حضور بیٹھیں گے کہ لیٹیں گے؟ وسعت اللہ خان

کون کہتا ہے حالات پہلے سے بدتر ہیں۔ جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں وہ ہرگز ہرگز اس ملک کے خیرخواہ نہیں۔ جب انھیں معلوم ہی نہیں کہ پہلے کیسے حالات تھے تو پھر وہ کیونکر ایک باخبر اور متوازن رائے قائم کر سکتے ہیں۔ خود کو باشعور سمجھنے والے یہ مٹھی بھر لوگ دراصل یونیورسٹی آف سنی ان سنی کے گریجویٹ ہیں۔ ان کا تمام علم تیرے میرے کی رائے سے کشید کردہ ہے، خدانخواستہ بہرے ہوتے تو نپٹ جاہل ہوتے۔ انھیں کیا معلوم کہ پچھلی حکومتیں کتنی بے عقل تھیں اور سیاسی مخالفین کو لگام دینے کے لیے ان سے کیسی کیسی بوالعجبیاں نیز یل وللیاں سرزد ہوتی تھیں۔ جب کچھ ہاتھ نہیں آتا تھا تو حسین شہید سہروردی پر انڈیا کی شہہ پر عام لوگوں کو حکومتِ وقت کے خلاف اکسانے کا مقدمہ، چوہدری ظہور الہی پر بھینس چوری اور ستر برس کے مخدوم زادہ حسن محمود پر بھری دوپہری میں کھمبے پے چڑھ کے بجلی کی تاریں چوری کرنے کا پرچہ درج کروا دیتی تھیں اور اس دور کے جج بھی ان مقدمات کو انتہائی سنجیدگی سے سنتے تھے۔ آج کسی سیاسی مخالف کے خلاف ایسا کوئی بے عقلا یا مزاحیہ پرچہ نہیں کاٹا جاتا۔ بلکہ ایک ساتھ ڈیڑھ سو صفحات پر مشتمل ایف آئی آر کا پورا رجسٹر تھما کے ٹور ڈی پاکستان پر بھیج دیا جاتا ہے۔

آج گلگت میں پیشی تو کل گوادر میں طلبی، پرسوں چترال پولیس کو مطلوب تو ترسوں سکھر پولیس تلاش میں۔ اس عدالت سے گرا تو اس عدالت میں اٹکا۔ اس سے اترا تو چوتھی میں لے جا کے کھڑا کر دیا گیا۔ اس پوری مشق کے پیچھے سزا یا انتقام کی نیت نہیں ہوتی بلکہ حریفوں کو تن آسانی کے مدار سے نکال کے پورے پاکستان کی سیر کرانا مقصود ہے تاکہ وہ کم از کم اس بہانے اپنا ملک ہی دیکھ لیں کہ جس کے تحفظ کے لیے وہ خون کے پہلے قطرے کے بجائے آخری قطرہ بہانے کے لیے ہر لمحہ تیار رہتے ہیں۔ سستے زمانوں میں ہزاروں نظریاتی و سیاسی مخالفین کو جیلوں میں سرکاری مہمان بنا کے رکھنا ریاست کے لیے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ تقسیم سے قبل جب کانگریس نے ہندوستان چھوڑ دو تحریک چلائی تو ایک لاکھ سے زائد سیاسی قیدی انگریز سرکار نے بڑی آسانی سے اکوموڈیٹ کر لیے۔جگہ کم پڑتی تو کالے پانی (جزائر انڈمان) بھیج دیا جاتا۔ خود ضیا الحق کے دور تک ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران بیس پچیس ہزار مخالفین کی گرفتاری اور مہمان نوازی بھی ریاست کے وسائل پر بہت زیادہ بوجھ نہیں لگتی تھی۔

لیکن اب مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ قیدی تو کجا نام نہاد آزاد شہری بھی بڑی مشکل سے دو وقت کی روٹی جٹا پا رہا ہے۔ ریاست بھی قرضے ادھار پر چل رہی ہے۔ چنانچہ اب قیدیوں کو باقاعدہ جیلوں میں رکھنے، مقدمے چلانے اور ان کے کھانے پینے کے نخرے اور اے بی سی کلاس کی عیاشی برقرار رکھنا بھی مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ لہذا اب مخالفین کو دو آپشن دیے جاتے ہیں۔ (اول) آپ آرام سے بیٹھنا پسند کریں گے یا پھر لیٹنا پسند کریں گے؟ (دوم) آپ رضاکارانہ طور پر منظر سے ہٹنا چاہیں گے یا پھر ہم اس سلسلے میں آپ کی مدد کریں؟ آپ ہمارے ہم خیال گروپ کی ویڈیو شوٹ میں دکھائی دینا چاہیں گے یا آپ کی الگ سے آڈیو ویڈیو بنا کے آپ کی خدمت میں پیش کر دیں؟ آپ گرین ٹیلرز کی شیروانی پہن کے تصویر کھینچوائیں گے یا لباسِ فطرت میں کھال کھچوائیں گے؟  دل پر ہاتھ رکھ کے بتائیں کہ کیا کسی بھی عام شہری، سیاسی کارکن یا سیاستداں کو آج سے پہلے اتنی چوائسز دی جاتی تھیں؟ پھر بھی آپ کے ناشکرے پن کی کوئی انتہا نہیں۔

جیسے جیسے عمر گذرنے کے ساتھ فرد بالغ ہوتا چلا جاتا ہے۔ اسی طرح ادارے بھی وقت کے تقاضوں کے پیشِ نظر اپنی اصلاح کرتے رہتے ہیں۔ پہلے زمانے کی عسکری قیادت آج کے مقابلے میں محض دس فیصد ناپسندیدہ وجوہات پر غصے میں آ کے اقتدار براہِ راست ہاتھ میں لے لیا کرتی تھی اور پھر اس اقتدار کو اندھے کی لاٹھی کی طرح گھمایا جاتا۔ مگر آج اقتدار براہ راست ہاتھ میں لینا فرسودہ اور آؤٹ آف فیشن حرکت سمجھی جاتی ہے اور دنیا بھر میں بدنامی الگ۔ لہذا اقتدار اسی طرح کرائے پر دیا جاتا ہے جس طرح مزارعین کو کھیت مستاجری پر دیا جاتا ہے۔ کھاد بیج، کیڑے مار ادویات ہمارے، محنت تمہاری۔ ہر فصل میں سے تین چوتھائی ہمارا ایک چوتھائی تمہارا۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ یہ باتیں سنتے سنتے بال سفید ہو گئے کہ دراصل ہمارا سب سے بڑا قومی مسئلہ یہ ہے کہ فیصلہ کن اور فیصلہ ساز ادارے اپنی اپنی آئینی حدود اور دائروں میں رہ کے کام کرنے کے عادی نہیں۔ یوں نہ تو آئینی حکمرانی پوری طرح قائم ہو سکی اور نہ ہی گڈ گورننس کی داغ بیل پڑ سکی۔

خدا کا شکر کہ آج ایسا کچھ نہیں۔ ہر ادارہ ماشااللہ اپنی اپنی حدود میں بااختیار ہے۔ مثلاً کوئی بھی عدالت اپنی چار دیواری میں مکمل بااختیار ہے۔ پارلیمنٹ ریڈ زون کے احاطے میں رہتے ہوئے کوئی بھی قانون سازی کر سکتی ہے۔ ایوانِ صدر کی حدود میں صدرِ مملکت کی اجازت کے بغیر پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔ وزیرِ اعظم ریاست بھر میں کسی بھی واقعہ کا فوری نوٹس لے کے رپورٹ طلب کر کے ایکشن لے سکتا ہے۔ لائٹ، کیمرہ، ایکشن۔ اور ہمارے حساس ادارے ملک کی جغرافیائی و نظریاتی و سیاسی و اقتصادی و نفسیاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہمیشہ کی طرح مستعد و چاق و چوبند ہیں۔ وہ کسی بھی اندرونی شورش اور بحران پر قابو پانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس بابت یہ ادارے طبِ یونانی کے اس بنیادی اصول پر عمل کرتے ہیں کہ مرض کو پہلے پوری طرح ابھارا جائے تب ہی اس کی جڑ ماری جا سکتی ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ یہ ادارے کبھی بھی خود کو ریاست سے الگ یا بیگانہ تصور نہیں کرتے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یک جان و یک قالب والا معاملہ ہے۔ اللہ تعالی یہ محبتیں قائم و دائم رکھے اور ہمیں اس بارے میں ہر طرح کی بدگمانیوں اور وسوسوں سے بچائے رکھے۔ ثمِ آمین۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ بی بی سی اردو

اپنی درگت ہم نے بہت محنت سے بنائی ہے

یہ بیماری آج کی نہیں بلکہ پینسٹھ برس سے لاحق ہے۔ انیس سو اٹھاون سے اب تک پاکستان تئیس بار آئی ایم ایف کے پاس گیا۔ ان پروگراموں کے زیرِ سایہ پاکستان نے پچھتر میں سے اب تک پینتیس برس گذار لیے۔ گویا اوسطاً پاکستان کو ہر تین برس بعد آئی ایم ایف کی ضرورت پڑتی ہے۔ انیس سو اٹھاسی سے تاحال پینتیس برس میں سے تئیس بجٹ ایسے گذرے ہیں جن میں پاکستان کو مسلسل توازنِ ادائیگی کا سنگین خسارہ درپیش رہا لہٰذا کشکول توڑنے کے بڑکیلے عزم کے باوجود اس پورے عرصے میں آئی ایم ایف کا دامن تھامنا پڑا۔ ایوب خان سے آج تک کوئی ایسی حکومت نہیں گذری جس نے آئی ایم ایف سے رجوع نہ کیا ہو۔ آخر پاکستانی معیشت کو ایسی کون سی بیماری لاحق ہے جس کا پینسٹھ برس میں ایک درجن سے زائد حکومتیں بھی علاج نہ کر پائیں۔ بلکہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی اور اپنے تئیں ہر طرح کی دوا کی۔ انیس سو بہتر سے اب تک ٹیکس ڈھانچے میں اصلاحات اور ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کی لگ پندرہ سنجیدہ کوششیں ہوئیں۔کمیشنوں اور کمیٹیوں کی موٹی موٹی رپورٹیں بھی بنیں۔ مگر ہر رپورٹ کے ساتھ ساتھ موٹی گردنیں اور موٹی ہوتی گئیں اور پتلی گردنیں ہر آہنی و معاشی کھانچے میں ٹھونسنے کی کوشش ہوتی رہی۔

یہ مصیبت نہ آسمان سے اتری ہے، نہ ہی یہود و نصاری و ہنود کی سازش ہے۔ بلکہ یہ مصیبت ہم نے برس ہا برس کی محنت سے خود اپنے لیے دن رات ایک کر کے کھڑی کی ہے۔ جب بین الاقوامی ادارے چند برس پہلے لال بتی دکھا رہے تھے تو ہم مذاق سمجھتے ہوئے یہ کہہ کے ٹال رہے تھے کہ یہ لوگ ہماری ترقی سے جلتے ہیں۔ مثلاً اپریل دو ہزار اکیس میں اقوامِ متحدہ کے ذیلی ترقیاتی ادارے یو این ڈی پی کی نیشنل ہیومین ڈویلپمنٹ رپورٹ میں کھل کے بتا دیا گیا تھا کہ معیشت کے کنوئیں سے جب تک بالائی ایک فیصد طبقے کو حاصل مراعاتی کتا نہیں نکلے گا۔ چالیس چھوڑ چالیس ہزار ڈول پانی بھی نکال لیں تو کنواں پاک نہیں ہو گا۔ یہ رپورٹ کسی مقامی ادارے یا کسی سرکردہ سیاسی جماعت کے پروپیگنڈہ سیل نے نہیں بنائی بلکہ یو این ڈی پی نے مرتب کی تھی۔ اس کے مطابق حکمران اشرافیہ ( کارپوریٹ ناخدا ، بڑے صنعت کار ، سرمایہ کار ، بینکنگ سیکٹر ، سیاسی و روحانی قوت سے لیس جاگیردار و اہلِ سیاست اور عسکریہ ) کو لگ بھگ اٹھارہ ارب ڈالر سالانہ کی براہ راست یا بلاواسطہ مراعات و سہولتیں میسر ہیں۔

اس ایک فیصد طبقے کو ترجیحی بنیادوں پر تعلیم ، صحت ، انصاف ، سرکاری محکوموں کی خدمات اور ٹیکس چھوٹ و ترغیبات کے ذریعے سرکاری خزانے تک مکمل رسائی حاصل ہے۔ جب کہ ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی مد میں اس طبقے پر بوجھ لگ بھگ دس فیصد ہے۔ باقی نوے فیصد بوجھ ان طبقات نے اٹھا رکھا ہے جن کا ان جلی و خفی مراعات و ترغیبات سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں۔ بلکہ ان کی حیثیت اس گدھے کی ہے جس پر ایک فیصد طبقہ مسلسل سواری گانٹھ رہا ہے۔سیاسی جماعتوں ، پارلیمنٹ ، عدلیہ و عسکریہ سمیت ہر کلیدی ادارے کی کلید اسی طبقے کے ہاتھ میں ہے۔ جو بھی امداد اندرونی و بیرونی طور پر قرضوں ، منافع ، گرانٹ یا کرائے کی شکل میں حاصل ہوتی ہے وہ اسی طبقے میں اوپر ہی اوپر بٹ جاتی ہے اور اس مراعاتی میز پر جو تھوڑی بہت ہڈیاں بچ جاتی ہیں وہ باقیوں کے حصے میں آ جاتی ہیں اور وہ ان ہڈیوں پر لگے گوشت کے تھوڑے بہت ریشے چچوڑ کے ہی خوش ہو جاتے ہیں۔ قوانین سازی بھی یہی ایک فیصد لوگ ایک فیصد کے مفاد میں کر کے سو فیصد پر لاگو کرنے کے لیے اسے قومی قانون سازی کی عبا پہنا دیتے ہیں اور پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے انھیں جائز قوانین سمجھ کے ان کے بے انصاف عمل درآمد پر لگ جاتے ہیں۔

بالائی بیس فیصد ( اعلیٰ متوسط طبقے سیمت ) پاکستانی قومی آمدنی کا پچاس فیصد کنٹرول کرتے ہیں اور انتہائی نچلی سطح پر زندگی کاٹنے والے بیس فیصد پاکستانیوں کے حصے میں محض سات فیصد قومی آمدنی آتی ہے۔ اب یہ فرق اور بڑھ گیا ہے کیونکہ روپے کی ناقدری اور معیشت کی تیز رفتار پھسلن کے سبب متوسط طبقہ بھی تیزی سے سکڑتا جا رہا ہے۔ یو این ڈی پی نے دو برس پہلے بتایا تھا کہ دو ہزار نو میں متوسط طبقے کی تعریف میں بیالیس فیصد آبادی شامل تھی۔ دو ہزار اٹھارہ انیس میں یہ کم ہو کے چھتیس فیصد پر پہنچ گئی اور اب ایک غیر حتمی تخمینے کے مطابق یہ تناسب کم ہو کے تیس تا پچیس فیصد رہ گیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کا بہت ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے مگر رپورٹ کے مطابق سینتیس فیصد ترقیاتی منصوبے بالائی بیس فیصد کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہیں۔ جب کہ نچلے بیس فیصد آبادی کے حصے میں محض چودہ فیصد منصوبے ہی آتے ہیں اور ان کا معیار بھی ویسا ہی ہوتا ہے۔ یعنی عملاً ناقص اور نقشے پر انتہائی خوشنما منصوبے۔ اب تو آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر نے بھی کھل کے کہہ دیا ہے کہ جب تک ٹیکسوں کا رخ بالائی طبقات کی جانب اور مراعات کا رخ نچلے طبقات کی طرف نہیں ہو گا پاکستان معاشی دلدل میں ہی پھنسا رہے گا۔

مگر منی بجٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی حکومت مراعاتی طبقے پر ہاتھ ڈالنے کے لیے آمادہ نہیں اور نچلے طبقات اس قدر ادھ موئے ہو چکے ہیں کہ ان سے مزید جوس نکالنا اب بیل کا دودھ دوہنے جیسا ہوتا جا رہا ہے۔ چار ماہ پہلے تک مفتاح اسماعیل پاکستان کے وزیرِ خزانہ تھے۔ بقول ان کے ’’ یہ ملک صرف آٹھ ہزار لوگوں کے لیے بنا ہے۔ عمران خان کی آخری کابینہ میں سے ساٹھ فیصد عہدیدار ایچیسن کے فارغ التحصیل تھے۔ اور یہ صرف ایک کابینہ کا معاملہ نہیں۔ ہر کابینہ میں لگ بھگ نصف وزیر ایچیسن کے ہوتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے آدھے جج ایچیسن کے ہیں۔ آدھے کاروباری اور صنعت کار کراچی گرامر اسکول نے پیدا کیے ہیں۔ اگر ملٹی نیشنل کمپنیز کی بالائی قیادت ، بینکنگ سیکٹر کی لیڈرشپ اور سیاستدانوں اور عسکریہ کی بالائی کریم کو بھی شامل کر لیا جائے تو سارا گیم ایچیسن ، کراچی گرامر اسکول ، کیڈٹ کالج حسن ابدال ، کاکول ، روٹس اور بیکن ہاؤس سمیت درجن بھر اداروں کے گرد گھوم رہا ہے۔ اور اگر موجودہ ڈھانچہ ایسے ہی رہا تو ان ہی اداروں سے ہر سال فارغ التحصیل ہونے والے لگ بھگ آٹھ ہزار بچے باقی چار لاکھ اسکولوں میں پڑھنے والے چالیس لاکھ بچوں کو نچلی سطح پر استعمال کرتے ہوئے ہر شعبے میں ایسے ہی حکمرانی کرتے نظر آئیں گے جیسے کہ ان درجن بھر تعلیمی اداروں سے نکلنے والے ان بچوں کے والدین اس وقت حکمرانی کر رہے ہیں‘‘۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

اکڑ چکے ہیں مگر اکڑ قائم ہے

جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس دائر کرنا غلطی تھی۔ مخلوط حکومت قبول کرنا غلطی تھی، اسٹیبلشمنٹ پر مکمل بھروسہ کرنا غلطی تھی، باجوہ کو ایکسٹینشن دینا بہت بڑی غلطی تھی، بڑھتے ہوئے افراطِ زر کی روک تھام کو ترجیح نہ دینا غلطی تھی، ریئل اسٹیٹ سب سے بڑی مافیا ہے۔ اس سمیت دیگر صنعتوں کو غیر مشروط مالی ترغیبات و چھوٹ دینا غلطی تھی وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔ غلطیاں سب سے ہوتی ہیں مگر خان صاحب دیگر سیاست دانوں کے برعکس صاحبِ ظرف شخصیت ہیں۔ وہ فراغ دلی سے غلطیاں کر کے انھیں کھلے دل سے تسلیم کر لیتے ہیں۔ ایسی شخصیت کی دل جوئی تو بنتی ہے۔
نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے
پسینہ پونچھیے اپنی جبیں سے ( استاد انور دہلوی )
ایک درد مند اور مخلص سیاستداں کو ایسا ہی ہونا چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں خدا کا شکر بھی ادا کرنا چاہیے کہ ایسے شفاف لوگ سیاست میں ہی ہیں۔

طبی سرجری یا ہوا بازی کے شعبے میں ہوں تو بہت مسئلہ ہو سکتا ہے مگر شاید میں غلط کہہ رہا ہوں۔ اس بدقسمت ملک کو ساڑھے سات عشروں میں بیشتر قیادت ایسی ہی ملی ہے جس نے پاکستان کے جسدِ خاکی پر آن جاب ٹریننگ لی ہے۔ اس جسم پر کاسمیٹک سرجری سمیت ہر طرح کی جراحی آزمائی جا چکی ہے اور جاری ہے۔ اس کے سینے پر ہر نیا نشتر ٹیسٹ ہوتا ہے۔ اس کے حلق سے ہر نیا عرق، معجون اور کیسپول اتارا جاتا ہے۔ ہر بار اس کے معدے کا ایک اور علاج شروع کر کے نامکمل چھوڑ دیا جاتا ہے۔ حکمت، ایلوپیتھی، ہومیو پیتھی، آکو پنکچر اور جھاڑ پھونک کو باری باری نہیں ایک ساتھ آزمایا جاتا ہے اور وہ بھی دیوانہ وار درجنوں بار۔ چنانچہ حالت یہ ہو چلی ہے کہ اس جسدِ خاکی پر اب تھرڈ فورتھ چھوڑ ففتھ جنریشن دوا بھی اثر نہیں کر پا رہی۔ چونکہ ہر شاخ پر عطائیت بیٹھی ہے۔ اس لیے کون کس کو پکڑے یا کس جواز پر ہاتھ ڈال۔ سب کو سب کا شجرہ، اوقات، اہلیت اور طاقتِ پرواز معلوم ہے۔ وہ جو کسی نے کہا ہے کہ ’وچوں وچ کھائی جاؤ، اتوں رولا پائی جاؤ۔‘

