امریکی الیکٹورل کالج نے بالآخر جو بائیڈن کو 2020 کے انتخابات میں فاتح قرار دے دیا جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلسل شکست تسلیم کرنے سے انکار کے باعث 40 دن تک جاری رہنے والے تناؤ کا خاتمہ ہو گیا۔ تمام 538 رائے دہندگان نے 3 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ان کے ووٹروں کی جانب سے انہیں دیئے گئے مینڈیٹ کی پیروی کی، ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کو 306 ووٹ ملے جبکہ ان حریف ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو 232 ووٹ ڈالے گئے۔ 20 جنوری کو صدر منتخب ہونے والے جو بائیڈن اور نائب صدر کمالا حارث کے عہدہ سنبھالنے سے قبل 6 جنوری کو کانگریس کے خصوصی مشترکہ اجلاس میں انتخابی ووٹوں کی سیل اتاری جائے گی۔ جو بائیڈن جنہیں انتخاب کے روز رات کو اپنی قوم کو فاتح کی حیثیت سے خطاب کرنا تھا، نے الیکٹورل کالج میں اپنی فتح کی تصدیق کے چند منٹ بعد ہی تقریر کی اور اپنے حریف پر زور دیا کہ وہ ‘جمہوریت پر بے مثال حملے’ کو ختم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘امریکا میں سیاستدان اقتدار میں نہیں آتے بالکہ عوام انہیں اقتدار میں لاتی ہے، جمہوریت کی شمع اس قوم میں بہت عرصے پہلے جل چکی تھی اور اب کچھ نہیں ہوسکتا، نہ ہی وبا اور نہ ہی اختیارات کا ناجائز استعمال اس شمع کو بجھا سکتا ہے’۔ مسٹر ٹرمپ نے یہ اعلان کرتے ہوئے جواب دیا کہ وہ اپنے اٹارنی جنرل بل بار کو برطرف کر رہے ہیں جنہوں نے 2020 کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر ووٹر فراڈ کے ان کے دعووں کی توثیق نہیں کی تھی۔ صدر نے اپنے آفیشل ٹویٹر پیج پر بل بار کے استعفے کی ایک کاپی پوسٹ کی اور لکھا کہ ‘خط کے مطابق کرسمس سے قبل بل بار اپنے اہلخانہ کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کے لیے روانہ ہو جائیں گے’۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘ڈپٹی اٹارنی جنرل جیف روزن، ایک ممتاز شخصیت، قائم مقام اٹارنی جنرل بن جائیں گے اور انتہائی قابل احترام رچرڈ ڈونوگو ڈپٹی اٹارنی جنرل کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے’۔
ڈونلڈ ٹرمپ جو عام طور پر سیاسی پیشرفتوں پر رد عمل دینے میں کوئی وقت ضائع نہیں کرتے تھے، نے الیکٹورل کالج کے فیصلے پر کوئی رائے پیش نہیں کی۔ جو بائیڈن نے اپنی قوم کو یہ یقین دلاتے ہوئے اس تنازع کو ختم کرنے کی کوشش کی کہ وہ ‘تمام امریکیوں کے لیے صدر’ ہوں گے اور انہوں نے ‘گرما گرمی کم کرنے’ اور ساتھ مل کر کام کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے الیکٹورل کالج کے نتائج ڈونلڈ ٹرمپ کی 2016 کی فتح کے برابر تھے۔ انہوں نے کہا ‘ان کے اپنے معیار کے مطابق ان نمبروں نے اس وقت ایک واضح فتح کی نمائندگی کی تھی اور میں احترام کے ساتھ تجویز کرتا ہوں کہ اب وہ ایسا کریں’۔ جو بائیڈن نے اپنے ریپبلکن حریفوں کو بھی اہم ریاستوں میں ان کے ووٹوں کو کالعدم قرار دینے کی کوشش میں کیے گئے مقدمے واپس لینے پر زور دیا۔
