ایک سیاہ فام پادری مارٹن لوتھرکنگ جونیئر 1968 میں کسی نامعلوم سفید فام کی گولی کا نشانہ بن گئے۔ مارٹن لوتھر کوئی عام سیاہ فام نہ تھے بلکہ یہ چرچ کے منسٹر ہونے کے علاوہ امریکی افریقی قوم کے رہنما بھی تھے جنھوں نے اپنی تحریک سے سیاہ فام امریکیوں کے حقوق دلوانے میں بڑی جدوجہد کی ہے۔ اس جدوجہد کا عکس سن اڑسٹھ میں تو نمایاں نہ ہوا لیکن موٹر مکینک کی موت کے بعد عالم میں کوچہ بہ کوچہ، شہر بہ شہر، ملک بہ ملک نمایاں ہوا، ہیجانی اجتماعات منعقد ہوئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ امریکا کی چالیس ریاستوں میں انقلاب کے منظر نمایاں ہو رہے تھے۔ عوامی دباؤ کے تحت پولیس کے بڑے بڑے افسران عوام کے روبرو جارج کلائیڈ کا نام لے کر نیل ڈاؤن ہوئے۔ افسران بالا کے یہ گھٹنے اگر زمین بوس نہ ہوتے تو امریکی عوام یہ کہتے ہیں کہ دوسرا خونیں انقلاب دروازے پر کھڑا تھا۔ ریاست وسکونسن میں اور اس کے علاوہ دوسری ریاستوں میں ہتھوڑے اور درانتی کے مناظر دیکھے گئے۔
ایسے موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ کو فوجی کارروائی یاد آئی۔ جس پر وہاں کے اکثر فوجی ریٹائرڈ افسران بالا نے یہ کہا کہ یہ کوئی تھرڈ ورلڈ کنٹری نہیں کہ یہاں عوام کے خلاف فوج استعمال کی جائے۔ بہرصورت حزب مخالف کے لیڈران جن میں جوبائیڈن اور دیگر لیڈر شامل تھے انھوں نے گرم معاملات کو سرد کرنے میں حکومت وقت کا ہاتھ بٹایا کہ کہیں جمہوریت کے ڈبے پٹڑی سے نہ اتر جائیں۔ پندرہ دن گزر جانے کے بعد بھی فرانس کے شہر پیرس میں مظاہرین اس واقعے کی مذمت در مذمت کر رہے ہیں۔ تو اس میں کیا بعید تھا کہ اگر انقلاب بردار لوگوں کو ذرا بھی شئے مل جاتی تو امریکی ریاستیں ماضی کی سوویت یونین کا منظر نہ پیش کرتیں، لیکن امریکی دانشوروں نے سہل پسندی سے اور نرم مزاجی سے اس کڑے وقت کو گزر جانے دیا، کیونکہ امریکی عوام کو ماضی کی سوویت ریاستوں کے طرز پر بہت سے فوائد تو مل ہی رہے ہیں، تو پھر وہ ایسے انقلاب کو کیسے گلے لگائیں جس میں یہ نہیں معلوم کہ انجام کار کیا ہو گا۔
اگر فوجی بیانات کے علاوہ عملی طور پر مداخلت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، تو جو کچھ انھیں حاصل ہے دانشوروں نے یہ سوچا کہ کہیں اس سے بھی ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ لہٰذا انقلاب بس ایک جھٹکے کی کسر تھی کہ شروع ہوتے ہوتے رہ گیا۔ اس میں امریکی انقلابیوں کی کمزوری کو مورد الزام ٹھرایا جائے یا ان کی دور اندیشی کی داد دی جائے۔ بہرصورت قوموں کی زندگی میں ایسے لمحے شاذ ونادر ہی آتے ہیں، پر وہاں انقلاب اس لیے بھی نہ آیا۔ کیونکہ وہاں کوئی مضبوط انقلابی پارٹی نہ تھی جس کی جڑیں ہر شہر اور ہر ریاست میں ہوتیں، کیونکہ انقلاب اچانک نہیں آتے۔ اس کی تربیت دی جاتی ہے۔ پارٹی بنائی جاتی ہے اور ذہن تیار کیے جاتے ہیں، مگر جو واقعات امریکا میں گزر گئے وہ کسی آنے والی تباہی سے کم نہ تھے۔ یہ اچھا ہی ہوا کہ بے ترتیب انقلاب آنے سے رہ گیا ورنہ اس کا انجام خود امریکا اور دیگر ممالک پر کیسے اثر انداز ہوتا۔ یہاں اس بات کے بھی امکانات تھے کہ انقلاب کے بدلے ہولناکی جنم لیتی اور انسانی زندگی برباد ہوتی۔
