بالآخر وہی ہوا جس کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا تھا اور جس خطرے کا ذکر میں نے اپنے کئی کالموں میں کیا تھا مگر اعلیٰ حکام نے پولیو کی روک تھام اور مکمل خاتمے پر اپنی توجہ مرکوز نہ کی اور غفلت کی نیند سوتے رہے۔ ہماری آنکھ اُس وقت کھلی جب گزشتہ دنوں عالمی ادارہ صحت (WHO) نے پاکستان میں پولیو کی خطرناک صورتحال کے باعث اسے دنیا میں ’’وائلڈ پولیو وائرس‘‘ کے پھیلائو کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے پاکستانی شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کردیں ان پابندیوں کے تحت پاکستانی شہریوں پر یہ لازم ہوگا کہ وہ بیرون ملک سفر سے پہلے انسداد پولیو کی ویکسین پئیں جبکہ ان کے پاس ویکسین پینے کا سرٹیفکیٹ بھی ہونا چاہئے جس کے بغیر وہ بیرون ملک سفر نہیں کرسکیں گے۔ اس کے علاوہ عالمی ادارہ صحت کی ہدایت کے مطابق وزیراعظم پاکستان پولیو مہم کے لئے سرکاری طور پر ہیلتھ ایمرجنسی لگانے کا اعلان بھی کریں گے۔