تمام چھ اہم ریاستوں نے ان کو ووٹ دیا جس سے وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے 2016 کے برابر ہو گئے۔ جو بائیڈن نے ملک بھر میں دائر درجنوں مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘یہ انتہائی اقدام ہے جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا، ایک ایسا اقدام جس نے عوام کی حکمرانی کا احترام کرنے سے انکار کیا، قانون کی حکمرانی کا احترام کرنے سے انکار کیا اور ہمارے آئین کا احترام کرنے سے انکار کیا’۔ انہوں نے کہا کہ ‘شکر ہے کہ ایک سپریم کورٹ نے متفقہ طور پر فوری اس اقدام کو مکمل طور پر مسترد کر دیا، عدالتوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک واضح اشارہ دیا کہ وہ ہماری جمہوریت پر غیر معمولی حملے کا حصہ نہیں بنیں گے’۔ وسکونسن کی سپریم کورٹ نے بھی جو بائیڈن کی ریاست میں کامیابی کو برقرار رکھا جس سے ڈونلڈ ٹرمپ کو الیکٹورل ووٹ سے ایک گھنٹہ پہلے ہی ایک اور شکست ملی تھی۔
جو بائیڈن نے اپنی تقریر کا اختتام تمام امریکیوں سے اپیل کے ساتھ کیا کہ وہ انتخابی تنازع کو پس پشت چھوڑیں اور اس کورونا وائرس کے خلاف متحد ہو جائیں جو پورے ملک میں جاری ہے۔ یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ وائرس سے پہلے ہی 3 لاکھ امریکی ہلاک ہو چکے ہیں انہوں نے کہا کہ ‘وبائی بیماری کی اس تاریک دور میں میرا دل میں آپ سب کا خیال آتا ہے، جہاں آپ تعطیلات اور نئے سال اپنے پیاروں سے دور ہوں گے۔ الیکٹورل ووٹ کا اثر کیپیٹل ہل پر بھی پڑا جہاں ریپبلکن قانون سازوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست تسلیم کرنے سے انکار کرنے کی حمایت کی تھی۔سینیٹ میں ری پبلیکن قانون سازوں کے اس گروپ نے اب جو بائیڈن کی جیت کو عوامی طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ اس گروہ کی قیادت کرنے والے وپ جون تھون نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘کبھی کبھی وقت آپ کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں آگے بڑھنا چاہیے’، تاہم انہوں نے مزید قانونی چارہ جوئی کو مسترد نہیں کیا۔ انہوں نے کہا ، ‘وہ صدر مملکت ہیں۔ لیکن میں ان جائز، قانونی تنازعات پر رعایت نہیں دینا چاہتا جن کا فیصلہ آئندہ دو ہفتوں میں ہو گا’۔
ہمارے دانشور امریکا اور یورپ کو ہمارے لیے آئیڈیل کے طور پر پیش کرتے ہیں‘ بعض حضرات جو اپنے آپ کو دانشِ حاضر کا نبّاض اور ماہر سمجھتے ہیں، وقتاً فوقتاً ہمیں بتاتے رہتے ہیں :”مغربی دنیا یا جدید دنیا نے جمہوریت کی شکل میں اپنے مسائل کا حل تلاش کر لیا ہے، الغرض جمہوریت میں ہر مسئلے کا حل موجود ہے‘‘، اگر انہیں جمہوریت کے نقائص کی طر ف متوجہ کیا جائے تو فرماتے ہیں: ”ان کا حل بھی مزید جمہوریت ہے ‘‘۔ لیکن امریکا کے حالیہ انتخابات نے امریکی جمہوریت پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں، الیکٹورل کالج اور پاپولر ووٹ میں واضح شکست کے باوجود موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے حریف جوبائیڈن کی فتح کو تسلیم کرنے پر آسانی سے تیار نہیں ہوئے اور وہ اسے ردّ کرنے کے لیے مختلف حیلے بہانے تلاش کرنے میں مصروف رہے۔ امریکی جمہوریت کو دو سو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ کہا جاتا تھا کہ اُن کے ادارے مضبوط ہیں، اقدار و روایات مستحکم ہیں، لہٰذا اُن کے پاس ہر مسئلے کا حل موجود ہے، مگر اب یہ دعویٰ بے جان معلوم ہوتا ہے۔
سی این این پر اُس کے معروف اینکر کرس کومو کا پروگرام پرائم ٹائم چل رہا تھا اور پروگرام کا ٹائٹل تھا: ”امریکا بحران کی زَد میں ‘‘، اس ٹائٹل کے نیچے بتایا جارہا تھا : ”تقریباً ساڑھے پانچ کروڑ امریکی بھوک سے دوچار ہیں، بے روزگاری ہے، ملک کووِڈ 19 کی وبا کی زَد میں ہے، لیکن امریکی کانگریس بے عملی سے دوچار ہے، مفلوج ہے، سیاسی پولرائزیشن ہے، بعض ڈیموکریٹس اور ریپبلکن کانگریس اراکین نے 908 ارب ڈالر کا ریلیف پیکیج تجویز کیا ہے، لیکن اُس پر بھی اتفاقِ رائے نہیں ہو پارہا۔ یہ بھی بتایا جارہا تھا کہ کورونا ویکسین کی پہلی شپمنٹ بعض ریاستوں کے طبی عملے کے لیے بھی ناکافی ہے۔ مختصر یہ کہ جمہوریت اور جمہوری ادارے امریکا کے قومی مسائل کو حل کرنے سے عاری نظر آتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہماری پارلیمنٹ مفلوج ہے، بے عملی سے دوچار ہے، جو کچھ ہو رہا ہے، پارلیمنٹ سے باہر ہو رہا ہے۔ جوبائیڈن کو ٹرمپ کے مقابلے میں ستّر لاکھ سے زیادہ پاپولر ووٹوں کی برتری حاصل ہے اور پانچ سو اڑتیس کے الیکٹورل کالج میں دوسو بتیس کے مقابلے میں تین سو چھ کی برتری حاصل ہے لیکن ٹرمپ اُسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ امریکا کا صدارتی انتخابی نظام باقی دنیا سے بالکل مختلف ہے، اس میں حقیقی جمہوریت نہیں ہے۔
فرض کریں: ایک ریاست کے الیکٹورل ووٹ پچاس ہیں، ایک امیدوار اُس ریاست سے ڈالے گئے پچاس اعشاریہ ایک فیصد پاپولر ووٹ حاصل کرتا ہے اور دوسرا انچاس اعشاریہ نو فیصد پاپولر ووٹ حاصل کرتا ہے، ہارنے والے کے حق میں ڈالے جانے والے سارے ووٹ قدر و قیمت کے اعتبار سے زیرو ہو جاتے ہیں۔ ہماری سوچی سمجھی رائے ہے کہ جمہوریت ایک فریب ہے، سَراب ہے، یہ جمہور کی حکمرانی کا نام نہیں بلکہ اکثریت کی حکمرانی کا نام ہے اور اکثریت بھی بعض اوقات مذاق بن جاتی ہے، مثلاً: ماضی میں ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کے نتیجے میں ڈیڑھ پونے دو ہزار ووٹ لینے والے قومی اسمبلی کے ممبر بنے ہیں، حالانکہ ایک حلقۂ انتخاب میں ووٹ دینے والے اہل افراد کی تعداد تقریباً کم وبیش پانچ لاکھ ہوتی ہے، جب پانچ لاکھ ووٹر کے حلقے میں ڈیڑھ دو ہزار ووٹ لینے والا ایم این اے بن جائے تو اسے بھی شاید جمہوریت کا حُسن کہا جاتا ہو گا۔
گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکی دستوری نظام کو اگر کسی ادارے نے بچایا ہے تو وہ امریکی عدلیہ ہے، ورنہ ٹرمپ نے انتقالِ اقتدار کے مرحلے کو ناممکن العمل بنا دیا تھا، امریکا کی دنیا بھر میں رسوائی ہوتی، مگر اب لگتا ہے کہ 14 دسمبر کو امریکی الیکٹورل کالج کا اجلاس امریکی نائب صدرمائیک پینس کی صدارت منعقد ہو جائے گا اور جوبائیڈن کو الیکٹورل کالج کے ذریعے صدر منتخب کر لیا جائے گا۔ ہٹلر اور مسولینی بھی جمہوریت کے راستے سے آئے اور پھر فاشزم اور نازی ازم کے عذاب سے دنیا کو گزرنا پڑا۔ ٹرمپ بھی جمہوری طریقے سے صدر بنا، پھر اس نے امریکا کو دنیا سے کاٹ کر رکھ دیا، جذباتی اور جنونی انداز میں فیصلے کرتا رہا، آئے دن کلیدی عہدوں پر تقرریاں ہوتیں اور پھر انہیں ایک ٹویٹ کے ذریعے برطرف کر دیا جاتا، یعنی دنیا کی سپر پاور کی حکومت ٹویٹر پر چلتی رہی۔ امریکی کانگریس اُس کے لیے چیک اینڈ بیلنس کا کوئی طریقۂ کار وضع نہ کر سکی، ریپبلکن کانگریس مین اُس کی حمایت پر اپنے آپ کو مجبور پاتے۔
ہائوس آف کامنز نے اکثریتی فیصلے کے نتیجے میں ٹرمپ کے مواخذے کی قرارداد پاس کی لیکن اس کے باوجود ریپبلکن اکثریت پر مشتمل سینیٹ نے اُسے مواخذے سے بچا لیا، ٹرمپ سرِ عام ہائوس آف کامنز کی سپیکر نینسی پلوسی کا مذاق اڑاتا رہا۔ پہلی بار ایسا ہوا کہ وفاقی سطح پر امریکی سپریم کورٹ کے نو کے نو جج صاحبان ریپبلکن نامزد تھے، لیکن انہوں نے پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر امریکی نظام کو بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسی طرح پنسلوینیا، مشی گن اور فلوریڈا وغیرہ کی سپریم کورٹس نے بھی دانش مندی پر مبنی فیصلے کیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر آئینی ادارے مضبوط ہوں، پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر دستور کی سربلندی کے لیے کھڑے ہو جائیں‘ تو دستور اور نظام کو بچالیا جاتا ہے، ورنہ نتائج اس کے برعکس بھی نکل سکتے ہیں۔ نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن کی کلیدی عہدوں پر تقرریوں سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ اپنے ملک اور نظام کو نسلی عصبیت سے بچانا چاہتے ہیں، افریقی امریکن کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں؛ چنانچہ انہوں نے ایک غیر سفید فام خاتون کملا ہیرس کو اپنا نائب صدر نامزد کیا، وزیرِ دفاع بھی ایک سفید فام جنرل لائیڈ آسٹِن کو نامزد کیا ہے جو امریکن سینٹرل کمانڈ کے سربراہ رہ چکے ہیں۔
اسی طرح اُن کے تمام کلیدی عہدوں پر نامزد افراد ملے جلے ہیں اور ایک طرح سے پوری قوم کی نمائندگی کر رہے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ” بلیک لائیوز میٹر ‘‘، یعنی سیاہ فاموں کی زندگیاں بھی قدروقیمت رکھتی ہیں، کی تحریک دب جائے گی اور جوبائیڈن قومی وحدت کی فضا پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ٹرمپ نے امریکا میں سفید فام نسلی عصبیت کو ابھارا ہے، اسی کو فاشزم کہتے ہیں، کچھ ایسی ہی صورتِ حال سے برطانوی جمہوریت بھی دوچار ہے، انگریزوں نے پہلے یورپی یونین کو جوائن کیا، پھر اچانک انہیں احساس ہوا کہ اُن کا ماضی کا تفاخر یورپین یونین کے گہرے سمندر میں ڈوبا جارہا ہے، اُن کی شناخت خطرے سے دوچار ہے، اُن کی دانش جس کے کبھی چہاردانگ عالَم ڈنکے بجتے تھے، زیرو ہو چکی ہے، چنانچہ جذبات میں آکر انہوں نے یورپی یونین سے خروج کا فیصلہ کیا اور وہ اب تک اُن کے گلے میں اٹکا ہوا ہے، 31 دسمبر 2020ء آخری تاریخ ہے، مگر ابھی تک حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا، الیکشن میں تو وزیراعظم بورس جانسن نے جذبات کو ابھار کر بریگزٹ کیلئے کوئی واضح متبادل پروگرام دیے بغیر دوتہائی اکثریت حاصل کر لی، لیکن چھچھوندرا بھی تک گلے میں اٹکا ہوا ہے۔
ہماری سیاست گری بھی حد درجہ خوار ہے، ایک دوسرے کی تذلیل کا بازار گرم ہے، سیاست میں دُشنام کے ماہرین کی مانگ زیادہ ہے، اقدار تباہ ہو چکی ہیں، اپنی عزت بچانے سے زیادہ دوسروں کی تذلیل کر کے راحت محسوس کی جارہی ہے اور قوم کے لیے ماحصل شرمندگی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر گزشتہ ڈھائی سال سے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر استعمال کی جانے والی زبان، لغت اور لب ولہجے کو کتابی شکل دی جائے تو ایک نئی سیاسی لغت مرتب ہو سکتی ہے۔ شرقِ اوسط کے ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین وغیرہ کے ساتھ ہمارے روابط اتنے پست درجے میں کبھی نہ تھے، جتنے کہ اب ہیں، لاکھوں پاکستانیوں کے لیے ان ممالک میں روزگار کے مواقع 1970 کے عشرے سے رہے ہیں، مگر اب بساط سمٹ رہی ہے اوراس کے نتیجے میں خدانخواستہ ہمارے وطنِ عزیز میں بے روزگاری کی شرح پہلے سے بہت زیادہ بڑھ سکتی ہے، ایران اور شرقِ اوسط کے ممالک کا تنائو ہمارے لیے پلِ صراط پر چلنے کے مترادف ہے،
