فرض کرو

،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرض کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،
فرض کرو ہم اہل وفا ہوں فرض کرو دیوانے ہوں
فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں
فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو
فرض کرو ابھی اور ہو اتنی آدھی ہم نے چھپائی ہو
فرض کرو تمھیں خوش کرنے کے ڈھونڈھے ہم نے بہانے ہوں
فرض کرو یہ نین تمھارے سچ مچ کے میخانے ہوں
فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا، جھوٹی پیت ہماری ہو
فرض کرو اس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پہ بھاری ہو
فرض کرو یہ جوگ بجوگ ہم نے ڈھونگ رچایا ہو
فرض کرو بس یہی حقیقت باقی سب کچھ مایا ہو
ابن انشاء

Enhanced by Zemanta

..لوگ رخصت ہوۓ کب یاد نہیں ناصر کاظمی…

سفرِ منزلِ شب یاد نہیں
لوگ رخصت ہوۓ کب یاد نہیں
اوّلیں قُرب کی سرشاری میں
کتنے ارماں تھے جو اب یاد نہیں
دل میں ہر وقت چبھن رہتی تھی
تھی مجھے کس کی طلب یاد نہیں
وہ ستارہ تھی کہ شبنم تھی کہ پھول
ایک صورت تھی عجب یاد نہیں
کیسی ویراں ہے گزرگاہِ خیال
جب سے وہ عارض و لب یاد نہیں
بھولتے جاتے ہیں ماضی کے دیار
یاد آئیں بھی تو سب یاد نہیں
ایسا اُلجھا ہوں غمِ دنیا میں
ایک بھی خوابِ طرب یاد نہیں
رشتۂ جاں تھا کبھی جس کا خیال
اُس کی صورت بھی تو اب یاد نہیں
یہ حقیقت ہے کہ احباب کو ہم
یاد ہی کب تھے جو اب یاد نہیں
یاد ہے سیرِ چراغاں ناصر
دل کے بجھنے کا سبب یاد نہیں
ناصر کاظمی…

Enhanced by Zemanta

جدا ہونے کے صدمے کو

جدا ہونے کے صدمے کو
اگرچہ ہنس کے سہنا تھا
اسے رسمی ہی سہی لیکن
خدا حافظ تو کہنا تھا
زبان میں اتنی طاقت تھی
لیکن صحرا کی وحشت تھی
میری بچپن سے عادت تھی
مجھے خاموش رہنا تھا
وہ کچا گھر وہ بارش میں
ہماری جاگتی آنکھیں
ہمیں جاتی ہوئی برکھا سے
کچھ بہ کچھ تو کہنا تھا
ہم رسم وفا اس سے
نبھاتے بھی کہاں تک
ہمارے خواب کے گھر تھے
ہمیں تو ان میں ہی رہنا تھا

Enhanced by Zemanta

اے صُبح کے غمخوارو – کوہِ ندا ۔۔ مصطفیٰ زیدی

 
اے صُبح کے غمخوارو ، اِس رات سے مت ڈرنا
جس ہات میں خنجر ہے اس ہات سے مت ڈرنا
خورشید کے متوالو ذرات سے مت ڈرنا
چنگیز نژادوں کی اوقات سے مت ڈرنا
ہاں شامل ِ لب ہو گی نفرت بھی ، ملامت بھی
یارانہ کدورت بھی ، دیرینہ عداوت بھی
گزرے ہُوئے لمحوں کی مرحوم رفاقت بھی
قبروں پہ کھڑے ہو کر جذبات سے مت ڈرنا
آباد ضمیروں کو اُفتاد ِ ستم کیا ہے
آسودہ ہو جب دل پھر تکلیف ِ شکم کیا ہے
تدبیر ِ فلک کیا ہے ، تقدیر ِ اُمم کیا ہے
مَحرم ہو تو دو دن کے حالات سے مت ڈرنا
رُوداد ِ سر ِ دامن کب تک نہ عیاں ہو گی
نا کردہ گناہوں کے منہ میں تو زباں ہو گی
جس وقت جرائم کی فہرست بیاں ہو گی
اُس وقت عدالت کے اثبات سے مت ڈرنا

Enhanced by Zemanta