پس ثابت ہوا امریکا یاروں کا یار ہے

سامانِ مرگ و حرب ساختہِ امریکا ہے۔ اسرائیل تو بس غزہ اور غربِ اردن اذیت ساز لیبارٹری میں چابک دست نسل کشی اور صنعتی پیمانے پر املاکی بربادی کے لیے تیار اس سامان کا آزمائشی آپریٹر ہے۔ اسرائیل کے ایک مقبول ٹی وی چینل بارہ کے مطابق سات اکتوبر تا تئیس دسمبر امریکا سے آنے والی دو سو سترہ کارگو پروازوں اور بیس مال بردار بحری جہازوں کے ذریعے دس ہزار ٹن جنگی ساز و سامان اسرائیل میں اتارا جا چکا ہے۔ اس وزن میں وہ اسلحہ اور ایمونیشن شامل نہیں ہے جو امریکا نے اسرائیل میں اپنے استعمال کے لیے زخیرہ کر رکھا ہے اور اس گودام کی ایک چابی اسرائیل کے پاس ہے تاکہ نسل کشی کی مشین سست نہ پڑنے پائے۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کو ہنگامی سپلائی کے لیے لگ بھگ تین ارب ڈالر کے آرڈرز بھی جاری کیے ہیں۔ اسرائیل نے امریکا سے ہلاکت خیز اپاچی ہیلی کاپٹرز کی تازہ کھیپ کی بھی فرمائش کی ہے۔ یہ ہیلی کاپٹرز اسرائیل غزہ کو مٹانے کے لیے فضائی بلڈوزرز کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ خود اسرائیل کا شمار دنیا کے دس بڑے اسلحہ ساز ممالک میں ہوتا ہے۔ تاہم اس نے فی الحال تمام بین الاقوامی آرڈرز موخر کر دیے ہیں اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے خانہ ساز اسلحہ صنعت کی پروڈکشن لائن چوبیس گھنٹے متحرک ہے۔

جب چھ ہفتے میں لاہور شہر کے رقبے کے برابر تین ہیروشیما بموں کے مساوی طاقت کا بارود برسا دیا جائے تو سپلائی اور پروڈکشن لائن کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ امریکا اس بات کو ہمیشہ کی طرح یقینی بنا رہا ہے کہ اسرائیل کا دستِ مرگ کہیں تنگ نہ پڑ جائے۔ اب تک جو ہنگامی رسد پہنچائی گئی ہے اس میں اسمارٹ بموں کے علاوہ طبی سازو سامان ، توپ کے گولے ، فوجیوں کے لیے حفاظتی آلات ، بکتر بند گاڑیاں اور فوجی ٹرک قابلِ ذکر ہیں۔ اس فہرست سے اندازہ ہوتا ہے کہ دانتوں تک مسلح اسرائیلی بری، بحری اور فضائی افواج کے لیے تیسرے مہینے میں بھی غزہ لوہے کا چنا ثابت ہو رہا ہے۔ ابتدا میں اسرائیل کا اندازہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ تین ہفتے میں غزہ کی مزاحمت ٹھنڈی پڑ جائے گی مگر اب اسرائیلی فوجی ہائی کمان کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے مطلوبہ نتائج فروری سے پہلے ظاہر نہیں ہوں گے۔ البتہ بری فوج کے سابق سربراہ جنرل ڈان ہالوٹز نے ایک چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا جتنا بھی فوجی تجربہ ہے اس کی بنیاد پر وہ کہہ سکتے ہیں کہ اسرائیل یہ جنگ ہار گیا ہے۔

بقول جنرل ہالوٹز جنگ جتنا طول پکڑے گی اتنے ہی ہم دلدل میں دھنستے چلے جائیں گے۔ اب تک ہمیں بارہ سو اسرائیلیوں کی ہلاکت، جنوبی اور شمالی اسرائیل میں دو لاکھ پناہ گزین اور حماس کی قید میں ڈھائی سو کے لگ بھگ یرغمالی سویلینز اور فوجی تو نظر آ رہے ہیں مگر کامیابی کہیں نظر نہیں آرہی۔ واحد فتح یہی ہو گی کہ کسی طرح بنجمن نیتن یاہو سے جان چھوٹ جائے۔ جہاں تک امریکا کا معاملہ ہے تو جو بائیڈن اسرائیل نواز امریکی کانگریس سے بھی زیادہ اسرائیل کے دیوانے ہیں۔ اس وقت بائیڈن کی اسرائیل پالیسی یہ ہے کہ ’’ تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیار ہے۔‘‘ چنانچہ دو ہفتے پہلے ہی بائیڈن نے کانگریس کے ذریعے اسرائیل کے لیے ہنگامی امداد منظور کروانے کی تاخیری کھکیڑ اور فالتو کے سوال جواب سے بچنے کے لیے ہنگامی قوانین کی آڑ میں کانگریس سے بالا بالا چودہ ارب ڈالر کے فنڈز کی منظوری دے دی جو اسرائیل کی فوجی و اقتصادی ضروریات کو مختصر عرصے کے لیے پورا کرنے کے قابل ہو گا۔ اسرائیل کو جب بھی ضرورت پڑی امریکی انتظامیہ اس کے لیے سرخ قالین کی طرح بچھتی چلی گئی۔ 

