2014عالمی محرکات کی تبدیلی

کئی بین الاقوامی مطبوعات میں تیزی سے تغیر پذیری کی جانب گامزن اس دنیا میں وقوع پذیر ہونے والی تذویراتی پیش رفتوں کا جائزہ لیا گیا ہے، ان میں کچھ جائزے عالمی منظرنامے کے ان کلیدی رجحانات سے آگہی کیلئے معاون ہیں جس سے دنیا کی خوشحالی اور استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔ گزشتہ مہینوں میں شائع ہونے والی 2 رپورٹوں کی نوعیت اور اطلاقی وسعتیں مختلف تھیں تاہم ان میں عالمی تبدیلی کی فطرت اور سمت کے حوالے سے کئی باتیں بصیرت آمیز تھیں۔ ان میں دنیا کی تصویر کشی اس طرح کی گئی ہے کہ یہ اہم جغرافیائی و تذویراتی تغیرات سے گزر رہی ہے اور اسے مربوط و پیچیدہ چیلنج درپیش ہیں۔

اس سلسلے کی پہلی مطبوعہ رپورٹ لندن میں قائم انٹرنیشنل انسٹیٹوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز (آئی آئی ایس ایس) کا عالمی امور پر سالانہ جائزہ ہے۔ دوسری مطبوعہ اشاعت 2014ء کے عالمی ایجنڈے پر عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) کی رپورٹ ہے، یہ رپورٹ دنیا بھر کے مختلف شعبوں کے 1500 ماہرین کی آراء کے سروے پر مشتمل ہے جس میں حکومتی عہدیدار، تدریس کے شعبے سے وابستہ افراد، کاروباری شخصیات، سول سوسائٹی کے ارکان اور نوجوان شامل ہیں، ان افراد کے سامنے 2014ء اور اس کے بعد کے رجحانات اور چیلنجوں کی نشاندہی کا سوال رکھا گیا تھا۔ امریکی نیشنل انٹیلی جنس کونسل کی جانب سے متبادل دنیاؤں کے حوالے سے مرتب کردہ ایک اور رپورٹ دسمبر2013ء میں جاری کی گئی۔ اس رپورٹ میں 2030ء میں بڑے رجحانات اور کایا پلٹ پیشرفتوں اور اس سے متعلق ممکنہ تناظر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ حالانکہ آئی آئی ایس ایس کا تذویراتی سروے گزشتہ برس کی پیشرفتوں پر تبصرہ ہے، اس کے جائزے کا مرکز نگاہ طویل مدتی تذویراتی رجحانات ہیں۔ اس کی 2013ء کی رپورٹ کا بنیادی موضوع یہ ہے کہ سیاسی رہنما اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد درپیش معاملات کی رفتار اور بہاؤ سے حکمت عملی کے تحت نبردآزما ہو رہے ہیں۔

گزشتہ برس کی طرح 2014ء میں حکمت عملی کے تحت بسر کرنے والا سال ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکمت عملی پر مبنی ان مختلف ردعمل کا نتیجہ مایوسی کی صورت میں نکلا، جس میں تنازعات کیلئے حل کی کمی اور بین الاقوامی سطح پر تناؤ نامناسب انتظام کاری شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق عارضی حل دیگر غیر اطمینان بخش طرزعمل کیلئے وقت حاصل کرنے کا بہترین طریقہ ثابت ہوا۔ اس بارے میں رپورٹ میں شام کے مسئلے پر بین الاقوامی ردعمل اور مشرق وسطیٰ میں ابھرنے والی تحریکوں کی مثالیں بطور حکمت عملی کی گنجائش کے حوالے سے دی گئی ہیں۔ رپورٹ میں اصرار کیا گیا کہ کئی لوگ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ حکمت عملی ہمہ گیر نہیں اور ناممکن ہوچکی ہے۔ ایسا محض 7/24 کے نیوز میڈیا کے وضع کردہ ماحول کے باعث ہی نہیں ہوا جس نے طویل مدتی منصوبہ بندی کرنے کی ممالک کی استعداد کو کم کردیا ہے بلکہ اس کی وجہ قیادت کی ناکامی اور وسیع ترمقاصد کا تعاقب کیلئے تیار نہ ہونا ہے جس سے پائیدار نتائج حاصل کئے جا سکتے تھے۔

