ماسکو کے ساتھ بیجنگ کی دوستی کی ’کوئی حد‘ نہیں ہے، تو شاید ان کے ذہن میں مغرب کے ساتھ تھرمونیوکلیئر جنگ کا خطرہ نہیں تھا، جو کرہ ارض کو تباہ کر دے گی۔ یہ چین اور صدر شی کو فراموشی میں لے جائے گی۔ اور نہ ہی حقیقت میں صدر شی نے اس بات کا تصور کیا کہ اب یوکرین میں ایک طویل جنگ جاری ہے، جس کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آرہا ہے، جو عالمی تجارت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے اور اس وجہ سے ہی چین کی صنعتی برآمدات متاثر ہو رہی ہی۔) اور نہ ہی مسٹر پوتن نے اس کا تصور کیا تھا، جنہوں نے اپنی فتح کے بارے میں اسی اعتماد کا ظاہر کیا، جو انہوں نے میدان جنگ میں اپنی افواج کی تذلیل سے پہلے باقی دنیا کے سامنے کیا تھا۔)

اس رشتے میں یہ بہت واضح ہے کہ اب کمان کس کے ہاتھ میں ہے۔ چین دنیا میں روس کا واحد اہم اتحادی ہے اور سخت مغربی پابندیوں کے دور میں اپنی معاشی بقا کے لیے اس پر اور بھی زیادہ انحصار کر چکا ہے۔ چین جو اس وقت کرونا بحران کی گرفت میں ہے، کی معیشت مغرب کی جانب سے سرمایہ کاری ختم کرنے اور اس کی برآمدات پر پابندیاں لگانے سے پہلے بھی، روس کی نسبت کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ درحقیقت تنازع کے دوران روس کے ساتھ چین کی دوستی کی حدیں واضح تھیں اور کچھ کو عوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ چین مغربی پابندیوں کے خوف سے روس کو اس ناامیدی والی جنگ میں کوئی اہم فوجی سازوسامان فروخت نہیں کرے گا، جس میں تبدیلی کا بھی امکان نہیں ہے۔ بیجنگ کو شاید یوکرین کے مستقبل کی زیادہ پرواہ نہ ہو لیکن وہ بلاوجہ امریکہ کو اکسانا نہیں چاہے گا کیوں کہ یوکرین کا تنازع پہلے ہی چین کے لیے غیر مددگار ثابت ہوا ہے۔ مثال کے طور پر تائیوان پر تیزی سے حملہ کرنے کے لیے یوکرین کی نظیر اور خلفشار دونوں کو استعمال کرنے کا اس کا خواب اس وقت تیزی سے دھندلا گیا جب روسی فوج ڈونیتسک کے مشرقی محاذ سے شکست کھا کر پیچھے ہٹ گئی۔

جنوبی کوریا، جاپان اور آسٹریلیا جیسی علاقائی طاقتوں سمیت مغرب کے اتحاد اور لچک کے مظاہرے نے روس اور چین کو حیرت میں ڈال دیا ہے اور خطے میں چینی توسیع پسندی کے متوازی خطرات اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو (بی آر آئی) کے ذریعے طاقت کے حصول کے لیے اس کی عالمی رسائی کو اجاگر کیا ہے۔ جرمنی نے اپنی سابقہ نیم امن پسندی کی پالیسی کو تبدیل کر دیا ہے اور جاپان اپنے دفاعی پروگراموں کو تیز کرنے کے لیے تیار نظر آتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی پیش رفت چینی مفادات کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔ یہاں تک کہ چین کی اقتصادی مدد، جس کا دونوں رہنماؤں کی بات چیت کے بعد جاری کیے گئے بیان میں پیش رفت کے ایک اہم شعبے کے طور پر حوالہ دیا گیا ہے، کریملن کے لیے دو دھاری تلوار ہے۔ مغربی توانائی کی منڈیوں کے نقصان کے ساتھ چین اب روس کی اہم برآمدی منڈی بن گیا ہے اور صدر شی نے درحقیقت اپنا جوتا روسی معیشت کی ونڈ پائپ پر رکھ دیا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ روس آسانی سے چینی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی پر بہت زیادہ انحصار کر سکتا اور بی آر آئی نیو۔ کالونیل کی طرح کا قبضہ ہے۔ 

