چودہ گھنٹے کے مسلسل سفر کے بعد میں اپنے دوست کے ساتھ لاس اینجلس کے ہوائی اڈے پر پاسپورٹ پر مہر لگوانے کے لیے قطار میں کھڑا تھا۔ میرے پیچھے موجود ایک مسافر نے طویل انتظار اور سست رفتاری کی وجہ سے احتجاج کرنا شروع کر دیا۔ اس کی شکل اور اس کے لہجے سے لگتا تھا کہ وہ فرانسیسی ہے۔ جب مزید آدھا گھنٹہ گزر گیا اور قطار اسی سست رفتاری کا شکار رہی تو اس نے ہمارے پاس سے گزرنے والے ایک افسر سے دوبارہ بڑی شائستگی سے احتجاج کیا تو اس افسر نے نہایت درشت لہجے اور بلند آواز سے اسے دھمکایا، ’اگر تم خاموش نہ ہوئے تو جہاں سے آئے ہو، وہیں واپس بھیج دوں گا۔‘ احتجاج کرنے والا سیاہ فام نہیں تھا اور افسر گورا نہیں تھا۔ کچھ برس پہلے میرے پاس امریکہ کے وزیر خارجہ کے معاون آدم اوریلے آئے، میں نے ان سے امریکی ہوائی اڈوں پر مسافروں کے ساتھ بدسلوکی کی شکایت کی تو ان کا جواب تھا، ’وہ تو میرے ساتھ بھی اسی طرح پیش آتے ہیں۔
میں امریکہ کو 40 برس سے جانتا ہوں۔ میری وہاں دوستیاں اور پڑھائی کی حسین یادیں ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا برس گزرا ہو کہ میں وہاں گھومنے پھرنے یا کسی علمی اور سیاسی کانفرنس میں شرکت کے لیے نہ گیا ہوں۔ ان برسوں کے دوران ہر بار وہ امریکہ مجھ سے دور سے دور تر ہوتا جاتا ہے جس امریکہ کو میں جانتا تھا۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں سیاسی منظرنامہ دوگروہوں میں بٹا ہوا ہے، جس کا عکس ہمیں میڈیا، مکالموں، سیاسی مباحثوں اور حتی کہ سماجی تعلقات تک میں دکھائی دیتا ہے۔ ’ہم سیاست پر بات نہیں کرنا چاہتے، اس لیے کہ ہم کوئی بدمزگی نہیں چاہتے۔‘ یہ وہ جملہ ہے جو اکثر امریکیوں کی زبان پر رہتا ہے۔ اس سے اس مسئلے کی گہرائی کا بھی اندازہ ہوتا ہے جو کچھ دن پہلے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ پر چھاپے کے بعد مزید شدت اختیار کر گیا۔ ایف بی آئی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے گھر پر چھاپہ اس لیے مارا تھا کہ وہ ان سرکاری دستاویزات کو حاصل کر سکیں جو 2020 میں ٹرمپ وائٹ ہاؤس کو چھوڑتے ہوئے ساتھ لے آئے تھے۔
ٹرمپ کے حامیوں کا خیال ہے کہ یہ ٹرمپ کو دوسری بار صدارتی انتخاب سے دور رکھنے کی سازش ہے۔ ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ چھاپہ قانون کے مطابق تھا اور کوئی بھی قانون سے ماورا نہیں ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ پر الزام اور ان کا عدالتی ٹرائل ایک خونریز تصادم کا پیش خیمہ ہے، اور وہ اس کی دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ شدت پسند دائیں بازو نے ایف بی آئی کو دھمکیاں دی ہیں اور لوگوں کو ان کے قتل پر ابھارا ہے۔ جس قدر بھی کوشش کر لی جائے یہ دونوں گروہ اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ ایک گروہ روایتی دائیں بازو اور سرمایہ داریت کا حامی ہے، جب کہ بایاں بازو لبرل اور اشتراکیت کے قریب ہے۔ ان دونوں کے مابین بیسیوں مسائل پر اختلاف ہے۔ ایک تجزیہ کار کے طور پر مجھے تو ان دونوں گروہوں میں کوئی ایسی مشترک بات نظر نہیں آتی جس پر یہ دونوں مل بیٹھیں۔ دونوں گروہوں کے مابین سرخ لکیریں ہیں۔ ایسا کبھی کبھار ہوتا ہے کہ دیگر ممالک کے بارے میں امریکی خارجہ پالیسی ان گروہوں کے درمیان اختلافات کا باعث بنی۔