مثلاً چھ اکتوبر انیس سو تہتر کو جب مصر اور شام نے اپنے مقبوضہ علاقے چھڑانے کے لیے اسرائیل کو بے خبری میں جا لیا تو وزیرِ اعظم گولڈا مائر نے پہلا فون رچرڈ نکسن کو کیا کہ اگر ہمیں بروقت سپلائی نہیں ملی تو اپنی بقا کے لیے مجبوراً جوہری ہتھیار استعمال کرنے پڑ سکتے ہیں۔ نکسن اشارہ سمجھ گیا اور اس نے جنگ شروع ہونے کے چھ دن بعد بارہ اکتوبر کو پینٹاگون کو حکم دیا کہ اسرائیل کے لیے اسلحہ گودام کھول دیے جائیں۔ محکمہ دفاع کو اس ضمن میں جو فائدہ خسارہ ہو گا اس سے بعد میں نپٹ لیں گے۔ اسرائیل نے اپنی قومی ایئرلائن ال آل کے تمام کارگو طیارے امریکا سے فوجی امداد ڈھونے کے لیے وقف کر دیے۔ مگر یہ اقدام ناکافی تھا۔ سوویت یونین نے مصر اور شام کی ہنگامی فوجی امداد کے لیے دس اکتوبر کو ہی دیوہیکل مال بردار انتونوف طیاروں کا بیڑہ وقف کر دیا تھا۔ چنانچہ امریکی فضائیہ کا مال بردار بیڑہ جس میں سی ون فورٹی ون اور سی فائیو گلیکسی طیارے شامل تھے۔ ضرورت کا ہر سامان ڈھونے پر لگا دیے۔ یہ آپریشن تاریخ میں ’’ نکل گراس ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے امریکا اور اسرائیل کے درمیان ساڑھے چھ ہزار ناٹیکل میل کا ایئرکوریڈور بنا دیا گیا۔

پہلا سی فائیو گلیکسی مال بردار طیارہ چودہ اکتوبر کو ایک لاکھ کلو گرام کارگو لے کر تل ابیب کے لوڈ ایئرپورٹ پر اترا اور آخری طیارے نے چودہ نومبر کو لینڈ کیا۔ پانچ سو سڑسٹھ پروازوں کے ذریعے تئیس ہزار ٹن جنگی سازو سامان پہنچایا گیا۔جب کہ تیس اکتوبر سے امریکی کارگو بحری جہاز بھی بھاری سامان لے کر حیفہ کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے لگے۔ اس کے برعکس سوویت یونین ایک ماہ کے دوران نو سو پینتیس مال بردار پروازوں کے ذریعے پندرہ ہزار ٹن ساز و سامان مصر اور شام پہنچا سکا۔ حالانکہ روس سے ان ممالک کا فضائی فاصلہ محض سترہ سو ناٹیکل میل تھا۔ امریکا نے تہتر ٹن سامان اٹھانے والے سی فائیو گلیکسی کے ذریعے اسرائیل کو ایک سو پچھتر ملی میٹر تک کی توپیں ، ایم سکسٹی اور ایم فورٹی ایٹ ساختہ بھاری ٹینک ، اسکوراسکی ہیلی کاپٹرز ، اسکائی ہاک لڑاکا طیاروں کے تیار ڈھانچے اور بارودی کمک پہنچائی۔ یہ طیارے صرف پرتگال میں ری فیولنگ کے لیے رکتے تھے۔ اور اسپین ، یونان ، جرمنی اور ترکی نے انھیں اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ اگر یہ کاریڈور نہ ہوتا تو اسرائیل کو مقبوضہ علاقوں کے ساتھ ساتھ اپنی بقا کے لالے پڑجاتے۔ پس ثابت ہوا کہ امریکا یاروں کا یار ہے۔ وہ الگ بات کہ امریکا کو اسرائیل اپنی بین الاقوامی عزت سے بھی زیادہ پیارا ہے۔

وسعت اللہ خان 

بشکریہ ایکسپریس نیوز

یورپ کے قلب سربرینیکا میں ہونے والا قتل عام جس نے دنیا کو ہلا دیا تھا

بوسنیائی سرب کمانڈر راتکو ملادچ جنہیں سربرینیکا میں نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، کی اپیل پر فیصلہ سنایا جائے گا۔  فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سرب کمانڈر جنہیں ’بوسنیا کے قصائی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، کو اقوام متحدہ کے جنگی جرائم کے ٹریبونل نے 2017 میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ راتکو ملادچ کی اپیل پر ججز کا فیصلہ اس کیس کا حتمی فیصلہ ہو گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ 78 سالہ ملادچ اپنی اپیل پر فیصلہ سننے کے لیے عدالت میں موجود ہوں گے جہاں پچھلی بار وہ مغرب کے خلاف غصے میں پھٹ پڑے تھے۔

المناک سانحہ کیسے رونما ہوا؟
گیارہ جولائی 1995 کو بوسنیا کے علاقے سربرینیکا میں آٹھ ہزار مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا جسے دوسری عالمی جنگ کے بعد نسل کشی کا بدترین واقعہ سمجھا جاتا ہے۔

سنہ 1992 میں پہلا محاصرہ:
اپریل 1992 میں بوسنیائی جنگ کے آغاز پر دارالحکومت سرائیوو کا محاصرہ شروع ہونے کے بعد مشرقی بوسنیا کے مسلم اکثریتی قصبے سربرینیکا پر سرب فوجی دستوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ مشرقی درینا کی وادی میں دیگر قصبوں پر بھی قبضہ کر لیا گیا۔ بوسنیائی مسلمانوں نے محصور علاقے کو دوبارہ حاصل کر لیا تھا تاہم سال کے اواخر میں سربوں نے دوبارہ اس پر قبضہ جما لیا۔

اقوام متحدہ نے ’محفوظ علاقہ‘ قرار دیا
مارچ اور اپریل 1993 کے وسط میں کچھ آٹھ ہزار افراد شورش زدہ محصور علاقے سے نکل آئے جبکہ درجنوں بوسنیائی سرب فوج کی جانب سے کیے گئے بم دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے۔ 16 اپریل کو جب قصبے میں بھاری ٹینک اور توپ خانے سے جنگی صورتحال پیدا ہوئی تو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے سربرینیکا کو یو این اور نیٹو فورسز کی زیرحفاظت ’محفوظ علاقہ‘ قرار دے دیا یعنی ایسا علاقہ جو کسی بھی حملے یا کارروائی سے محفوظ ہو۔  سرائیوو میں اگلے ہی دن جنگ بندی اور علاقے کو فوجی دستوں سے خالی کرانے کا معاہدہ طے پایا لیکن اس کی کبھی پاسداری نہیں کی گئی۔

امن دستے کی روانگی
یکم مارچ 1994 میں اقوام متحدہ نے امن دستے کو محصور علاقے میں بھیجا تاکہ صورتحال کو قابو کیا جا سکے۔

سنہ 1995 میں کشیدگی کا آغاز
جولائی 1995 کے اوائل میں بوسنیائی سرب فوج کے ٹینک قصبے سے صرف دو کلو میٹر کے فاصلے پر تھے جب مسلمانوں پر حملے کی شروعات کی گئی۔ 11 جولائی کو نیٹو نے دو سرب ٹینکوں پر فضائی حملے کیے۔ اسی دن بوسنیائی سرب فوج کی قیادت کرنے والے ملادچ نے سربرینیکا پر قبضہ کر لیا جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں مہاجروں نے ڈچ فوج کے کیمپ میں پناہ لے لی۔

مسلمانوں کا قتل عام
سربرینیکا پر قبضے کے بعد مالدچ نے خواتین اور بچوں سمیت تمام شہریوں کی بے دخلی کے احکامات جاری کر دیے جبکہ لڑنے کے قابل مردوں کو قید کر لیا۔ سرب فوج نے آٹھ ہزار سے زائد مسلم مردوں اور لڑکوں کا منظم انداز میں قتل کر دیا اور ان کی لاشیں اجتماعی قبروں میں پھینک دیں۔ سربوں نے بعد میں شواہد چھپانے کی غرض سے کئی قبریں کھود کر ان لاشوں کو دوبارہ دفنایا۔ اس واقعے کے عینی شاہدین نے بوسنیائی سرب فوج کی قتل و غارت، ریپ اور اذیت کی ہولناک کہانیاں سنائیں۔ 24 جولائی اور 16 نومبر کو بوسنیائی سرب رہنما رادووان کراجچ اور ملادچ کو انٹرنیشنل کریمینل ٹربیونل نے نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا تھا۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو