چودہ گھنٹے کے مسلسل سفر کے بعد میں اپنے دوست کے ساتھ لاس اینجلس کے ہوائی اڈے پر پاسپورٹ پر مہر لگوانے کے لیے قطار میں کھڑا تھا۔ میرے پیچھے موجود ایک مسافر نے طویل انتظار اور سست رفتاری کی وجہ سے احتجاج کرنا شروع کر دیا۔ اس کی شکل اور اس کے لہجے سے لگتا تھا کہ وہ فرانسیسی ہے۔ جب مزید آدھا گھنٹہ گزر گیا اور قطار اسی سست رفتاری کا شکار رہی تو اس نے ہمارے پاس سے گزرنے والے ایک افسر سے دوبارہ بڑی شائستگی سے احتجاج کیا تو اس افسر نے نہایت درشت لہجے اور بلند آواز سے اسے دھمکایا، ’اگر تم خاموش نہ ہوئے تو جہاں سے آئے ہو، وہیں واپس بھیج دوں گا۔‘ احتجاج کرنے والا سیاہ فام نہیں تھا اور افسر گورا نہیں تھا۔ کچھ برس پہلے میرے پاس امریکہ کے وزیر خارجہ کے معاون آدم اوریلے آئے، میں نے ان سے امریکی ہوائی اڈوں پر مسافروں کے ساتھ بدسلوکی کی شکایت کی تو ان کا جواب تھا، ’وہ تو میرے ساتھ بھی اسی طرح پیش آتے ہیں۔
میں امریکہ کو 40 برس سے جانتا ہوں۔ میری وہاں دوستیاں اور پڑھائی کی حسین یادیں ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا برس گزرا ہو کہ میں وہاں گھومنے پھرنے یا کسی علمی اور سیاسی کانفرنس میں شرکت کے لیے نہ گیا ہوں۔ ان برسوں کے دوران ہر بار وہ امریکہ مجھ سے دور سے دور تر ہوتا جاتا ہے جس امریکہ کو میں جانتا تھا۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں سیاسی منظرنامہ دوگروہوں میں بٹا ہوا ہے، جس کا عکس ہمیں میڈیا، مکالموں، سیاسی مباحثوں اور حتی کہ سماجی تعلقات تک میں دکھائی دیتا ہے۔ ’ہم سیاست پر بات نہیں کرنا چاہتے، اس لیے کہ ہم کوئی بدمزگی نہیں چاہتے۔‘ یہ وہ جملہ ہے جو اکثر امریکیوں کی زبان پر رہتا ہے۔ اس سے اس مسئلے کی گہرائی کا بھی اندازہ ہوتا ہے جو کچھ دن پہلے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ پر چھاپے کے بعد مزید شدت اختیار کر گیا۔ ایف بی آئی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے گھر پر چھاپہ اس لیے مارا تھا کہ وہ ان سرکاری دستاویزات کو حاصل کر سکیں جو 2020 میں ٹرمپ وائٹ ہاؤس کو چھوڑتے ہوئے ساتھ لے آئے تھے۔
ٹرمپ کے حامیوں کا خیال ہے کہ یہ ٹرمپ کو دوسری بار صدارتی انتخاب سے دور رکھنے کی سازش ہے۔ ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ چھاپہ قانون کے مطابق تھا اور کوئی بھی قانون سے ماورا نہیں ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ پر الزام اور ان کا عدالتی ٹرائل ایک خونریز تصادم کا پیش خیمہ ہے، اور وہ اس کی دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ شدت پسند دائیں بازو نے ایف بی آئی کو دھمکیاں دی ہیں اور لوگوں کو ان کے قتل پر ابھارا ہے۔ جس قدر بھی کوشش کر لی جائے یہ دونوں گروہ اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ ایک گروہ روایتی دائیں بازو اور سرمایہ داریت کا حامی ہے، جب کہ بایاں بازو لبرل اور اشتراکیت کے قریب ہے۔ ان دونوں کے مابین بیسیوں مسائل پر اختلاف ہے۔ ایک تجزیہ کار کے طور پر مجھے تو ان دونوں گروہوں میں کوئی ایسی مشترک بات نظر نہیں آتی جس پر یہ دونوں مل بیٹھیں۔ دونوں گروہوں کے مابین سرخ لکیریں ہیں۔ ایسا کبھی کبھار ہوتا ہے کہ دیگر ممالک کے بارے میں امریکی خارجہ پالیسی ان گروہوں کے درمیان اختلافات کا باعث بنی۔
ماضی کی نسبت گروہی اختلافات اس وقت اپنے پورے عروج پر ہیں اور پولیس کا تشدد سمارٹ فون کے کیمروں کے ذریعے سے کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ اسی ہفتے امریکی ریاست آرکنسا سے ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں دکھائی دیتا ہے کہ تین پولیس والے ایک آدمی کو نہایت سخت دلی کے ساتھ لاتیں اور گھونسے مار رہے ہیں جو زمین پر بلا حس و حرکت لیٹا ہوا ہے۔ پولیس والے اور ملزم سب گورے ہیں۔ اس ملزم کے ساتھ بدسلوکی اور اس کے انسانی حقوق سلب کیے جانے پر اس طرح احتجاج نہیں ہوا جیسے کہ ریاست فلوریڈا کی ایک ویڈیو وائرل ہونے پر ہوا۔ اس ویڈیو میں دکھائی دیتا ہے کہ ایک پولیس والا ایک کالی عورت پر چیخ اور چلا رہا ہے، اس عورت کے ساتھ اس کے تین بچے بھی ہیں، وہ اس کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر پیچھے سے ہتھکڑی لگا رہا ہے۔ لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کے واقعات ہر آتے دن کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں اور نوجوانوں کی اکثریت میں نئی قسم کے فرہود (1941 میں بغداد میں یہودیوں کے قتل عام اور لوٹ مار کا واقعہ) کا فیشن بڑھ رہا ہے، جس کے زیر اثر وہ دن دیہاڑے سٹوروں میں لوٹ مار کر رہے ہیں۔ امریکی جیلوں میں اس وقت لگ بھگ 20 لاکھ کے قیدی ہیں جو پوری دنیا کہ قیدیوں کا پانچواں حصہ ہیں۔
چین جیسے کمیونسٹ ملک میں 15 لاکھ کے قریب قیدی ہیں جبکہ صورت حال یہ ہے کہ چین کی آبادی امریکی سے چار گنا زیادہ ہے۔ امریکی قیدیوں میں سے 40 فی صد کالے ہیں جبکہ امریکہ میں ان کی کل آبادی 14 فی صد سے زیادہ نہیں ہے۔ میں اب تک اس امریکہ کو اپنے دل کے قریب محسوس کرتا ہوں جسے میں نے اعلیٰ تعلیم کے دوران دیکھا تھا۔ میری نسل امریکہ کے اس عظیم کردار کو کبھی نہیں بھول سکتی جو اس نے 1990 میں عراق کے کویت پر غاصبانہ قبضے کے دوران ادا کیا۔ میرا خیال ہے کہ امریکہ اپنی فطرت، آب وہوا اور جغرافیے کے اعتبار سے دنیا کا خوب صورت ترین ملک ہے۔ اس ملک میں گاڑی کے دوران سیاحت سے مجھے جو لطف وانبساط حاصل ہوا، ایسا لطف زندگی میں کبھی نہیں آیا۔ لیکن میرا خیال جس امریکہ سے میں اپنی بھری جوانی میں آشنا ہوا تھا، وہ اس وقت کہیں موجود نہیں ہے اور اسے میں مدتوں پہلے چھوڑ آیا تھا۔ پھر میں اپنے آپ سے کہتا ہوں، شاید امریکہ نہیں بدلا، امریکہ تو وہی امریکہ ہے، شاید میں ہی بوڑھا ہو گیا ہوں اور میرا چیزوں کو دیکھنے کا زاویہ بدل گیا ہے۔
دنیا کی طاقتور ترین مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر نے جلد ہی عہدہ صدارت سے سبکدوش ہونے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔ ماضی میں ٹوئٹر انتظامیہ ڈونلڈ ٹرمپ کی نفرت انگیز اور تشدد پر اکسانے والی ٹوئٹس کو ہذف یا ڈیلیٹ کرتا آیا تھا، تاہم اب ان کے اکاؤنٹ کو مستقل بنیادوں پر بند کر دیا گیا۔ ٹوئٹر کے علاوہ فیس بک اور دیگر سوشل ویب سائٹس بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی نفرت انگیز پوسٹس کو ڈیلیٹ کرتی آ رہی تھیں، تاہم دیگر ویب سائٹس نے ان کے اکاؤنٹ کو تاحال مستقل بنیادوں پر بند نہیں کیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ٹوئٹر انتظامیہ نے حال ہی میں امریکی دارالحکومت کے اہم ترین علاقے کیپیٹل ہل میں ہونے والے ہنگاموں سے متعلق نفرت انگیز مواد شیئر کرنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بند کیا۔
ٹوئٹر کی جانب سے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر بھی تصدیق کی گئی کہ 9 جنوری 2021 سے ڈونلڈ ٹرمپ کا آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا۔ ٹوئٹر انتظامیہ نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ کے بنائے گئے اصولوں کی خلاف ورزی کی بنا پر ان کا اکاؤنٹ بند کیا جا رہا ہے۔ اسی حوالے سے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا بند کیا جانے والے اکاؤنٹ 12 سال قبل بنایا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے سیاستدان میں آنے سے قبل ہی مذکورہ اکاؤنٹ کو مئی 2009 میں بنایا تھا اور انہوں نے اس کا بہترین استعمال کرتے ہوئے اپنے کئی مقاصد پورے کیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بند کیے اکاؤنٹ سے گزشتہ 12 سال میں 57 ہزار ٹوئٹس کی گئیں، جن میں سے آخری 5 سال میں کی جانے والی زیادہ تر ٹوئٹس پر انہیں دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016 میں امریکی عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد ٹوئٹر پر سیاسی مقاصد کے لیے زیادہ تر نفرت انگیز یا دوسروں کی دل آزاری کرنے والی ٹوئٹس کی تھیں۔ نفرت انگیز، تشدد پر ابھارنے والی، غلط معلومات اور دوسروں کی دل آزاری کرنے والی ٹوئٹس کرنے پر ٹوئٹر انتظامیہ نے گزشتہ 5 سال میں ڈونلڈ ٹرمپ کی درجنوں ٹوئٹس کو ڈیلیٹ یا ہذف بھی کیا تھا۔ ٹوئٹر کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ ایک ایسے وقت میں بند کیا گیا ہے جب کہ وہ امریکا کے 45 ویں صدر کے طور پر اپنے آخری ایام مکمل کر رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ رواں ماہ 20 جنوری کو عہدہ صدارت سے الگ ہو جائیں گے، ان کی جگہ 79 سالہ جوبائیڈن 46 ویں صدر کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو نومبر 2020 میں ہونے والے انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انہوں نے اپنی شکست کو بھی حال ہی میں تسلیم کیا، اس سے قبل وہ انتخابات میں دھاندلی کی باتیں کرتے آ رہے تھے۔
پندرھویں صدی کے اوائل تک دنیا کے نقشوں پر برطانیہ عظمیٰ نہیں ملے گا کیوں کہ اس وقت تک برطانیہ کی حیثیت سمندری قزاقوں کے ایک جزیرے سے زیادہ نہیں تھی۔ پھر برطانیہ دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اگلے چند سو سالوں میں اپنی پالیسیوں کی بدولت ایک بڑی قوت بن گیا۔ برطانیہ کی قوت و اہمیت میں اضافے اور لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر ہو جانے سے برطانوی عوام کے اندر سیاسی شعور کو بہت بڑھاوا ملا۔ برطانوی قیادت نے تاریخ کے اس اہم دوراہے پر اپنے معاشرے کو مجرموں اور شرپسندوں سے پاک کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے موجب ایسے تمام برطانوی مجرم جن کو موت یا عمر قید کی سزا ہوئی ان کو برطانیہ سے نکال کر اپنی نو آبادی آسٹریلیا یوں بھیج دیا گیا کہ وہ کبھی برطانوی زمین پر دوبارہ قدم نہ رکھ سکیں۔ یہ بالکل اسی طرح ہوا جس طرح برطانوی راج کے دنوں میں ہندوستان سے عمر قید کے مجرموں کو کالے پانی کی سزا دے دی جاتی تھی، ان کو جزائر انڈیمان بھیج دیا جاتا تھا جہاں سے وہ کبھی اپنے وطن لوٹ نہیں سکتے تھے۔
برطانیہ کے وہ شہری جو مجرم تو نہیں ہوتے تھے لیکن جن کی زبان اور اقدامات سے برطانوی سماج کو نقصِ امن کا خطرہ ہوتا تھا۔ ان کو برطانیہ سے نکال کر نئی کالونی امریکا بدر کر دیا جاتا تھا جہاں امریکا کے وسیع و عریض ملک میں ان کے لیے بے شمار مواقع ہوتے تھے۔ زیادہ تر برطانیہ اور کسی حد تک مغربی یورپ جیسے اسپین اور پرتگال سے جانے والوں کو مزدوروں کی ضرورت پڑی تو برطانیہ نے تاریخ کا انتہائی گھناؤنا اور مجرمانہ کھیل کھیلا۔ افریقہ اور آئرلینڈ سے معصوم اور ہنستے بستے نہتے لوگوں کو اغوا کر کے امریکا پہنچانا شروع کر دیا تاکہ ان کو غلامی میں بیچ کر دولت کمائی جا سکے۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں سے پورا یورپ متاثر ہوا اور تباہ حال یورپی لوگوں نے امریکا کی طرف نقل مکانی میں عافیت سمجھی۔ امریکا دریافت ہوا تو وہاں پر مقامی آبادی موجود تھی جن کو توپ و تفنگ کے زور پر ان کی زمینوں اور علاقوں سے بے دخل کر کے دوسرے درجے کے شہری بنا دیا گیا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان تھوڑے سے مقامی لوگوں کے علاوہ باقی سارا امریکا نقل مکانی کرنے والے لوگوں کا ملک ہے۔
امریکی معاشرہ دنیا کا سب سے زیادہ متفرق معاشرہ ہے۔ یہ اتنا متنوع معاشرہ ہے کہ اس کی مثال کہیں اور ملنا مشکل ہے۔ اس وسیع و عریض ملک میں پھلنے پھولنے اور ترقی کرنے کے اتنے وافر مواقع موجود ہیں کہ دنیا کے کونے کونے سے لوگ یہاں کھنچے چلے آتے ہیں۔ اگر آپ گوروں کو ہی لیں تو وہ بھی کسی ایک ملک سے تعلق رکھنے والے نہیں ہیں۔ بظاہر تو وہ سارے سفید فام کہلائیں گے لیکن کوئی شمالی آئرلینڈ سے ہے تو کوئی اسکاٹ ہے، کوئی اسپین سے آیا ہے تو کوئی انگلینڈ سے۔ غیر سفید فام لوگوں میں کوئی جنوبی امریکا سے نقل مکانی کر کے پہنچا ہے تو کوئی جنوبی افریقہ سے۔ کوئی چین، جاپان اور فلپائن سے ہے تو کوئی پاک وہند سے۔ کوئی وسطی ایشیا سے ہے تو کوئی مشرقِ وسطیٰ سے۔ دنیا کا ہر مذہب آپ کو امریکا میں مل جائے گا حتیٰ کہ وہ مذاہب بھی اپنے پیروکاروں کے ساتھ مل جائیں گے جو اپنی اصل دھرتی پر ختم ہو چکے ہیں۔ امریکی شہروں میں ایک ہی گلی میں آپ کو عیسائی بھی رہتے ہوئے ملیں گے اور مسلمان بھی، سکھ ، ہندو، بدھ کے ماننے والے ملیں گے تو پارسی بھی مل جائیں گے۔
یہ مختلف مذاہب، رنگ و نسل کے لوگ ہر شہر، محلے اور گلی میں خوش و خرم رہتے نظر آئیں گے جن کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں، کوئی چپقلش نہیں۔ وہ جو اپنے اپنے وطن میں ایک دوسرے کو دیکھنا اور ہاتھ ملانا گوارا نہیں کرتے، امریکی معاشرہ میں گھُل مل کر رہ رہے ہیں۔ یہ سب اس لیے ہے کیونکہ امریکا ایک مواقع کی سرزمین ہے۔ دنیا بھر سے عزم و حوصلہ رکھنے والے اپنے اپنے گھروں کو چھوڑ کر امریکی خواب کی تعبیر میں مصروف ہیں۔ مختلف معاشروں میں ہوشیار لوگ اپنے ملک کے وسائل استعمال کرتے ہوئے تعلیم اور ہنر سے بہرہ مند ہوئے اور پھر اپنا مستقبل بنانے کے لیے امریکا جا بسے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کا ہنر اور تعلیم ان کے اپنے ملک کے کام آتی لیکن یہ سارا ٹیلنٹ امریکا کے پاس چلا گیا جس سے یہ معاشرہ افزودگی ہوا۔ آئن اسٹائین جیسے بہترین دماغ امریکا کو میسر ہو گئے کیونکہ اس ملک میں لوگوں کو اپنے ٹیلنٹ کو بہترین جگہ پر استعمال کرنے کے مواقع بدرجہء اتم موجود تھے۔
امریکا ایک نیا ملک تھا۔ اس کی اپنی کوئی تاریخ، کوئی کلچر اور کوئی جداگانہ تہذیب نہیں تھی۔ سب کچھ ہی نیا بن رہا تھا۔ ان ہی بہترین دماغوں سے سائنس و ٹیکنالوجی اور صنعت و حرفت کے میدان میں وہ ترقی ہوئی جس کی مثال بہت کم ہی مل سکتی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں سب سے آگے بڑھ جانے کی وجہ سے ایک طرف تو امریکا دنیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک بن گیا دوسری طرف وہ سب سے بڑی فوجی قوت بن کر اُبھرا۔ دفاعی ساز و سامان کی فروخت سے امریکی معیشت کو چار چاند لگ گئے۔ ایک معمولی نوعیت کا پرزہ جو کسی اہم فوجی ہتھیار میں استعمال ہو سکتا ہو وہ چند ڈالر میں بنا کر مہنگے داموں بیچنے پر امریکی معیشت کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ خزانے بھر جانے سے ریسرچ اور ڈیولپمنٹ میں خاطر خواہ سرمایہ کاری ہوئی۔ نت نئے ہتھیار اور آلات وجود میں آنے لگے۔ امریکا ایسا مقناطیس ثابت ہوا جس نے ہر جگہ سے قابل ترین لوگوں کو اپنے ہاں کھینچ لیا ہم یہ بات بآسانی کہہ سکتے ہیں کہ ساری دنیا سے برین ڈرین ہوا تو امریکا بنا۔ امریکا اب سب سے طاقتور فوجی قوت اور سب سے بڑی معیشت ہے۔
اقوامِ عالم میں اس مقامِ بلند کی وجہ سے امریکی ہونا ایک فخر کی بات ہے۔ لوگ اپنے آپ کو امریکی کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ برتر فوجی قوت اور بڑی معیشت کی وجہ سے اکثر ٹرانزکشنز امریکی کرنسی میں ہی ہوتی ہیں۔ لیکن یہ سارا دبدبہ، اقوامِ عالم میں وقار اور عزت صرف اس وجہ سے ہے کیونکہ امریکا اپنے ساحلوں سے دور کہیں بھی مار دھاڑ کر سکتا ہے۔ امریکی پابندیاں کسی بھی ملک کی معیشت کا کچومر نکال سکتی ہیں لیکن ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ریاست ہائے متحدہ امریکا ہمیشہ اپنے موجودہ مقامِ بلند کو برقرار رکھ پائے گا۔ قرآنِ کریم میں مالکِ کائنات نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ ہم ایام کو اقوام کے درمیان پھراتے رہتے ہیں۔ ہر قوم کے لیے مقامِ بلند حاصل کرنے کا موقع ہے لیکن مقامِ بلند پر رہنے کا ایک وقت متعین ہے۔ ابنِ خلدون نے اپنے مشہور مقدمے میں یہ قرار دیا ہے کہ عام طور پر قوموں کے عروج کو 90 سال کے بعد زوال کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔
اس رائے کو سامنے رکھیں تو امریکی عروج کا زمانہ پورا ہوتا نظر آتا ہے۔ شاید امریکی بھی اسے دیکھ رہے ہیں لیکن اس تلخ حقیقت سے آنکھیں ملانے کے لیے فہم و فراست والی بہترین قیادت درکار ہے۔ 2016 میں ٹرمپ کا انتخاب یہ عندیہ دیتا ہے کہ اب امریکا میں قحط الرجال ہے۔ اس وقت تک امریکی ہونا ایک فخر کی علامت ہے لیکن کسی بھی جھگڑے اور خلفشار کی صورت میں یہ فخر بھک سے اُڑ جائے گا۔ افریقی نژاد امریکیوں اور مسلمانوں کے ساتھ جو زیادتیاں ہو رہی ہیں وہ پہلے تو چھُپی رہ سکتی تھیں لیکن میڈیا کے موجودہ دور میں یہ معاشرے کے توڑ پھوڑ کا موجب ہوں گی۔ صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی معاہدوں سے امریکا کو علیحدہ کر کے اور بدزبانی کو عام کر کے امریکا کے ساتھی ملکوں میں کمی کی ہے۔ 3 نومبر 2020 کے صدارتی انتخابات ہو چکے ہیں۔ بائیڈن واضح اکثریت سے کامیاب ہو گئے ہیں لیکن ابھی صورتحال واضح نہیں۔ عین ممکن ہے امریکی آئین میں کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر سفید فام اکثریت ٹرمپ کو صدر رکھنے میں کامیاب ہو جائے۔ ایسے میں قانون کی حکمرانی کو بہت بڑا دھچکا لگے گا اور امریکی جمہوریت کی بنیادوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔ یہ قانون کی حکمرانی اور جمہوریت ہی ہے جس نے امریکا کو امریکا بنا رکھا ہے۔ جس دن قانون کی حکمرانی اور جمہوریت رخصت ہو گئی اس دن عوام کا اپنے ملک سے تعلق کمزور پڑ جائے گا۔گلی گلی میں جھگڑے ہوںگے اور یہ امریکی معاشرے کو اندرونی دھماکے سے اُڑا دے گا کیونکہ امریکی متفاوت معاشرے میں مصنوعی اتحاد ہے۔
امریکی اخبار ‘نیویارک ٹائمز’ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جس سال اپنی انتخابی مہم چلائی (2016) اور ملک کا صدر بننے کے بعد پہلے سال (2017) میں صرف 750 ڈالر وفاقی ٹیکس ادا کیا۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ٹرمپ نے اپنے ٹیکس گوشواروں کی سختی سے حفاظت کی ہے اور جدید دور کے واحد صدر ہیں جنہوں نے انہیں عام نہیں کیا۔ انہوں نے گذشتہ 15 سال میں سے 10 سال تک کوئی وفاقی انکم ٹیکس ادا نہیں کیا۔ ٹرمپ کے ٹیکس گوشواروں کی تفصیل نے ان کے اپنے بارے میں بیان کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ہوشیار اور محب وطن کہتے ہیں تاہم اس کی بجائے ٹیکس گوشواروں سے انہیں مالی نقصانات اور بیرون ملک سے ہونے والی ایسی آمدن کا انکشاف ہوا ہے جو ان کی بطور صدر ذمہ داریوں سے متصادم ہو سکتے ہیں۔
