تحریک پاکستان کے اہم رہنما، شاعر مشرق، علامہ اقبال

 نو نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال 20ویں صدی کی نابغہ روزگار شخصیات میں سے ایک تھے، وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے، علامہ ڈاکٹر محمد اقبال محض ایک فلسفی شاعر ہی نہیں بلکہ انسان کے انسان کے ہاتھوں استحصال کے بھی خلاف تھے۔ وہ چاہتے تھے انسان بلا تمیز رنگ و نسل اور مذہب ایک دوسرے کے ساتھ اچھا رویہ روا رکھیں، باہمی احترام اور محبت سے وابستہ رہیں کہ یہی منشا رب کائنات ہے، پاکستانی کی نئی نسل بھی اقبال کی احترام آدمیت کی سوچ کو سراہتی ہے۔ علامہ ایک طرف امت مرحوم کا نوحہ کہتے ہیں تو دوسری طرف وہ مسلم نوجوان کو ستاروں پر کمند ڈالنے کی ترغیب دیتے نظر آتے ہیں، اقبال قوم کو خانقاہوں سے نکل کر میدان عمل میں اترنے پر ابھارتے ہیں وہ اسلامی دنیا میں روحانی جمہوریت کا نظام رائج کرنے کے داعی تھے۔

علامہ اقبال کی شاعری نے برصغیر کے مسلمانوں کوغفلت سے بیدار کر کے نئی منزلوں کا پتہ دیا، ان کی شاعری روایتی انداز و بیاں سے یکسر مختلف تھی کیونکہ ان کا مقصد بالکل جدا اور یگانہ تھا، انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی جو تحریکِ آزادی میں بے انتہا کارگر ثابت ہوئی۔ علامہ اقبال کے شعری مجموعوں میں بانگ درا، ضرب کلیم، بال جبرئیل، اسرار خودی، رموز بے خودی، پیام مشرق، زبور عجم، جاوید نامہ، پس چے چہ باید کرد اے اقوام شرق اور ارمغان حجاز کے نام شامل ہیں۔ علامہ اقبال نے تمام عمر مسلمانوں میں بیداری و احساسِ ذمہ داری پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھیں مگر ان کوششوں کی عملی تصویر دیکھنے سے پہلے ہی وہ 21 اپریل 1938 کو خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

طارق کی دعا…( اندلس کے میدانِ جنگ میں )

طارق کی دعا

( اندلس کے میدانِ جنگ میں )
یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دو نیم انکی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ انکی ہیبت سے رائی
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذتِ آشنائی
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
خیاباں میں ہے منتظر لالہ کب سے
قبا چاہئیے اس کو خونِ عرب سے
کیا تو تو نے صحرا نشینوں کو یکتا
خبر میں،نظر میں،اذانِ سحر میں
طلب جس کی صدیوں سے تھی زندگی کو
وہ سوز اس نے پایا انھی کے جگر میں
کشادِ درِدل سمجھتے ہیں اس کو
ہلاکت نہیں موت انکی نظر میں
دلِ مردِ مومن میں پھر زندہ کردے
وہ بجلی کہ تھی نعرہ لا تذر میں
عزائم کو سینے میں بیدار کردے
نگاہِ مسلماں کو تلوار کردے !

دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں…..اقبال

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لبِ بام ابھی
خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میں
مرے مولا مجھے صاحب جنوں کر
خرد نے کہہ بھی دیا لا الہٰ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں


Enhanced by Zemanta

ہمارے پاؤں میں‌جو رستہ تھا…سلیم کوثر

ہمارے پاؤں میں‌جو رستہ تھا

رستے میں پیڑ تھے

پیڑوں پر جتنی طائروں کی ٹولیاں ہم سے ملا کرتی تھیں

اب وہ اڑٹے اڑتے تھک گئی ہیں

وہ گھنی شاخیں جو ہم پے سایہ کرتی تھیں

وہ سب مرجھا گئی ہیں

اسے کہنا

لبوں پر لفظ ہیں

لفظوں پر کوئی دستاں قصہ کہانی جو اسے اکثر سناتے تھے

کسے جا کر سنایئں گے

بتایئں گے کہ ہم محراب ابرو میں ستارے ٹانکنے والے

درلب بوسہء اظہار کی دستک سے اکثر کھولنے والے

کبھی بکھری ہوئی زلفوں میں‌ہم

مہتاب کے گجرے بنا کر باندھنے والے

چراغ اور آیئنے کے درمیاں کب سے سر ساحل

کھڑے موجوں‌کو تکتے ہیں

اسے کہنا

اسے ہم یاد کرتے ہیں

اسے کہنا ہم آکر خود اسے ملتے مگر مستقل بدلتے

موسموں کے خون میں رنگین ہیں ہم

ایسے بہت سے موسموں‌کے درمیاں تنہا کھڑے ہیں

جانے کب بلاوا ہو! ہم میں آج بھی اک عمر کی

ورافتگی اور وحشتوں کا رقص جاری ہے ،وہ بازی جو

بساط دل پہ کھیلی تھی ابھی ہم نے جیتی ہے

نہ ہاری ہے

اسے کہنا

کبھی ملنے چلا آئے

اسے ہم یاد کرتے ہیں

سلیم کوثر