تذویراتی مقاصد مرتب کرنا اور پھر ان پر سختی سے کاربند رہنا ایک بڑے چیلنج کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اسی طرح بڑی طاقتوں اور چھوٹے ممالک کی جانب سے تسلسل کے ساتھ خارجہ پالیسی پر کاربند رہنا بھی ایک چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ آئی آئی ایس ایس کی رپورٹ میں اس پیشرفت پر اظہار افسوس کے ساتھ بین الاقوامی امور کی موثر تذویراتی طرزفکر کی تبدیلی پر سمجھوتے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کیلئے حکومتوں کا معاشروں اور حکومتوں کا اپنے رہنماؤں سے زیادہ قربت درکار ہے۔ اس رپورٹ میں دلیل پیش کی گئی ہے کہ تذویراتی نتائج کی حامل پیشرفتوں کیلئے وسیع اور گزشتہ دنوں میں اپنائی جانے والی تذویرات سے زیادہ مربوط تذویرات کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں اس یقین کا اظہار کیا گیا ہے کہ اگر آگے ایسا نہیں ہوا تو دنیا میں تذویراتی انتشار کا تسلسل قائم رہے گا۔

امریکی پالیسی کا جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ اوباما کی جانب سے بین الاقوامی امور سے دوری اختیار کرنے اور ملک کے داخلی امور پر توجہ مرکوز کرنے کا طرزعمل امریکہ کی جانب سے دنیا کے دیگر ممالک میں کم مداخلت کے دور کی نوید سناسکتا ہے۔ رپورٹ میں امریکی خارجہ پالیسی کو مسائل کے حل کیلئے ذرائع کی فراہمی کے طور پر یا نئے سمتیں افشاں کرنے کے بجائے ضابطہ کاروں کا سلسلہ قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ ممالک میں عسکری مداخلتوں کی ایک دہائی کے بعد جنم لینے والے جنگ سے اکتاہٹ رجحان اور عسکری قوت کی حدود کو تسلیم کئے جانے اور ساتھ ہی داخلی سطح پر معاشی بحالی کے چیلنج سے گھرا ہونا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2008ء کے اقتصادی بحران کے دورس اثرات مرتب ہوئے اور دنیا کئی اطوار سے تبدیل ہو گئی اور مغرب دنیا کے شورش زدہ علاقوں میں الجھنے سے احتراز کرنے کی راہ پر گامزن ہوا۔ آئی آئی ایس ایس اور ڈبلیو ای ایف کی رپورٹوں میں مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کو دنیا کے سب سے بڑے تذویراتی مسئلے کے طور پر گردانا ہے۔

ڈبلیو ای ایف رپورٹ میں جواب دہندگان نے 2014ء میں مشرق وسطیٰ میں معاشرتی تناؤ کے سب سے برے رجحان کے طور پر نشاندہی کی ہے۔ تینوں مطبوعات میں ایک ہی موضوع کی بازگشت نظر آئی جو کہ تیزی سے تبدیلی سے ہمکنار ہوتے ہوئے دور میں حکومتوں کی کارکردگی پر نمایاں ہوتی ہوئی عوامی ناراضی اور بڑھتی ہوئی توقعات تھیں۔ ڈبلیو ای ایف کی جانب سے جن 10 اہم رجحانات کا حوالہ دیا گیا اس میں کئی اس جانب نشاندہی کرتے ہیں۔ جن میں ایک رجحان عوام کا دنیا کی معاشی پالیسیوں پر کم ہوتا ہوا اعتماد ہے اور یہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جبکہ معاشی تناؤ کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا جارہا ہے۔ اسی سے متعلق ایک اور رجحان آمدنی میں عدم مساوات کا بھی ہے جس نے ترکی سے لے کر برازیل تک احتجاج کو ہوا دی۔ ساختیاتی بے روزگاری بھی ریاستوں کے داخلی استحکام پر اثر انداز ہو رہی ہے اور عالمی تحفظ کیلئے ایک چیلنج بن کر سامنے آرہی ہے۔ ڈبلیو ای ایف رپورٹ کے مطابق عوام کی جانب سے ایک رہنما کی جگہ دوسرے کو لانے کا مطالبہ ان کی نہ پوری ہونے والی ضروریات کی غمازی کے سوا کچھ نہیں۔ عالمگیریت کے ثمرات کی غیرمساوی تقسیم سے ترقی پذیر ممالک میں سماجی اور سیاسی عدم استحکام کا خطرہ بڑھے گا کیونکہ یہاں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے اور ملازمتوں کے مواقع کم ہیں لیکن اگر سخت چیلنج درپیش ہیں تو ڈبلیو ای ایف کی رپورٹ میں آئندہ دور میں مواقع کی بھی نشاندہی کی ہے،2014 ء کے 10 چوٹی کے رجحانات میں ایشیاء میں متوسط طبقے کے ابھرنے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، اس رپورٹ میں کشور مہبوبانی نے اپنا حصہ ڈالتے ہوئے رجحانات کی اس پیشرفت کو حیرت انگیز اور تاریخ کی بھونچال برپا کردینے والی سب سے بڑی تبدیلی قرار دیا۔

ان کا کہنا ہےکہ مثبت پیشرفت سے ایشیاء میں معیار زندگی میں بہتری آنے اور غربت میں کمی ہونے کی نشاندہی ہوتی ہے تاہم وہ بھی اس حوالے سے محتاط ہیں کہ اس پیشرفت سے دنیا کے وسائل پر طلب کا زور بڑھے گا جسے بہرحال پورا کرنا پڑے گا۔ رپورٹ کے اس حصے میں ایشیاء میں غیرمساوی معاشی ریکارڈ کا تذکرہ نہیں کیا گیا جبکہ خطے کے کچھ ممالک اہم اصلاحات کرکے غیرمعمولی ترقی حاصل کررہے ہیں، دوسری جانب خطے کے دیگر ممالک اصلاحات سے پہلو تہی کرکے معاشی جمود کا شکار ہیں اور اس لئے براعظم ایشیاء کے رواں صدی میں ترقی کی جانب ہونے والے ممالک کی فہرست سے علیحدہ ہو گئے۔ ڈبلیو ای ایف کی رپورٹ میں آئندہ برسوں کیلئے عالمی ایجنڈے کے خدوخال وضع کئے گئے اور زیر زمین چٹانوں سے گیس نکالنے کے عمل کے مستقل اور اس کے تذویراتی و جغرافیائی اثرات پر بھی خامہ فرسائی کی گئی۔

توانائی کے شعبے میں یہ پیشرفت عالمی منظر نامے میں کایا پلٹ ثابت ہو سکتی ہے اور توانائی کے شعبے میں انقلاب کا موجب بن سکتی ہے۔ تینوں رپورٹوں میں اس پیشرفت کے دورس تذویراتی و جغرافیائی اثرات پر روشنی ڈالی گئی۔ امریکہ کے توانائی کے شعبے میں خودانحصاری کے امکانات کو تینوں رپورٹس میں واشنگٹن کی جانب سے اس زمرے میں مشرق وسطیٰ کے مرکز نگاہ کی تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ آئی آئی ایس ایس کی رپورٹ نے پہلے ہی اس محرک کو امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا عکاس قرار دیا گیا ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ ماہ امریکی صدر باراک اوباما نے کانگریس کے مشترکہ خطاب کے دوران کہا تھا کہ امریکہ توانائی کے شعبے میں خودانحصاری حاصل کرنے کے ہدف کے سلسلے میں گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں پہلے سے زیادہ قریب ہے۔ ڈبلیو ای ایف کی رپورٹ میں ان ممالک کی فہرست بھی جاری کی گئی ہے جہاں زیرزمین چٹانوں میں گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور تکنیکی طور پر اس کا حصول ممکن ہے۔

اس ضمن میں چین سرفہرست، امریکہ چوتھے جبکہ ارجنٹائن کا نمبر دوسرا ہے۔ این آئی سی گلوبل ٹرینڈذ رپورٹ میں طرز حکمرانی کے خلاء کو تبدیلی کا ایک اہم محرک قرار دیا ہے جو کہ یہ تعین کرے گی کہ آئندہ دودہائیوں میں کس قسم کی دنیا ابھر کر سامنے آئے گی۔ رپورٹ نے ایک کلیدی سوال پیش کیا کہ طاقت کے تقسیم ہونے اور کئی مختلف کرداروں کے معرض وجود میں آنے سے آیا حکمرانی اور بین الاقوامی اداروں کی اشکال معروضی دور کے تقاضوں کے مطابق تبدیلیاں وضع کریں گی یا اس کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گی۔ رپورٹ کے مطابق کچھ ممالک جمہوری خسارے کے باعث مشکلات میں گھرے رہیں گے، ان کی ترقیاتی سطح ان کی طرز حکمرانی کی سطح کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہے جبکہ دیگر ممالک تیزرفتار سماجی و سیاسی تبدیلی کے موڑ پر مستحکم تبدیلیاں کرنے سے قاصر رہیں گے۔

طرز حکمرانی کے چیلنجوں پر ایک معروف امریکی اسکالر جوزف نائی شائنز نے بھی روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے ڈبلیو ای ایف رپورٹ میں یہ دلیل پیش کی ہے کہ جمہوریتوں کو لازمی طور پر منتخب حکومتوں پر کھوئے ہوئے اعتماد کی بحالی اور انفارمیشن ایج کے نئے چیلنجوں سے نبردآزما ہونے کیلئے کام کرنا چاہئے تاہم اس موضوع پر آخری الفاظ ایک ایسی کاروباری شخصیت کی جانب سے آئے جس کا نام رپورٹ میں درج نہیں ہے، ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں ایک ایسے جمہوری نمونے کو وضع کرنا ہوگا جس میں رہنماؤں کو معاشرے کے طویل مدتی مفاد کیلئے اپنے قلیل دور حکومت کی قید سے آزادی ملے۔ اس بات کا اطلاق پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک پر بھی ہوتا ہے۔

ڈاکٹر ملیحہ لودھی
بشکریہ روزنامہ ‘ جنگ ‘

بدلتی ہوئی دنیا میں طاقت کا تصور

والٹن پارک میں گزشتہ ہفتے طاقت کے مستقبل، طویل مدتی عالمی رجحانات اور چیلنجوں اور مواقع کا جائزہ لینے کیلئے ہونے والی کانفرنس میں پالیسی سازوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے مابین پرجوش تبادلہ خیال ہوا۔ کانفرنس نے طاقت کی فطرت کی بصیرت فراہم کی، جس کے عنوان میں 2040ء کے حوالے سے مستقبل کے سفر کی بابت خیالات پیش کئے گئے، جو اس بات کی انتظام کاری کے فرائض انجام دے گی کہ کس طرح مختلف طرز پر عالمی طاقتیں آئندہ برسوں میں تبادلہ خیال کریں گی۔کانفرنس میں زیر بحث آنے والے کچھ کلیدی نکات قابل خلاصہ ہیں کیونکہ اس میں عالمی رجحانات اور عالمی سطح کی انتظام کاروں کی نشاندہی موجود ہے جوکہ طاقت کی فطرت اور مستقبل قریب میں ممالک کے درمیان عالمی سطح پر طاقت کے تعلقات پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ یہ نکات مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔ ایسے وقت میں جب دنیا میں غیرمعمولی تبدیلی رونما ہورہی ہے طاقت کا تصور مستقل تبدیلی سے ہمکنار ہے۔ 2۔ عالمی منظر نامے پر کئی نئے کرداروں کے ابھر کر سامنے آںے کے باوجود بین الاقوامی نظام میں ریاست ہی بنیادی کردار رہے گا۔ 3۔ ہوسکتا ہے کہ طاقت کے ذرائع مستحکم ہوں لیکن جس ماحول میں طاقت کا استعمال کیا جارہاہے بنیادی طور پروہ تبدیل ہورہا ہے۔ 4۔ طاقت کے آلات کو صورتحال کے مطابق ڈھالا جانا ہے۔ 5۔ ممالک کو موثر ہونے کیلئے عسکری طاقت اور معاشی طاقت کا جامع امتزاج وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ 6۔ معاشی طاقت ایک اہم آلۂ کار بن چکی ہے جس کے ذریعے ممالک بین الاقوامی نظام میں من مانی ترامیم کرتے اور اپنی رائے مسلط کرتے ہیں۔7۔ عالمی سطح پر امتیازی حیثیت کے حصول کیلئے عسکری و معاشی طاقتیں کافی نہیں بلکہ ریاستوں کو اس کارہائے عظیم کیلئے اہلیت کی بنیاد پر خاطر خواہاں کارکردگی بھی کر دکھانی ہوگی۔ 8۔ تخلیقی میدان میں کام نہ کرنے والے کا مستقبل میں زیادہ حصہ نہیں ہے۔9۔ اپنی رائے غالب کرنے یا منوانے کی اہلیت طاقت کا ایک اہم جزو ہے۔ 10۔ منفی طاقت بھی حالات و واقعات پر اثرانداز ہوتی ہے، اس سے مراد طاقت کا خلا اور پرتشدد کارروائیاں کرنے والے غیرریاستی جرائم پیشہ گروپوں کی جانب سے طاقت پر غلبہ ہے۔ 11۔ ریاستوں کی جانب سے شعوری بے اعتناعی یا طاقت کا استعمال نہ کرنا، بذات خود طاقت کی تحقیر ہے، جس سے ریاستیں اور حکومتیں اپنی قانونی حیثیت کھو بیٹھتی ہیں۔12۔ ایک فرضیت جوکہ ابھی تک پایہ تکمیل تک نہیں پہنچی وہ یہ ہے کہ ریاستوں کی بین الانحصاری بین الاقوامی معاملات میں قومی خودمختاری کی اہمیت کو کم کردے گی۔ طاقت قومی خودمختاری پر مصر رہنے میں مخفی ہے۔13۔ عالمی طاقت نظام کی تبدیلی کے باعث تغیر کی منازل طے کررہی ہے تاہم عالمی ادارے اب بھی پرانی دنیا کی عکاسی کررہے ہیں۔ان آراء کے دعوے سے یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ کس طرح طاقت تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں تغیر سے ہمکنار ہورہی ہے، ہمارے دور میں عالمگیریت مواقع کے دروازے کھول رہی ہے اور غیر یقینی صورتحال کمزوریوں کو جنم دے رہی ہیں۔ مختصراً دور حاضر کو وضع کرنے میں تین اہم رجحانات کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ترقی پر مبنی ٹیکنالوجی کا ارتقاء اور طاقت کی ریاست سے فرد کو منتقلی۔ عالمی سطح پر طاقت کی بڑھتی ہوئی تقسیم کے علاوہ نظام کے جن رجحانات پر زور دیا گیا، ان میں آبادیاتی تبدیلی، آبی مسائل کا دباؤ، وسائل کے حصول کیلئے مسابقت اور عوامی توقعات اور حکومتوں کی اہلیت میں بڑھتا ہوا خلا شامل تھے۔ آج کے مسابقتی ماحول میں وہ ادارے جو چست نہیں تھے انہیں ڈائنوسار قرار دےکر ان کی مذمت کی گئی۔ اس کا اطلاق جتنا اداروں پر ہوتا ہے اتنا ہی ریاستوں پر بھی ہوتا ہے۔کانفرنس میں زیادہ تر بحث اس بات کے گرد گھومتی رہی کہ آیا دنیا کثیرالقطبی یا بے قطبی کی جانب گامزن ہے۔ کچھ شرکاء نے دلیل پیش کی مستقبل میں معاشی امتیازی کے تین مراکز ہوں گے، جن میں امریکہ، چین اور یورپی یونین شامل ہیں دیگر شرکاء نے چین اور امریکہ کے مابین طاقت کے توازن کو اہم رجحان گردانہ۔ اپنی باری پر میں نے یہ دلیل پیش کی کہ مغرب سے چین کی جانب طاقت کے انتقال کی رفتار میں تیزی آرہی ہے، اس عالمی سطح کی تبدیلی کی انتظام کاری کس طرح کی جاتی ہے یہ بین الاقوامی استحکام کا کلیدی جزو ہے، خاص طور پر جبکہ طاقت کی لامرکزیت کے زمرے میں ممالک کا اس بابت اندازہ لگایا جانا مزید مشکل ہوگا اور جہاں طاقت کے استعمال کرنے کے طریقے بھی زیادہ پیچیدہ ہوں گے دیگر شرکاء نے سوال اٹھایا کہ چین کے عروج سے کیا مطلب ہے۔ ایک مقرر نے کئی سخت مشاہدات پیش کئے کہ کس وجہ سے اکثر اس بابت ہونے والی گفت و شنید بے نتیجہ رہتی ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ چین اس حوالے سے کس طرح برتاؤ کرے گا؟ کیا یہ مغرب کی کوئی لاشعوری خواہش ہے کہ مغرب ایک غیرجمہوری ملک کو اپنے سے آگے نکلتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جبکہ مغرب خود پر شک کی آلودگی کا شکار ہے؟

انہوں نے پوچھا کہ آیا چین کے خوف اور مغرب کے جمہوری نمونے کی کمزوری کے مابین کوئی ربط ہے، جس کی نشاندہی سیاست میں شرکت کی دلچسپی کم ہونے سے ہوتی ہے۔ ایسے سوالات سے مغرب کی جانب سے چین کی طویل مدتی سوچ، منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد کرنے کی اہلیت کیلئے بالواسطہ طور پر پسندیدگی کا اظہار ہے،جبکہ مغربی جمہورتیں جمود کا شکار اور زیادہ تر مخصوص مفادات کے رحم و کرم پر رہیں۔ کیا چین کا خوف اس کے رویّے یا مغرب میں امور کی انجام دہی پر تنقید ہے؟

کانفرنس کے ایک اور دور میں ایک مقرر کی جانب سے عالمی مستقبل کو وضع کرنے والی قوتوں کی نشاندہی کی گئی، جو تین نکات پر مشتمل تھی، 1۔ سرمایہ کارانہ نظام کے نقائص اور یہ حقیقت کے عالمگیریت ہمیشہ سب کیلئے سود مند ثابت نہیں ہوتی، 2۔ روایتی طاقت کے حامل رہنما تیزی سے اپنی اثرپذیری کھورہے ہیں کیونکہ نئے غیر ریاستی عناصر میں طاقت کے منقسم ہونے کے ماحول وضع ہوا ہے۔ جس کی عکاسی عوامی رائے عامہ کے جائزوں میں سیاسی رہنماؤں کی درجہ بندی میں ہونے والی کمی سے ہوتی ہے۔ 3۔ چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کیلئے موجودہ نظام کے نقائص اور کل کی دنیا کی انتظام کاری۔ کانفرنسوں کے زیادہ تر اجلاسوں میں افراد کے طاقتور ہونے، ریاست کی استعداد میں کمی اور توقعات اور طرزحکمرانی کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کے حوالے سے شرکاء نے لب کشائی کی۔ یونان سے ترکی اور برازیل تک دنیا بھر میں ہونے والے عوامی مظاہرے کا ذکر ہوا، تمام شرکاء نے حکومتوں کو اپنے شہریوں سے تعلقات دوبارہ استوار کرنے اور زیادہ موثر طور پر ان کے مطالبات ماننے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس نکتے پر اتفاق رائے ہوا کہ کثیرالقطبی دنیا میں کثیرالاقومی اداروں کو مستحکم کرنے اور ان کی ساخت کو بھی دوبارہ وضع کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس بابت بین الاقوامی اتفاق رائے کی کمی کے حوالے سے خدشات پر بھی تبصرہ کیا گیا۔ جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کثیرالاقومی نظام کی موجودہ خامیوں کا تسلسل جاری رہے گا۔

جب میں نے یہ نشاندہی کی کہ بڑی طاقتیں اور ایک مرتبہ اہمیت اختیار کرنے والی اقوام عالمی اداروں کو قوت دینے کی مزاحمت کررہی ہیں تو اس پر مختلف ردعمل دیکھنے میں آئے جس میں کچھ مقررین کا اصرار تھاکہ عمومی عدم اتفاق رائے کو مورد الزام ٹھہرایا جانے چاہئے لیکن کسی نے بھی اس تخیل سے اختلاف نہیں کیا کہ دنیا ابھی بھی گزشتہ صدی کے ذہنی نقشوں پر کاربند ہوتے ہوئے چلائی جارہی جب عالمی انتظام کاری کیلئے مختلف طرزفکر اور زیادہ طاقتور ادارے درکار تھے۔ کچھ مقررین نے سوال اٹھائے کہ آیا علاقائیت کثیرالاقومی اتحاد کی خامیوں کو دور کرسکتا ہے لیکن پھر فوراً ہی اس بات پر اتفاق رائے ہو گیا علاقائیت کے کثیرالاقومی اتحاد کا متبادل بننے کا کوئی امکان نہیں۔ میں نے علاقائیت کے محدود ہونے کی نشاندہی کی کیونکہ مختلف خطوں کی مختلف استعداد ہوتی ہیں، مختلف خطوں میں علاقائی رقابتیں کارفرما ہورہی ہوتی ہیں، کسی بھی حال میں کئی مسائل کا حل علاقائیت میں نہیں ہے اور ان کے حل کیلئے عالمی سطح پر ہمہ گیر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ عالمی سطح کے مسائل کیلئے عالمی سطح کے حل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ عالمی سطح پر کوئی بھی طاقت تن تنہا مستقبل میں بین الاقوامی نظام کیلئے ضابطے وضع کرنے یا اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے میں خود کفیل نہیں ہے۔

یہاں تک کہ آج کی دنیا میں طاقتور ریاستیں کسی معاملے پر نہ تو کرسکتی ہیں لیکن ان کے پاس اپنی مرضی کے مطابق مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کی اہلیت نہیں ہے۔ میں نے ریاست کی توجہ طاقت کے جائز استعمال کی جانب مبذول کرائی اور یہ کہ کس طرح یہ اس کی قابلیت پر اثر انداز ہوکر رائے عامہ کو دھوکہ دیتے ہیں یا اپنی خواہش کے مطابق اس کا نتیجہ حاصل کرتے ہیں۔ عراق میں فوجی مداخلت کی طرح جب طاقت کا استعمال قانون کے مطابق نہیں ہوتا تو اس کے نہ صرف سنگین نتائج بھگتنا پڑتے ہیں بلکہ اس کے باعث اختیار کا بحران بھی پیدا ہوجاتا ہے اور اپنے اس اقدام کی وجہ سے اس ملک کی حقیقت دنیا پر عیاں ہوجاتی ہے اور اس ملک کے طاقت کے دوبارہ استعمال کا اختیار بھی محدود ہوجاتا ہے۔ برطانوی دفتر خارجہ اور امریکی نیشنل انٹیلی جنس کونسل کے اشتراک سے مختلف موضوعات پر ہونے والے تبادلہ خیال میں یہ بات توجہ کا باعث بنی کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا تبدیلی کی جانب گامزن ہے ہم اب طاقت کے استعمال پر زیادہ دیر تک انحصار نہیں کرسکتے۔ اگرچہ مستقبل کا یہ سفر تمام شراکت داروں کو ایک ہی منزل پر نہیں پہنچا سکتے اور نہ ہی ایسی توقع ہے تاہم یہ عمل اس لئے اہم ہے کیوں کہ ممکنات کے بارے میں سوچنا ہمیں انتخاب سازی کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ بہرحال منزل تو موقع سے نہیں بلکہ انتخاب سے ملتی ہے۔

ڈاکٹر ملیحہ لودھی

بشکریہ روزنامہ “جنگ