افغانستان میں انیس سال تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران ایک لاکھ افغانوں اور 35 سو اتحادی فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ امریکا کو مجموعی طور پر 2 ہزار ارب ڈالر کا مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ دوحہ میں امریکا اور طالبان کے مابین طے پانے والے معاہدے کے بعد دو دہائیوں جاری جنگ اپنے خاتمے کی جانب بڑھ رہی ہے تاہم ان برسوں میں امریکا کو بھاری مالی و جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ دوسری جانب دہائیوں سے جنگی تباہ کارروائیوں کے شکار افغانستان میں مزید تباہ حالی کا شکار ہوا۔ اس عرصے میں ایک لاکھ افغان شہریوں کا جانی نقصان ہوا جن میں خواتین اور بجے بھی شامل تھے۔ 2001 میں نو گیارہ کے واقعات کے بعد امریکا نے افغانستان میں اس واقعے کے ذمے داران کو کیفر کردار تک پہنچانے کا جواز بنا کر اپنے اتحادیوں کے ساتھ جنگ کا آغاز کیا۔ چند ماہ بعد ہی طالبان حکومت ختم ہو گئی اور اسامہ بن لادن سمیت القاعدہ کی دیگر قیادت پاک افغان سرحدی علاقوں میں روپوش ہو گئی۔ امریکا نے جنگ کو طول دیتے ہوئے افغانستان میں قیام کا فیصلہ کیا۔
امریکا کا ساتھ دینے والے بین الاقوامی اتحاد نے 2014 میں اپنی افواج کو واپس بلانا شروع کر دیا اوراپنی سرگرمیاں صرف افغان فوج کی تربیت تک محدود کر دیں۔ افغان طالبان 2001 میں پسپا ہونے کے بعد دوبارہ منظم ہونا شروع ہوئے اور رفتہ رفتہ ان کی کارروائیوں میں تیزی آںے لگی۔ 2019 کے صرف آخر چار ماہ میں افغان طالبان نے 8204 حملے کیے جو ایک دہائی میں اس دورانیے میں ہونے والی سب سے زیادہ کارروائیاں تھیں۔ کارروائیوں کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ ایک برس میں امریکی ایئر فورس نے 7423 بم اور میزائل داغے جو 2006 کے بعد سے سب سے زیادہ تعداد بنتی ہے۔ گزشتہ برس برطانوی خبر رساں ادارے نے کی یہ رپورٹ سامنے آئی کہ افغانستان کے 70 فی صد علاقوں میں طالبان اپنے قدم جما رہے ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں میں افغان سیکیورٹی فورس کے 50 ہزار سے زائد اہلکاروں کی ہلاکتیں ہوئیں اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ نیٹو افواج کے 3550 فوجی ہلاک ہوئے جن میں2400 امریکی تھے۔ 20 ہزار امریکی فوجی زخمی ہوئے۔
امریکا 1776 میں اپنے قیام کے 243 میں سے 225 سال حالت جنگ میں رہا ہے اس دوران محض 20 برس امن وسکون کے گزرے اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکا نے وجود میں آنے کے بعد 92 فیصد وقت جنگ و جدال میں گزارا۔ 2017 تک امریکا کی بیرون ممالک فوجی مداخلت کی تعداد 188 رہی۔ 1811 سے بیرون ممالک میں امریکا کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ فوجی مداخلت کے بارے میں حقائق یہ ہیں کہ امریکا نے چلی پر حملہ کیا جب اس لاطینی امریکی ملک کو اسپین سے آزادی حاصل کئے سال بھر ہی گزرا تھا۔ 2017ء تک بیرون ممالک کے انتخابی عمل میں امریکا 188 اور 1946ء سے 2000 تک 117 بار مداخلت کی۔ اس دوران امریکا اور روس دونوں نے ہی کی بیرونی ممالک انتخابی دھاندلی میں ملوث ہونے اور فوجی حکومتوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی طویل تاریخ ہے۔
امریکا نے 1948 سے 1991 کے درمیان 46 بار بیرون ممالک فوجی مداخلت کی 1992 سے 2017ء کے درمیان فوجی مداخلت میں چار گنا اضافہ ہو گیا۔ تعداد 188 تک پہنچ گئی۔ ایک امریکی ا خبار کے مطابق دسمبر 2016 تک سرد جنگ کے دوران 72 ممالک میں حکومتیں تبدیل کرانے کی کوشش کی۔ 1949 سے 2000 کے درمیانی عرصہ میں امریکا سے غیر ممالک میں 27 خفیہ فوجی آپریشن کئے 1954 میں امریکا ہی نے ایران میں وزیراعظم محمد مصدق کی جمہوری منتخب حکومت کا تختہ اُلٹا اوراس خبر کے جاری ہونے کو روکنے کی کوشش کی 1981ء میں اس وقت کے امریکی صدر رونالڈ ریگن نے نکارا گووا میں منتخب حکومت کا تختہ اُلٹنے کیلئے ’’خفیہ جنگوں‘‘ کے حوالے سے سی آئی اے کے لئے فنڈز کی منظوری دی۔