صدر ٹرمپ کی جانب سے ملک بھر میں چین کی ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر مکمل پابندی کے حکم کو امریکی عدالت نے معطل کر دیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پنسلوانیا کی عدالت نے امریکی صدر کی ہدایت پر محکمہ تجارت کی جانب سے ملک بھر میں چین کی ایپلی کیشن ٹک ٹاک کی بندش کے حکم کو معطل کر دیا ہے۔ اس سے قبل واشنگٹن کی عدالت نے 28 ستمبر کو ٹک ٹاک کی ڈاؤن لوڈنگ کے حکم کو بھی معطل کر دیا تھا۔ یاد رہے کہ امریکا کے محکمہ کامرس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات کے بعد ستمبر کے وسط میں ٹک ٹاک کی ڈاؤن لوڈنگ پر 27 ستمبر سے جب کہ 12 نومبر سے ملک بھر میں مکمل پابندی کے احکامات جاری کیے تھے تاہم چینی ایپ ٹک ٹاک کے مالکان نے عدالت سے رجوع کیا تھا جس پر عدالت نے حکومتی حکم کو معطل کر دیا۔
پنسلوانیا عدالت کا اپنے فیصلے میں کہنا تھا کہ ٹک ٹاک کو یومیہ کی بنیاد پر 10 کروڑ صارفین استعمال کرتے ہیں جو پابندی کے حکم سے متاثر ہوں گے اس لیے صارفین کو ان کے حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ عدالتی فیصلے پر امریکی حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ ٹک ٹاک پر امریکا کی چین کے لیے جاسوسی اور صارفین کا ڈیٹا دینے کا الزام عائد کرتے آئے ہیں جس کے جواب میں ٹک ٹاک نے الزام کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ معاملات کو بہتر بنانے کیلیے امریکی کمپنیوں اوریکل اور وال مارٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔
مختصر دورانیہ کی مقبول ویڈیو ایپ، ٹِک ٹاک آئندہ تین برسوں میں تین ہزار مزید انجینئرز بھرتی کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ کمپنی نے یہ بات خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتاتے ہوئے کہا کہ ان میں سے زیادہ تر انجینئرز کو یورپ، کینیڈا اور سنگاپور میں تعینات کیا جائے گا۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹک ٹاک اپنی ملکیت برقرار رکھنے کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کے باوجود اپنے توسیعی منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ ٹک ٹاک استعمال کرنے والوں کے ذاتی ڈیٹا کی سیکیورٹی کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کے پیش نظر ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکم دیا تھا کہ چین کی بائٹ ڈانس کمپنی، اپنی ایپ ٹک ٹاک کو اس کے ملکیتی حقوق سے الگ کر دے۔
ٹک ٹاک کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ کمپنی کی تیزی سے بڑھتی عالمی ترقی کے لئے، ٹک ٹاک اپنے عالمی انجینئروں کی ٹیم کو وسعت دینے کا منصوبہ رکھتی ہے اور آئندہ تین برسوں کے دوران، اس میں تقریبا تین ہزار مزید انجینئر شامل کئے جائیں گے جنہیں امریکہ سمیت کینیڈا، یورپ اور سنگاپور میں تعینات کیا جائے گا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ کمپنی کے لئے بدستور انجنئیرنگ کا گڑھ رہے گا اور اس کے لئے مزید سٹاف بھرتی کیا جائے گا۔ اس وقت تقریباً ایک ہزار انجنیئرز کمپنی کے لئے کام کر رہے ہیں، جن میں سے قریباً نصف، ریاست کیلیفورنیا میں ماؤنٹ وِیو میں تعینات ہیں۔ قبل ازیں رائٹرز نے خبر دی تھی کہ بائٹ ڈانس سنگاپور میں اربوں ڈالر کی سرمایا کاری اور سینکڑوں ملازمتیں فراہم کرنے ارادہ رکھتا ہے۔