ہم کسی ایک کی بھی ناراضی کا خطرہ مول لینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور دوست ممالک واضح اور جانبدارانہ حمایت کے خواہاں ہیں، وزارتِ خارجہ خوبصورت تقاریر اور لفاظی کا نام نہیں ہوتا، یہاں ایک ایک لفظ ناپ تول کر بولا جاتا ہے، مصلحتیں کام نہیں آتیں، جب تک آپ دوسرے کی ضرورت یا مجبوری نہیں بن جاتے، آپ کی جگہ نہیں بنتی۔ اسی لیے کہا جاتا ہے: ”ممالک کی دوستیاں اور دشمنیاں دائمی نہیں ہوتیں، مفادات پر مبنی ہوتی ہیں، مفادات کا پنڈولم گردش میں آجائے تو دوستی اور دشمنی کی ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں‘‘۔ کل ہی سینئر کالم نگاروں سے بات کرتے ہوئے جنابِ وزیراعظم نے کہا: ”بعض ممالک اپوزیشن کی پشت پناہی کر رہے ہیں ‘‘، اگر اُن کا یہ محض واہمہ نہیں ہے بلکہ درست دعویٰ ہے اور اُن کے پاس اس کے کچھ شواہد بھی ہیں، تو یہ ہمارے ملک کے لیے اچھی علامت نہیں ہے کہ اڑوس پڑوس کے چھوٹے ممالک ہماری سیاست کے مہروں کو چلائیں، عام طور پر ایسی باتوں پر پردہ ڈالاجاتا ہے اور پسِ پردہ سفارت کاری کے ذریعے ان کا حل تلاش کیا جاتا ہے، مگر ٹرمپ کی طرح ہمارے محترم وزیر اعظم بھی” آئوٹ سپوکن ‘‘ مزاج کے حامل ہیں اور سفارتی آداب کی زیادہ پروا نہیں کرتے۔
مختلف ممالک کی تیارکردہ کورونا ویکسین کی مارکیٹنگ شروع ہوا چاہتی ہے، ان میں چین، برطانیہ، امریکا اور روس وغیرہ شامل ہیں، بہت سے ممالک نے پیشگی آرڈر دے رکھے ہیں، مثلاً: انڈیا کے بارے میں آیا کہ ایک ارب ساٹھ کروڑ ویکسین کی خوراکوں کا آرڈر دے رکھا ہے، جبکہ پاکستان کی طرف سے کسی پہلے آرڈر کا کوئی اشارہ ہمیں نظر نہیں آیا۔ ویکسین تیار کرنے والے تمام ممالک کی اولین ترجیح اُن کے اپنے شہریوں کا تحفظ ہو گا، ترقی پذیر، پسماندہ اور غریب ممالک کا نمبر بعد میں آئے گا۔ امریکا کی فائزر کمپنی کی ویکسین کا پبلک استعمال شروع ہو چکا ہے، امریکا نے مختلف کمپنیوں کو اسّی کروڑ ویکسین کی خوراک کے آرڈر دیے ہیں، لیکن تاحال امریکا اور یورپ میں اموات کی شرح کنٹرول نہیں ہو پا رہی، ایسا لگتا ہے کہ 2021ء کی دوسری سہ ماہی تک صورتِ حال کنٹرول میں آجائے گی، لیکن ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کو کچھ اور وقت انتظار کرنا پڑے گا۔
جب کسی شخص کو خود اس کے گھر والے جھوٹا اور دھوکے باز قرار دے دیں تو پھر اس شخص کے کردار کے بارے میں کسی اور کی گواہی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ٹرمپ امریکا کے صدر تو بن گئے مگر ان کی کاروباری ذہنیت اب بھی ان پر غالب نظر آتی ہے۔ انھیں بہرحال امریکی صدارت سے رخصت ہونے کے بعد اپنے کاروبار کی طرف واپس لوٹنا ہے۔ یہودی دنیا میں کاروبار کے معاملے میں سب سے زیادہ کامیاب واقع ہوئے ہیں عالمی تجارت کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں ان کا عمل دخل نہ ہو چنانچہ جہاں دیدہ ٹرمپ یہودیوں سے قربت کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ وہ ان کی اکلوتی ریاست اسرائیل کے سب سے زیادہ خیرخواہ ہیں اور اس کی ناجائز خواہشات کو پورا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہے ہیں۔ وہ یہودیوں کی مدد سے ہی گزشتہ الیکشن جیتے تھے اور انھیں اگلے الیکشن بھی ان کی مدد کے بغیر جیتنا محال نظر آتا ہے۔