تو پھر مجبوراً امریکی فوج کو اپنا روایتی کردار ادا کرنا پڑتا۔ بات تو بظاہر بہت چھوٹی سی تھی کہ ایک کانسٹیبل نے ایک مزدورکی گردن پہ گھٹنا رکھ کے مار ڈالا، لیکن سماجی اعتبار سے دنیا جس قدر آگے بڑھ گئی ہے اور امریکی عوام کا شعور جتنا بلند ہو گیا ہے۔ اس کا انجام خونریز تصادم ہی ہوتا اور امریکی ریاست جو معاشی اور سماجی طور پر دنیا میں جو بلند رتبہ رکھتی ہے اس سے محروم ہونے کے امکانات بہت وسیع نظر آتے تھے۔ اس واقعے سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ تعلیم تربیت اور معاشی خوشحالی انسان میں صبر، ضبط اور غور و فکر کے معاملات کو جنم دیتی ہے۔ ورنہ پولیس کانسٹیبلوں کی غلطیوں، کوتاہیوں کے نتائج تیسری دنیا کے ملکوں میں ایسے ہو جاتے ہیں جس سے بڑا ہیجان برپا ہو جاتا ہے۔
امریکا کا حالیہ ہیجان بھی پولیس کے ایک معمولی ملازم کی بے ضابطگی نے 1968 کے ان نعروں کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ جو مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کام کر رہے تھے کہ گورے اور کالوں کی چپقلش کا خاتمہ ہو جائے ورنہ کسی بھی وقت امریکی ریاست کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ باوجود اس کے کہ دنیا میں ڈالر مستحکم ہے پھر باہمی چپقلش کی وجہ سے کمزوری کا نشانہ بن سکتا ہے۔ ایک اور بات جو زیر غور ہے اور امریکی قیادت کے بلند و بالا ایوانوں سے یہ آوازیں آ رہی ہیں کہ انھیں امریکا کی اعلیٰ ترین قیادت پر مکمل اعتماد نہیں جس کا اظہار امریکی میرین جنرل جیمز مٹس نے حالیہ دنوں کے واقعات سے تنگ آکر صدر ٹرمپ پر یہ واضح کر دیا کہ وہ متضاد سیاسی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر امریکی قوم کی خدمت نہیں کر سکتے۔ حالیہ مکینک کی موت جو ایک پولیس افسرکے گھٹنے کے دباؤ سے ہوئی اور اس مستری نے موت سے چند لمحے پہلے کانسٹیبل سے کہا کہ ’’مجھے سانس نہیں آرہی ہے‘‘ مگر پولیس مین نے ایک نہ سنی، اور قانون کی دھجی اپنے جوتوں سے اڑا ڈالی۔
جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ریاست ہائے متحدہ کے صدر مملکت کو بھی دباؤ میں آنا پڑا۔ اور پورا امریکا کارکنوں سمیت دانشور اور سفید و سیاہ یکجا ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ وہ لمحہ تھا جو ایک نئے انقلاب آفرین راہوں سے گزرنے لگا۔ بعض لوگوں کو یہ ڈر تھا کہ کہیں کوئی ایسا انقلاب سامنے نہ آجائے کہ جس کا کوئی تدارک نہ ہو سکے۔ بہرحال دانشوروں اور افسران بالا سمیت چھوٹی قیادت سب نے مل کر اس انقلاب کا راستہ روکا اور نئی راہوں کو مشعل راہ بنایا جس سے عوام کے جذبات بھی ٹھنڈے ہوں اور بظاہر انقلاب کا راستہ بھی مسدود ہوا۔ پورے امریکا میں توڑپھوڑ تو شروع ہو گئی مگر وہ توڑ پھوڑ ان بتوں کی تھی جو پورے امریکا میں نامی گرامی بندوں کے نصب تھے۔ تمام وہ بت گرائے جانے لگے جو کبھی بلندی کا نشان تھے۔
جن لوگوں نے سیاہ فاموں کی تجارت کی تھی یا ان کے ناموں کو کم ظرف کے طور پر پیش کیا تھا ان تمام بلند مراتب لوگوں کے مراتب گرائے جانے لگے۔ صرف یہی نہیں ہوا کہ جارج کلائیڈ کا نام امریکی سرزمین پر جگہ جگہ بلند ہوا بلکہ ان کا نام ریاست ہائے متحدہ کے علاوہ یورپی سرزمین فرانس، برطانیہ میں بھی اتنا بلند ہوا کہ وہاں کے باشندے بھی یہ سمجھے کہ یوکے میں بھی کوئی انقلاب آنے کو ہے۔ یہاں بھی اہل دانش نے ہوش مندی سے کام لیا اور تصادم سے گریز کیا۔ اس میں سب سے قیمتی آرا اور راستہ لندن کے میئر صادق نے اختیار کیا کہ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی ہیجان میں مبتلا ہو کر قدیم مشہور لوگوں کے مجسموں کو پاش پاش نہ کریں بلکہ یہ کام حکومت خود اپنے ہاتھوں سے کرے گی، تاکہ ملک میں کوئی خلفشار نہ پیدا ہو۔ انھوں نے مزید کہا کہ انھیں معلوم ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی آرا تیزی سے بدل چکی ہے۔ انھیں یہ معلوم ہے کہ دور جدید میں اقوام کی آزادی کا کیا مفہوم ہے۔
مسٹر صادق نے مزید کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ سیاہ فام اقوام اور دیگر قوموں کے ساتھ فتح مند لوگوں نے کیا سلوک کیا۔ لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ فتح مندوں کے چہرے جابجا نمایاں نہ کیے جائیں۔ مسٹر صادق نے مزید کہا کہ امریکا میں اس وقت جو مہم چل رہی ہے رفتہ رفتہ اس کی حدت میں کمی آگئی ہے۔ مگر اس کمی کو لانے میں امریکی سیاہ فام اور سفید فام دانشوروں کا بڑا ہاتھ ہے۔ مگر ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ صورتحال بالکل قابو میں ہے۔ سیلاب تو گزر گیا مگر اس کے چھوڑے ہوئے تباہ کاریوں کے آثار جگہ جگہ موجود ہیں۔ امریکا میں تباہ کاریوں کے درمیان ایک اور نعرہ لگایا جا رہا تھا کہ پولیس کا نظام ختم کرو۔ یہ ایک بے راہ رو آزادی کا نشان تھا جو اب رفتہ رفتہ سکون کی سانس میں ڈوب گیا۔ اگر اہل دانش نے امریکا میں ہوش مندی سے کام نہ لیا ہوتا تو پھر ریاست ہائے متحدہ میں ہر طرف ہائے، ہائے کے نعرے بلند ہو رہے ہوتے اور دانشوروں کی رکاوٹ کے باوجود امریکا سکون کی دنیا میں اپنا وقار بچا نہ سکتا۔
اس قسم کے واقعات تھرڈ ورلڈ میں آئے دن ہوتے رہتے ہیں مگر لوگوں کو انسانی جان کی اس قدر پروا نہیں ہے اور نہ لوگ ہتک عزت سے طیش میں آتے ہیں۔ دسمبر کے شروع میں کراچی پولیس نے بیچ شہر میں بیسیوں لوگوں کو ایک ساتھ مرغا بنا کر چلایا، مگر دوسرے روز شہر پرسکون تھا۔ انسانی حقوق کے علم بردار ایسا لگتا ہے کہ وہ اس محاورے سے بڑے متاثر تھے کہ رات گئی بات گئی۔ ابھی تھرڈ ورلڈ میں انسانی حقوق اور عزت نفس کا وہ تصور بیدار نہیں ہوا جوکہ مغربی دنیا میں ہو چکا ہے اور یہاں کی انجمنیں انسانی حقوق کا صرف پرچار کر رہی ہیں۔ اگر امریکا میں سفید فام دانشوروں نے وقت کی نزاکت کو نہ سمجھا ہوتا تو آج امریکا سفید فام اور سیاہ فام کی کشمکش سے گزر رہا ہوتا کیونکہ امریکی حکمرانوں کو نسلی امتیاز کی گہرائیوں سے واسطہ نہیں پڑا۔
سفید فام لوگوں کی اکثریت آج بھی اس بات سے انکاری ہے کہ امریکا میں نسلی تعصب ایک تلخ حقیقت ہے۔ ایسے میں سفید فام امریکیوں کو صرف امن کی نہیں بلکہ انصاف کی بات بھی کرنی ہو گی۔ ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار جینیفر کامینو گونزالیز لکھتی ہیں کہ امریکی شہریوں کے لیے جلتی موٹر گاڑیاں، آنسو گیس کے بادل، پولیس اور مظاہرین کی جھڑپیں پریشان کن ضرور ہیں لیکن کوئی چونکا دینے والی بات نہیں۔ ایک سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں ایک سیاہ فام امریکی کی ہلاکت یقینی طور پر ایک افسوسناک واقعہ ہے، لیکن یہ بھی کوئی چونکا دینے والا نہیں کیونکہ ایسے واقعات کی ویڈیوز پہلے بھی کئی مرتبہ منظر عام پر آئی ہیں۔
جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے واقعے کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں میں سن 2015 کے ریاست میزوری کے شہر فرگوسن میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کی گونج ہے۔ اسی طرح سن 1992 میں روڈنی کنگ نامی سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد بھی پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے، جنہیں شہری حقوق کی تحریک قرار دیا گیا۔ گونزالیز کے بقول جارج فلوئیڈ کی ہلاکت نے امریکا کو ایسے وقت میں اپنی گرفت میں لیا ہے، جب مہلک کورونا وائرس سے ایک لاکھ سے زائد امریکی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس وبا نے شرح بیروزگاری میں زبردست اضافہ کیا ہے۔ بیروزگار ہونے والے امریکی شہریوں کی تعداد تین کروڑ سے زائد ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکا میں سیاسی تقسیم اور عدم مساوات نے قومی تشخص کو زد پہنچائی ہے۔ اس کے علاوہ طبقاتی خلیج بھی بڑھتی گئی ہے۔
وہ مزید لکھتی ہیں کہ ایسے حالات میں دانشور، ماہرین اور سماجی کارکنان یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کہیں امریکا کی منطقی ٹوٹ پھوٹ کا وقت تو نہیں آن پہنچا۔ کورونا کے باوجود ریاستی اور بنیادی معاشرتی ڈھانچے کی خرابیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ ان میں سب سے اہم منظم نسلی تعصب ہے۔ سماجی ماہرین کے مطابق یہ تعصب امریکا کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ فروری میں سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جارجیا میں ایک سیاہ فام شخص کو دو سفید فام گارڈز نے جوگنگ کے دوران گولی مار دی تھی۔ ایک اور ویڈیو میں نیویارک شہر میں ایک خاتون نے محض اس لیے پولیس کو بلا لیا کہ پارک میں ایک سیاہ فام شخص پارک رولز پر عمل نہیں کر رہا تھا۔
تعصب کا یہ عالم تھا کہ خاتون نے اس شخص پر اپنا کتا چھوڑ دیا تھا۔ بعد میں اس خاتون نے پولیس کے سامنے کہا کہ اسے اور اس کے کتے کو اس سیاہ فام شخص سے خطرہ محسوس ہو رہا تھا۔ گونزالیز کے بقول سماجی ماہرین کا خیال ہے کہ پولیس اور نظام انصاف بھی اس وقت منظم نسلی تعصب کے خطوط پر رواں دواں ہے۔ سن 2015 میں فرگوسن شہر کے فسادات کے دوران یہ نعرہ ‘بلیک لائیوز میٹر‘ یعنی سیاہ فام زندگیاں بھی اہم ہیں مشہور ہوا تھا۔ اس کے جواب میں ایک نیا نعرہ جلد ہی متعارف کر دیا گیا کہ ‘آل لائیوز میٹر‘ یعنی سبھی زندگیاں اہم ہیں۔ پولیس کے خلاف بڑھتی عدم برداشت نے ایک نئے نعرے کو جنم دیا اور وہ ‘بلُو لائیوز میٹر‘ یعنی نیلی زندگیاں بھی اہم ہیں۔ اس نعرے کا مقصد پولیس اہلکاروں کو ہیرو کے طور پر پیش کرنا تھا۔
جینیفر کامینو گونزالیز اپنے تبصرے میں لکھتی ہیں کہ اگر ان جوابی تحریکوں کے پیچھے قدامت پسند سفید فام حلقے سرگرم ہوں تو اس میں کسی کو تعجب نہیں ہوگا۔ رائے عامہ کے متعدد جائزوں میں ریپبلکن ووٹرز عام طور پر پولیس پر زیادہ اعتماد کا اظہار کرتے ہیں جبکہ ڈیموکریٹ ووٹرز، ہسپانوی امریکی اور افریقی امریکیوں کی نسبتاﹰ کم تعداد پولیس پر اعتماد کرتی ہے۔ گونزالیز کے بقول ایسے میں ایک عام شخص کی معمول کی زندگی کا پہیہ تقریباً رکتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ منقسم امریکی معاشرے میں مفاد پرست سیاسی لیڈر سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ اس صورت حال نے مجموعی ترقی کے سفر کو گہنا دیا ہے۔ معاشرتی ڈھانچے میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ سماجی ماہرین کے مطابق امریکی معاشرتی اور معاشی تقسیم کی وجہ سفید فام نسل کا مبینہ نسل پرست رویہ ہے۔ تبصرہ نگار کے مطابق اس مسئلے کا حل بھی سفید فام آبادی کے پاس ہے۔ امریکا میں منظم نسلی تعصب کے خاتمے اور ترقی کے لیے سفید فام آبادی کو عملی طور پر متحرک ہونا ہو گا۔
امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں اتوار کی رات کو وائٹ ہاؤس کے باہر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے شیل پھینکے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منی ایپلس میں پولیس کے ہاتھوں ایک سیاہ فام شخص جارج فلوئیڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف وائٹ ہاؤس کے باہر پر تشدد مظاہرین نعرے لگا رہے تھے۔ واضح رہے کہ امریکہ میں گذشتہ چھ دنوں سے جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے خلاف پر تشدد مظاہرے جاری ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی اور ملک کے دوسرے بڑے شہروں میں مظاہرین کو روکنے کے لیے حکام نے کرفیو لگایا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے باہر جمعے کی رات کو ہونے والے مظاہرے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو زیر زمیں بنکر میں لے جایا گیا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ مظاہرے کے دوران صدر ٹرمپ کو تھوڑی دیر کے لیے وائٹ ہاؤس میں زیر زمین بنکر میں لے جایا گیا۔ اخبار کے مطابق ٹرمپ تقریبا ایک گھنٹے تک بنکر میں گزارا۔ تاہم اخبار کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مظاہروں کے دوران امریکی صدر کی بیوی ملینا ٹرمپ کو بھی بنکر میں لے جایا گیا یا نہیں۔ ملک بھر میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم نے مزید شدت اس وقت اختیار کی جب ٹرمپ انتظامیہ نے مظاہرے کرنے والوں کو دہشتگرد قرار دیا۔ پرتشدد مظاہروں کے بعد حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے کئی شہروں میں نیشنل گارڈز طلب کیے گئے تھے۔ منیسوٹا کے بعد ریاست جارجیا کے گورنر نے بھی شہر میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے نیشنل گارڈز کو طلب کیا۔
ریاست منیسوٹا کے مرکزی شہر منی ایپلس اور گرد و نواح کے شہروں میں مزید 500 فوجی تعینات کیے گئے۔ پرتشدد مظاہروں کے بعد حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے کئی شہروں میں نیشنل گارڈز طلب کیے گئے تھے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے جارج فلوئیڈ کی موت پر افسوس کا اظہار کیا تھا اور احتجاج کے دوران ہنگامی آرائی اور لوٹ مارنے کرنے والوں کو سخت نتائج سے بھی خبردار کیا۔ حکام نے کہا تھا کہ ایک سابق پولیس افسر کو سیاہ فام جارج فلوئیڈ کی پولیس حراست میں ہلاکت کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کاؤنٹی پراسیکیوٹر مائیک فری مین کا کہنا ہے کہ گرفتار پولیس اہلکار ڈیریک چاؤن سے تفتیش جاری ہے۔ اے ایف پی کے مطابق کئی برس بعد امریکہ میں اس طرح کا احتجاج دیکھنے میں آیا ہے جو مینیسوٹا سے نیویارک اور لاس اینجلس تک پھیل گیا ہے۔
امریکا میں برطانیہ کے سفیر کم ڈیروچ کے خفیہ سفارتی خط منظر عام پر آئے ہیں جن میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نااہل شخص قرار دیا ہے۔ برطانیہ کے اخبار ’’ڈیلی میل‘‘ میں شائع ہونے والے ان خفیہ سفارتی مراسلوں میں برطانوی سفیر نے صدر ٹرمپ کو نااہل اور ناکارہ لیڈر قرار دیا ہے۔ سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان خفیہ مراسلوں کے منظر عام پر آنے سے امریکا اور اس کے قریب ترین اتحادی ملک برطانیہ کے دو طرفہ تعلقات میں سفارتی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اخبار کے مطابق برطانوی سفیر نے اپنے سفارتی مراسلوں میں برطانوی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا کیریئر ذلت اور رسوائی کے انداز میں ختم ہو سکتا ہے۔
مراسلوں میں وائٹ ہاؤس میں رونما ہونے والی صورت حال کو ’’چھریوں کی لڑائی‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اخبار کے مطابق یہ سفارتی مراسلے 2017 سے اب تک کے دوران برطانوی دفتر خارجہ کو بھیجے گئے جن میں صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی سے لیکر 2020 کے صدارتی انتخاب سے متعلق ان کے منصوبے کا احاطہ کیا گیا ہے۔ 22 جون کو لکھے گئے مراسلے کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار لکھتا ہے کہ برطانوی سفیر ڈیروچ نے صدر ٹرمپ کی طرف سے ایران پر ہوائی حملہ کرنے کے اعلان اور اس کے فوراً بعد اپنا ارادہ بدلنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنا ارادہ اس لیے بدلا کیونکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ اس بمباری کے نتیجے میں کم سے کم 150 ایرانی شہریوں کی جانیں ضائع ہو نے کا خدشہ ہے۔
ان خفیہ سفارتی مراسلوں کے لیک ہونے کے بارے میں امریکی حکومت یا وائٹ ہاؤس کی طرف سے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا ہے۔ یہ سفارتی مراسلے ایسے وقت میں لیک ہوئے جب برطانیہ کے سیاسی میدان میں خاصی ہلچل پائی جاتی ہے اور حکمران قدامت پسند جماعت تھیریسا مے کی جگہ نئے وزیر اعظم کا انتخاب کرنے میں مصروف ہے۔