صدر سے متعلق مالیاتی انکشافات سے اشارہ ملتا ہے کہ انہوں نے 2018 کے درمیان کم از کم 40 کروڑ 74 لاکھ ڈالر کمائے لیکن ٹیکس گوشواروں میں چار کروڑ 74 لاکھ ڈالر کا نقصان ظاہر کیا گیا۔ ٹیکس گوشواروں سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک مشہور ارب پتی شخص کس طرح تھوڑا بہت یا صفر ٹیکس ادا کر سکتا ہے جب کہ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد اس سے کہیں زیادہ ٹیکس ادا کر سکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق آدھے امریکی شہری کوئی انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کی آمدن کس قدر کم ہے لیکن انٹرنل ریونیو سروس کے اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق ایک اوسط ٹیکس دہندہ نے 2017 میں 12200 ڈالر انکم ٹیکس ادا کیا جو صدر کے ادا کردہ ٹیکس سے تقریباً 16 گنا زیادہ ہے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ یہ انکشاف صدر ٹرمپ کے دو دہائیوں کے ٹیکس گوشواروں کو حاصل کرنے سے ممکن ہوا۔ یہ ڈیٹا پہلے صدارتی مباحثے اور ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کے خلاف منقسم انتخاب سے پہلے اہم موقعے پر حاصل کیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب میں ٹرمپ نے ‘نیو یارک ٹائمز’ کی رپورٹ کو جعلی کہہ کر مسترد کر دیا اور اپنے مؤقف پر قائم رہے کہ انہوں نے ٹیکس ادا کیا تاہم انہوں نے اس کی کوئی تفصیل نہیں بتائی ۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کی ٹیکس ادائیگی کے بارے میں معلومات منظر عام پر لائی جائیں گی لیکن انہوں نے اس انکشاف کے لیے کوئی تاریخ نہیں دی اور اسی طرح کے وعدے کیے جیسے انہوں نے 2016 کی انتخابی مہم کے دوران کیے لیکن انہیں پورا نہیں کیا۔ حقیقت میں ٹرمپ نے اپنے ٹیکس گوشواروں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے جن میں امریکی ایوان بھی شامل ہے جو کانگریس کے نگرانی نظام کے حصے کی حیثیت سے ٹرمپ کے ٹیکس گوشواروں تک رسائی کے لیے عدالتی کارروائی میں مصروف ہے۔
صدر بننے کے بعد پہلے دو سال کے دوران ٹرمپ نے بیرون ملک کاروبار سے سات کروڑ 30 لاکھ ڈالر حاصل کیے جو ان کی سکاٹ لینڈ اور آئر لینڈ میں گولف کی جائیدادوں سے ہونے والی آمدن کے علاوہ ہیں جس میں دوسرے ملکوں فلپائن سے 30 لاکھ ڈالر، بھارت سے 23 لاکھ ڈالر اور ترکی سے ملنے والے 10 لاکھ ڈالر شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ نے امریکہ میں صرف 750 ڈالر کے مقابلے میں 2017 میں بھارت میں 145400 ڈالراور فلپائن میں 156824 ڈالرانکم ٹیکس ادا کیا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ٹیکس ریکارڈز سے روس کے ساتھ ایسے روابط کا انکشاف نہیں ہوا جو رپورٹ نہیں کیے گئے۔ ٹرمپ آرگنائزیشن کے وکیل ایلن گارٹن اور آرگنائزیشن کے ترجمان نے اے پی کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا، تاہم ‘نیو یارک ٹائمز’ کو دیے گئے بیان میں بتایا ہے کہ ہے کہ ‘صدر نے ذاتی حیثیت میں وفاقی حکومت کو لاکھوں ڈالر کا ٹیکس ادا کیا جس میں ذاتی ٹیکس کے وہ لاکھوں ڈالر بھی شامل ہیں جب 2015 میں انہوں نے صدارتی الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا۔