جس کا انتخاب اس نے جنوب مشرقی ایشیا میں کمپنی کے صدر دفتر کے طور پر کیا ہے۔ گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک میں شراکت کے ابتدائی معاہدے کے لئے، اوریکل کارپوریشن اور وال مارٹ انک کو ان کی تائید و حمایت حاصل ہے۔ تاہم یہ معاہدہ اس وقت مسائل کا شکار ہو گیا جب بائٹ ڈانس نے کہا کہ وہ ٹک ٹاک ایپ کے لئے اپنے اکثریتی شیئر نہیں دے گا چار نومبر کو ایک جج یہ فیصلہ دیں گے کہ آیا امریکی حکومت کو یہ اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ امریکی ایپ سٹوروں سے ٹک ٹاک کی ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے پر پابندی عائد کر دے۔ بائٹ ڈانس نے متنبہ کیا ہے کہ اس اقدام سے امریکہ میں اس ایپ کے استعمال پر پابندی عائد ہو جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے مطالبہ کیا ہے کہ چینی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک کو اگر کوئی امریکی کمپنی خریدتی ہے، تو اس کی آمدنی کا اچھا خاصا حصہ امریکی حکومت کو ملنا چاہیے۔ امریکی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ پہلے ہی ٹک ٹاک خریدنے کے لیے اس کی مالک چینی کمپنی سے مذاکرات کر رہی ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ کے ٹک ٹاک سے متعلق سخت موقف نے بظاہر ان مذاکرات کو پیچیدہ کر دیا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے چند دن پہلے مائیکروسافٹ کے سرابراہان سے فون پر بات چیت میں واضح کر دیا تھا کہ ان کی ممکنہ کاروباری ڈیل سے امریکی حکومت کے خزانے میں ‘خاطر خواہ‘ رقم آنا چاہیے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر پندرہ ستمبر تک کوئی ڈیل نہ ہوئی، تو وہ امریکا میں اس چینی ایپ پر پابندی لگا دیں گے۔
نوجوانوں میں مقبول ایپ
ٹک ٹاک ایپ امریکا سمت دنیا کے کئی ملکوں کے نوجوانوں میں بہت مقبول ہے۔ پچھلے سال یہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی ایپس میں چوتھے نمبر پر رہی تھی۔ اس کمپنی کی مالیت 75 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ اس ویڈیو شیئرنگ ایپ کے خلاف صدر ٹرمپ کا اقدام چینی ٹیلی کوم کمپنیوں کے خلاف وسیع ترکارروائی کا حصہ ہے۔ بھارت چین کے ساتھ حالیہ سرحدی کشیدگی کے دوران پہلے ہی ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر چکا ہے۔
چینی امریکی الزام تراشی
ٹرمپ حکومت کا الزام ہے کہ چین کی ٹک ٹاک اور وی چیٹ جیسی کمپنیاں صارفین کا ڈیٹا بیجنگ حکومت کو مہیا کرتی ہیں اور وہ امریکا کی قومی صلاحیتوں کے لیے خطرہ ہیں۔ ٹک ٹاک چلانے والی کمپنی ‘بائٹ ڈانس‘ اور بیجنگ حکومت دونوں یہ الزامات رد کرتے ہیں۔ ٹک ٹاک کا موقف ہےکہ وہ امریکی شہریوں کا ڈیٹا امریکا ہی میں رکھتی ہے اور اس کے ملازمین کو اس ڈیٹا تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔ چین کے سرکاری اخبار چائنا ڈیلی نے اپنے ایک اداریے میں لکھا کہ ایک چینی ٹیکنالوجی کمپنی کو ‘چوری‘ کرنے کی کوشش بیجنگ حکومت کے لیے ناقابل قبول ہو گی۔ اخبار نے خبردار کیا، ”اگر امریکی حکومت نے کوئی زبردستی کی تو چین اس کا کئی طریقوں سے جواب دے سکتا ہے۔‘‘