Category Archives: Urdu Poetry
طارق کی دعا…( اندلس کے میدانِ جنگ میں )
طارق کی دعا
( اندلس کے میدانِ جنگ میں )
یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دو نیم انکی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ انکی ہیبت سے رائی
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذتِ آشنائی
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
خیاباں میں ہے منتظر لالہ کب سے
قبا چاہئیے اس کو خونِ عرب سے
کیا تو تو نے صحرا نشینوں کو یکتا
خبر میں،نظر میں،اذانِ سحر میں
طلب جس کی صدیوں سے تھی زندگی کو
وہ سوز اس نے پایا انھی کے جگر میں
کشادِ درِدل سمجھتے ہیں اس کو
ہلاکت نہیں موت انکی نظر میں
دلِ مردِ مومن میں پھر زندہ کردے
وہ بجلی کہ تھی نعرہ لا تذر میں
عزائم کو سینے میں بیدار کردے
نگاہِ مسلماں کو تلوار کردے !
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں…..اقبال
ہمارے پاؤں میںجو رستہ تھا…سلیم کوثر
ہمارے پاؤں میںجو رستہ تھا
رستے میں پیڑ تھے
پیڑوں پر جتنی طائروں کی ٹولیاں ہم سے ملا کرتی تھیں
اب وہ اڑٹے اڑتے تھک گئی ہیں
وہ گھنی شاخیں جو ہم پے سایہ کرتی تھیں
وہ سب مرجھا گئی ہیں
اسے کہنا
لبوں پر لفظ ہیں
لفظوں پر کوئی دستاں قصہ کہانی جو اسے اکثر سناتے تھے
کسے جا کر سنایئں گے
بتایئں گے کہ ہم محراب ابرو میں ستارے ٹانکنے والے
درلب بوسہء اظہار کی دستک سے اکثر کھولنے والے
کبھی بکھری ہوئی زلفوں میںہم
مہتاب کے گجرے بنا کر باندھنے والے
چراغ اور آیئنے کے درمیاں کب سے سر ساحل
کھڑے موجوںکو تکتے ہیں
اسے کہنا
اسے ہم یاد کرتے ہیں
اسے کہنا ہم آکر خود اسے ملتے مگر مستقل بدلتے
موسموں کے خون میں رنگین ہیں ہم
ایسے بہت سے موسموںکے درمیاں تنہا کھڑے ہیں
جانے کب بلاوا ہو! ہم میں آج بھی اک عمر کی
ورافتگی اور وحشتوں کا رقص جاری ہے ،وہ بازی جو
بساط دل پہ کھیلی تھی ابھی ہم نے جیتی ہے
نہ ہاری ہے
اسے کہنا
کبھی ملنے چلا آئے
اسے ہم یاد کرتے ہیں
سلیم کوثر
ہمارے پاؤں میںجو رستہ تھا
رستے میں پیڑ تھے
پیڑوں پر جتنی طائروں کی ٹولیاں ہم سے ملا کرتی تھیں
اب وہ اڑٹے اڑتے تھک گئی ہیں
وہ گھنی شاخیں جو ہم پے سایہ کرتی تھیں
وہ سب مرجھا گئی ہیں
اسے کہنا
لبوں پر لفظ ہیں
لفظوں پر کوئی دستاں قصہ کہانی جو اسے اکثر سناتے تھے
کسے جا کر سنایئں گے
بتایئں گے کہ ہم محراب ابرو میں ستارے ٹانکنے والے
درلب بوسہء اظہار کی دستک سے اکثر کھولنے والے
کبھی بکھری ہوئی زلفوں میںہم
مہتاب کے گجرے بنا کر باندھنے والے
چراغ اور آیئنے کے درمیاں کب سے سر ساحل
کھڑے موجوںکو تکتے ہیں
اسے کہنا
اسے ہم یاد کرتے ہیں
اسے کہنا ہم آکر خود اسے ملتے مگر مستقل بدلتے
موسموں کے خون میں رنگین ہیں ہم
ایسے بہت سے موسموںکے درمیاں تنہا کھڑے ہیں
جانے کب بلاوا ہو! ہم میں آج بھی اک عمر کی
ورافتگی اور وحشتوں کا رقص جاری ہے ،وہ بازی جو
بساط دل پہ کھیلی تھی ابھی ہم نے جیتی ہے
نہ ہاری ہے
اسے کہنا
کبھی ملنے چلا آئے
اسے ہم یاد کرتے ہیں
سلیم کوثر







