کیا خبر کیا سزا مجھ کو ملتی ، میرےآقا نےعزت بچا لی از: پروفیسر سید اقبال عظیم

کیا خبر کیا سزا مجھ کو ملتی ، میرےآقا نےعزت بچا لی
از: پروفیسر سید اقبال عظیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ
کیا خبر کیا سزا مجھ کو ملتی ، میرے آقا (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) نےعزت بچالی
فردِ عصیاں مری مجھ سے لےکر، کالی کملی میں اپنی چھپالی
وہ عطا پر عطا کرنےوالے اور ہم بھی نہیں ٹلنےوالے
جیسی ڈیوڑھی ہے ویسے بھکاری، جیسا داتا ہے ویسےسوالی
میں گدا ہوں مگر کس کےدر کا؟ وہ جو سلطان کون و مکاں ہیں
یہ غلامی بڑی مستند ہی، میرے سر پر ہے تاج بلالی
میری عمر رواں بس ٹھہر جا، اب سفر کی ضرورت نہیں ہے
ان (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) کےقدموں پہ میری جبیں ہے اور ہاتھوں میں روضےکی جالی
اِس کو کہتےہیں بندہِ نوازی، نام اِس کا ہے رحمت مزاجی
دوستوں پر بھی چشمِ کرم ہے، دشمنوں سےبھی شیریں مقالی
میں مدینےسےکیا آگیا ہوں، زندگی جیسےبجھ سی گئی ہے
گھر کےاندر فضا سونی سونی، گھر کےباہر سماں خالی خالی
میں فقط نام لیوا ہوں ان (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) کا، ان (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) کی توصیف میں کیا کروں گا
میں نہ اقبال خسرو، نہ سعدی ، میں نہ قدسی نہ جامی، نہ حالی

Enhanced by Zemanta

فرض کرو

،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرض کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،
فرض کرو ہم اہل وفا ہوں فرض کرو دیوانے ہوں
فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں
فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو
فرض کرو ابھی اور ہو اتنی آدھی ہم نے چھپائی ہو
فرض کرو تمھیں خوش کرنے کے ڈھونڈھے ہم نے بہانے ہوں
فرض کرو یہ نین تمھارے سچ مچ کے میخانے ہوں
فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا، جھوٹی پیت ہماری ہو
فرض کرو اس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پہ بھاری ہو
فرض کرو یہ جوگ بجوگ ہم نے ڈھونگ رچایا ہو
فرض کرو بس یہی حقیقت باقی سب کچھ مایا ہو
ابن انشاء

Enhanced by Zemanta

جنھیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ھوں میں

جنھیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ھوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ھوں میں

مجھے نمک کی کان میں مٹھاس کی تلاش ھے
برہنگی کے شہر میں لباس کی تلاش ھے

وہ برف باریاں ہوئیں کہ پیاس خود ہی بجھھ گئی
میں ساغروں کو کیا کروں کہ پیاس کی تلاش ھے

یہ کتنے پھول شاخچوں پہ مر گئے یہ کیا ھوا
یہ کتنے پھول ٹوٹ کے بکھر گئے یہ کیا ھوا

پڑی وہ تیز روشنی کہ دمک اٹھی روش روش
مگر لہو کے داغ بھی ابھر گئے یہ کیا ھوا

انہیں چھپاوں کسطرح نقاب ڈھونڈتا ھوں میں

Ibne Insha most famous peotry

ابن انشا

انشا جي اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر ميں جي کو لگانا کيا

وحشي کو سکوں سےکيا مطلب، جوگي کا نگر ميں ٹھکانا کيا
اس وک کے دريدہ دامن کو، ديکھو تو سہي سوچو تو سہي

جس جھولي ميں سو چھيدا ہوئے، اس جھولي کا پھيلانا کيا

شب بيتي، چاند بھي ڈوب چلا، زنجير پڑي داوازے پہ
کيوں دير گئے گھر آئے، سجني سے کرو گے بہانا کيا
پھر ہجر کي لمبي رات مياں، سنجوگ کي تو يہي ايک گھڑي
جو دل ميں ہے لب پر آنے دو، شرمانا کيا گھبرانا کيا
اس حسن کے سچے موتي کو ہم ديکھ سکيں پر چھونا نہ سکيں
جسے ديکھ سکيں پر چھو نہ سکيں وہ دولت کيا وہ خزانہ کيا
اس کو بھي جلا دکھتے ہوئے من ايک شعلہ لال بھھوکا بن
يوں آنسو بن نہ جانا کيا يوں ماني ميں جانا کيا
جب شہر کے لوگ نہ رستا ديں، کيوں بن ميں نہ جا بسرام کرے
ديوانوں کي سي نہ بات کرےتو اور کرے ديوانہ کيا
Ibne Insha most famous peotry