اگر اب تک اس مریضِ خداداد کی سانس چل رہی ہے تو یہ کسی بھی دوا سے زیادہ دعا کی کرامت ہے۔ بخدا آپ یا آپ میں سے کسی سے کوئی غلطی نہیں ہوئی اور نہ ہو گی۔ غلطی بہت پہلے ہم جذباتیوں سے ہوئی تھی، ہوئی ہے اور آئندہ بھی ہوتی رہے گی۔
زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں ( ساغر صدیقی )
جب حالاتِ حاضرہ لامتناہی ہو جائیں، تب ہی ان کی کوکھ سے یہ جملہ جنم لے کر قومی نفسیات میں پیوست ہوتا ہے کہ ’جو ہوا سو ہوا، مٹی پاؤ، آگے کا سوچو۔‘ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ’جو ہوا سو ہوا‘ بھی تو مسلسل ہوئے چلا جا رہا ہے۔ آخر کنی مٹی پائیے اور کتنا آگے کا سوچیے۔ آگے بھی تو ہر موڑ پر ’تکلیف کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ کام جاری ہے‘ کا بورڈ لگا ہے۔ ہم نے تو آج تک کسی شاعر کو اپنے کسی ہم عصر کو دل سے تسلیم کرتے نہیں دیکھا۔ کسی طبیب کو دوسرے طبیب کا نسخہ تسلی بخش نہیں لگتا۔ ہر ریستوران دعویدار ہے ’لذیذ کھانے کا واحد مرکز۔‘ کوئی بھی باورچی کسی اور خانسامے کی بریانی کی تعریف کرنے نہ کرے نقص نکالنا نہیں بھولتا۔ ملتان کینٹ کے ریلوے سٹیشن پر سوہن حلوے کے ہر ’اصلی برانڈ‘ کے ڈبے پر یہی لکھا پایا ’نقالوں سے ہوشیار۔‘

یہاں ہر سیاسی جماعت باقیوں سے زیادہ اہل اور دردمند ہے۔ ہر ریٹائرڈ جرنیل کم ازکم جولئیس سیزر اور ہر حاضر سروس حضرت خالد بن ولید کا وارث۔ تو پھر اتنے نابغہِ روزگاروں اور غیر معمولی مثالیوں کے ہوتے ہم اس معمولی حالت تک آخر کیسے پہنچ گئے۔ ایب نارمل کی سطح سے بلند ہوتے ہوتےعیب نارمل کی منزل پر کیسے چڑھ گئے۔ ہاں کوئی شے اگر نہیں کھوئی تو وہ ہے اکڑ۔ اوپر سے نیچے تک، عام سے خاص تلک سب میں مشترک ہے اکڑ۔ ہم سے اچھا کوئی نہیں اور تم سے برا کوئی نہیں۔ پورے کے پورے اکڑ چکے ہیں مگر اکڑ پھر بھی نہیں جاتی۔ قومی ورثہ جو ہوئی۔ ہر کھیل کے اختتام پر پردہ گرتا ہے۔ پر اس کھیل کے آخر میں پردہ نہیں گرے گا، اس پر کپڑا ڈالا جائے گا۔
(میرے منہ میں خاک ۔۔۔ شاد باد منزلِ مراد)

وسعت اللہ خان

بشکریہ بی بی سی اردو

گدھا اس قدر بھی گدھا نہیں

ہم انسان اپنے حال و خیال میں اتنے مست ہیں کہ اردگرد کی حیاتِ دیگر نظر ہی نہیں آتی بھلے وہ کتنی ہی انسان دوست ہو۔ مثلاً انسان اور گدھے کا تمدنی ساتھ کم ازکم چھ ہزار برس پرانا ہے اور اب اسی انسان کے ہاتھوں ہمارا یہ محسن بقائی خطرے سے دوچار ہے۔ گدھوں کی فلاح و بہبود پر نگاہ رکھنے والی ایک برطانوی تنظیم ڈنکی سنگچری (خر پناہ) اس وقت ان پر مصیبت کا ایک بڑا سبب چین میں گدھے کے گوشت اور اس سے بھی بڑھ کے اس کی کھال کی مانگ بتاتی ہے۔ اس کھال کے اجزا سے ایجیا نامی جیلاٹن تیار ہوتی ہے۔ اسے چینی طب میں فشارِ خون کے جملہ مسائل اور عمومی بدنی طاقت کے لیے اکسیر گردانا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے ایف اے او کے اعداد و شمار کے مطابق چین میں انیس سو ستانوے کی خر شماری کے مطابق گدھوں کی تعداد لگ بھگ اڑتالیس لاکھ تھی جو دو ہزار اٹھارہ تک آٹھ لاکھ رہ گئی۔ یعنی بیس برس میں چھ گنا کمی۔ البتہ گدھوں کے گوشت اور کھال کی مانگ میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

اس وقت سالانہ عالمی مانگ چالیس لاکھ کھالوں کی ہے جب کہ رسد تیس سے پینتیس لاکھ کھالوں کی ہے۔ اندازہ ہے کہ دنیا میں پانچ کروڑ گدھوں میں سے سوا کروڑ کے لگ بھگ چار افریقی ممالک ایتھوپیا، سوڈان، چاڈ اور برکینا فاسو میں ہیں۔ چنانچہ کھال کے متلاشی گروہوں اور گدھوں پر زرعی انحصار کرنے والی آبادی کے مابین کھینچا تانی ، زور زبردستی، چوری چکاری بھی بڑھ رہی ہے۔ غربت میں جب کسان کی فی کس آمدنی دو ڈالر سے بھی کم ہو اس وقت کسی مالک کو اپنا گدھا فروخت کرنے کے لیے پچاس ڈالر کے مساوی رقم کی پیش کش کی جائے اور انکار کی صورت میں چھینا جھپٹی درپیش ہو تو ہتھیار ڈالتے ہی بنتی ہے۔ گدھے کی کھال کی مانگ کے سبب بہت سے افریقی ممالک میں ان کی افزائش میں اضافہ ہو رہا ہے جب کہ بہت سوں میں اندھا دھند لالچ اس جانور کو نسل کشی کی جانب لے جا رہی ہے۔ مثلاً پچھلے چودہ برس کے دوران بوٹسوانا میں گدھوں کی تعداد میں سینتیس فیصد، جنوبی امریکی ملک برازیل میں اٹھائیس فیصد اور وسطی ایشیائی ریاست کرغزستان میں تریپن فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

پاکستان میں اگرچہ کبھی باقاعدہ خر شماری نہیں ہوئی مگر اندازہ ہے کہ یہاں پچاس لاکھ گدھے پائے جاتے ہیں۔ جب عالمی مانگ میں اضافہ ہوا تو پاکستان میں بھی گدھے کو اپنی کھال بچانی مشکل ہو گئی۔ دو ہزار چودہ میں گدھوں کی ایک لاکھ سے زائد کھالیں برآمد ہونے کی خبر آئی تو حکومت کے بھی کان کھڑے ہوئے۔ وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے ستمبر دو ہزار پندرہ میں گدھے کی کھال برآمد کرنے پر پابندی لگا دی۔ اس اعتبار سے پاکستان پہلا ملک تھا جس نے نسل درنسل وفاداری نبھانے والے اس جانور کی جان بچانے کے لیے اہم اقدام کیا۔ تب سے اب تک سترہ ممالک پاکستان کی تقلید میں اس نوعیت کی پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔ یہ الگ بحث کہ ان پابندیوں پر کس قدر عمل درآمد ہو رہا ہے۔ جب پی ٹی آئی کا دور شروع ہوا تب بھی یہ پابندی برقرار رہی۔ البتہ فروری دو ہزار انیس میں خیبرپختون خوا حکومت نے سی پیک کی چھتری تلے خیبرپختون خوا چائنا سسٹین ایبل ڈنکی پروگرام (اس کا اردو ترجمہ کیسے ہو) کا قابلِ عمل خاکہ پیش کیا۔ یعنی گدھوں کی ایکسپورٹ سے تین ارب ڈالر تک کمائے جا سکتے ہیں۔

اس فیزبلٹی کے تحت ڈیرہ اسماعیل خان اور مانسہرہ میں گدھوں کی صحت مند ماحول میں دیکھ بھال اور افزائش کے لیے دو بڑے مراکز کے قیام کا عندیہ بھی دیا گیا اور ابتدائی طور پر ایک ارب روپے بھی مختص کیے گئے۔ ایک چینی کمپنی سے بات چیت بھی شروع ہو گئی۔ پروگرام کے تحت سالانہ اسی ہزار گدھے برآمد کرنے کا منصوبہ تھا۔ مگر جیسا کہ ہوتا ہے، چند ماہ بعد اس پروگرام پر خود بخود اوس پڑ گئی۔ سنا ہے اب دوبارہ اسے آگے بڑھانے کے لیے انگڑائی لی جا رہی ہے۔ چونکہ ہم لوگ ہمیشہ سے گدھے کو گدھا ہی سمجھتے ہیں لہٰذا ہزاروں برس سے ساتھ نبھانے کے بعد بھی ہم اس کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ اس سے زیادہ صابر، قانع ، سخت جان اور غیر نخریلا جانور شاید ہی کوئی اور ہو۔ حالانکہ اس کی پشت پر ہماری تمدنی تاریخ لدی ہوئی ہے۔ مصریوں نے اسے باقاعدہ باربرداری و کاشت کاری کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔ دو ہزار برس قبل شاہراہ ریشم کی تجارت چین سے یورپ تک مرہونِ خر تھی۔

رومن فوج نے اس سے باربرداری کے فوجی ٹرکوں جیسا کام لیا۔ تب سے پہلی عالمی جنگ تک اس جانور کا فوجی سامان کی نقل و حرکت میں کلیدی کردار رہا۔ اگر گدھوں کی ٹھیک سے دیکھ بھال کی جائے تو وہ اوسطاً پچاس برس تک زندہ رہتے ہیں۔ بظاہر سر جھکا کے خاموشی سے اپنے کام سے کام رکھنے والے جانور کی یادداشت حیرت انگیز ہے۔ وہ کسی بھی علاقے اور وہاں رہنے والے ہم نسلوں کو پچیس برس بعد بھی پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گدھا کیسی بھی مسکین طبیعت کا ہو مگر آپ اسے خوفزدہ کر کے یا زور زبردستی سے کام نہیں کروا سکتے۔ ذاتی خطرہ سونگھنے کی اس کی صلاحیت اور قوتِ سماعت حیرت ناک ہے۔ وہ صحرا میں ساٹھ میل دور سے آنے والی ڈھینچوں ڈھینچوں کی صدا بھی محسوس کر سکتے ہیں۔ چونکہ غریب طبیعت ہے لہٰذا جب بھی چرنے کو وافر سبزہ میسر آ جائے تو خوب چرتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ گدھے کا پیٹ نہیں بھرتا بلکہ یہ اس لیے پیٹ بھرتا ہے تاکہ کھائی ہوئی پچانوے فیصد غذا اس کے معدے میں زخیرہ رہ کر اسے مسلسل بنجر جگہ پر بھی توانائی فراہم کرتی رہے۔

دیگر جانوروں کے برعکس گدھا موسمِ گرما میں زیادہ خوش رہتا ہے۔ اسے نہ پالا پسند ہے نہ ہی بارش۔ مٹی بہت پسند ہے جس میں لوٹنیاں لگائی جا سکیں۔ گدھا تنہائی پسند نہیں بلکہ دیگر گدھوں کی سنگت میں زیادہ خوش رہتا ہے۔ البتہ تنہا ہو تو اس کی بکریوں کے ساتھ اچھی نبھتی ہے۔ پسماندہ ممالک کے سڑک اور جدت سے کٹے علاقوں میں انسان باربرداری اور سواری کے لیے جس جانور پر سب سے زیادہ بھروسہ کرتا ہے وہ آج بھی گدھا ہی ہے۔ گھوڑے اور خچر کے نخرے برداشت کرنا ہر کس و ناکس کے بس میں نہیں۔غریب کے لیے تو گدھا اور گدھے کے لیے غریب بہت ہے۔ دونوں کی زندگی میں بہت سی خصوصیات مشترک ہیں۔ ان میں ہر حال میں صبر و شکر سب سے نمایاں ہے۔ ایسے وفادار کو محض قوت بڑھانے والی جیلاٹن بنا دینا ناشکری کی آخری منزل ہے۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز