1- سیٹنگز میں جا کے فنگر پرنٹس یعنی بائیومیٹرکس کی مدد سے وٹس ایپ محفوظ بنائیں
2- وٹس ایپ پر سکرین لاک لگائیں اور سٹرونگ پاسورڈ — یعنی 123456 کی بجائے کچھ اور پاسورڈ رکھیے
3- ڈیٹا کا کلاؤڈ بیک اپ ختم کر دیں، اگر بیک اپ چاہیے تو یقینی بنائیں کہ انکرپٹڈ طریقے سے ہی ڈیٹا بیک اپ ہو گا
4- پبلک وائے فائے کا استعمال مت کریں
5- روزانہ سیٹنگز میں جا کے لنکڈ ڈیوائسز دیکھیے، بہتر ہے کہ دیکھنے کے بجائے انہیں روزانہ اڑا دیں، نئے سرے سے لاگ ان کرنے میں زیادہ مشقت نہیں ہوتی
6- 2 فیکٹر اتھینٹیکیشن یقینی بنائیں — یعنی دو جگہ سے ویریفائی ہو گا کہ آپ ہی ہیں یا کوئی ہیک کر رہا ہے
7- اہم چیٹس کے لیے سیکیورٹی کوڈ کی سہولت وٹس ایپ میں موجود ہے، اسے استعمال کریں
8- کسی بھی قسم کے لنک پر کلک کرنے سے پہلے اطمینان کر لیں یہ کہاں سے آیا ہے اور کیا ہو سکتا ہے
9- وٹس ایپ ہمیشہ اپ ڈیٹ رکھیں
10- وٹس ایپ کی سیکیورٹی اپ ڈیٹس نظر انداز مت کریں
Category Archives: WhatsApp
کیا آپ جانتے ہیں واٹس ایپ برسوں سے آپ کا ڈیٹا فیس بک سے شیئر کر رہی ہے؟
جس وقت فیس بک نے 2014 میں واٹس ایپ کو خریدا تھا تو صارفین فکرمند تھے کہ دونوں پلیٹ فارمز کے درمیان کس حد تک ڈیٹا کا تبادلہ ہو گا۔ ان میں سے بیشتر افراد کی آنکھ اب دوبارہ 2021 کو اس وقت کھلی جب ایک نیا نوٹیفکیشن سامنے آیا، جس میں نئی پرائیویسی پالیسی کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ 8 فروری 2021 سے واٹس ایپ صارفین کا ڈیٹا فیس بک سے شیئر نہیں ہو گا بلکہ ایسا تو کئی برس یعنی 2016 سے ہو رہا ہے اور اب مزید کمپنی نے تو اس کے بارے میں صارفین کا شعور اجاگر کیا ہے۔ جیسا آپ کے علم میں ہو گا کہ واٹس ایپ نے جنوری کے آغاز سے صارفین کے اکاؤنٹس میں نئی پرائیویسی پایسی کو اپ ڈیٹ کرنے کا نوٹیفکیشن بھیجا تھا، جس کا بنیادی مقصد واٹس ایپ بزنسز صارفین کی جانب سے اپنی چیٹس کو اسٹور کرنے کے طریقوں کو توسیع دینا ہے۔
اس پوپ اپ نوٹیفکیشن میں صارفین کو بتایا گیا ہے کہ 8 فروری سے ایپ کی پرائیویسی پالیسی تبدیل ہو جائے گی اور صارفین کو ایپلیکشن کا استعمال جاری رکھنے کے لیے ان کو لازمی قبول کرنا ہو گا۔ اصل میں واٹس ایپ کی جانب سے بس اب وہ راستہ بند کیا جارہا ہے جو فیس بک سے مخصوص ڈیٹا شیئر کرنے سے روکتا ہے۔ کچھ میڈیا کمپنیاں اور الجھن کے شکار واٹس ایپ صارفین کو لگتا ہے کہ واٹس ایپ نے اب وہ حد عبور کر لی ہے جس میں ڈیٹا کو لازمی طور پر فیس بک سے شیئر کیا جائے گا۔ مگر درحقیقت کمپنی صرف پرائیویسی پالیسی کی عکاسی کر رہی ہے کہ واٹس ایپ کس طرح 2016 سے فیس بک کے ساتھ اپنے بیشتر صارفین کا ڈیٹا شیئر کر رہی ہے۔ اگست 2016 میں واٹس ایپ نے اپنی پرائیویسی پالیسی کو اپ ڈیٹ کیا تھا اور فیس بک کے ساتھ یوزر انفارمیشن کو شیئر کرنا شروع کیا تھا۔
اس وقت واٹس ایپ صارفین کی تعداد ایک ارب تھی اور انہیں 30 دن تک آپشن دیا گیا تھا کہ وہ کچھ حد تک اپنے ڈیٹا کو شیئر ہونے سے روک سکتے ہیں۔ ایک ماہ کے اندر اس آپشن کا انتخاب کرنے والوں کا ڈیٹا کسی حد تک فیس بک تک شئیر نہیں ہو سکا تھا، یہ فیچر اب ایپ سیٹنگز میں موجود نہیں، مگر آپ ریکوئسٹ اکاؤنٹ انفو سے اس کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ تاہم اس وقت سے صارفین کا ڈیٹا فیس بک سے شیئر کیا جارہا ہے۔ واٹس ایپ نے زور دیا ہے کہ نئی پالیسی میں تبدیلیوں سے فیس بک کے ساتھ ڈیٹا شیئر کرنے کے حوالے سے واٹس ایپ کے موجودہ پریکٹس یا رویوں پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ واٹس ایپ نے اپنی سائٹ میں لکھا ‘ہماری اپ ڈیٹ پرائیویسی پالیسی زیادہ تفصیلات فراہم کرتی ہے کہ ہم کس طرح ڈیٹا کو پراسیس کرتے ہیں اور پرائیویسی کے لیے ہمارے عزم کا اظہار کرتی ہے، فیس بک کا حصہ ہونے کی حیثیت سے واٹس ایپ فیس بک کے شراکت داروں کے ساتھ فیس بک فیملی آف ایپس اینڈ پراڈکٹس کے تجربات صارفین کو فراہم کرتے ہیں۔
نئی پرائیویسی پالیسی سے واٹس ایپ کی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوں گے، یعنی میسجز، فوٹوز اور دیگر مواد جو واٹس ایپ پر بھیجا جاتا ہے، وہ صرف آپ اور ان کو موصول کرنے والی ڈیوائسز میں دیکھا جاسکے گا۔ واٹس ایپ اور فیس بک ان چیٹس یا رابطوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ واٹس ایپ کے پاس صارف کے ڈیٹا کی کمی ہے، بلکہ بہت کچھ وہ آپ کے بارے میں جانتی ہے۔ کمپنی کے مطابق وہ صارفین کی تفصیلات صارفین کو زیادہ بہتر سروسز کی فراہمی کے لیے جمع کرتی ہے۔ واٹس ایپ کی جانب سے اب بھی فیس بک کے ساتھ اکاؤنٹس انفارمیشن جیسے فون نمبر، کتنے وقت تک ایپ کو استعمال کیا اور کتنی دفعہ استعمال کرتے ہیں، شیئر کی جارہی ہے۔
اسی طرح دیگر تفصیلات جیسے آئی پی ایڈریس، آپریٹنگ سسٹم، براؤزر تفصیلات، بیٹری ہیلتھ انفارمیشن، ایپ ورژن، موبائل نیٹ ورک، لینگوئج اور ٹائم زون بھی فیس بک سے شیئر ہوتی ہیں۔ جہاں تک ٹرانزیکشن اور پیمنٹ ڈیٹا، کوکیز اور لوکیشن انفارمیشن جمع کرنے کی اجازت کی بات ہے تو یہ معلومات واٹس ایپ کو صارف پہلے ہی دیتے ہیں جو فیس بک تک جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق میسج کے مواد کے حوالے سے واٹس ایپ صارفین کی پرائیویسی کا بہترین تحفظ کرتی ہے، مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس سے ہٹ کر کمپنی کی نظر میں پرائیویسی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ فیس بک نے 2014 میں واٹس ایپ کو خریدا تھا اور اس وقت کہا تھا کہ واٹس ایپ اور میسنجر خودمختار ایپس کے طور پر کام کریں گی۔
واٹس ایپ بتدریج فیس بک سروسز میں شامل کرنے کا عمل کمپنی کے اندر بھی متنازع رہا اور اسی کے نتیجے میں 2017 اور 2018 میں واٹس ایپ کے بانیوں برائن ایکٹن اور جون کوم نے کمپنی کو الوداع کہہ دیا۔ کچھ ماہ بعد برائن ایکٹن نے ایک اور میسجنگ ایپ ’سگنل“ کی بنیاد رکھنے والی ٹیم میں شمولیت اختیار کی۔ اس کمپنی نے سگنل کے اوپن سورس پروٹوکول کو بنانے کے بعد برقرار رکھا اور اس میں بھی واٹس ایپ کی طرح اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن دی گئی ہے۔ اب نئی پالیسی میسجنگ سروس کے رویوں میں تبدیلی نہیں لائے گی بلکہ یہ اس لیے اہمیت رکھتی ہے کیونکہ صارفین کو علم ہو سکے گا کہ کمپنی نے اتنے برسوں تک آپٹ آؤٹ آپشن فراہم کر رکھا تھا، جو اب نہیں رہے گا۔ اس وقت ڈیٹا شیئرنگ کے حوالے سے صارفین اب شدید ردعمل ظاہر کر رہے ہیں اور اس پر خوفزدہ ہیں جو اب بھی ان کے ساتھ ہو رہا ہے، بس ان کو علم نہیں۔
بشکریہ ڈان نیوز
واٹس ایپ پر اسرائیلی کمپنی کے اسپائی ویئر کے ذریعے حملہ
واٹس ایپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پیغام رسانی کی اس ایپلیکیشن میں سیکیورٹی مداخلت کی نشاندہی ہوئی ہے۔ جس میں ایک ملک کی حکومت نے نجی کمپنی کی تیار کردہ نگرانی کی ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکنہ طور پر انسانی حقوق کے رضاکاروں کو نشانہ بنایا۔ اس ضمن میں امریکی اخبار فنانشل ٹائمز نے سب سے پہلے واٹس ایپ کی کمزوری کے بارے میں رپورٹ کیا جس سے حملہ آور فون کال کے ذریعے اسپائی ویئر (جاسوسی کا سافٹ ویئر) داخل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ امریکی اخبار کا کہنا تھا کہ یہ اسپائی ویئر اسرائیل کی سائبر سرویلینس کمپنی (این ایس او) نے تیار کیا تھا جو موبائل فونز کی نگرانی کے آلات بنانے کے لیے مشہور ہے اور اس نے اینڈرائیڈ اور آئی فون دونوں کو ہی متاثر کیا۔
اس بارے میں این ایس او کا کہنا تھا کہ اس کی ٹیکنالوجی کے لائسنس میں حکومتی اداروں کو ’جرائم اور دہشت گردی کے خاتمے کے مقصد کے لیے‘ اختیار حاصل ہوتا ہے‘ اور کمپنی خود اس نظام کو آپریٹ نہیں کرتی۔ کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو ’ہم کسی بھی غلط استعمال کے معتبر الزامات کی تحقیقات کر کے کارروائی کریں گے جس میں ہم نظام کو بند بھی کر سکتے ہیں‘۔
واٹس ایپ جو فیس بک کمپنی کا ایک حصہ ہے، کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں آگاہ کیا گیا کہ کمپنی نے امریکی محکمہ انصاف سے تحقیقات میں مدد کرنے کے لیے درخواست کی ہے، اور تمام واٹس ایپ صارفین پر زور دیا ہے کہ ایپلیکیشن کا تازہ ورژن ڈاؤن لوڈ کریں تا کہ یہ سیکورٹی مداخلت کو دور کیا جا سکے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کی چھان بین کر رہی ہے لیکن اسے یقین ہے کہ ’جدید سائبر ٹیکنالوجی کے ذریے صرف کچھ صارفین کو نشانہ بنایا گیا‘۔ تاہم کمپنی اور ایک ریسرچ گروپ سیٹیزن لیب نے احتیاطی طور پر تمام صارفین کو اپنا واٹس ایپ اپڈیٹ کرنے کا مشورہ دیا ہے، دوسری جانب کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ اس سے کتنے صارفین متاثر ہوئے ہیں۔ واٹس ایپ ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ بہت منظم طریقے سے کیا گیا جس میں اس بات کے تمام اشارے موجود ہیں کہ ’یہ نگرانی ایک حکومت نے ایک نجی کمپنی کے ذریعے کی‘۔
انسانی حقوق کے رضاکار نشانے پر
واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ وہ اس قسم کی نگرانی کی ٹیکنالوجی کا ’غلط استعمال کرنے پر سخت تشویش کا شکار ہیں‘ اور انہیں یقین ہے کہ اس میں انسانی حقوق کے رضاکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس بارے میں اک سینئر لیکچرر اسکاٹی اسٹورے کا کہنا تھا کہ اس حرکت سے زیادہ تر واٹس ایپ صارفین متاثر نہیں ہوئے کیوں کہ یہ حکومتوں کی جانب سے مخصوص افراد جن میں زیادہ تر انسانی حقوق کے رضاکار شامل ہیں، کو نشانہ بنانے کی کوشش لگتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک عام صارف کے لیے پریشانی کی بات نہیں، واٹس ایپ نے اس کمزوری کا فوری پتا چلا کر اسے درست بھی کر دیا یہ کسی کی ذاتی معلومات یا نجی پیغامات حاصل کرنے کی کوشش نہیں تھی۔
وٹس ایپ کے استعمال کیلئے عمر کی حد مقرر کر دی گئی
یورپی یونین میں ڈیٹا کے تحفظ کے قوانین کا اطلاق اب واٹس ایپ پر بھی ہو گا۔ ان قوانین کے تحت سولہ برس سے کم عمر لڑکیاں لڑکے اپنے والدین کی اجازت کے بغیر یہ سروس استعمال نہیں کر سکیں گے۔ پیغام رسانی کی ایپ واٹس ایپ نے یورپی یونین میں ڈیٹا تحفظ کے قوانین کی وجہ سے اپنے صارفین کے لیے عمر کی حد تیرہ سے بڑھا کر سولہ برس کر دی ہے۔ یورپی یونین میں اب واٹس ایپ استعمال کرنے والے پرانے اور نئے صارفین سے اب یہ پوچھا جائے گا کہ آیا ان کی عمر سولہ برس سے زائد ہے۔ یورپی یونین میں مئی میں نافذ ہونے والے ان نئے قوانین کے تحت سولہ برس سے کم عمر نوجوانوں کا ڈیٹا جمع کرنے کے لیے ان کے والدین کی اجازت لینا ضروری ہے۔
واٹس ایپ سروس فیس بک خرید چکا ہے اور اب ایک نیا طریقہء کار متعارف کروایا جائے گا، جس کے تحت والدین سے یہ اجازت حاصل کی جائے گی۔ یورپی یونین سے باہر واٹس ایپ نے فی الحال اپنے صارفین کی عمر کی حد میں اضافہ نہیں کیا۔ یورپی یونین سے باہر تیرہ سالہ نوجوان اب بھی یہ سروس استعمال کر سکتے ہیں۔ تاہم اس نئے قانون کے تحت عمر کی حد کنٹرول کرنے نظام زیادہ سخت نہیں ہے، یعنی واٹس ایپ کی طرف سے کوئی شناختی دستاویز یا برتھ سرٹیفیکیٹ اپ لوڈ کرنے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔ کمپنی کے مطابق وہ مستقبل میں بھی کچھ ایسا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔
واٹس ایپ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق یورپی صارفین کے لیے آئرلینڈ میں ایک نیا ذیلی ادارہ قائم کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کی یورپی یونین کے صارفین کا ڈیٹا یورپی سرحدوں کے اندر ہی محفوظ رکھا جائے گا۔ لیکن واٹس ایپ کا زور دیتے ہوئے یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی سروس کے ذریعے بھیجے گئے پیغامات صرف ’اینڈ ٹو اینڈ‘ یعنی صرف ارسال کرنے والا اور موصول کرنے والا ہی پڑھ سکتے ہیں۔ یہ پیغامات خود واٹس ایپ سروس نہیں پڑھ سکتی۔ نئے قوانین کے تحت یہ کمپنی اب وہ ڈیٹا بھی نہیں پڑھ پائے گی، جس تک پہلے اس کمپنی کی رسائی تھی۔ اسی طرح واٹس ایپ اکاؤنٹس کی معلومات یا موبائل نمبر فیس بک کو مہیا نہیں کیے جائیں گے۔
بشکریہ DW اردو