کوئی سابق امریکی صدر بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنے کی ہمت نہ کر سکا مگر ٹرمپ نے نہ صرف بیت المقدس کو اسرائیل کا کیپٹل تسلیم کر لیا بلکہ فلسطینیوں کے علاقوں پر اسرائیلی قبضے کو درست قرار دیدیا۔ اب وہ غرب اردن پر بھی اسرائیل کو قابض کرانیوالے ہیں مگر یہ کام ایک خاص مقصد کے تحت کچھ عرصے کے لیے معطل کر دیا ہے۔ نومبر کے مہینے میں امریکی صدارتی انتخاب منعقد ہونے والا ہے اور پورے امریکا میں ان کی پوزیشن انتہائی خراب ہے۔ انھوں نے گزشتہ الیکشن میں عوام سے جو وعدے کیے تھے ان میں سے کوئی بھی پورا نہیں ہو سکا۔ اس وقت امریکا سخت معاشی مشکلات میں مبتلا ہے۔ مہنگائی اور بیروزگاری کی شرح اتنی بلند ہے کہ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا پھر انتظامی طور پر بھی ٹرمپ بالکل ناکام ثابت ہوئے ہیں ملک میں کورونا نے تباہی مچا رکھی ہے وہ اس بیماری کی روک تھام کرنے کے بجائے سیاسی کھیل کھیل رہے ہیں امریکا میں تیزی سے پھیلتے ہوئے کورونا کی وجہ چین کو قرار دے رہے ہیں گویا کہ وہ اس بیماری کا ذمے دار چین کو قرار دے کر خود کو اس سے بری الذمہ سمجھتے ہیں عوام ان کی منطق سے سخت نالاں ہیں۔
ادھر ملک میں نسل پرستی عروج پر ہے کالوں سے سخت نفرت کا پرچار اب ان کے اپنے گلے پڑ گیا ہے امریکی پولیس نے کچھ ہی عرصے میں تین کالے نوجوانوں کو بغیر کسی قصور کے ہلاک کر ڈالا ہے۔ پولیس کے ہاتھوں پہلا قتل جارج فلوئیڈ نامی نوجوان کا ہوا تھا جسے بڑی سفاکی سے مارا گیا تھا۔ پولیس کی اس سفاکی پر پورے امریکا میں کئی ماہ تک ٹرمپ کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے ابھی ایک نئے کالے کی ہلاکت پر پھر مظاہرے شروع ہو گئے ہیں دراصل ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی کئی غیر دانشمندانہ فیصلے کیے تھے جن میں تارکین وطن کے خلاف سخت قوانین کا نفاذ بھی شامل تھا ان قوانین کے نفاذ سے مقامی لوگ بھی ان کے خلاف ہو گئے تھے، انھوں نے اپنی صدارت کے پورے چار سال مسلم دشمنی اور جنگجویانہ پرچار سے پوری دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے قریب کر دیا ہے۔ چین کو انھوں نے خاص نشانے پر لیا ہوا ہے۔ اسے جنگ کرنے کے لیے اشتعال دلاتے رہتے ہیں۔
ٹرمپ اپنی جنگجویانہ مہم جوئی سے امریکی عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ وہ امریکا کے کتنے وفادار ہیں جب کہ امریکی عوام ان کی اس روش سے سخت بیزار ہیں اور چین کو خوامخواہ امریکا کا دشمن بنانے پر سخت ناراض ہیں دراصل ٹرمپ دنیا کو جنگ میں جھونک کر اپنا اگلا الیکشن جیتنا اور یہودیوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے اس وقت بھارت کو قربانی کا بکرا بنا رکھا ہے وہ اسے چین کے خلاف لڑانے کے لیے اس کی پیٹ ٹھونک رہے ہیں اور بیوقوف مودی ٹرمپ کی چال میں پھنس کر خود کو مغرب کے قریب ہونے پر پھولا نہیں سما رہا ہے۔ ٹرمپ چین اور ایران کا ہوا کھڑا کر کے بھارت اور عربوں کو اپنے ہتھیار فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی اسلحہ بھی بکوا رہے ہیں۔ ٹرمپ کے مقابلے میں اس وقت ان کے حریف جوبائیڈن کی عوام میں مقبولیت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق اس وقت ٹرمپ کی مقبولیت صرف 12 فیصد رہ گئی ہے جب کہ جوبائیڈن کی عوامی مقبولیت 52 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔
ایسے حالات میں ٹرمپ امریکی عوام میں اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے اسرائیل کو خلیجی ممالک سے تسلیم کرانے کا کارنامہ انجام دینا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں ٹرمپ کے یہودی داماد مسٹر کرائسز اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس وقت ٹرمپ کو اپنے داماد کے ذریعے ایک بڑی کامیابی متحدہ عرب امارات سے اسرائیل کو تسلیم کرا کے ملی ہے جس کا اعلان انھوں نے خود واشنگٹن سے کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل کو اس کی اس یقین دہانی پر تسلیم کیا ہے کہ وہ مزید فلسطینی علاقوں پر قبضہ نہیں کریگا مگر اسرائیلی وزیر اعظم نے معاہدے کے فوراً بعد اس شرط کو ماننے سے صاف انکار کر دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی زمین کے حقوق سے انھیں کوئی دست بردار نہیں کر سکتا۔ اس طرح اسرائیل کو فلسطینی علاقوں پر قبضہ کرنے سے روکنا ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اسرائیل معاہدے کے بعد سے ہی فلسطینیوں پر جنگی جہازوں سے روز ہی حملے کر رہا ہے۔
ادھر فلسطینی انتظامیہ نے اس معاہدے کو جعلی اور دھوکا قرار دیکر رد کر دیا ہے۔ ادھر سعودی حکومت نے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کر کے ٹرمپ کے الیکشن جیتنے اور اسرائیل کو خوش کرنے کے سازشی منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔ سعودی حکومت نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کی پیروی نہیں کریگی وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کریگی جب تک فلسطینیوں اور اسرائیلی حکومت کے درمیان دو ریاستی فارمولے کے تحت امن معاہدہ طے نہیں ہو جاتا۔ سعودی حکومت نے دراصل یہ فیصلہ اپنی عالمی ذمے داریوں کو سامنے رکھ کر کیا ہے پھر وہ عالم اسلام کے قائد کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے اس کی او آئی سی کی قیادت پر بھی حرف آ سکتا تھا اور او آئی سی بھی بکھر سکتی تھی۔ کشمیریوں اور فلسطینیوں کو بھارتی اوراسرائیلی غلامی سے نکالنا او آئی سی کی ذمے داری ہے سعودی حکومت کشمیریوں کی آزادی کی اب بھی علمبردار ہے۔
عربوں کو اسرائیل اور بھارت پر کسی صورت میں اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ جہاں تک متحدہ عرب امارات کا تعلق ہے اسے اسرائیل کو تسلیم کرانے کے لیے مجبور کرنیوالا امریکا ہے۔ امریکی حکومت نے لگتا ہے اسے F-35 جدید اسٹیلتھ طیارے دینے کا لالچ دیکر منایا ہے۔ بھارت کے حکمرانوں کا خیال تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد وہ عرب دشمنی ترک کردیگا مگر اس نے متحدہ عرب امارات کو F-35 طیاروں کو دینے کی سخت مخالف کی ہے جس نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اب بھی اپنی عرب دشمنی پر قائم ہے۔ اس سے برہم ہو کر محمد بن زید نے نیتن یاہو سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ لگتا ہے متحدہ عرب امارات کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔ اس طرح دونوں کے درمیان امن معاہدہ کسی وقت بھی ردی کی ٹوکری کی زینت بن سکتا ہے۔