ماضی کی نسبت گروہی اختلافات اس وقت اپنے پورے عروج پر ہیں اور پولیس کا تشدد سمارٹ فون کے کیمروں کے ذریعے سے کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ اسی ہفتے امریکی ریاست آرکنسا سے ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں دکھائی دیتا ہے کہ تین پولیس والے ایک آدمی کو نہایت سخت دلی کے ساتھ لاتیں اور گھونسے مار رہے ہیں جو زمین پر بلا حس و حرکت لیٹا ہوا ہے۔ پولیس والے اور ملزم سب گورے ہیں۔ اس ملزم کے ساتھ بدسلوکی اور اس کے انسانی حقوق سلب کیے جانے پر اس طرح احتجاج نہیں ہوا جیسے کہ ریاست فلوریڈا کی ایک ویڈیو وائرل ہونے پر ہوا۔ اس ویڈیو میں دکھائی دیتا ہے کہ ایک پولیس والا ایک کالی عورت پر چیخ اور چلا رہا ہے، اس عورت کے ساتھ اس کے تین بچے بھی ہیں، وہ اس کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر پیچھے سے ہتھکڑی لگا رہا ہے۔ لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کے واقعات ہر آتے دن کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں اور نوجوانوں کی اکثریت میں نئی قسم کے فرہود (1941 میں بغداد میں یہودیوں کے قتل عام اور لوٹ مار کا واقعہ) کا فیشن بڑھ رہا ہے، جس کے زیر اثر وہ دن دیہاڑے سٹوروں میں لوٹ مار کر رہے ہیں۔ امریکی جیلوں میں اس وقت لگ بھگ 20 لاکھ کے قیدی ہیں جو پوری دنیا کہ قیدیوں کا پانچواں حصہ ہیں۔
چین جیسے کمیونسٹ ملک میں 15 لاکھ کے قریب قیدی ہیں جبکہ صورت حال یہ ہے کہ چین کی آبادی امریکی سے چار گنا زیادہ ہے۔ امریکی قیدیوں میں سے 40 فی صد کالے ہیں جبکہ امریکہ میں ان کی کل آبادی 14 فی صد سے زیادہ نہیں ہے۔ میں اب تک اس امریکہ کو اپنے دل کے قریب محسوس کرتا ہوں جسے میں نے اعلیٰ تعلیم کے دوران دیکھا تھا۔ میری نسل امریکہ کے اس عظیم کردار کو کبھی نہیں بھول سکتی جو اس نے 1990 میں عراق کے کویت پر غاصبانہ قبضے کے دوران ادا کیا۔ میرا خیال ہے کہ امریکہ اپنی فطرت، آب وہوا اور جغرافیے کے اعتبار سے دنیا کا خوب صورت ترین ملک ہے۔ اس ملک میں گاڑی کے دوران سیاحت سے مجھے جو لطف وانبساط حاصل ہوا، ایسا لطف زندگی میں کبھی نہیں آیا۔ لیکن میرا خیال جس امریکہ سے میں اپنی بھری جوانی میں آشنا ہوا تھا، وہ اس وقت کہیں موجود نہیں ہے اور اسے میں مدتوں پہلے چھوڑ آیا تھا۔ پھر میں اپنے آپ سے کہتا ہوں، شاید امریکہ نہیں بدلا، امریکہ تو وہی امریکہ ہے، شاید میں ہی بوڑھا ہو گیا ہوں اور میرا چیزوں کو دیکھنے کا زاویہ بدل گیا ہے۔
جو بائیڈن نے گذشتہ ہفتے صدارتی انتخابات میں فتح کے بعد ڈیلاویئر میں اپنی پہلی تقریر میں اعلان کیا کہ ان کا مقصد امریکی معیشت کو ’بحال‘ کرنا ہے۔ لیکن امریکی معیشت کو کتنا نقصان ہو چکا ہے؟ امریکہ کے اگلے صدر کی معاشی ترجیحات کیا ہونی چاہییں؟ اور یہ معلوم ہوتے ہوئے کہ بائیڈن ایک منقسم کانگریس کے وارث ہوں گے جو ان کے کام کرنے کی آزادی کو محدود کر سکتی ہے، ایسے میں انہیں کیا کرنا چاہیے؟ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکی معیشت کی بحالی کا ابھی دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے۔ دوسری سہ ماہی میں تیزی سے گرنے کے بعد امریکی معیشت نے 2020 کی تیسری سہ ماہی میں اپنے قدم مضبوط کیے تھے لیکن اقتصادی سرگرمی کی سطح اب بھی پچھلے سال کے آخر کے عروج سے 3.5 فیصد پیچھے ہے اور حالیہ اعداد و شمار میں اس کی رفتار مزید کم ہونے کے آثار نمایاں ہیں۔
کرونا ویکسین میں پیش رفت کی خبر سے مارکیٹ میں سٹاکس کی قیمتیں بڑھ گئیں اس امید کے ساتھ کہ اس سے سفر کی بحالی سمیت معاشی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو سکیں گی لیکن یہ وبا امریکہ میں ایک بار پھر بڑھ رہی ہے جیسا کہ پچھلے ہفتے روزانہ نئے کیسز ایک لاکھ کی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس کے صدر ایڈم پوزن کہتے ہیں: ’(بائیڈن کے لیے) پہلا قدم یقیناً وہی ہے جس کا انہوں نے پہلے ہی اعلان کیا تھا یعنی اس وبا سے نمٹنے کا پروگرام۔ معیشت کی بحالی کے لیے یہی سب سے بڑا کام ہے جو وہ کر سکتے ہیں۔ فیڈرل ریزرو کے بورڈ آف گورنرز کے سابق ممبر اور اب شکاگو بوتھ سکول آف بزنس سے وابستہ رینڈل کروزنر نے زور دیا ہے کہ امریکہ کا ٹیسٹنگ اور ٹریکنگ انفراسٹرکچر خاطر خواہ نگرانی اور وبا کو قابو کرنے کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے کہا: ’ڈیٹا اکٹھا کرنے اور آگاہی پر مناسب اخراجات اور صحت پر مناسب اخراجات یہ وہ چیزیں ہیں جو معیشت کو راہ پر لانے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہوں گی۔
بہت سے ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگلا قدم بے روزگاروں کے لیے مدد ہے۔ امریکہ میں بے روزگاری کی شرح اپریل میں 15 فیصد کی بلند ترین سطح سے نیچے آچکی ہے لیکن یہ اب بھی تقریباً سات فیصد کی سطح پر موجود ہے اور ایک کروڑ دس لاکھ افراد اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بے روزگاری کی حقیقی سطح بتائی گئی تعداد سے کئی زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ مزید یہ کہ ملازمین کی معاشی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے۔ کانگریس نے مارچ میں بے روزگار ملازمین کی مالی مدد اور گرتے ہوئے کاروبار کو سہارا دینے کے لیے امریکی جی ڈی پی کے 10 فیصد مالیت کی دا کیئرز (کورونا وائرس ایڈ، ریلیف اینڈ اکنامک سکیورٹی) ایکٹ کی منظوری دی تھی لیکن اس پیکج کے تحت دی جانے والی امداد موسم گرما تک ہی جاری رہ پائی اور صدر ٹرمپ اور ڈیموکریٹ کے اکثریتی ایوان نمائندگان کے مابین اس کی توسیع کے لیے بات چیت انتخابات سے ہفتوں پہلے ہی ختم ہو گئی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ بیشتر معاشی ماہرین کے خیال میں جو بائیڈن کی ترجیح اس پیکج میں توسیع ہونا چاہیے جس میں امریکی ریاستی حکومتوں کے لیے مالی اعانت بھی شامل ہے۔ جو بائیڈن 20 جنوری 2021 سے پہلے باضابطہ طور پر صدارت کا عہدہ نہیں سنبھال سکتے لیکن اس کے باوجود وہ وائٹ ہاؤس کا چارج لینے سے پہلے بھی کانگریس پر ممکنہ طور پر آنے والے ہفتوں میں اس حوالے سے کارروائی کرنے کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ انتخابات سے قبل ایوان نمائندگان میں ڈیمو کریٹس دو ٹریلین ڈالر کے امدادی پیکج کی تجویز دیتے رہے ہیں لیکن ری پبلکن کی زیرقیادت سینیٹ اور ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو اس لیے مسترد کر دیا تھا کیوں کہ ان کے مطابق اس سے ڈیموکریٹ کی حمایت کرنے والے شہروں اور ریاستوں کو زیادہ فائدہ ہو سکتا تھا۔
ماہرین کے مطابق آئندہ آنے والے کسی بھی پیکج کی مالیت ایک ٹریلین ڈالر کے قریب ہو گی اور اس میں سخت دباؤ کا سامنا کرنے والی امریکی ریاستی حکومتوں کے لیے مالی مدد شامل نہیں ہو گی۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ امداد ناکافی ہو گی لیکن کچھ نہ ہونے سے پھر بھی بہتر ہے۔ ایڈم پوزن کہتے ہیں: ’اگر (بے روزگاروں کے لیے) اس کے علاوہ بھی کچھ نہ کیا گیا تو ان کو بہت زیادہ غیرضروری تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا: ’اگر ہمیں کوئی ایسی چیز مل جاتی ہے جس میں بے روزگاری میں توسیع پر زور دیا جائے اور یہ 750 ارب ڈالر تک ہوتا ہے تو ہم مزید مالی مدد کے بغیر صورت حال پر قابو پا سکتے ہیں لیکن اس کے لیے وقت انتہائی اہم ہے۔‘ فوری مدد کے علاوہ ایڈم پوزن سمجھتے ہیں کہ آنے والی بائیڈن انتظامیہ کی اولین ترجیح ڈونلڈ ٹرمپ کے بہت سے نقصان دہ ایگزیکٹو آرڈرز، خاص طور پر ماحولیات اور ہیلتھ کیئر کے حوالے سے آرڈرز، کا خاتمہ ہونا چاہیے اور ان کے مطابق بائیڈن حلف لینے کے 48 گھنٹوں کے اندر یک جنبش قلم سے ایسا کر سکتے ہیں۔
بائیڈن کے منشور میں وفاقی گرین انرجی کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور امیروں پر ٹیکسوں میں اضافے جیسے اہم قدم بڑھانے کے منصوبے شامل تھے لیکن اس میں سے بیشتر ناقابل عمل ہوں گے، اگر توقع کے مطابق ری پبلکن سینیٹ میں اکثریت برقرار رکھتے ہیں اور نئی قانون سازی کو رد کر دیں۔ ایڈم پوسن کہتے ہیں: ’بائیڈن کو بہت سارا کام ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے کرنا ہو گا یا نیم آزاد ایجنسیوں میں تقرریوں کے ذریعے۔‘ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی معاشی قانون سازی کے لیے کارپوریٹ ٹیکس اصلاحات جیسے کچھ شعبوں میں ڈیموکریٹس اور ری پبلکن کے مابین کچھ حد تک رضامندی ایک بہترین امید ثابت ہو سکتی ہے۔ کروزنر نے کہا: ’ری پبلکن سینیٹ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ہو سکتا ہے جس کے ذریعے ایک ایسا ٹیکس سسٹم بنایا جائے جو سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی بڑھائے اور ریونیو بھی جمع کرے۔
ایڈم پوزن سمجھتے ہیں کہ امریکی ملٹی نیشنل کمپینیوں، خاص طور پر بڑی ٹیک کمپنیوں، کو اپنا منافع بیرون ملک رجسٹر کروانے سے روکنا ایک ایسا معاملہ ہو سکتا ہے جس پر ڈیموکریٹ اور ری پبلکن ساتھ کام کر سکیں۔ اس کے لیے وہ ڈیجیٹل جائنٹس کی اجارہ داری کے خلاف ضابطے بنانے پر بھی کام کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’اس کو ری پبلکنز کی سپورٹ ملے گی کیونکہ وہ ٹیک کو اپنا دوست نہیں سمجھتے، ہو سکتا ہے آپ کو قانون سازی بھی دیکھنے کو ملے۔‘ زیادہ تر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بائیڈن صدر ٹرمپ کی نقصان دہ تجارتی جنگوں کو ختم کر کے امریکی معیشت کی مدد کر سکتے ہیں۔ وہ صدر ٹرمپ کی جانب سے یورپی اور ایشیائی ممالک کر لگائے گئے ٹیرف ختم کو سکتے ہیں تاہم چین سے ٹیکنالوجی کی منتقلی کے حوالے سے پابندیاں شاید لاگو رہیں کیونکہ دونوں پارٹیوں میں چین مخالف خیالات ہیں۔
امریکی ٹریژری سیکرٹری لیری سمرز کہتے ہیں: ’یہ تحفظ پسندی ختم کرنے کا ، تجارتی معاہدوں کو نافذ کرنے اور فنانس اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں ریگولیشن کے ایجنڈے لانے کا صحیح وقت ہے۔‘ تاہم وہ امریکی کارپوریشنز کے لیے نئے تجارتی معاہدوں کو قائم کرنے کی مخالف کرتے ہیں۔ کچھ کو یہ بھی لگتا ہے کہ بائیڈن ملک میں کاربن ٹیکس نافذ کرنے میں ناکام ہوں گے، لیکن انہیں اپنے منشور کے مطابق ان درآمدات پر نام نہاد بارڈر ایڈجسٹمنٹ ٹیکس لگانے پر بھی غور کرنا چاہیے جن کی پیداوار میں کاربن کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہو۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے تحت کیا جانا چاہیے نہ کہ اس کے خلاف۔ ماہرین امیگریشن کو بھی ایک اہم معاشی پالیسی قرار دیتے ہیں، جس کو صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے دبائے رکھا اور 2016 سے اب تک تارکین وطن کی تعداد 10 کروڑ سے کم ہو کر چھ لاکھ تک ہو گئی ہے۔
سابق صدر باراک اوباما کے معاشی مشیر جیسن فرمن نے کہا: ’امیگریشن پر تمام پابندیاں فوراً ختم ہو جانی چاہییں اور ان کی جگہ ایسی پالیسیاں آنی چاہییں جو موجودہ قانون کے مطابق ہوں۔‘ انہوں نے کہا: ’امریکی معیشت امیگریشن پر پابندیوں سے طویل مدتی نقصان برداشت کر رہی ہے کیونکہ یہ پالیسیاں باصلاحیت افراد کو امریکہ آنے اور اس کی معاشی ترقی میں ہاتھ ڈالنے سے روک رہی ہیں۔ تاہم جہاں بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے یہ سب اقدامات مدد گار ہوں گے، وہیں کچھ ماہرین معیشت کا ماننا ہے کہ یہ امریکی معیشت کی ’بحالی‘ کے لیے ناکافی ہوں گے، جو ایک لمبے عرصے سے عدم مساوات، کم سرمایہ کاری، ناکافی تعلیم اور صحت اور ٹیکس سسٹم کا شکار ہے۔
امریکہ میں کرونا وائرس کا بحران شروع ہونے کے بعد سے ایک لاکھ 43 ہزار سے زیادہ کاروبار بند ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 35 فیصد یا لگ بھگ 50 ہزار کاروباروں کے دوبارہ کھلنے کا امکان نہیں ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس بحران نے ملک بھر میں چھوٹے کاروباروں کو کس بری طرح متاثر کیا ہے۔ یہ ڈیٹا امریکی کمپنی یلپ نے جاری کیا ہے جو کاروباروں کے بارے میں عوامی آرا کو اپنی ویب سائٹ اور فون ایپ پر شائع کرتی ہے۔ اس نے ان کاروباروں کو شمار کیا ہے جن کے مالکان سے یکم مارچ سے 9 جون کے دوران بتایا کہ وہ کام بند کر چکے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے منفی اثر کے باعث بند کاروباروں کی تعداد محض ایک تخمینہ ہے اور یہ ممکن ہے کہ حقیقی تعداد زیادہ ہو۔ یہ ممکن ہے کہ بہت سے کاروبار یلپ پر نہ ہوں یا ان کے مالکان نے اپنی صورت حال کو اپ ڈیٹ نہ کیا ہو۔
کرونا وائرس بحران کی وجہ سے ریٹیلرز اور ریسٹورنٹس نے سماجی فاصلے کو ممکن بنانے کے اقدامات کیے ہیں اور کوشش کی ہے کہ رابطے کو کم از کم رکھ کر کام کیا جائے لیکن پھر بھی یہ دونوں شعبے سب سے زیادہ متاثر کاروباروں میں شامل ہیں۔ یکم مارچ کے بعد بند کیے گئے ریسٹورنٹس میں سے نصف کے مالکان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کاروبار مستقلاً بند کر دیا ہے جب کہ ایک چوتھائی سے زیادہ ریٹیلرز کا کاروبار دوبارہ کھولنے کا ارادہ نہیں ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یلپ کے ڈیٹا سائنس کے نائب صدر جسٹن نارمن نے کہا کہ اگرچہ مقامی معیشتیں کھلنا شروع ہو گئی ہیں لیکن جو کاروبار بند ہونے پر مجبور ہوئے، ان کی مکمل واپسی میں طویل عرصہ لگے گا۔ کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں معیشت کا زوال جاری ہے اور دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ سب سے زیادہ متاثر دکھائی دیتی ہے۔ محکمہ محنت کے اعداد و شمار کے مطابق 3 ماہ میں 4 کروڑ 40 لاکھ امریکی اپنے ذریعہ آمدن سے ہاتھ دھو چکے ہیں اور بیروزگاری کی شرح 29 فیصد کو پہنچ چکی ہے۔
امریکی فیڈرل ریزرو کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے سبب امریکی معیشت پر بہت برا اثر پڑ ہے اور اس سے بھی بدترین وقت ابھی اس کا منتظر ہے۔ جرمنی میں روزگار سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کیے جائیں گے جس سے معلوم ہو سکے گا کہ جاب مارکیٹ پر کورونا وبا کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ عالمی مالیاتی بحران کے سبب تقریبا ساڑھے چودہ لاکھ جرمن شہریوں نے اس اسکیم کے تحت فائدے کے لیے درخواستیں دی تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار ریسٹورنٹ، ہوٹلز اور نجی کلینک جیسے چھوٹے کاروباریوں کی جانب بڑی تعداد میں درخواستوں کے آنے کی توقع ہے اس لیے اس بار یہ تعداد پہلے سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ جرمن وزیر خزانہ پیٹیر التمیر نے پہلے ہی بے روزگاری میں زبردست اضافے کی بات کہی ہے۔ مارچ میں جرمنی میں بے روزگاری کی شرح پانچ اعشاریہ ایک فیصد تھی۔
امریکا کی صورت حال
ان خبروں کے درمیان کہ گزشتہ ایک عشرے کے دوران امریکا کی مجموعی پیداوار میں سب زیادہ گرواٹ درج کی گئی ہے، امریکی فیڈرل ریزرو نے معاشی طور پر مزید برے وقت کے لیے متنبہ کیا ہے۔ امریکا کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر سب سے بڑی معیشت کی ترقی چار اعشاریہ آٹھ فیصد کی سالانہ شرح سے کم ہوتی جارہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے عوام پر گھروں تک محدود رہنے سے متعلق جو پابندیاں عائد ہیں اس میں مزید توسیع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے یہ پابندیاں گزشتہ 45 روز سے نافذ ہیں اور اس سے متعلق ریاستوں کو گائیڈ لائنزجاری کی جائیں گی تاکہ جو ریاستیں معیشتوں کو کھولنا چاہتی ہیں وہ ایسا کرنے کی مجاز ہوں۔
ادھر جنوبی کوریا میں فروری میں اس وبا کے پھیلنے کے آغاز سے اب تک یہ پہلا موقع ہے کہ کورنا وائرس سے متاثر ہونے کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا ۔ اس دوران ایک اچھی خبر یہ ہے کہ یوروپ میں جن ممالک میں کورونا وائرس کے سبب لاک ڈاؤن تھا وہاں فضائی آلودگی میں کافی کمی آئی ہے اور ہوا کی کوالٹی بہتر ہوئی ہے۔ اس سے متعلق شائع ہونے والی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کی وجہ سے تقریباً گیارہ ہزار قبل از وقت اموات کم ہوئی ہیں۔ لاک ڈاؤن کے سبب کروڑوں افراد گھروں میں رہے اور فیکٹریاں بند رہیں جس کی وجہ سے فضائی آلودگی میں کافی کمی دیکھی گئی ہے۔