یہاں تک کہ ماؤ کے زمانے میں اور ایک مشترکہ مارکسسٹ لیننسٹ نظریے کے تحت، جب چین اور روس عالمی کمیونسٹ انقلاب کی قیادت کے لیے لڑ رہے تھے اور ان کی دشمنی کبھی کبھار سرحدی تشدد میں بدل سکتی تھی، امریکہ سے ان کی باہمی دوری نے انہیں قریب لانے کا سامان پیدا کیا لیکن واضح طور پر دیوار ابھی بھی موجود ہے اور تعلقات یک طرفہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ چین کو روس سے زیادہ مغرب کی ضرورت ہے اور روس کو چین کی ضرورت ہے، چین کو روس کی نہیں۔ ان رہنماؤں کی اگلی ملاقات کے وقت تک جب صدر شی ماسکو کا سرکاری دورہ کریں گے، چین ممکنہ طور پر یوکرین میں جنگ کے خاتمے اور اس کے نتیجے میں عالمی معیشت میں استحکام دیکھنے کو ترجیح دے گا۔ اس دوران یوکرین میں جنگ کے خاتمے کا مطلب ولادی میر پوتن کی معزولی اور روسی دارالحکومت میں تقریب کے لیے ایک نئے میزبان کو دیکھنا ہو سکتا ہے۔ اگر یہ چین کے مفاد میں ہوتا تو صدر شی اسے یکسوئی کے ساتھ قبول کر لیتے کیوں کہ بہترین دوستی کی بھی اپنی حدود ہوتی ہیں۔

بشکریہ دی انڈپینڈنٹ
 

صدر شی جن پنگ کی چینی فوج کو جنگ کے لیے تیار رہنے کی ہدایت

چینی صدر نے فوج کو پوری توجہ اور توانائی کے ساتھ جنگ کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔ چین کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ہانگ کانگ کی سرحد سے ملحقہ صوبے گوان دونگ میں پیپلز لبریشن آرمی کی میرین کور کا معائنہ کرنے کے موقعے پر صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چاق چوپند رہتے ہوئے، پورے خلوص اور وفاداری کے ساتھ جنگ کے لیے تیار رہیں۔ امریکی نیوز نیٹ ورک سی این این مطابق صدر شی جن پنگ کے گوان دونگ صوبے کے دورے کا اصل مقصد 1980 میں قائم ہونے والے شینژن اقتصادی زون کی چالیسویں سالگرہ میں شرکت تھا۔ چین کو دنیا کی دوسری بڑی معاشی قوت بنانے میں یہ اقتصادی زون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت اور کورونا وائرس کےباعث چین اور امریکا کے مابین کشیدگی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے ، اس لیے دورے میں فوج دستے کے معائنے کے موقعے پر چینی صدر کی تقریر کو اہمیت دی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اسی لیے امریکا کے اس سے بڑھتے ہوئے تعلقات چین کے لیے ہمیشہ ناپسندیدہ رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے نہ صرف تائیوان کےساتھ سفارتی اور اقتصادی مراسم بڑھانا شروع کردیے ہیں بلکہ چند روز قبل اسے جدید ہتھیار اور راکٹ سسٹم فروخت کرنے کی تجویز کانگریس میں پیش کی گئی ہے۔ جس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چینی دفتر خارجہ امریکا کو تائیوان کے ساتھ عسکری تعلقات استوار کرنے سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔ اس سے قبل چینی صدر شی جن پنگ بھی ایک بیان میں واضح کر چکے ہیں کہ تائیوان پر چینی حق تسلیم کروانے کے لیے عسکری قوت کا استعمال خارج از امکان نہیں۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

جرمنوں کے مطابق امریکا کی جگہ چین سپرپاور بن جائے گا

کیا امریکا سپر پاور کی حیثیت کھو رہا ہے؟ ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جرمنی میں بڑی تعداد میں عوام سمجھتے ہیں کہ آئندہ برسوں میں چین دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن جائے گا۔ جرمنی میں کیے گئے ایک عوامی جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شہریوں کی بڑی تعداد کے خیال میں امریکا کی جگہ مستقبل میں عالمی منظر نامے پر چین سب سے بڑی طاقت بن جائے گا۔ ‘یو گوو‘ نامی ادارے کی جانب سے کیے گئے عوامی سروے میں 42 فیصد جرمنوں کی رائے تھی کہ اگلی دہائیوں کے دوران طاقتور ترین ملک ہونے کی پوزیشن امریکا کے ہاتھوں سے نکل جائے گی اور اس کی جگہ چین لے لے گا۔ دس سے بارہ جولائی کے دوران کیے گئے سروے میں اٹھارہ برس سے زائد عمر کے 4,054 جرمنوں سے ان کی رائے پوچھی گئی۔ سروے میں ایک سوال یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ ‘آپ کے خیال میں آئندہ پچاس برسوں کے دوران امریکا اور چین میں سے کون زیادہ طاقتور ہو گا؟‘

اس جائزے میں حصہ لینے والے صرف 14 فیصد جرمن شہری ایسے تھے جن کے خیال میں امریکا اپنی برتری برقرار رکھ پائے گا۔ 23 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کر سکتے جب کہ 22 فیصد نے اس سوال کا جواب نہیں دیا۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ جرمنی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے حامیوں نے اس سوال کا جواب بھی مختلف انداز میں دیا۔ بائیں بازو کی جرمن سیاسی جماعت دی لنکے کے حامیوں کی اکثریت (52 فیصد) کی رائے چین کی برتری کے حق میں تھی۔ اسی طرح کاروبار دوست جرمن سیاسی جماعت ایف ڈی پی اور ماحول دوست گرین پارٹی کے حامیوں کی اکثریت (52 فیصد) کا جواب بھی چین کی برتری کے حق میں تھا۔ انتہائی دائیں بازو کی عوامیت پسند سیاسی جماعت ایف ڈی پی کے حامیوں میں امریکا کی برتری برقرار رہنے کے بارے میں مثبت رائے دوسری جماعتوں کی نسبت زیادہ تھی۔ تاہم اس جماعت میں بھی صرف 17 فیصد لوگوں کی یہ رائے تھی کہ امریکا اگلے پچاس برسوں میں اپنی برتری برقرار رکھے گا۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو

چین سب سے بڑا خطرہ ہے، امریکی انٹیلیجنس

ایف بی آئی کے سربراہ نے کہا ہے کہ چین دنیا کا اکیلا سپر پاؤر بننے کے لیے کچھ بھی کر گذرنے کے لیے تیار ہے اور وہ بیرون ملک مقیم اپنے باشندوں کی زبردستی وطن واپسی کے لیے بھی ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ ایف بی آئی کے سربراہ کرسٹوفر رے واشنگٹن کے ہڈسن انسٹیٹیوٹ میں ایک سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ ایک گھنٹے کی اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ چین کی طرف سے امریکی معیشت، ٹیکنالوجی اور سیاست میں مداخلت امریکا کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن کر اُبھر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارہ تقریبا ہر دس گھنٹے میں چین کی طرف سے ایک نئے انٹیلیجنس حملے سے نبرد آزما ہونے میں لگا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا،”اس وقت ہم ملک بھر سے کاؤنٹر انٹیلیجنس کے جن تقریبا پانچ ہزار کیسز سے نمٹ رہے ہیں، ان میں سے آدھے کیسز کا تعلق چین سے ہے۔” انہوں نے کہا کہ چین کا انٹیلیجنس آپریشن لگاتار امریکی حکومت، اس کی پالیسیوں اور موقف کو ٹارگٹ کر رہا ہے، جس کا اثر صدارتی الیکشن پر بھی پڑ سکتا ہے۔

بیجنگ کا آپریشن ‘فوکس ہنٹ
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے کہا کہ چین کی حکومت ایک حکمت عملی کے تحت بیرون ملک مقیم اپنے باشندوں کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے تحت چین سے تعلق رکھنے والے ایسے شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو اپنے ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھاتے ہیں۔ کرسٹوفر رے نے الزام لگایا کے چینی حکومت کے ‘فوکس ہنٹ’ نامی اس پروگرام کی نگرانی خود صدر شی جِن پِنگ کرتے ہیں۔ چین کی حکومت اس پروگرام کے وجود سے انکار نہیں کرتی تاہم اس کا کہنا ہے کہ اس کا نشانہ کرپشن میں ملوث افراد ہیں جو ملک سے غبن کرکے پیسہ باہر لے جاتے ہیں۔

امریکا میں مقیم چینی باشندوں کو دھمکیاں
لیکن امریکی حکام کے مطابق اس پروگرام کی آڑ میں دراصل بیرون ملک مقیم چینی باشندوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں اور انہیں وطن واپس آنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بقول ان کے اس کام کے لیے سکیورٹی ادارے ان افراد کے چین میں مقیم رشتے داروں کو ہراساں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی بھی مثال سامنے آئی ہے کہ “جب چین میں حکام ‘فوکس ہنٹ’ پروگرام کے تحت ایک شخص کو نہیں ڈھونڈ پائے تو انہوں نے امریکا میں مقیم اس کی فیملی کو پیغام دلا بھیجا کا اُس سے کہیں کہ اُس کے پاس دو ہی راستے ہیں : فوری طور پر چین واپسی آئے یا پھر خود کشی کر لے۔” اس موقع پر ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے امریکا میں مقیم چینی باشندوں سے کہا کہ اگر ان پر چین کی طرف سے وطن واپسی کے لیے دباؤ آئے تو وہ مدد کے لیے ایف بی آئی سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ امریکی ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کی طرف سے یہ الزامات ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم میں چین کے ساتھ کشیدگی ایک بڑا موضوع ہے۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو