گوادر پانچ برسوں میں جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی بندرگاہ بن جائے گی

چین کی جانب سے بے مثال مالی اور تعمیری کوشش بحیرہ عرب پر واقع حکمت عملی کے اعتبار سے پاکستان کی اہم بندر گاہ، گوادر کو تیزی سے ترقی دے کر اسے دنیا کی ایک سب سے بڑی سفری اور مال أسباب کی منتقلی کی ایک تنصيب میں تبدیل کر رہی ہے ۔ دونوں فریق بندر گاہ کے اس شہر کو اربوں ڈالر کی ایک دو طرفہ اقتصادی راہداری کے ایک راستے کی شکل دینے کی توقع کر رہے ہیں، جسے دونوں اتحادی ملکوں کو باہم منسلک کرنے کے لیے تعمیر کیا جا رہا ہے۔
گہرے پانیوں کی بندر گاہ گوادر تجارتی اعتبار سے دنیا کے تین انتہائی اہم علاقوں، تیل سے مالا مال مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔

بیجنگ، گوادر کو، سی پیک کے طور پر معروف چین ۔ پاکستان اقتصادی راہداری کے حصے کے طور پر ترقی دے رہا ہے ۔ دونوں ملکوں نے 2015 میں ا س پراجیکٹ کو چین کی ابتدا ئی طور پر لگ بھگ 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ پاکستان میں، مشترکہ طور پر شاہراہیں، ریلویز، پاور پلانٹس، کمیونیکیشنز اور صنعتی زونز کی تعمیر کے لیے شروع کیا تھا ۔ اس کا مقصد گوادر کو مغربی چین کے خشکی سے گھرے علاقے سے منسلک کرنا ہے تاکہ اسے پاکستان کے راستے عالمی منڈیوں تک رسائی کا ایک نسبتاً چھوٹا اور محفوظ راستہ مل سکے۔
پاکستان کے کچھ لوگوں کو فکر ہے کہ پاکستان چین کے ماہرین، کارکنوں اور کاروباری افراد سے بھر جائے گا اور اس سے ملکی صنعتوں کو نقصان پہنچے گا۔
گوادر پورٹ کے چیئرمین دوستین خان جمال دینی اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ یہ تصور درست نہیں ہے۔

دوستین خان جمال دینی جو بندر گاہ پر اعلیٰ ترین پاکستانی منتظم ہیں، کہتے ہیں کہ گوادر کے تعمیراتی اور دوسرے پراجیکٹس پر لگ بھگ 65 فیصد لیبر فورس پاکستانی ہے اور چینیوں کی تعداد صرف تین سو سے کچھ ہی زیادہ ہے۔ انہوں نے ایک عمارت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمارت جو آپ دیکھ سکتے ہیں، جو زیر تعمیر ہے، پہلے سے تیار چینی ٹکنالوجی سے تیار کی گئی ہے ۔ میرا نہیں خیال کہ ہم اس وقت اتنی بڑی عمارت کو دو یا تین ماہ میں تعمیر کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کام کے ساتھ ٹکنالوجی بتدریج پاکستان میں منتقل ہو رہی ہے اور اس سے پاکستان میں چینیوں کی موجودگی مزید کم ہو جائے گی۔

عہدے دار توقع کر رہے ہیں کہ گوادر پانچ برسوں کے اندر اندر جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا جہاز رانی کا مرکز بن جائے گا جہاں سالانہ 13 ملین ٹن سامان کو ہینڈل کرنے کی صلاحیت ہو گی۔ اور ان کا کہنا ہے کہ 2030 تک یہ بندر گاہ 400 ملین ٹن تک کا سامان ہینڈل کر سکے گی۔ سیکیورٹی کے خدشات اوراس پراجیکٹ کے راستے میں آنے والے کچھ علاقوں پر بھارت کے دعوے گوادر کے لیے مسلسل اہم اور سی پیک کے لیے عمومی چیلنج ہیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اس وقت انہیں جن فوری مسائل کا سامنا ہے وہ ہیں روزانہ کئی کئی گھنٹوں تک بجلی کا جانا اور پانی کی کمی۔

ایازگل

بشکریہ وائس آف امریکہ

پاکستان اور امریکہ تعلقات : ہم کہاں کھڑے ہیں ؟

گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنے فطری جذبات کا برملا اظہار کیا ہے ان کے دماغ میں کیا چل رہا ہے اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے ایک ایسے موقع پر جب دنیا بھر کے سربراہان مملکت یا ان کے اہم نمائندے جنرل اسمبلی میں موجود تھے امریکی صدر نے کھل کر تیسری عالمی جنگ کا ڈنکا بجانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اپنے منتخب مخالفین جن میں شمالی کوریا اور ایران نمایاں ہیں کا نام لے کر للکارا ہے اور دیگر نا پسندیدہ حلیفوں اور حریفوں کو تنبیہی طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ اگر امریکہ کے احکامات پر سر تسلیم خم نہیں کریں گے تو انہیں اچھی طرح سبق سکھا دیا جائے گا.

فی الحال پاکستان بھی ان کے نشانے پر ہے کیونکہ افغانستان میں طالبان اور دیگر مخالف گروہوں نے امریکی افواج و حکام کو ناکوں چنے چبوا رکھے ہیں امریکہ اپنے تمام تر حواریوں کے تعاون اور کوششوں کے باوجود افغانستان کو زیر کرنے میں قطعی ناکام رہا ہے اس کا سارا الزام وہ پاکستان کے سر ڈال رہا ہے جبکہ اب تک پاکستان نے افغان جدوجہد میں پایا خاک نہیں کھویا ہی کھویا ہے لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ تقریباً چار عشروں سے جھیل رہا ہے اور ان افغان مہاجرین کے طفیل اپنے ملک کا امن چین ختم کر لیا ہے وطن عزیز میں منشیات ایک وبائی ہیجان کے طور پر پھیلی اس کے ساتھ ان مہاجرین کی آمد سے قبل کوئی پاکستانی کلاشنکوف سے واقف نہیں تھا نہ وطن عزیز کے طول و عرض میں کہیں خود کش حملے ہوتے تھے یہ خود کش حملوں کا تحفہ بھی افغان حمایت کا ثمر ہے.

اگر دیکھا جائے تو افغانستان کی داخلی جنگ میں امریکی مفادات کے لئے مداخلت کرنا پاکستان کو انتہائی مہنگا پڑا ہے اس کے باوجود امریکی سرکار کے بھاویں نہیں آتے ان کی چل مزید کی فرمائش رکنے کا نام ہی نہیں لیتی جو کام امریکہ سپر ترین پاور ہونے کے باوجود نہیں کر پا رہا اس کی توقع وہ پاکستان سے کیسے کر سکتا ہے اپنی ان ہی غیر معمولی توقعات کے باعث امریکہ پاکستان سے اپنی ناراضی کا اظہار کر رہا ہے حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان نے امریکہ کی بڑھتی ہوئی فرمائشیں اور سرد رویوں کے باعث اپنے قریبی ہمسایوں چین سے خصوصاً اور روس سے عموماً اپنے معاملات درست کرنے کی کوشش کی ہے کوئی بھی ملک لڑائی جھگڑوں، جنگ و جدل سے تو نہیں چل سکتا عوامی بہبود اور جغرافیائی کاموں کی بھی ضرورت ہوتی ہے.

امریکہ بہادر مالیاتی اداروں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینکوں سے جو قرضے منظور کرتا ہے وہ بھی بھاری سود پر جس کا سود ادا کرنے کے لئے مزید قرضوں کی ضرورت پیش آتی ہے امریکہ قرضہ بھی امداد کے طور پر دیتا ہے جبکہ چین نے پاکستان کے تعمیری ترقیاتی کاموں میں جو سرمایہ کاری کی ہے وہ اپنے تجارتی نقطہ نظر سے کی ہے روس بھی اگر دوستی کا ہاتھ بڑھا رہا ہے تو وہ بھی اپنے مفادات کے حصول کے لئے بڑھا رہا ہے تجارتی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو وہ سرمایہ کاری اپنے اپنے مفادات کے لئے کر رہے ہیں لیکن اس کا بنیادی فائدہ پاکستان کو ہو رہا ہے۔

آج کل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس چل رہا ہے پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی وہیں موجود ہیں سنا گیا ہے کہ وزیر اعظم عباسی صاحب نے امریکی صدر سے ملاقات کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے سر راہ گزرتے گزرتے ڈنر کے موقع پر چند لمحوں کی زبردستی کی ملاقات کو بھی لوگ بہت اہمیت دے رہے ہیں یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ گزشتہ ستر برسوں میں امریکہ سے بہت سے معاملات میں سمجھوتے ہوئے ہیں پاکستان نے خود کو امریکی سرپرستی میں دیا ہوا ہے اس کا یہ مقصد نہیں کہ پاکستان نے خود کو امریکی غلامی میں دیا ہوا ہے ہونے کو تو اب تک ہمارے تقریباً تمام ہی سیاست دان اور فوجی حکمرانوں نے امریکی غلامی کو تسلیم کیا ہے جس کا نتیجہ ہے کہ امریکہ ہمیں وہ اہمیت نہیں دیتا جو ہمارا حق ہے ۔ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے امریکی نائب صدر مائیک پنسن سے اپنے وفد کے ساتھ ملاقات میں واضح کیا ہے کہ پاکستان خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پر عزم ہے اور ہم نے دنیا بھر سے کہیں زیادہ قربانیاں دی ہیں.

پاکستان خطے میں امن کا شدید خواہشمند ہے ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اتنی عظیم قربانیوں کے باوجود ہمیں مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے طالبان کی سرپرستی کا الزام، الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے، ہمیں سوچنا اور سمجھنا ہو گا کہ ہمارے لئے ہمارے وطن عزیز کے لئے کیا بہتر ہے اور کیا بدتر ہے صرف لکیر کے فقیر بن کر بیٹھے رہنا حل نہیں ہے۔ اب دنیا کے حالات بدل چکے ہیں خود پاکستان جوہری قوت ہے اور ہر قسم کے میزائلوں کا حامل ہے ماضی کے مقابلے میں ہم اب ہر میدان میں اپنا وزن رکھتے ہیں امریکی صدر کی بے اعتنائی کے متحمل نہیں ہو سکتے ہمیں اپنے رویوں کو تبدیل کرنا ہو گا.

امریکہ اگر سپر پاور ہے تو ہوا کرے پاکستان پہلے ہی ایک سپر پاور کو جس کی سرحدیں بھی ملتی تھیں گھر بھیج چکا ہے جب تک تو پاکستان کے پاس جوہری قوت نہ ہونے کے برابر تھی یا بالکل نہیں تھی اب تو الحمدللہ ہماری جوہری قوت اور اس کے اثاثے دنیا پر آشکار ہو چکے ہیں پھر دو بڑی سپر پاور ہماری پشت پناہی پر آمادہ بھی ہیں پھر کیوں ہم امریکہ کی گیڈر بھبکیوں میں آرہے ہیں ہمیں اپنی اہمیت کا احساس دلانا چاہیے آخر کب تک ہم کاسہ لے کر ان کے سامنے کھڑے رہیں گے کیوں عذاب الٰہی کو آواز دیتے رہیں گے ہمیں یہ یاد رکھنا ہو گا کہ دنیا دبتے کو ہی دباتی ہے ہمارے حکمران جانے کس خوف کا شکار ہیں، افغان مسئلہ امریکہ کے حلق میں پھنسا ہوا ہے اسے اپنی آن شان کا بھی احساس ہے اور اپنی ناکامیوں کا بھی۔ اسے نا نگلتے بن رہی ہے نہ اگلتے بن رہی ہے ہمیں سوچنا ہوگا سمجھنا ہوگا.

ہمیں امریکی غلامی کا جوا اتار پھینکنا ہو گا ابھی موقع ہے افغانستان کے حالات کو قابو کرنے اور امریکہ کو وہاں سے نکلنے کا موقع فراہم کرنے کے سوال پر امریکہ سے معاملات کیے جا سکتے ہیں کم از کم بھارتی مداخلت تو ختم کرائی جا سکتی ہے۔ افغانستان سے امریکہ پاکستان کے اشتراک اور معاونت کے بغیر نہ مخالف گروہوں سے مذاکرات کر سکتا ہے نہ جنگ کر کے فتح حاصل کر سکتا ہے افغانستان کی طویل جنگ نے امریکہ کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے عراق سے تو اس نے تیل کی صورت فائدہ حاصل کر لیا تھا لیکن افغانستان میں تو فوجی ساز و سامان افرادی قوت اور کثیر سرمایہ جھونکا جا رہا ہے جس نے امریکی معیشت کو کھوکھلا کر دیا ہے اقتصادی طور پر امریکہ شدید خسارے میں ہے بے روز گاری دن بدن امریکہ میں بڑھ رہی ہے یہی موقع ہے کہ پاکستان کے تمام مقتدر ادارے ایک آواز ہو کر جس طرح انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کی مذمت کی ہے اسی طرح امریکہ سے اپنے تعلقات کو بہتر انداز میں استوار کرنے کے لئے آواز بلند کرنا ہو گی.

 ورنہ کل کلاں کو وہ ہمیں بھی برباد کرنے اور ختم کرنے کی دھمکی دے سکتا ہے امریکی صدر کی سوچ و فکر سے تو خود ان کے مشیران سلطنت پریشان ہیں اپنی فطری سوچ کے مطابق ہی وہ امریکی حکومت چلا رہے ہیں اگر وہ ایسے ہی چلتے چلاتے رہے تو پھر وہ دن دور نہیں جب کبھی بھی کہیں سے بھی تیسری عالمی ایٹمی جنگ کا آغاز وہ کر سکتے ہیں اللہ تعالیٰ تمام عالم کی حفاظت فرمائے، آمین۔

مشتاق احمد قریشی