افغانستان کے بارے میں آسٹریلوی رپورٹ

یہ بات ہے دو ہزار بارہ کی۔ افغان صوبہ ارزگان میں تعینات آسٹریلیا کے خصوصی کمانڈو دستے کے ساتھ منسلک الیکٹرونک آپریٹر بریڈن چیپمین نے دیکھا کہ ان کے ایک ساتھی نے ایک نہتے افغان کو یونہی گولی مار کر ہلاک کر دیا حالانکہ اس افغان نے حکم ملنے پر ہاتھ بھی کھڑے کر دیے تھے۔ بقول چیپمین ’’یہ منظر دیکھ کر میں بھونچکا رہ گیا۔ میرے ایک ساتھی نے میرا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا پریشان مت ہو۔ کوئی پوچھے تو یہی بتانا کہ یہ افغان مشکوک اور خطرناک انداز میں ہماری طرف آ رہا تھا لہٰذا سیلف ڈیفنس میں فائر کر دیا گیا۔ پھر میں نے جب اپنے ساتھیوں کی کئی روز تک گفتگو سنی تو اندازہ ہوا کہ اس طرح افغانوں کو قتل کرنا کوئی بڑی بات نہیں یہ کام تو دو ہزار پانچ سے ہو رہا ہے ‘‘۔ اس وقت افغانستان میں جو چھبیس ہزار غیرملکی فوجی متعین ہیں ان میں آسٹریلوی فوجیوں کی تعداد لگ بھگ تین ہزار ہے۔ آسٹریلیا نے افغانستان میں بین الاقوامی فوجی اتحاد کی کارروائیوں میں دو ہزار دو سے ہی حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔

دو ہزار سولہ میں ایک عسکری ماہرِ عمرانیات سمانتھا کرومپوویٹس نے آسٹریلوی اسپیشل فورسز کے پیشہ ورانہ رکھ رکھاؤ پر ایک علمی تحقیق شروع کی تو پیاز کے چھلکوں کی طرح حقائق کھلتے چلے گئے۔ بالخصوص افغانستان میں متعین اسپیشل فورسز کے ارکان کا رویہ سمانتھا کے لیے نہایت پریشان کن تھا۔ جب سمانتھا کی تحقیق سامنے آئی تو ملک کی سول و فوجی قیادت نے اسے یکسر بے بنیاد اور جھوٹ قرار دے کر مسترد کرنے کے بجائے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ دو ہزار سولہ میں سپریم کورٹ کے ایک جج اور ایک ریٹائرڈ اعلیٰ فوجی اہلکار میجر جنرل پال پریرٹن پر مشتمل کمیٹی نے دو ہزار پانچ سے سولہ تک کے گیارہ برس کے دوران افغانستان میں تعینات ہونے والے آسٹریلوی فوجیوں کے پیشہ ورانہ طرزِ عمل کی چھان بین شروع کی۔ انکوائری کمیٹی نے چار سو تئیس گواہوں کو قلمبند کیا۔ بیس ہزار دستاویزات اور پچیس ہزار تصاویر کی چھان پھٹک کی اور اس کام میں چار برس صرف کرنے کے بعد گزشتہ ہفتے ایک جامع تحقیقی رپورٹ حکومت کے حوالے کر دی اور پھر حکومت نے اس کا خلاصہ عوام الناس کے ملاحظے کے لیے جاری کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق تئیس مختلف واقعات میں کم از کم انتالیس افغان باشندوں کی ہلاکت کی ذمے داری انیس ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجیوں پر عائد کی گئی اور ان کے خلاف فوری تادیبی و قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی۔ مرنے والوں میں افغان قیدی، کسان اور عام شہری شامل ہیں۔ زیادہ تر واقعات دو ہزار بارہ کے آس پاس ہوئے۔ یہ ہلاکتیں کسی جنگی کارروائی کے دوران یا کنفیوژن میں نہیں ہوئیں بلکہ جان بوجھ کر کی گئیں۔ یہ شواہد نہیں ملے کہ ان جانی بوجھی ہلاکتوں کے پیچھے افغانستان میں موجود اسپیشل فورسز کی اعلیٰ کمان کی رضامندی شامل تھی۔یہ واقعات پلاٹون کمانڈروں کی سطح پر ہوئے۔ ان ہلاکتوں کو بلڈنگ یعنی خون بہانے کے کھیل یا مشغلے کا نام دیا جاتا تھا۔ یعنی نئے سپاہیوں کو ترغیب دی جاتی تھی کہ اگر انھوں نے اب تک کوئی دشمن ہلاک نہیں کیا تو پھر کسی قیدی یا شہری کو مار کر ہلاکت کا پہلا تجربہ حاصل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

ہلاکت کو بطور جرم چھپانے کے لیے لاش کے ساتھ ہتھیار یا مواصلاتی آلات رکھ دیے جاتے تاکہ مرنے والے کو حملہ آور ثابت کیا جا سکے۔ رپورٹ میں یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ اسپیشل فورسز کے جس یونٹ کے ارکان کی اکثریت اس بہیمانہ طرزِ عمل کی مرتکب ہوئی ہے اس یونٹ کو توڑ کر اس کے ذمے دار طرزِ عمل کا مظاہرہ کرنے والے ارکان کو دیگر یونٹوں میں کھپا دیا جائے۔ رپورٹ ریلیز ہونے کے بعد آسٹریلوی مسلح افواج کے سربراہ جنرل اینگس کیمبل نے ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسپیشل یونٹ کے ارکان نے بنیادی پیشہ ورانہ ضوابط پامال کیے، جھوٹی کہانیاں گھڑی گئیں اور عام شہریوں اور زیرِ حراست افراد کو قتل کیا گیا۔ جو سیکیورٹی اہل کار بولنا چاہ رہے تھے انھیں زباں بندی پر مجبور کیا گیا، ڈرایا دھمکایا گیا۔

آسٹریلوی عوام اپنی فوج بالخصوص ایلیٹ اسپیشل فورسز سے قدرے بہتر طرزِ عمل کی توقع رکھتے تھے مگر جو طرزِ عمل سامنے آیا وہ نہایت تکلیف دہ اور باعثِ شرمندگی ہے۔ جنرل کیمبل نے اپنے خطاب میں آسٹریلوی مسلح افواج کی جانب سے افغان عوام سے غیرمشروط معافی بھی مانگی۔ جب کہ وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن نے رپورٹ کی اشاعت سے پہلے افغان صدر اشرف غنی سے فون پر بات چیت کی اور انتہائی شرمندگی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ آیندہ ایسے افسوس ناک واقعات کی روک تھام اور انصاف کے حصول کے لیے ان واقعات کا سامنے لایا جانا ضروری تھا۔ آسٹریلوی عوام اپنے اداروں سے بہتر رویے کی توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں۔ فوجی کمان کے احتساب اور پیشہ ورانہ شفافیت یقینی بنانے کے لیے رپورٹ کی سفارشات کے مطابق غیر جانبدار اعلیٰ شخصیات پر مشتمل ایک نگراں پینل بھی قائم کیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کے انڈیپینڈنٹ افغان کمیشن اور ہیومین رائٹس واچ نے اس رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ قصور واروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی اور متاثرین کے لیے مالی ازالہ بھی ہونا چاہیے۔ افغانستان میں متعین درجن بھر سے زائد ممالک کے فوجی دستوں کے طرزِ عمل کے بارے میں آسٹریلیا کی سرکاری چھان بین رپورٹ اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے۔ افغانستان میں تعینات امریکی ، برطانوی اور جرمن فوجیوں پر بھی وقتاً فوقتاً انسانی حقوق کی پامالی کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں مگر ان کی سرکاری چھان بین سے اغماز برتا گیا ہے۔ امریکا نے تو ایک قانون کے ذریعے اپنی بیرونِ ملک ( بالخصوص افغانستان اور عراق) متعین افواج کے پیشہ ورانہ طرزِ عمل کے بارے میں جنگی جرائم کی بین الاقوامی عدالت سمیت ہر ادارے کی ممکنہ چھان بین سے اپنے فوجیوں کو مبرا قرار دیا ہے۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

آسٹریلیا نے افغانستان میں اپنے فوجیوں کے جنگی جرائم کا اعتراف کر لیا

آسٹریلوی فوج کے ایک اعلی عہدیدار نے تسلیم کیا ہے کہ ملکی فوج افغانستان میں مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث رہی ہے۔ آسٹریلیا نے پہلی بار افغانستان میں تعینات اپنے فوجیوں پر جنگی جرائم جیسے الزامات کو تسلیم کیا ہے۔ آسٹریلیائی فوج کے اعلی عہدیدار جنرل آنگس کیمبیل نے اعتراف کیا کہ اس بات کے کافی پختہ ثبوت و شواہد ہیں کہ افغانستان میں تعینات ان کے فوجیوں نے کم سے کم 39 ایسے افغان شہریوں کو غیر قانونی طور پر ہلاک کیا، جن کا لڑائی سے کچھ بھی لینا دینا نہیں تھا۔ اس معاملے میں فوج اندرونی طور پر گزشتہ چار برسوں سے تفتیش کر رہی تھی، جس سے یہ بات سامنے آئی ہے۔ اسی تفتیشی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ”میں آسٹریلیا کی دفاعی فورسز کی طرف سے افغان عوام کے ساتھ ہونے والی کسی بھی غلطی کے لیے بلا شرط، خلوص کے ساتھ معافی مانگتا ہوں۔” آسٹریلیائی فوج کے انسپکٹر جنرل افغانستان میں آسٹریلیائی فوج پر جنگی جرائم سے متعلق الزامات کی تفتیش کر رہے تھے۔ آسٹریلوی فوجیوں کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات کا تعلق ان کی افغانستان میں سن دو ہزار پانچ سے سن دو ہزار سولہ کے دوران تعیناتی سے ہے۔ مسٹر کیمبل کے مطابق انکوائری میں پایا گیا ہے کہ کچھ فوجی ملٹری کے تعلق سے پیشہ ورانہ اقدار کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اگلا قدم ان فوجیوں کے خلاف عدالتی چارہ جوئی ہو گی جو جنگی جرائم میں مرتکب ہوئے ہیں۔

انکوائری میں کیا پایا گیا ہے؟
اس بات کے پختہ شواہد پائے گئے کہ آسٹریلوی فوج میں اسپیشل فورسز کے 25 فوجی قیدیوں، کسانوں اور ان جیسے دیگر نہتے عام شہریوں کی ہلاکتوں میں ملوث ہوئے۔ غیر قانونی طور عام شہریوں کو ہلاک کرنے کے ایسے 23 واقعات کے بھی پختہ شواہد موجود ہیں جس میں کم از کم 39 عام افغان شہری مارے گئے۔ ہلاکتوں کا یہ سلسلہ 2009 ء میں شروع ہوا لیکن زیادہ تر افراد کو 2012ء اور 2013ء کے درمیان ہلاک کیا گیا۔ ایسے بھی کئی واقعات کا انکشاف ہوا ہے کہ فوجیوں نے پہلی بار کسی کو ہلاک کرنے کا اپنا ہدف حاصل کرنے کے لیے قیدیوں کو ہی گولی مار دی اور پھر لڑائی میں ہلاک کرنے کے جعلی ثبوت کا انتظام کر لیا۔ انکوائری کے مطابق ہلاکتوں کے ان واقعات میں ایسا کوئی بھی ایک واقعہ ایسا نہیں تھا جو لڑائی کے دوران پیش آیا ہو، یا پھر حالات ایسے رہے ہوں جہاں ان فوجیوں کی نیت غیر واضح، متذبذب رہی ہو یا پھر ایسا غلطی سے ہو گیا ہو۔

جن فوجیوں سے بھی اس بارے میں پوچھ گچھ کی گئی وہ سب میدان جنگ کے اصول و ضوابط یا پھر لڑائی کے آداب و طوار سے اچھی طرح واقف تھے۔ حیرت تو یہ ہے کہ بعض فوجی جو ان حرکتوں میں ملوث رہے ہیں وہ اب بھی آسٹریلیائی فوج میں کام کر رہے ہیں۔ اس تفتیشی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ اس حوالے سے 19 افراد سے قتل جیسے مجرمانہ جرائم میں ملوث ہونے کے لیے مزید تفتیش ہونی چاہیے۔ کیمبل کا کہنا تھا، ”میں نے انسپکٹر جنرل کی تفتیشی رپورٹ کو تسلیم کر لیا ہے اور ان کی جانب سے کارروائی کے لیے جو 143 جامع سفارشات پیش کی گئی ہیں ان پر عمل کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔”

افغان فائلز سے فوجی تفتیش تک
آسٹریلوی ڈیفنس فورسز (اے ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار سال کے دوران اس قسم کے متعدد الزامات کی اندرونی طور پر تفتیش ہوتی رہی ہے۔ آسٹریلوی فوجی نے انکشاف کیا تھا کہ اس ضمن میں 55 واقعات میں تحقیقات کی گئیں، جن میں 336 گواہوں سے شواہد یا ثبوت جمع کیے گئے۔ نیو یارک کے ٹوئن ٹاورز پر حملے کے بعد جب امریکا نے 2002ء میں افغانستان پر حملہ کیا تو اتحادی کے طور پر آسٹریلیا نے بھی افغانستان میں اپنے فوجی تعینات کیے تھے۔ افغانستان میں کُل 39000 آسٹریلوی فوجیوں نے خدمات انجام دیں جن میں سے 41 مارے گئے تھے۔ جنگی جرائم سے متعلق آسٹریلوی فوج کی خفیہ دستاویزات ”افغان فائلز” کسی طرح لیک ہو گئی تھیں، جنہیں بعد میں آسٹریلیا کے سرکاری نشریاتی ادارے اے بی سی نے نشر کر دیا تھا۔ اسی سے اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ آسٹریلوی فوج نے افغانستان میں نہتے عام شہریوں اور بچوں کو ہلاک کیا۔

