ناپاک امریکی عزائم : پرانی غلطیاں پھر نہ دہرائیں

گزشتہ 16برسوں سے امریکی ایجنڈے کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر جنگ لڑتے چلے جانا پاکستان کیلئے تباہی اور خسارے کا سودا رہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے 22؍ اگست 2017 کے پاکستان دشمن پالیسی بیان کے بعد جو نیو گریٹ گیم کے تحت ناپاک امریکی عزائم کا آئینہ دار ہے، پاکستان نے جو ردّعمل ظاہر کیا ہے اس سے ریکارڈ تو درست ہو سکتا ہے، قوم کا مورال بھی کسی حد تک بلند ہو سکتا ہے مگر امریکہ کے مقاصد اور حکمت عملی میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ اس بات کے شواہد نظر آ رہے ہیں کہ دہشت گردی کی جنگ میں تعاون برقرار رکھنے کیلئے پاکستان کی سول و ملٹری لیڈرشپ پر مشتمل قومی سلامتی کمیٹی اور پارلیمنٹ نے جو مطالبات امریکہ سے کئے ہیں وہ بھی عملاً تسلیم نہیں کئے جائیں گے۔ امریکی سوچ یہ نظر آتی ہے کہ ماضی کی طرح بیرونی امداد اور بیرونی قرضوں کے حصول کیلئے پاکستان جلد ہی گھٹنے ٹیک دے گا۔ 25؍ نومبر 2009 کے امریکہ، بھارت مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ دونوں ممالک پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے تباہ کرنے کیلئے عملی تعاون کریں گے۔ پارلیمنٹ اور قومی سلامتی کمیٹی نے اس خطرے سے بچنے کیلئے امریکہ سے کوئی مطالبہ کیا ہی نہیں۔

پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں 22؍اکتوبر 2008 اور ایبٹ آباد آپریشن کے بعد 14؍ مئی 2011 کو متعدد قراردادیں منظور کی گئی تھیں اور 20؍ ستمبر 2011 کو کل جماعتی کانفرنس نے بھی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا مگر ڈالر کے حصول اور اقتدار کو طول دینے کیلئے امریکہ سے ان مطالبات کو منوانے کی سنجیدہ کوشش کی ہی نہیں گئی۔ چند حقائق پیش ہیں:

اکتوبر 2008 میں پاکستان کے سیکرٹری دفاع نے کہا کہ اگر امریکہ اقتصادی پابندیاں لگا دے تو پاکستان گھٹنے ٹیک دے گا۔

پاک افغان سرحد پر سلالہ میں وردی میں ملبوس ہماری فوج کے جوانوں کو نیٹو افواج نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا۔ جس کو صرف سازش قرار دیا گیا تھا۔ یہ ایک قومی سانحہ ہے کہ بعد میں کہا گیا کہ ہمیں نیٹو کو سامان کی ترسیل کی فراہمی بحال کرنے کی جلدی ہے تا کہ پاکستان کو پیسے ملنا شروع ہوں اور ایسا ہی کیا گیا۔

سوات اور وزیرستان میں آپریشنز امریکی دبائو پر کئے گئے تھے۔ ان تمام آپریشنز سے پہلے پاک افغان سرحد پر باڑ نہ لگانا بڑی غلطی تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کی یہ سوچ درست نہیں ہے کہ دہشت گردی سے جنگ میں امریکہ خطّے میں اپنے مقاصد گزشتہ برسوں میں حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ پاکستان کو غیر مستحکم کرنا امریکی حکمت عملی کا حصّہ ہے چنانچہ قومی سلامتی کمیٹی کے اس بیان سے اتفاق کرنا ممکن نہیں کہ امریکہ اب اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے۔ اب سے 15-16 برس قبل ہم نے ان ہی کالموں میں کہا تھا:

امریکہ طویل مدّت تک افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے چنانچہ حکمت عملی یہ ہے کہ امریکی افواج افغانستان میں مستقل طور پر رکھی جائیں (جنگ 30؍ اکتوبر 2001 اور 6؍ فروری 2002) آمر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔

امریکہ خطّے میں بھارت کی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے (جنگ 26؍فروری 2002)

اس جنگ کے نتیجے میں پاکستانی معیشت کو پہنچنے والے مجموعی نقصانات کا مجموعی حجم پاکستان کو مغرب سے ملنے والی امداد سے کہیں زیادہ ہو گا (جنگ 2؍ اکتوبر 2001)

امریکہ، پاکستان کے خلاف بہ وقت ضرورت استعمال کرنے کیلئے چارج شیٹ تیار کر رہا ہے (جنگ 25؍فروری 2003)

اب سے 15-16 برس قبل تحریر کئے گئے ہمارے یہ خدشات حرف بہ حرف درست ثابت ہوتے رہے ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کیا جانا چاہئے کہ امریکہ طالبان کو کمزور ضرور کرنا چاہتا ہے مگر ان کی طاقت پوری طرح ختم نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اس صورت میں افغانستان کے سابق اور موجودہ حکمراں ہی امریکہ کو شکریہ کے ساتھ ملک سے رخصت کرنے کی بات کریں گے۔ ہم ان ہی کالموں میں برس ہا برس سے کہتے رہے ہیں کہ امریکہ اس جنگ کو جیتنے کے بجائے اس جنگ کو طول دینا چاہتا ہے۔ ہلیری کلنٹن نے امریکی وزیر خارجہ کی حیثیت سے تسلیم کیا تھا کہ نائن الیون کے چند ماہ بعد امریکی افواج نے تورا بورا کی پہاڑیوں میں اسامہ بن لادن کو گھیر لیا تھا لیکن انہوں نے اسامہ کو بچ نکلنے اور پاکستان میں داخل ہونے کا موقع دیا اور یہ کہ القاعدہ کے دہشت گردوں کے افغانستان سے بچ نکلنے اور پاکستان میں داخل ہونے کا موقع دینے کی ذمہ داری امریکہ پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ممتاز امریکی دانشور نوم چومسکی کہتا ہے کہ امریکہ ڈرون حملے کر کے پاکستان میں انتہاپسندی کو فروغ دے رہا ہے اور یہ کہ امریکہ نے پاکستان کی اشرافیہ کو خرید لیا ہے۔

امریکی جنرل نکولس کا یہ حالیہ بیان بھی خطرے کی گھنٹی ہے کہ پشاور اور کوئٹہ میں طالبان شوریٰ موجود ہے۔ اس پس منظر میں قومی سلامتی کمیٹی اور پارلیمنٹ کو بھی اس بات پر غور کرنا ہو گا کہ اگر امریکہ اپنے مطالبات منوانے کیلئے عالمی مالیاتی اداروں اور برآمدات کے ضمن میں یورپی یونین کو منفی پیغامات بھیجے اور صرف چار ممالک (سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکہ اور برطانیہ) سے پاکستان آنے والی تقریباً 14؍ارب ڈالر سالانہ کی ترسیلات میں کمی کرانے کیلئے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے تو تمام تر مادّی وسائل ہونے کے باوجود موجودہ معاشی پالیسیوں کے تناظر میں کیا پاکستان ان جھٹکوں کا مقابلہ کر سکے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ چار برسوں میں پاکستان نے 97؍ ارب ڈالر کے تاریخی حجم کے تجارتی خسارے کا سامنا کیا ہے۔ ان ہی چار برسوں میں 74؍ارب ڈالر کی ترسیلات سے اس خسارے کو کم کیا گیا ہے۔ ان ترسیلات کا تقریباً 75 فی صد ان ہی چار ممالک سے آیا ہے۔ اس زبردست خطرے سے نمٹنے کیلئے پاکستان کو ادائیگیوں کا توازن بہتر بنانے اور اقتصادی دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے فوری طور پر قانون سازی کرنے کے ساتھ کچھ انقلابی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ ایران سے تنائو کی کیفیت ختم کرنا ہو گی اور چین سے مشاورت کے ساتھ مالی معاونت طلب کرنا ہو گی۔

اقتصادی دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے وفاق اور صوبوں کو ایک مقررہ رقم سے زائد ہر قسم کی آمدنی پر مؤثر طور سے ٹیکس عائد اور وصول کرنا ہو گا، معیشت کو دستاویزی بنانا ہو گا، جائیدادوں کے ڈی سی ریٹ کو مارکیٹ کے نرخوں کے برابر لانے کیلئے صوبوں کو اقدامات اٹھانا ہوں گے، انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 111(4)کو منسوخ کرنا ہو گا، ملکی پاناماز پر ہاتھ ڈالنا ہو گا، کالے دھن کو سفید ہونے سے روکنا ہو گا، اسمگلنگ پر قابو پانا ہو گا، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں تک رقوم کی فراہمی روکنا ہو گی اور بینکاری کے نظام کی اصلاح کرنا ہو گی۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر نے تجویز پیش کی ہے کہ لوٹی ہوئی دولت کو بیرونی ملکوں سے واپس لانے کیلئے ٹیکس ایمنسٹی دی جائے۔ یہ بات حیران کن ہے کیونکہ اس قسم کی تجاویز دینا اسٹیٹ بینک کے دائرۂ اختیار سے باہر ہے۔ یہ تجویز مسترد کی جانی چاہئے۔

اگر مندرجہ بالا تجاویز کو نیشنل ایکشن پلان کا حصّہ نہ بنایا گیا تو امریکہ کی جانب سے قومی سلامتی کمیٹی اور پارلیمنٹ کے مطالبات عملاً رد کئے جانے کے باوجود پاکستان دہشت گردی سے جنگ میں بدستور امریکہ کی معاونت کرتا رہے گا یعنی سب کچھ پہلے جیسا ہی ہوتا رہے گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ امریکی ایجنڈے کے مطابق دہشت گردی کی جنگ لڑنے اور پاکستان کی سالمیت و مفادات ان دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جائے۔

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

پاک امریکہ تعلقات کا فیصلہ کن موڑ ؟

70 برسوں سے پاکستان کبھی امریکہ اور کبھی روس کی دوستی کا شکار اور ان کے لئے استعمال ہوتا چلا آیا ہے، ایک مرتبہ پھر امریکہ بہادر نے پاکستان کو وفادار و تابعدار بن کر رہنے کی دھمکی اور سخت ترین تنقید کا نشانہ بنایا ہے، یہ پہلی مرتبہ نہیں امریکہ جب بھی بے وفائی کا ارادہ کرتا ہے تو پہلے طعنے اور تنقید کرتا ہے اور پھر دھمکیاں دیتا ہے، پھر ہم ایسے کمزور اور امداد کے متمنی ہمیشہ سر جھکا کر ’’ڈومور‘‘ کی ڈیمانڈ پوری کرنے کی تگ ودو میں لگے رہتے ہیں۔

اب کی بار بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کے حوالے سے پالیسی بیان میں اپنے تئیں اپنا ’’گناہ‘‘ اور ’’خطا‘‘ کی ذمہ داری کے اعادے اور خمیازہ خود بھگتنے کی بجائے پاکستان کے سر تھوپنے کی کوشش کی ہے، خامیوں سے پر اور شواہد سے عاری الزامات سے واضح ہے کہ یہ امریکہ کی اپنی آواز سے زیادہ بھارت کے زہر آلود اینٹی چین موقف کا اظہار لگتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان پر 16 برس سے زائد عرصے سے مسلط کردہ جنگ کا نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ ہزاروں فوجی مروانے اور کھربوں ڈالرز خرچ کرنے کے بعد افغانستان میں امن قائم نہیں کر سکا، 50 فی صد سے زائد حصہ افغان طالبان کے اب بھی زیر تسلط ہے، 20/30 فی صد مکس کنٹرول جبکہ صرف 20 فی صد علاقہ افغان حکومت کے کنٹرول میں ہے، جہاں امریکی قیادت میں نیٹو فورسز اپنی محفوظ پناگاہ کی دعویدار ہیں، ایک امریکی تھنک ٹینک کے مطابق، امریکی فورسز (افغان حکومت) کے قبضے میں مختصر علاقوں کی حالت یہ ہے کہ امریکی فورسز ایک سے دوسرے ضلع یا علاقے میں جانے کے لئے ہیلی کاپٹرز یا جدید بکتر بند وبم پروف گاڑیوں میں سفر کرتی ہیں جبکہ تمام راستے ہیلی کاپٹرز نگرانی کرتے ہیں.

صورت حال کا خوفناک پہلو یہ ہے کہ صدر اوباما کے دور میں افغانستان سے فورسز کی واپسی کا اعلانیہ خواب نہ صرف چکنا چور ہو گیا ہے بلکہ مزید ہزاروں فوجی بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا۔ امریکی فورسز جہاں مقامی دہشت گرد و انتہا پسند گروپس کے ہاتھوں یرغمال ہیں وہیں امریکہ کے پاس واحد آپشن مذاکرات کا ہے جس کا امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ نے قدرے دھیمے اور بجھے الفاظ میں ذکر بھی کر دیا ہے۔ دراصل امریکہ اپنے اور اپنے اتحادیوں کا کھربوں ڈالرز کا جنگی بوجھ کسی ’’بے وقوف‘‘ دوست کے سر تھوپنا چاہتا ہے اور نظر انتخاب ہے بھارت، جی ہاں بھارت افغان جنگ میں واحد نان نیٹو اتحادی ہے جو ایک دہائی سے تجارت و سیاحت کے نام پر افغانستان کے خانہ جنگی کے شکار ان علاقوں میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے، جہاں خود افغانی بھی جانے سے گھبراتے اور ڈرتے ہیں.

یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت کا افغانستان کے ساتھ براہ راست زمینی راستہ یا رابطے کا ذریعہ نہیں اس کے باوجود اربوں ڈالر جھونکنے کا رسک دراصل Fifth generation Warfare کا وہ حربہ ہے جو غیر اعلانیہ اور ان ڈائریکٹ ہے، اس کا ایک بڑا مقصد جنگی صورت حال کو Exploit کر کے اپنے ’’باس‘‘ اور ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرنا اور پاکستان کو ہر لحاظ سے غیر مستحکم کرنا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بھارت پر خفیہ اداروں کے ذریعے مقامی باشندوں کو پیسہ دے کر ہیومن انٹیلی جنس اور دہشت گردی کے لئے استعمال کرنے کا الزام ہے تاہم وہ ہمیشہ تردید کرتا ہے۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی اور موجودہ صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت بخشی ہے، ساتھ ہی پاکستان سے شکوہ شکایتوں اور بے سروپا الزامات کی روایات میں زیادہ پختگی آئی ہے۔

عالمی حالات کے تناظر میں مفادات کے پہلو کو دیکھا جائے تو حالیہ امریکی اور بھارتی سفارتی و اسٹرٹیجک پالیسی کی کئی قدریں مشترک ہیں۔ امریکہ چین کی بڑھتی معاشی واقتصادی سمیت جوہری وعسکری طاقت سے نہ صرف خائف ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں چین کےاثرو رسوخ نے بھی اس کو سخت پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے، پاکستان میں سی پیک کا منصوبہ اور پاکستان کا مضبوط جوہری پروگرام مستقل سر درد ہے۔ دوسری طرف بھارت کے چین اور پاکستان سمیت ہر ہمسائے سے تنازعات اور تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں، چین دنیا کی بڑی معاشی اور دوسری بڑی جوہری طاقت بننے جارہا ہے اس میں پاکستان کی اہم اور کلیدی حیثیت اور نمبرون پارٹنر بننا بھارت کو کسی صورت قبول نہیں، سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے چینی انجینئرز کا قتل اور بعض حالیہ واقعات اس غیر اعلانیہ دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہیں، امریکہ خطے پر بزور بھارت اپنی بالادستی چاہتا ہے۔ اب امریکہ کی خطے بارے نئی پالیسی پر پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت کے بھرپور و ٹھوس ردعمل نے امریکہ کے لئے ایک مشکل صورت حال پیدا کردی ہے۔

ماضی میں پاکستانی ’’قیادت‘‘ کے اخلاص، تابعداری اور اپنی قوم سے غداری کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ ایک کال پر اپنی زمین و فضا آپ کے حوالے کر دی، بغیر کسی معاوضے کے اپنا سفری و مواصلاتی نظام نیٹو سپلائی کے لئے وقف کر دیا، ملک کے اندر انتشار اور دہشت گردی کا راج ہوا، معاشرے کو سیاسی ومذہبی انتہا پسند اور منتشر سوچ کا شکار کر دیا گیا، ملک کا نظم و نسق، معاشی، تجارتی، تعلیمی اور معاشرتی ڈھانچہ تباہ و برباد ہوا، نئی نسل کی سوچ کو گرہن لگا کر حقیقی ترقی کا خواب بیچ ڈالا، پھر امریکہ بہادر کہتے ہیں کہ اربوں ڈالر لے کر آپ نے کچھ نہیں کیا؟ جناب آپ کے اربوں ڈالر،10 ہوں گے 20 ہوں گے یا 30 ارب ڈالر، لیکن یہاں تو ملک ہی پورا تباہ ہو گیا، معصوم بچوں، خواتین، جوانوں اور بزرگوں سمیت 70 ہزار افراد جان سے گئے لاکھوں بے آسرا اور اپاہج ہوئے، 120 ارب ڈالر سے زائد کا مالی نقصان ہوا، لاکھوں لوگوں کو مہمان ہی نہیں اپنا سمجھا اور اپنی ایک روٹی کا آدھا ان کو کھلایا۔

بلاشبہ 7 دہائیوں سے پاک امریکہ تعلقات نشیب و فراز اور بے کیف حالات کا شکار رہے ہیں لیکن صدر ٹرمپ کی پالیسی سن کر وہ دن یاد آرہا ہے کہ جب 2012 میں، میں امریکہ میں فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی میں لیکچر کے دوران پاکستان میں امن وامان کی صورت حال اور پاکستانی عوام و حکومت کی کوششوں اور قربانیوں کا ذکر کر رہا تھا کہ اچانک ایک سفید فارم پوسٹ گریجویٹ اسٹوڈنٹ نے سوال اٹھا دیا کہ امریکی افواج دہشت گردی کے خلاف افغانستان میں لڑ رہی ہیں، ہم آپ کو اربوں ڈالر دیتے ہیں لیکن آپ ہمارے فوجیوں کا سامان لے جانے والی سپلائی لائن بند کر دیتے ہیں، آپ ہمارے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ؟ (میں نے واضح کیا کہ سپلائی بندش کی وجہ 26 نومبر 2011 کو پاک افغان سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو فورس نےحملہ کر کے 26 پاکستانی فوجیوں کو شہید کر دیا تھا جس پر ردعمل کے طور پر پاکستان نے نیٹو سپلائی معطل کر دی تھی) میرے وطن واپس آنے کے چند ماہ بعد نیٹو سپلائی لائن کھل گئی مجھے حیرت ہوئی کہ ہم نے اپنی حکمت عملی اور رویے قومی امنگوں کے مطابق بدلے بغیر ہتھیار ڈال دیئے.

اگر ایسا اس وقت ہی ہو جاتا تو آج اس طالب علم کے الفاظ صدر ٹرمپ کو ریاستی سطح پر پالیسی کے طور ادا نہ کرنے پڑتے خیر یہ پہلی مرتبہ تھوڑی ہوا، لیکن اب ہمیں سمجھنا ہو گا کہ یہ ہمارے لئے حتمی پیغام، اطلاع اور سنہری موقع ہے کہ فیصلہ کن موڑ آچکا ہے کچھ اہم فیصلے کرنے کا، اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر امداد (خدمات کا معاوضہ) ٹھکرانے کا، خود کو نئے حوصلے سے اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کا، ایران سمیت تمام ہمسایوں کےساتھ رشتوں کو نئے سرے سے استوار کرنے کا، روس سمیت سینٹرل ایشین اسٹیٹس کے ساتھ براہ راست رابطہ کاری اور صنعت وتجارت میں تعاون کا، چین کے ساتھ دوستانہ،پیشہ ورانہ اور سمجھدارانہ سمیت اصولوں پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے کا، اب ہمیں محض اپنے بیانات سے نہیں عملی اقدامات سے ایک خودار، سمجھدار، خودمختار اور خود اختیار قوم ہونے کا ثبوت دینا ہو گا، اب امریکہ سے اس فساد کو بڑھانے سے روکنے کے لئے ’’ڈو مور‘‘ کہنا ہو گا، چار فریقی مذاکراتی عمل کو کامیابی سے منطقی انجام تک پہنچانا ہو گا۔ ہمیں امریکہ کی بات سننی بھی ہے تو فیصلہ اپنا لینا ہے، موجودہ حالات کو خود ساختہ مفروضوں، باہمی سیاسی و ادارہ جاتی چپقلش کی بھینٹ نہیں چڑھنے دینا اسی میں ہماری بقا اور ترقی کا راز پنہاں ہے۔

آصف علی بھٹی

افغانستان میں امریکی ناکامیوں کی طویل فہرست

امریکا کو افغانستان میں آئے تقریباً 16 سال ہو چکے لیکن اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود اب تک وہاں امن و امان قائم نہیں کیا جا سکا۔ سینٹرفار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق سن 2001 سے اب تک امریکا افغانستان میں تقریباً 841 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے جس میں 110 ارب ڈالر مالی امداد کی مد میں دیئے گئے جس میں افغان فورسز کی تعمیر نو، اقتصادی امداد اور منشیات کنٹرول کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔ اگر اس میں دیگر اخراجات بھی شامل کر لیے جائے تو امریکا کا افغانستان جنگ پر خرچہ 20 کھرب ڈالر تک پہنچ جاتا ہے۔

اس عرصے میں امریکی افواج کی افغانستان میں موجودگی کو دیکھا جائے تو 2001 میں 13 سو امریکی فوجی افغانستان میں اترے جس کے بعد اگست 2010 میں یہ تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی اور اب بھی 8 ہزار سے زائد فوجی افغانستان میں موجود ہیں لیکن افغانستان سے اب تک نہ تو شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ ہوا نہ ہی کرپشن ختم ہوئی اور نہ ہی اقتصادی طور پر کوئی بہتری آئی۔ لانگ وار جرنل اور دیگر اداروں کی رپورٹس کے مطابق افغان حکومت کی رٹ تمام تر سپورٹ کے باوجود صرف 60 فیصد رقبے پر قائم ہے اور افغانستان کے 34 میں سے 16 صوبے ایسے ہیں جن میں کہیں افغان طالبان کا مکمل تو کہیں جزوی کنٹرول ہے جبکہ بعض صوبے ایسے ہیں جہاں ان کا اچھا خاصا اثر و روسوخ موجود ہے۔

امریکا کی ناکامیوں کی فہرست یہیں نہیں رکتی کیونکہ افغانستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں بھی مستقل اضافہ د یکھا جا رہا ہے۔ اسی طرح امریکا نے 8 اعشاریہ 4 ارب ڈالر منشیات کے خاتمے پر لگائے مگر افیون کی کاشت کا رقبہ 2001 کے 8 ہزار ایکٹر سے بڑھ کر 2 لاکھ ہیکٹر تک پہنچ گیا جبکہ افیون کی پیداوار بھی 185 میٹرک ٹن سے بڑھ کر 8 ہزار ٹن سے زائد ہو گئی۔ منشیات کے خاتمے کےلیے 94 کروڑ ڈالر کے جہازافغان حکومت کو دئیے مگر مطلوبہ قابلیت اور ناتجربے کار اسٹاف کے باعث یہ منصوبہ بھی ناکام ہوا۔ 66 کروڑ ڈالر کی 630 آرمرڈ وہیکل اور 49 کروڑ کے 20 گارگو جہاز بھی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث ناکارہ ہو گئے اور کئی تو اسکریپ میں بیچ بھی دئیے گئے۔

اس کے علاوہ 49 کروڑ ڈالر کا معدنیات نکالنے کے منصوبے ایک ارب ڈالر جوڈیشل ریفارم اور 47 کروڑ ڈالر مقامی پولیس کے لیے امریکا نے خرچ کیے مگر یہ منصوبے کرپشن کے باعث ناکام ہو گئے۔ اس کے برعکس پاکستان آرمی نے دہشت گردوں کے خلاف اپنے وسائل میں رہتے ہوئے سوات، خیبر ایجنسی، باجوڑ، بونیر، لوئر دیر، مہمند ایجنسی، جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیر ستان میں کامیاب آپریشن کیے جبکہ راجگال اور شاوال جیسے مشکل علاقوں میں بھی دہشت گردوں کے قدم اکھاڑ دیئے۔ اور اب آپریشن ردالفساد کی صورت میں ملک بھر میں دہشت گردوں کا پیچھا کر رہی ہے۔ ان آپریشن کے نتیجے میں پاکستان بھر میں دہشت گردوں کی وارداتوں میں بھی واضح کمی آئی۔

واصف اوصاف

امریکہ پھر پاکستان سے منہ موڑ رہا ہے ؟

بعض پاکستانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنی ماضی کی پالیسیوں کو دہراتے ہوئے ایک دفعہ پھر پاکستان سے منہ موڑ رہا ہے۔ وائس آف امریکہ کی اردو سروس کی ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف کی جانب سے امریکہ کا دورہ ملتوی کر کے پہلے روس، چین اور ترکی سے مشاورت کا فیصلہ امریکہ کے لیے پیغام ہے کہ پاکستان کو اب اس کی زیادہ پرواہ نہیں۔ سینئر صحافی اور اینکر پرسن مجاہد بریلوی نے کہا کہ پاکستان میں انتہا پسندی کو فروغ دینے کی ذمہ داری خود امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف آئندہ ہفتے تین علاقائی ممالک – چین، روس اور ترکی کا دورہ کرینگے جہاں وہ ان ممالک کے رہنماؤں کو افغانستان سے متعلق نئی امریکی پالیسی پر پاکستان کے مؤقف سے آگا ہ کریں گے۔ امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن پہلے ہی خواجہ آصف کو امریکہ مدعو کر چکے تھے لیکن انھوں نے امریکہ کی جانب سے نئی افغان پالیسی کے اعلان کے بعد پہلے پاکستان کے قریبی دوست ملکوں کادورہ کرنے کو ترجیح دی ہے۔