اس پر پہلے آسٹریلیا کی پولیس نے ان صحافیوں کے خلاف ہی مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی جنہوں نے یہ خفیہ دستاویزات حاصل کی تھیں اور پھر بعد میں یہ مقدمہ واپس لے لیا گیا۔ اس سے قبل آسٹریلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے اپنی افواج کا مجموعی طور پر دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن میں فوجی اہلکار مطلوبہ ”توقعات اور معیار پر پورے نہیں اترے”۔ اس موقع پر انہوں نے افغانستان میں اپنے فوجیوں کی طرف سے جنگی جرائم کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک اسپیشل پراسیکیوٹر نامزد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ آسٹریلیا میں ایسے فوجیوں پر مقدمہ چلا کر سزا دینے کی حکومت کی کوشش کی ایک وجہ بین الاقوامی جنگی جرائم سے بھی بچنا ہے۔ آسٹریلیا نے 2013 ء میں افغانستان میں تعینات اپنے بیشتر فوجیوں کو واپس بلا لیا تھا۔

 بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو

برطانیہ پر افغانستان اور عراق میں فوجیوں کے جنگی جرائم چھپانے کا الزام

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور سنڈے ٹائمز کی تحقیق میں برطانوی حکومت اور فوج پر برطانوی فوجیوں کی جانب سے افغانستان اور عراق میں شہریوں کے خلاف جنگی جرائم کے ٹھوس شواہد چھپانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق تحقیقق میں انکشاف کیا گیا کہ برطانوی حکومت کی جانب سے تنازعات میں موجود فوجیوں کے طرزِ عمل کی 2 انکوائریز کے لیکس میں فوجیوں کو بچوں کے قتل اور شہریوں کو ٹارچر کرنے کے جرائم میں ملوث پایا گیا۔ برطانوی حکومت اور فوج پر عائد کیے گئے الزامات میں ایلیٹ ایس اے ایس یونٹ کے اہلکار کی جانب سے قتل، بلیک واچ انفینٹری یونٹ کے ارکان کی جانب سے دوران حراست قیدیوں کی اموات، مارپیٹ، ٹارچر اور جنسی استحصال شامل ہیں۔

سنڈے ٹائمز اور بی بی سی کے پینوراما پروگرام کی جانب سے ایک سال کے دورانیے پر مشتمل تحیقات میں مبینہ جنگی شواہد بے نقاب کرنے والے فوجی جاسوسوں نے کہا کہ سینئر کمانڈرز نے اسے سیاسی وجوہات کی بنا پر چھپایا۔ ایک تفتیش کار نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘برطانوی وزارت دفاع کا اس وقت تک کسی بھی رینک کے کوئی سپاہی کے خلاف کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں تھا، جب تک یہ انتہائی ضروری نہ ہو اور وہ اس جھنجھٹ سے باہر نکلنے کا راستہ نہیں نکال سکتے تھے’۔ تاہم برطانوی وزارت دفاع نے الزامات کو جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ پراسیکیوٹرز اور تفتیش کاروں کے فیصلے آزاد تھے اور ان میں قانونی مشورہ شامل تھا۔

واضح رہے کہ یہ نئے الزامات جنگی جرائم کی 2 انکوائریز عراق ہسٹورک ایلیگیشن ٹیم (آئی ایچ اے ٹی) اور آپریشن نارتھ مور سے سامنے آئے جو 2017 میں کسی پروسیکیوشن کے بغیر ختم ہو گئی تھیں۔ برطانوی حکومت نے تحقیقات بند کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب ایک وکیل فل شائنر جنہوں نے سیکڑوں الزامات ریکارڈ کیے تھے، انہیں وکالت سے روک دیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے عراق میں لوگوں کو رقم دے کر کلائنٹس ڈھونڈے تھے۔ اس وقت ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس وقت تحقیقات ختم کرنے کے فیصلے پر تنقید کی تھی اور سابق آئی ایچ اے ٹی اور آپریشن نارتھ مور کے کچھ تفتیش کاروں نے اب الزام عائد کیا ہے فل شائنر کے اقدامات کو انکوائریاں بند کرنے کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کیا گیا تھا کیونکہ اعلیٰ سطح پر غلطیوں کا انکشاف ہوا تھا۔

سنڈے ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ فوجی جاسوس نے جعلی دستاویزات کے الزامات سامنے لائے جو سینئر افسران کے خلاف پروسیکیوشن کے لیے کافی تھے۔ اس میں رپورٹ کیا گیا کہ ایس اے ایس سینئر ترین کمانڈرز کو انکوائریاں ختم ہونے سے قبل انصاف کے راستے میں حائل ہونے کی کوششوں پر پراسیکیوشن کے لیے ریفر کیا گیا تھا۔ سنڈے ٹائمز نے کہا کہ اگر برطانیہ اپنی فوج کا احتساب کرنے میں ناکام ہوتا دکھائی دیتا تو انکشافات انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں جنگی جرائم کی تحقیقات میں بدل سکتے تھے۔ برطانوی سیکریٹری خارجہ ڈومینک راب نے بی بی سی کو بتایا کہ قانونی چارہ کی کمی کے باوجود جھوٹے دعووں کی پیروی کو یقینی نہ بنانے میں توازن پیدا کیا گیا تھا۔

بشکریہ ڈان نیوز

افغانستان میں ممکنہ جنگی جرائم پر تفتیش کی درخواست مسترد

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے مطابق افغانستان میں جنگی جرائم پر تفتیش کی درخواست پر غور کرنے کے لیے ’مناسب بنیاد‘ ہونے کے باوجود استغاثہ کے پاس یہ مقدمہ جیتنےکا موقع کم ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں واقع بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ججوں نے افغانستان میں ممکنہ جنگی جرائم کے حوالے سے تحقیقات کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ججوں کی جانب سے دیے گئے فیصلے کے مطابق فی الوقت افغانستان کی صورتحال پر تحقیقات مددگار ثابت نہیں ہوں گی۔

سن 2017 میں چیف پراسیکیوٹر فاتو بنسودا نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ججوں سے افغانستان میں طالبان، حقانی نیٹ ورک، افغان فورسز اور امریکی فوج کے ساتھ ساتھ سی آئی اے کی جانب سے کیے گئے ممکنہ جنگی جرائم کے خلاف رسمی تفتیش کا آغاز کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس درخواست میں طالبان پر سن 2007 سے سن 2015 کے دوران اسکولوں، ہسپتالوں اور مساجد پر متعدد حملوں میں تقریباﹰ 17.000 شہریوں کو قتل کرنے، امریکا کے خلاف طالبان اور القاعدہ کے قیدیوں پر افغانستان اور سی آئی اے کی خفیہ تحویل کے دوران تشدد کرنے اور افغان فورسز کی جانب سے بھی قیدیوں پر تشدد کا الزام عائد کیا تھا۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ججوں کے مطابق ایسے شواہد موجود تھے، جن کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان میں ہونے والے جرائم بین الاقوامی فوجداری عدالت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور یہ ممکنہ مقدمات عدالت میں پیش کیے جا سکتے ہیں۔

آئی سی سی پر امریکا کا دباؤ
قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو آئی سی سی کے عملے کو ویزہ پابندیوں کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔ واضح رہے بنسودا کا امریکی ویزا پہلے سے ہی منسوخ کر دیا گیا ہے۔ امریکا نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے روم معاہدے کی توثیق نہیں کی ہے لہٰذا اس عدالتی کارروائی کے نتیجے میں کسی بھی امریکی فوجی یا سی آئی اے کے اہلکار کی گرفتاری پر عمل درآمد ممکن نہیں ہو سکتا۔ یہ امر اہم ہے کہ افغانستان آئی سی سی کا ممبر ہے۔ لہٰذا امریکی شہریوں کی جنگی جرائم میں ملوث ہونے کی صورت میں بین الاقوامی گرفتاری کے احکامات جاری کیے جا سکتے ہیں۔

مکمل تفتیش کے لیے عدم وسائل
ججوں نے استغاثہ کی درخواست کو ممکنہ جنگی جرائم کے بارے میں عدم شواہد کی بنیاد پر بھی مسترد کیا ہے۔ ججوں کے مطابق عدالت کے پاس محدود وسائل ہیں اور افغانستان کی موجودہ صورتحال میں استغاثہ کی جانب سے تفتیش مکمل کرنے کے کم امکانات ہیں۔

متاثرین کو نظر انداز کیا جارہا ہے
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس فیصلے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت کی سا کھ کمزور ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جنوبی ایشیا کے ڈائریکٹر بیرج پٹنائک کے بقول، ’’فیصلے میں حیران کن طور پر متاثرین کو نظر انداز کیا گیا ہے اور یہ عدالتی ساکھ کو متاثر کرے گا۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو